کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: حضرت صہیب رضی اللہ عنہ اور دیگر حضرات کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 15668
عَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " السُّبَّاقُ أَرْبَعَةٌ : أَنَا سَابِقُ الْعَرَبِ ، وَصُهَيْبٌ سَابِقُ الرُّومِ ، وَسَلْمَانُ سَابِقُ الْفُرْسِ ، وَبِلَالٌ سَابِقُ الْحَبَشِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عُمَارَةِ بْنِ زَاذَانَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سبقت لے جانے والے افراد چار ہیں ، میں ، عربوں میں سے سبقت لے جانے والا ہوں ، اور صہیب ، رومیوں میں سے سبقت لے جانے والا ہے ، اور سلمان ، فارسیوں میں سے سبقت لے جانے والا ہے ، اور بلال حبشیوں میں سے سبقت لے جانے والا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عمارہ بن زاذان کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ، لیکن اس میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15668
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7288)»
حدیث نمبر: 15669
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " أَنَا سَابِقُ الْعَرَبِ إِلَى الْجَنَّةِ ، وَصُهَيْبٌ سَابِقُ الرُّومِ إِلَى الْجَنَّةِ ، وَبِلَالٌ سَابِقُ الْحَبَشَةِ إِلَى الْجَنَّةِ ، وَسَلْمَانُ سَابِقُ الْفُرْسِ إِلَى الْجَنَّةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میں ، عربوں میں سے جنت کی طرف سبقت لے جانے والا ہوں اور رومیوں میں سے ، صہیب ، جنت کی طرف سبقت لے جانے والا ہے اور حبشیوں میں سے بلال جنت کی طرف سبقت لے جانے والا ہے اور فارسیوں میں سے سلمان جنت کی طرف سبقت لے جانے والا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15669
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (289) أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7526)»
حدیث نمبر: 15670
وَعَنْ أُمِّ هَانِئٍ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " السُّبَّاقُ أَرْبَعَةٌ : أَنَا سَابِقُ الْعَرَبِ ، وَسَلْمَانُ سَابِقُ الْفُرْسِ ، وَصُهَيْبٌ سَابِقُ الرُّومِ ، وَبِلَالٌ سَابِقُ الْحَبَشِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ فَائِدٌ الْعَطَّارُ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَتْ لِهَذَا الْحَدِيثِ بَعْضُ طُرُقٍ فِي فَضْلِ جَمَاعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سبقت لے جانے والے افراد چار ہیں ، عربوں میں سے ” میں “ سبقت لے جانے والا ہوں ، فارسیوں میں سے سلمان سبقت لے جانے والا ہے ، رومیوں میں سے صہیب سبقت لے جانے والا ہے اور حبشیوں میں سے بلال سبقت لے جانے والا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فائد ہے اور وہ متروک ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : صحابہ کرام کی جماعت کی فضیلت سے متعلق باب میں ، اس روایت کے بعض طرق گزر چکے ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15670
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن بشواھدہ
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (435/24)»
حدیث نمبر: 15671
وَعَنْ صُهَيْبٍ قَالَ : صَحِبْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَبْلَ أَنْ يُوحَى إِلَيْهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پہلی مرتبہ وحی نازل ہونے سے پہلے ہی سے آپ کے ساتھ ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15671
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7303)»
حدیث نمبر: 15672
وَعَنْ عِكْرِمَةَ - مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ - : أَنْ صُهَيْبًا افْتَدَى مِنْ أَهْلِهِ بِنِصْفِ مَالِهِ ، ثُمَّ خَرَجَ مُهَاجِرًا فَأَدْرَكُوهُ بِالطَّرِيقِ ، فَخَرَجَ عَمَّا بَقِيَ مِنْ مَالِهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام مکرمہ بیان کرتے ہیں : سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ نے اپنے مالکان کو اپنا نصف مال فدیے کے طور پر دیا ، پھر وہ ہجرت کرنے کے لئے نکلے ، راستے میں وہ لوگ اُن کے پاس پہنچ گئے ، تو سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ نے باقی بچا ہوا مال بھی انہیں دے دیا اور پھر آگے روانہ ہو گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15672
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ مرسل
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7290)»
حدیث نمبر: 15673
