کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی فضٰلت کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 15687
قَالَ الطَّبَرَانِيُّ : سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ الْأَنْصَارِيُّ ، ثُمَّ الْأَشْهَلِيُّ ، بَدْرِيٌّ أُحَدِيٌّ ، يُكْنَى أَبَا عَمْرٍو ، اسْتُشْهِدَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ بِأَسَانِيدِهِ فِي غَزْوَةِ بَدْرٍ . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی بیان کرتے ہیں : سیدنا سعد بن معاذ انصاری ، اشہلی ، انہیں غزوہ بدر اور غزوہ احد میں شرکت کا شرف حاصل ہے اُن کی کنیت ابوعمر تھی ، وہ غزوہ خندق میں شہید ہوئے تھے ۔ یہ بات اس سے پہلے اسانید کے ساتھ غزوہ بدر سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔
حدیث نمبر: 15688
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ : كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَذَا سَيِّدُكُمْ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ صَدَقَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّمِينُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ، اسی دوران سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ تشریف لائے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ تم لوگوں کا سردار معاذ ہے ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی صدقہ بن عبداللہ سمین ہے اور وہ ضعیف ہے ، ایک سے زیادہ افراد نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی صدقہ بن عبداللہ سمین ہے اور وہ ضعیف ہے ، ایک سے زیادہ افراد نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15689
وَعَنِ الْمَاجِشُونِ قَالَ : قَالَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ : ثَلَاثٌ أَنَا عَمَّا سِوَاهُنَّ ضَعِيفٌ : مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَيْئًا إِلَّا عَلِمْتُ أَنَّهُ حَقٌّ ، وَلَا صَلَّيْتُ صَلَاةً فَحَدَّثْتُ نَفْسِي بِغَيْرِهَا حَتَّى أَنْفَتِلَ عَنْهَا ، وَلَا تَبِعْتُ جِنَازَةً ،فَحَدَّثْتُ نَفْسِي بِغَيْرِ مَا إِيَّاهُ قَائِلُهُ وَيُقَالُ لَهَا . ¤
محمد محی الدین
ماجشون بیان کرتے ہیں : سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے یہ بات کہی : تین چیزیں ایسی ہیں کہ میں ان کے علاوہ چیزوں میں کمزور ہوں ( یعنی ان تین چیزوں میں کمزور نہیں ہوں ) جب بھی میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی بات سنی ، تو میں اس بات کا علم رکھتا تھا کہ یہ بات حق ہے ، اور جب بھی میں نے نماز ادا کی ، تو نماز ختم کرنے تک میں نے اپنا خیال کسی اور طرف متوجہ نہیں ہونے دیا ، اور جب بھی میں کسی جنازے میں شریک ہوا ، تو میری تمام تر توجہ کا مرکز ، اُس کی مرنے کے بعد کی صورتحال رہی ۔
حدیث نمبر: 15690
وَفِي رِوَايَةٍ : وَلَا حَضَرْتُ مَيِّتًا إِلَّا حَدَّثْتُ نَفْسِي بِمَا يَقُولُ وَيُقَالُ لَهُ . . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ : أَحَدُهُمَا عَنْ أَبِي سَلَمَةَ مُرْسَلًا ، وَالْآخَرُ عَنِ الْمَاجِشُونِ مُنْقَطِعًا ، وَفِي إِسْنَادِهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” میں ، جب بھی کسی جنازے میں شریک ہوا ، تو میں یہی سوچتا رہا کہ یہ کہا: کہے گا ؟ اور اس سے کیا کہا: جائے گا ؟ “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک روایت ابوسلمہ کے حوالے سے ” مرسل“ روایت کے طور پر منقول ہے اور دوسری روایت ماجشون کے حوالے سے ” منقطع “ روایت کے طور پر منقول ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک روایت ابوسلمہ کے حوالے سے ” مرسل“ روایت کے طور پر منقول ہے اور دوسری روایت ماجشون کے حوالے سے ” منقطع “ روایت کے طور پر منقول ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 15691
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَقَدْ نَزَلَ لِمَوْتِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ مَا وَطِئُوا الْأَرْضَ قَبْلَهَا " . ¤ وَقَالَ حِينَ دُفِنَ : " سُبْحَانَ اللَّهِ ! لَوِ انْفَلَتَ أَحَدٌ مِنْ ضَغْطَةِ الْقَبْرِ لَانْفَلَتَ مِنْهَا سَعَدٌ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سعد بن معاذ کے انتقال پر ستر ہزار ایسے فرشتے نازل ہوئے ہیں ، جنہوں نے اس سے پہلے زمین پر قدم نہیں رکھا ۔ “ ( سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ) جب سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو دفن کیا گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے ، اگر کسی شخص کو قبر کے دبوچنے سے نجات ملنا ہوتی ، تو سعد کو اُس سے نجات مل جاتی ۔ “
یہ روایت امام بزار نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15692
وَعَنْ أبي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " اهْتَزَّ الْعَرْشُ لِمَوْتِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُمْ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے مرنے پر عرش ہل گیا ۔ “
