کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 15706
عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ : كَانَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ مَنْ أَفَاضِلِ النَّاسِ ، وَكَانَ يَقُولُ : لَوْ أَكُونُ فِيمَا أَكُونُ عَلَى حَالٍ مِنْ أَحْوَالِ ثَلَاثَةٍ لَكُنْتُ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، وَمَا شَكَكْتُ فِي ذَلِكَ حِينَ أَقْرَأُ الْقُرْآنَ ، وَحِينَ أَسْمَعُهُ يَقْرَأُ ، وَإِذَا سَمِعْتُ خُطْبَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَإِذَا شَهِدْتُ جِنَازَةً ، وَمَا شَهِدْتُ جِنَازَةً قَطُّ فَحَدَّثْتُ نَفْسِي بِسِوَى مَا هُوَ مَفْعُولٌ بِهَا ، وَمَا هِيَ صَائِرَةٌ إِلَيْهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَحْمَدُ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا . وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثٌ فِي فَضْلِهِ فِي آخِرِ مَنَاقِبِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : سیدنا اُسید بن حضیر رضی اللہ عنہ فضیلت رکھنے والے لوگوں میں سے ایک تھے ، وہ فرماتے تھے : ” تین طرح کی صورتحال میں ، میری جو کیفیت ہوتی ہے ، اگر میری وہی کیفیت رہے تو ، میں اہل جنت میں سے ہوں اور مجھے اس بارے میں کوئی شک نہیں ہے ، ایک اس وقت جب میں قرآن پڑھ رہا ہوتا ہوں ، یا جب میں قرآن کی تلاوت سن رہا ہوتا ہوں ، اور جب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ سن رہا ہوتا ہوں ، اور جب میں جنازے میں شریک ہوتا ہوں ، تو میں صرف اس بارے میں غور کرتا ہوں ، اب اس کے ساتھ کیا ہو گا ؟ اور یہ کس صورتحال کی طرف جائے گا ؟ “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام أحمد نے اس کی مانند نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔ اس سے پہلے سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے مناقب کے آخر میں ، ان کی فضیلت کے بارے میں ایک حدیث گزر چکی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15706
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (554)»
حدیث نمبر: 15707
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ قَالَ : تُوُفِّيَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ - وَيُكْنَى : أَبَا يَحْيَى - سَنَةَ عِشْرِينَ ، وَحَمَلَهُ عُمَرُ بَيْنَ أَعْوَادِ السَّرِيرِ حَتَّى وَضَعَهُ بِالْبَقِيعِ وَصَلَّى عَلَيْهِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - ) ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرُوِيَ عَنِ الْوَاقِدِيِّ بَعْضُهُ ، وَإِسْنَادُهُمَا مُنْقَطِعٌ . ¤
محمد محی الدین
یحیی بن بکیر بیان کرتے ہیں : سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کا انتقال 20 ہجری میں ہوا تھا ، ان کی کنیت ابویحیی تھی ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی چارپائی کے پایوں کے درمیان میں سے ، اُن کے جنازے کو کندھا دیا تھا ، اور اس وقت تک دیے رکھا تھا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جب تک ان کی چارپائی کو ” بقیع “ میں رکھ نہیں دیا گیا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہی نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی میں نقل کی ہے ، انہوں نے واقدی کے حوالے سے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے اور ان دونوں کی سند منقطع ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15707
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (848)»