کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: حضرت عکاشہ بن محصن اسدی رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 15665
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأُمَمُ بِالْمَوْسِمِ ، فَمَرَّتْ عَلَيَّ أُمَّتِي فَأُرِيتُهُمْ ، فَأَعْجَبَنِي كَثْرَتُهُمْ قَدْ مَلَئُوا السَّهْلَ وَالْجَبَلَ قَالَ : أَرَضِيتَ يَا مُحَمَّدُ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ قَالَ : فَإِنَّ مَعَ هَؤُلَاءِ سَبْعِينَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ ; هُمُ الَّذِينَ لَا يَسْتَرْقُونَ ، وَلَا يَتَطَيَّرُونَ ، وَلَا يَكْتَوُونَ ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ " . فَقَامَ عُكَّاشَةُ فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ، فَدَعَا لَهُ ، ثُمَّ قَامَ آخَرُ فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ . فَقَالَ : " سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ مُطَوَّلًا وَمُخْتَصَرًا ، وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى كَذَلِكَ وَرِجَلُهُمَا فِي الْمُطَوَّلِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . وَيَأْتِي الْمُطَوَّلُ فِي صِفَةِ الْجَنَّةِ فِيمَنْ يَدْخُلُهَا بِغَيْرِ حِسَابٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” حج کے موقع پر میرے سامنے مختلف امتیں پیش کی گئیں ، پھر میرے پاس سے میری امت گزری ، جب میں نے انہیں دیکھا تو ان کی کثرت مجھے اچھی لگی ، انہوں نے ہموار زمین اور پہاڑوں ، ساری جگہ کو بھر دیا تھا ، اس ( پروردگار ) نے دریافت کیا : اے محمد ! کیا تم راضی ہو گئے ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ! اس نے فرمایا : ان کے ہمراہ ستر ہزار ایسے لوگ ہوں گے ، جو کسی حساب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے ، یہ وہ لوگ ہیں جو جھاڑ پھونک نہیں کرتے ہیں ، فال نہیں نکالتے ہیں ، داغ نہیں لگواتے ہیں اور اپنے پروردگار پر توکل کرتے ہیں ، راوی بیان کرتے ہیں : تو سیدنا عکاشہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ، انہوں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے بھی اُن میں شامل کر دے ، راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا کی ، ایک اور صاحب کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے بھی اُن میں شامل کر دے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عکاشہ اس بارے میں تم پر سبقت لے گیا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے طویل اور مختصر دونوں طرح سے نقل کی ہے ، اسے امام ابویعلیٰ نے بھی اسی طرح نقل کیا ہے ، اور طویل روایت میں ان کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، آگے چل کے طویل روایت ، جنت کی صفت سے متعلق کتاب میں ، ان افراد سے متعلق باب میں آئے گی ، جو کسی حساب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15665
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (5318 و 5319) اخرجه احمد فى المسند (3806 و 3819)»