کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: حضرت عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ کی فضیلت کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 15685
عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ مَعْمَرِ بْنِ الْمُثَنَّى قَالَ : عُتْبَةُ بْنُ غَزْوَانَ يُكْنَى : أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ، وَقِيلَ : أَبُو غَزْوَانَ ، وَكَانَ طَوِيلًا جَمِيلًا ، مَاتَ سَنَةِ سَبْعَ عَشْرَةَ وَهُوَ مُتَوَجِّهٌ إِلَى الْبَصْرَةِ فِي الْمَرَّةِ الثَّانِيَةِ ، وَدُفِنَ فِي بَعْضِ الْمِيَاهِ وَهُوَ ابْنُ خَمْسٍ وَخَمْسِينَ سَنَةً ، حَلِيفُ بَنِي نَوْفَلِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوعبیدہ معمر بن مثنیٰ بیان کرتے ہیں : سیدنا عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ کی کنیت ابوعبداللہ تھی ، اور ایک قول کے مطابق ابوغزوان تھی ، وہ طویل القامت خوبصورت شخص تھے ، ان کا انتقال 17 ہجری میں ہوا تھا ، جب وہ دوسری مرتبہ بصرہ جا رہے تھے ، انہیں کسی پانی کے پاس دفن کیا گیا تھا ، ان کی عمر 55 سال تھی ، وہ بنو نوفل بن عبدمناف کے حلیف تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15685
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (113/17)»
حدیث نمبر: 15686
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ قَالَ : تُوُفِّيَ عُتْبَةُ بْنُ غَزْوَانَ سَنَةَ سَبْعَ عَشْرَةَ بِطَرِيقِ الْبَصْرَةِ عَامِلًا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، وَسِنُّهُ سَبْعٌ وَخَمْسُونَ سَنَةً . وَقِيلَ : مَاتَ سَنَةَ عِشْرِينَ ، وَهُوَ الَّذِي مَصَّرَ الْبَصْرَةَ ، وَاخْتَطَّ بِهَا الْمَنَازِلَ ، وَبَنَى مَسْجِدَهَا ، وَهُوَ الَّذِي افْتَتَحَ الْأُبُلَّةَ ، وَكَانَتْ وِلَايَتُهُ الْبَصْرَةَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ وَلَّاهُ إِيَّاهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
یحیی بن بکیر بیان کرتے ہیں : سیدنا عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ کا انتقال 17 ہجری میں ، بصرہ کے راستے میں ہوا تھا ، وہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے مقرر کردہ اہلکار تھے ، ان کی عمر 57 برس تھی ، ایک قول کے مطابق ان کا انتقال 20 ہجری میں ہوا تھا ، یہ وہ فرد ہیں جنہوں نے ” بصرہ “ شہر بسایا تھا ، وہاں گھروں کی حد بندی کی تھی ، اور وہاں کی مسجد تعمیر کی تھی ، یہ وہ فرد ہیں ، جنہوں نے ” ابلہ “ فتح کیا تھا ، یہ چھ ماہ تک بصرہ کے گورنر رہے تھے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں وہاں کا گورنر مقرر کیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15686
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (113/17)»