حدیث نمبر: 15676
عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ : الْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ أَبُو عَمْرٍو . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
ابوبکر بن ابوشیبہ بیان کرتے ہیں : سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ ، ان کی کنیت ابوعمرو ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 15677
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ : الْمِقْدَادُ بْنُ عَمْرِو بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ ثُمَامَةَ بْنِ مَطْرُودِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ [ بْنِ زُهَيْرِ ] بْنِ ثَوْرِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ هَزْلِ بْنِ قَابِسِ بْنِ رُوَيْمِ بْنِ الْقَيْنِ بْنِ الْهُونِ بْنِ بَهْزِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَافِّ بْنِ قُضَاعَةَ . وَإِنَّمَا نُسِبَ إِلَى الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ بْنِ وَهْبِ بْنِ عَبْدِ مَنَافِ بْنِ زُهْرَةَ ; لِأَنَّهُ تَبَنَّاهُ وَحَالَفَهُ . وَكَانَ أَبْطَنَ آدَمَ ، يُصَفِّرُ لِحْيَتَهُ ، أَقْنَى ، طَوِيلَ الْأَنْفِ . مَاتَ بِالْمَدِينَةِ وَهُوَ ابْنُ سَبْعِينَ سَنَةً ، وَصَلَّى عَلَيْهِ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - ) . . ¤
محمد محی الدین
محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں : یہ سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ بن عمرو بن ثعلبہ بن ربیعہ بن ثمامہ بن مطرود بن عمرو بن سعد بن زہیر بن ثور بن ثعلبہ بن مالک بن ہزل بن قابس بن رویم بن القين بن الهون بن بہز بن عمرو بن الحاف بن قضاعہ ہیں ۔ ان کی نسبت اسود بن عبدیغوث بن وہب بن عبدمناف بن زہرہ کی طرف کی گئی ہے ، کیونکہ انہوں نے ان صاحب کو اپنا منہ بولا: بیٹا بنا لیا تھا اور انہیں حلیف قرار دیا تھا ۔ یہ بڑے پیٹ کے ، گندمی رنگ کے مالک شخص تھے اور داڑھی پر زرد خضاب لگاتے تھے ، یہ اٹھی ہوئی اور لمبی ناک کے مالک تھے ، ان کا انتقال مدینہ منورہ میں ہوا ، اُس وقت ان کی عمر ستر برس تھی ، سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی تھی ۔
حدیث نمبر: 15678
وَعَنْ عُثْمَانَ ، وَقَالَ الطَّبَرَانِيُّ : مِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ بْنِ عَمْرِو بَدْرِيٌّ ، يُكْنَى أَبَا مَعْبَدٍ ، وَقِيلَ : أَبَا عَمْرٍو حَلِيفُ بَنِي زُهْرَةَ ، [ وَقَدِ اخْتُلِفَ فِي نَسَبِهِ ] وَهُوَ مُهَاجِرِيٌّ أَوَّلِيٌّ بَدْرِيٌّ - رَحِمَهُ اللَّهُ - . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی فرماتے ہیں : یہ سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ بن اسود بن عمرو بدری ہیں ، ان کی کنیت ابومعبد ہے اور ایک قول کے مطابق ابوعمرو ہے ، یہ بنو زہرہ کے حلیف ہیں ، ان کے نسب کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ، یہ ابتداء میں ہجرت کرنے والے فرد ہیں ، اور انہیں غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل ہے ۔
حدیث نمبر: 15679
وَعَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ : رَأَيْتُ الْمِقْدَادَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - وَكَانَ ضَخْمًا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ہمام بن حارث بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کو دیکھا ہے وہ ایک بھاری بھرکم فرد تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15680
وَعَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ : كَانَ الْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ مِنْ كِنْدَةَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
زہری بیان کرتے ہیں : سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کا تعلق کندہ سے تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 15681
وَعَنْ سُفْيَانَ بْنِ صَهْبَانَةَ الْمَهْرِيِّ قَالَ : كُنْتُ صَاحِبًا لِلْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، وَكَانَ رَجُلًا مِنْ بَهْزٍ فَأَصَابَ فِيهِمْ دَمًا ، فَهَرَبَ إِلَى كِنْدَةَ فَحَالَفَهُمْ ، ثُمَّ أَصَابَ فِيهِمْ دَمًا فَهَرَبَ إِلَى مَكَّةَ ، فَحَالَفَ الْأَسْوَدَ بْنَ عَبْدِ يَغُوثَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ إِلَى أَبِي سُفْيَانَ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سفیان بن صہبانہ مہری بیان کرتے ہیں : زمانہ جاہلیت میں ، میں سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کا ساتھی تھا ، اُن کا تعلق بہز قبیلے سے تھا وہاں انہوں نے قتل کر دیا اور بھاگ کر کندہ چلے گئے اور ان لوگوں کے ساتھ حلیف ہونے کا معاہدہ کر لیا ، پھر وہاں انہوں نے قتل کیا اور بھاگ کر مکہ آ گئے ، یہاں انہوں نے اسود بن عبدیغوث کے ساتھ حلیف ہونے کا معاہدہ کر لیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور سفیان تک اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور سفیان تک اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 15682