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ان کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ان کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15693
وَعَنْ رُمَيْثَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَوْ أَشَاءُ أَنْ أُقَبِّلَ الْخَاتَمَ الَّذِي بَيْنَ كَتِفَيْهِ مِنْ قُرْبِي مِنْهُ لَقَبَّلْتُ - وَهُوَ يَقُولُ لِسَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ يَوْمَ مَاتَ : " اهْتَزَّ لَهُ عَرْشُ الرَّحْمَنِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ بِنَحْوِهِ ، وَالطَّبَرَانِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ شَيْخِهِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا رمیثہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا ، اُس وقت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اتنا قریب تھا کہ اگر میں چاہتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں کندھوں کے درمیان موجود ” مہر نبوت “ کا بوسہ لے سکتا تھا ، جس دن سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کے لیے رحمن کا عرش ہلا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے اس کی مانند نقل کی ہے ، امام طبرانی نے بھی اسے نقل کیا ہے ، معجم کبیر اور معجم اوسط میں ، روایت کے یہ الفاظ ان کی نقل کردہ ہیں ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ان کے استاد کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اس کی مانند نقل کی ہے ، امام طبرانی نے بھی اسے نقل کیا ہے ، معجم کبیر اور معجم اوسط میں ، روایت کے یہ الفاظ ان کی نقل کردہ ہیں ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ان کے استاد کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 15694
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَدِمْنَا مِنْ حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ ، فَتُلُقِّينَا بِذِي الْحُلَيْفَةِ وَكَانَ غِلْمَانٌ مِنَ الْأَنْصَارِ تَلَقَّوْا أَهْلِيهِمْ ، فَلَقُوا أُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ فَنَعَوْا لَهُ امْرَأَتَهُ فَتَقَنَّعَ وَجَعَلَ يَبْكِي ، فَقُلْتُ لَهُ : غَفَرَ اللَّهُ لَكَ ، أَنْتَ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَكَ مِنَ السَّابِقَةِ وَالْقِدَمِ مَا لَكَ ، تَبْكِي عَلَى امْرَأَةٍ ؟ فَكَشَفَ عَنْ رَأْسِهِ وَقَالَ : صَدَقْتِ لَعَمْرِي حَقِّي : أَنْ لَا أَبْكِي عَلَى أَحَدٍ بَعْدَ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ، وَقَدْ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا قَالَ . قَالَتْ : قُلْتُ لَهُ : مَا قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : " لَقَدِ اهْتَزَّ الْعَرْشُ لِوَفَاةِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ " . قَالَتْ : وَهُوَ يَسِيرُ بَيْنِي وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ هَكَذَا رَوَاهُ أَحْمَدُ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ہم لوگ حج ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) عمرہ سے آئے ، جب ہم ذوالحلیفہ پہنچے تو وہاں انصار سے تعلق رکھنے والے کچھ نوجوان موجود تھے ، جو اپنے عزیزوں سے ملے ، ان لوگوں کی ملاقات سیدنا أسيد بن حضیر رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، تو انہوں نے سیدنا اُسید رضی اللہ عنہ کو ان کی اہلیہ کے انتقال کے بارے میں بتایا ، سیدنا اُسید نے سر جھکا لیا اور رونے لگے ، میں نے ان سے کہا: کہ اللہ تعالیٰ آپ کی مغفرت کرے ، آپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں ، آپ کو سبقت اور قدیم ہونے کا شرف حاصل ہے ، کیا وجہ ہے کہ آپ ایک عورت پر رو رہے ہیں ؟ تو انہوں نے اپنے چہرے سے کپڑا ہٹایا اور بولے : آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں ، مجھے اپنی زندگی کی قسم ہے ! میرا حق بنتا ہے کہ میں سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے بعد کسی پر نہ روؤں ، جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں ایک بات ارشاد فرمائی ہوئی ہے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں : میں نے ان سے دریافت کیا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کے بارے میں کیا ارشاد فرمایا ہے ؟ تو انہوں نے بتایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” سعد بن معاذ کی وفات پر عرش ہل گیا ہے ۔ “ ” سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں : اُس وقت سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ میرے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان چل رہے تھے ۔ امام أحمد نے اسے اسی طرح نقل کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 15695
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ نَزَلَ ذَا الْحُلَيْفَةِ ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمُ الصِّبْيَانُ فَيُخْبِرُونَهُمْ عَنْ أَهْلِيهِمْ ، فَأُخْبِرَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ بِمَوْتِ امْرَأَتِهِ فَبَكَى ، فَقِيلَ لَهُ : أَتَبْكِي ؟ فَقَالَ : وَمَا لِي لَا أَبْكِي وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ الْعَرْشَ اهْتَزَّتْ أَعْوَادُهُ لِمَوْتِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ " . وَأَسَانِيدُهَا كُلُّهَا حَسَنَةٌ . ¤
