کتب حدیث › مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب › باب: حضرت ایمن رضی اللہ عنہ کا تذکرہ
❮
❯
عَنْ أَبِي مَيْسَرَةَ قَالَ : كَانَ أَيْمَنُ عَلَى مَطْهَرَةِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَثَعْلَبَةُ يُعَاطِيهِ حَاجَتَهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ زَكَرِيَّا ، وَهُوَ ثِقَةٌ .
محمد محی الدین
ابومیسرہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ایمن رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طہارت کے برتن کے نگران تھے ، اور ثعلبہ آپ کی ضروریات آپ کو پکڑایا کرتے تھے ( شاید یہاں مراد قضائے حاجت کے وقت پانی یا ڈھیلے فراہم کرنا ہے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن عباد بن زکریا کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15666
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (848) ، أخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 848»
وَبِسَنَدِهِ عَنْ أَبِي مَيْسَرَةَ قَالَ سَعْدٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَقَدْ رَأَيْتُ أَيْمَنَ وَهُوَ فَارٌّ مِنَ الْقِتَالِ ، فَعَرَفْتُ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْكَرَاهِيَةَ . قَالَ سَعْدٌ : مَا رَأَيْتُ خُطْبَةً أَبْعَدَ مِنْ كُلِّ خَيْرٍ ، ثُمَّ إِنَّهُمُ احْتَضَرُوا الْقِتَالَ بَعْدَ ذَلِكَ ، فَقَالَ سَعْدٌ : لَقَدْ رَأَيْتُ أَيْمَنَ أَعَنَتَ الْقَوْمَ ، فَأَعْجَبَ ذَلِكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . قَالَ : فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لِأَيْمَنَ : لَقَدْ حُدِّثْتُ أَنَّكَ [ لَا ] تَقُومُ بَيْنَ الصَّفَّيْنِ جُبْنًا ، فَقَالَ : إِنِّي لِأَرْجُوَ أَنْ أَقُومَ مَقَامًا يُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، فَقَالَ عُمَرُ : إِنَّكَ لِخَلِيقٌ أَنْ تَفْعَلَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِسَنَدِ الَّذِي قَبْلَهُ .
محمد محی الدین
اسی سند کے ساتھ یہ بات منقول ہے : ابومیسرہ بیان کرتے ہیں : سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے ایمن کو دیکھا کہ وہ لڑائی سے بھاگ رہا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر ناگواری کے آثار نمودار ہوئے ، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے کوئی ایسی بات نہیں دیکھی جو ہر بھلائی سے اتنی دور ہو ، اس کے بعد لوگ لڑائی میں شریک ہوئے ، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے ایمن کو دیکھا کہ اس نے دشمن کو عاجز کر دیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات اچھی لگی ۔ راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا ایمن رضی اللہ عنہ سے کہا: مجھے یہ بات بتائی گئی تھی کہ بزدلی کی وجہ سے تم دو صفوں کے درمیان کھڑے نہیں ہو سکتے ، تو سیدنا ایمن رضی اللہ عنہ نے عرض کی : مجھے یہ امید ہے کہ میں ایسی جگہ پر کھڑا ہوؤں گا ، جس سے اللہ اور اس کا رسول محبت رکھتے ہیں ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم اس بات کے لائق ہو کہ تم ایسا کرو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ، اس سے پہلی والی روایت کی سند کے ہمراہ نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15667
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (847)»