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ الْجَنَّةَ تَشْتَاقُ إِلَى أَرْبَعَةٍ : عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، وَعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ، وَسَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ ، وَالْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ غَيْرَ ذِكْرِ الْمِقْدَادِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَسَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ وَعِمْرَانُ بْنُ وَهْبٍ اخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِمَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جنت چار افراد کی مشتاق ہے ، علی بن ابوطالب ، عمار بن یاسر ، سلمان فارسی اور مقداد بن اسود ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمذی نے نقل کی ہے ، لیکن انہوں نے اس میں سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کا تذکرہ نہیں کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، سلمہ بن فضل اور عمران بن وہب نامی راویوں سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمذی نے نقل کی ہے ، لیکن انہوں نے اس میں سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کا تذکرہ نہیں کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، سلمہ بن فضل اور عمران بن وہب نامی راویوں سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 15683
وَعَنْ أَنَسٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " [ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ ] دَعُونِي " . فَانْطَلَقَ بِالْهَدْيِ فَنَحَرَهُ - أَوْ كَمَا قَالَ - فَقَالَ الْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ : لَا وَاللَّهِ لَا نَكُونُ كَالْمَلَأِ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ إِذْ قَالُوا لِمُوسَى : اذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَا هُنَا قَاعِدُونَ ، وَلَكِنِ اذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا مَعَكُمَا مُقَاتِلُونَ ، فَنَحَرَ الْهَدْيَ بِالْحُدَيْبِيَةِ . قَالَ قَتَادَةُ : وَكَانَ مَعَهُمْ يَوْمَئِذٍ سَبْعُونَ بَدَنَةً . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حدیبیہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مجھے چھوڑ دو ( یعنی مجھے کرنے دو ) پھر آپ قربانی کے جانور کو لے کر تشریف لے گئے اور اسے قربان کر دیا “ ( یا جس طرح بھی راویوں نے بیان کیا ہے ) سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے کہا: جی نہیں ! اللہ کی قسم ! ہم بنی اسرائیل کے گروہ کی مانند نہیں ہوں گے ، جنہوں نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے یہ کہہ دیا تھا : آپ اور آپ کا پروردگار جائیں اور دونوں لڑائی کریں ، ہم یہاں بیٹھے ہوئے ہیں ، ( سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم تو یہ کہیں گے : ) آپ اور آپ کا پروردگار جائیں اور لڑائی کریں ہم آپ دونوں کے ساتھ لڑائی میں حصہ لیں گے ( راوی بیان کرتے ہیں : ) پھر انہوں نے حدیبیہ کے مقام پر قربانی کے جانور کو قربان کیا ۔ قتادہ بیان کرتے ہیں : اس وقت ان لوگوں کے ساتھ ستر اونٹ تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15684
وَعَنْ يَحْيَى بْنَ بُكَيْرٍ قَالَ : تُوُفِّيَ الْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ بِالْجَرْفِ ، وَحَمَلَهُ الرِّجَالُ إِلَى الْمَدِينَةِ عَلَى رِقَابِهِمْ فِي سَنَةِ ثَلَاثٍ وَثَلَاثِينَ ، وَصَلَّى عَلَيْهِ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - وَيُكْنَى أَبَا مَعْبَدٍ ، وَسِنُّهُ نَحْوٌ مِنْ سَبْعِينَ سَنَةً . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
یحیی بن بکیر بیان کرتے ہیں : سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کا انتقال ” حرف “ کے مقام پر ہوا ، لوگ ان کی میت کندھوں پر اٹھا کر مدینہ منورہ لے کے آئے ، یہ 33 ہجری کی بات ہے ، سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اُن کی نماز جنازہ پڑھائی ، سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کی کنیت ابومعبد تھی اور انتقال کے وقت ان کی عمر 70 سال کے لگ بھگ تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