محمد محی الدین
یہ روایت امام طبرانی نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے نقل کی ہے ، وہ بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے واپس تشریف لاتے تھے ، تو آپ ذوالحلیفہ میں پڑاؤ کرتے تھے ، بچے نکل کر ان لوگوں کے پاس آتے تھے اور ان کے گھر بار کے بارے میں انہیں بتاتے تھے ، سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کو ان کی اہلیہ کے انتقال کے بارے میں بتایا گیا ، تو وہ رونے لگے ، ان سے کہا: گیا : آپ رو رہے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا : میں کیوں نہ روؤں ، جبکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” عرش کے پائے ، سعد بن معاذ کے انتقال کی وجہ سے ہل گئے ۔ “ اس روایت کی تمام اسانید حسن ہیں ۔
حدیث نمبر: 15696
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ بْنِ السَّكَنِ قَالَتْ : لَمَّا تُوُفِّيَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ صَاحَتْ أُمُّهُ ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لِيَرْقَأْ دَمْعُكِ ، وَيَذْهَبْ حُزْنُكِ ; فَإِنَّ ابْنَكِ أَوَّلُ مَنْ ضَحِكَ اللَّهُ لَهُ ، وَاهْتَزَّ لَهُ الْعَرْشُ " . رَوَاهُ [ أَحْمَدُ ] الطَّبَرَانِيُّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ بْنِ السَّكَنِ قَالَتْ : لَمَّا أُخْرِجَ بِجِنَازَةِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ صَاحَتْ أُمُّهُ ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لِيَرْقَأْ دَمْعُكِ ، وَيَذْهَبْ حُزْنُكِ " . وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیده اسماء بنت یزید بن سکن رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں : ” جب سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہما کا انتقال ہوا ، تو ان کی والدہ چیخ کر رونے لگیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون سے فرمایا : تمہارے آنسو ختم ہو جانے چاہییں ، اور تمہارا غم رخصت ہو جانا چاہیئے ، کیونکہ تمہارا بیٹا اور پہلا فرد ہے ، جس سے اللہ تعالیٰ مسکرا کر ملا ہے ، اور اس کے لئے عرش ہل گیا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ تاہم انہوں نے یہ کہا: ہے : سیدہ اسماء بنت یزید بن سکن رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا جنازہ لایا گیا ، تو ان کی والدہ چیخ کر رونے لگیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون سے فرمایا : ” تمہارے آنسو تھم جانے چاہییں ، اور تمہارا غم رخصت ہو جانا چاہیے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ باقی کی روایت حسب سابق ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ تاہم انہوں نے یہ کہا: ہے : سیدہ اسماء بنت یزید بن سکن رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا جنازہ لایا گیا ، تو ان کی والدہ چیخ کر رونے لگیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون سے فرمایا : ” تمہارے آنسو تھم جانے چاہییں ، اور تمہارا غم رخصت ہو جانا چاہیے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ باقی کی روایت حسب سابق ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15697
وَعَنْ مُعَيْقِيبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " اهْتَزَّ الْعَرْشُ لِمَوْتِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ مَالِكٍ الْعَنْبَرِيُّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ : يَغْرُبُ ، وَضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَأَبُو زُرْعَةَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معیقیب رضی اللہ عنہ میرا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” سعد بن معاذ کی موت پر عرش ہل گیا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن مالک عنبری ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ غریب روایات نقل کرتا ہے ، ابوحاتم اور ابوزرعہ نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن مالک عنبری ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ غریب روایات نقل کرتا ہے ، ابوحاتم اور ابوزرعہ نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15698
وَعَنْ سَعْدٍ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي وَقَاصٍ - قَالَ : مَرَّتْ جِنَازَةُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَقَدِ اهْتَزَّ لَهُ الْعَرْشُ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ وَوُثِّقَ عَلَى ضَعْفِهِ ، وَصَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَالِحٍ التَّمَّارُ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا جنازہ گزرا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس کے لئے عرش ہل گیا ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن محمد زہری ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، اور اس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس میں ایک راوی صالح بن محمد بن صالح نمار ہے ، اور میں اُس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن محمد زہری ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، اور اس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس میں ایک راوی صالح بن محمد بن صالح نمار ہے ، اور میں اُس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 15699