وَعَنْ صُهَيْبٍ : أَنَّ أَبَا بَكْرٍ مَرَّ بِأَسِيرٍ لَهُ يَسْتَأْمِنُ لَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَصُهَيْبٌ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ لِأَبِي بَكْرٍ : مَنْ هَذَا مَعَكَ ؟ قَالَ : أَسِيرٌ لِي مِنَ الْمُشْرِكِينَ أَسْتَأْمِنُ لَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . فَقَالَ صُهَيْبٌ : لَقَدْ كَانَ فِي عُنُقِ هَذَا مَوْضِعٌ لِلسَّيْفِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فَلَعَلَّكَ آذَيْتَهُ ؟ " . فَقَالَ : لَا وَاللَّهِ ، فَقَالَ : " لَوْ آذَيْتَهُ لَآذَيْتَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زُبَالَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنے ایک قیدی کے ساتھ گزرے ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے لیے امان لینا چاہتے تھے ، سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ اس وقت مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے ، انہوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : آپ کے ساتھ کون ہے ؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : مشرکین سے تعلق رکھنے والا میرا ایک قیدی ہے ، میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے لیے امان لینا چاہتا ہوں ، سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس کی گردن میں تلوار کے لیے ایک جگہ ہے ، اس پر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ غصے میں آ گئے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ملاحظہ کیا ، تو دریافت کیا : کیا وجہ ہے ؟ میں تمہیں غصے میں دیکھ رہا ہوں ؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بتایا : میں اپنے اس قیدی کے ہمراہ صہیب کے پاس سے گزرا ، تو اُس نے کہا: اس کی گردن میں تلوار کے لیے جگہ ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تو شاید تم نے اُسے اذیت پہنچائی ہو گی ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : جی نہیں ! اللہ کی قسم ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر تم نے اسے اذیت پہنچائی ہوتی ، تو تم نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت پہنچانی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن زبالہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15673
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7307)»
حدیث نمبر: 15674
وَعَنْ صُهَيْبٍ قَالَ : لَمْ يَشْهَدْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَشْهَدًا قَطُّ إِلَّا كُنْتُ حَاضِرَهُ ، وَلَا غَزَا غَزْوَةً قَطُّ أَوَّلَ الْأَمْرِ وَآخِرَهُ إِلَّا كُنْتُ فِيهَا عَنْ يَمِينِهِ أَوْ عَنْ شِمَالِهِ ، وَلَمْ يُبَايِعْ بَيْعَةً قَطُّ إِلَّا كُنْتُ حَاضِرَهَا ، وَلَمْ يُسَيِّرْ سَرِيَّةً قَطُّ إِلَّا كُنْتُ حَاضِرَهَا ، وَمَا خَافُوا أَمَامَهُمْ قَطُّ إِلَّا كُنْتُ أَمَامَهُمْ ، وَلَا مَا وَرَاءَهُمْ إِلَّا كُنْتُ وَرَاءَهُمْ ، وَمَا جَعَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنِي وَبَيْنَ الْعَدُوِّ قَطُّ حَتَّى تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زُبَالَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس بھی جنگ میں حصہ لیا ، میں اس میں شریک ہوا ہوں ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بھی غزوہ کیا ، خواہ وہ آغاز کے زمانے میں ہوا ہو ، یا بعد کے زمانے میں ہوا ہو ، میں اس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں طرف یا بائیں طرف موجود رہا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بھی بیعت لی ، تو میں بھی وہاں موجود رہا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بھی جنگی مہم روانہ کی ، میں اس میں شریک ہوا ہوں ، اگر لوگوں کو آگے کی طرف سے اندیشہ ہوتا تھا ، تو میں ان کے آگے ہوتا تھا ، اگر پیچھے کی طرف سے اندیشہ ہوتا تھا ، تو میں ان کے پیچھے ہوتا تھا ، اور میں نے کبھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اور دشمن کے درمیان نہیں ہونے دیا ، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن زبالہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15674
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7309)»
حدیث نمبر: 15675
وَعَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَ : لَمَّا طُعِنَ عُمَرُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَمَرَ صُهَيْبًا - مَوْلَى بَنِي جُدْعَانَ - : أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ زخمی ہوئے ، تو انہوں نے سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ کو ، جو بنو جدعان کے ساتھ نسبت ولاء رکھتے تھے ، اُن کو یہ ہدایت کی کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15675
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7287)»