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : لَمَّا مَاتَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ بَكَى أَبُو بَكْرٍ ، وَبَكَى عُمَرُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - حَتَّى عُرِفَ بُكَاءُ أَبِي بَكْرٍ ، مِنْ بُكَاءِ عُمَرَ، وَبُكَاءُ عُمَرَ مِنْ بُكَاءِ أَبِي بَكْرٍ، فَقُلْتُ لِعَائِشَةَ : هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَبْكِي ؟ قَالَتْ : لَا ، وَلَكِنَّهُ كَانَ يَقْبِضُ عَلَى لِحْيَتِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا ، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی رونے لگے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی رونے لگے ، یہاں تک کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے مقابلے میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا ، اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مقابلے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا رونا ، نمایاں محسوس ہو رہا تھا ، راوی کہتے ہیں : میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا : کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رو رہے تھے ؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا : جی نہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی داڑھی مبارک مٹھی میں لی ہوئی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 15700
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ جِنَازَةِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ وَدُمُوعُهُ تُحَادِرُ عَلَى لِحْيَتِهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ سَهْلٌ أَبُو حُرَيْزٍ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے جنازے سے واپس تشریف لائے ، تو آپ کے آنسو آپ کی داڑھی پر گر رہے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سہل ابوحریز ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سہل ابوحریز ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 15701
وَعَنْ عُطَارِدٍ : أَنَّهُ أُهْدِيَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَوْبُ دِيبَاجٍ كَسَاهُ إِيَّاهُ كِسْرَى ، فَدَخَلَ أَصْحَابُهُ فَقَالُوا : أُنْزِلَتْ عَلَيْكَ مِنَ السَّمَاءِ ؟ فَقَالَ : " وَمَا تَعْجَبُونَ مِنْ ذَا ؟ لَمِنْدِيلٌ مِنْ مَنَادِيلِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنْ هَذَا " . ثُمَّ قَالَ : " يَا غُلَامُ ، اذْهَبْ بِهِ إِلَى أَبِي جَهْمِ بْنِ حُذَيْفَةَ وَقُلْ لَهُ يَبْعَثُ إِلَيَّ بِالْخَمِيصَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
عطارد کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیباج کا کپڑا تحفے کے طور پر دیا ، جو کسریٰ نے انہیں پہننے کے لئے دیا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے پاس تشریف لائے ، تو انہوں نے عرض کی : کیا یہ آسمان سے آپ پر نازل ہوا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اس پر حیران ہو رہے ہو ؟ جنت میں سعد بن معاذ کے رومال اس سے زیادہ بہتر ہیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے لڑکے ! تم اس کپڑے کو ابوجہم بن حذیفہ کے پاس لے جاؤ ، اور اُس سے کہو کہ وہ حمیصہ نامی چادر میری طرف بھجوا دے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عبدالرحمن بن عمرو بن سعد بن معاذ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عبدالرحمن بن عمرو بن سعد بن معاذ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 15702
وَعَنْ أَنَسٍ : أَنْ أُكَيْدِرَ الدَّوْمَةِ بَعَثَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جُبَّةَ سُنْدُسٍ ، فَلَبِسَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَعَجَّبَ النَّاسُ مِنْهَا ، فَقَالَ : " أَتَعْجَبُونَ مِنْ هَذِهِ ! فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَمَنَادِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنْهَا " . ثُمَّ أَهْدَاهَا إِلَى عُمَرَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تَكْرَهُهَا وَأَلْبَسُهَا ! قَالَ : " يَا عُمَرُ ، إِنَّمَا أَرْسَلْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتَبْعَثَهَا وَجْهًا فَتُصِيبَ بِهَا مَالًا " . وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يُنْهَى عَنِ الْحَرِيرِ . قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ بَعَثَهَا إِلَى عُمَرَ إِلَى آخِرِهِ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ” دومہ “ کے ( حکمران ) ” اکیدر “ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سندس سے بنا ہوا جبہ بھیجا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہن لیا ، لوگ اس پر حیران ہوئے ( یعنی انہیں وہ بہت زیادہ پسند آیا ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم اس پر حیران ہو رہے ہو ؟ اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، جنت میں سعد بن معاذ کے رومال اس سے زیادہ بہتر ہیں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ جبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھجوا دیا ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے اسے ناپسند کیا ہے ، تو کیا میں اس کو پہن لوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے عمر ! یہ میں نے تمہاری طرف اس لئے بھجوایا ہے تاکہ تم یہ کسی کو دے کر اس کے عوض میں مال حاصل کر لو ۔ راوی کہتے ہیں : یہ ریشم کی ممانعت سے پہلے کی بات ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت صحیح میں اختصار کے ساتھ مذکور ہے ، جس میں صرف یہ ذکر ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ جبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھجوا دیا تھا ، اس کے بعد سے لے کر آخر تک کا حصہ مذکور ہے ،
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت صحیح میں اختصار کے ساتھ مذکور ہے ، جس میں صرف یہ ذکر ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ جبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھجوا دیا تھا ، اس کے بعد سے لے کر آخر تک کا حصہ مذکور ہے ،
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15703
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : ثَلَاثَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ كُلُّهُمْ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ لَمْ يَكُنْ أَحَدٌ يَعْتَدُّ عَلَيْهِمْ فَضْلًا بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ ، وَأُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ ، وَعَبَّادُ بْنُ بِشْرٍ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا : أَنَّ ابْنَ إِسْحَاقَ مُدَلِّسٌ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیده عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والے تین افراد ہیں ، ان تینوں کا تعلق بنو عبدالاشہل سے ہے ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی ایک کی ان پر فضیلت شمار نہیں کی جاتی ، سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عباد بن بشر رضی اللہ عنہ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ ابن اسحاق نامی راوی مدلس ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ ابن اسحاق نامی راوی مدلس ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 15704
عَنْ أُمِّ سَعْدٍ بِنْتِ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ : أَنَّهَا دَخَلَتْ عَلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَأَلْقَى لَهَا ثَوْبًا حَتَّى جَلَسَتْ عَلَيْهِ ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَقَالَ : يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ ، مَنْ هَذِهِ ؟ قَالَ : هَذِهِ بِنْتُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي وَمِنْكَ إِلَّا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٌ قُبِضَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ تَبَوَّأَ مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ ] وَبَقِيتُ أَنَا وَأَنْتَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زَيْدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سعد بنت سعد بن ربیع رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : وہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئیں ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کے لیے کپڑا بچھا دیا ، تو وہ اس پر بیٹھ گئیں ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور انہوں نے دریافت کیا : اے اللہ کے رسول کے خلیفہ ! یہ خاتون کون ہے ؟ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : یہ اس شخص کی صاحبزادی ہے ، جو مجھ سے اور تم سے بہتر ہے ، البتہ اللہ کے رسول کا معاملہ مختلف ہے ، وہ ایک ایسا فرد ہے ، جس کا انتقال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہو گیا تھا ، اور اس نے جنت میں اپنا ٹھکانہ بنا لیا اور میں اور تم باقی رہ گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن قیس بن سعد بن زید ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن قیس بن سعد بن زید ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 15705
قَدْ رَوَى الطَّبَرَانِيُّ : أَنَّهُ شَهِدَ الْعَقَبَةَ وَهُوَ نَقِيبٌ بَدْرِيٌّ . وَقَدْ تَقَدَّمَ .
محمد محی الدین
امام طبرانی نے یہ بات نقل کی ہے : انہیں بیعت عقبہ میں شرکت کا شرف حاصل ہے ، یہ نقیب ہیں اور انہیں غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل ہے ، یہ بات اس سے پہلے گزر چکی ہے ۔