کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 15660
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : أَنَّ حَاطِبَ بْنَ أَبِي بَلْتَعَةَ كَتَبَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ يَذْكُرُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَرَادَ غَزْوَهُمْ ، فَدُلَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الْمَرْأَةِ الَّتِي مَعَهَا الْكِتَابُ ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا ، فَأَخَذَ كِتَابَهَا مِنْ رَأْسِهَا . فَقَالَ : " يَا حَاطِبُ ، أَفَعَلْتَ ؟ " . قَالَ : نَعَمْ ، أَمَا إِنِّي لَمْ أَفْعَلْهُ غِشًّا لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَا نِفَاقًا ، قَدْ عَلِمْتُ : أَنَّ اللَّهَ مُظْهِرُ رَسُولِهِ وَمُتِمُّ لَهُ أَمْرَهُ ، غَيْرَ أَنِّي كُنْتُ بَيْنَ ظَهْرَانِيهِمْ وَكَانَتْ وَالِدَتِي مَعَهُمْ ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَتَّخِذَهَا عِنْدَهُمْ . فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : أَلَا أَضْرِبُ عُنُقَ هَذَا ؟ فَقَالَ : " تَقْتُلُ رَجُلًا مَنْ أَهْلِ بَدْرٍ ؟ وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللَّهَ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ ، فَقَالَ : اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَأَحْمَدُ أَتَمُّ مِنْهُ ، وَقَالَ فِيهِ : غَيْرَ أَنِّي كُنْتُ عَزِيزًا بَيْنَ ظَهْرَانِيهِمْ . وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا حاطب بن ابوبلتعہ رضی اللہ عنہ نے اہل مکہ کی طرف خط لکھا ، جس میں یہ بات ذکر کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اُن پر حملے کا ارادہ رکھتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کے بارے میں رہنمائی کی ، جس کے پاس وہ مکتوب تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کی طرف لوگوں کو بھیجا اور اس عورت کے سر میں سے وہ مکتوب حاصل کر لیا گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے حاطب ! کیا تم نے ایسا کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کسی کھوٹ کی وجہ سے ، یا کسی منافقت کی وجہ سے ایسا نہیں کیا ہے ، مجھے یہ پتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو غلبہ عطا کر دینا ہے ، اور ان کے معاملے کو مکمل کر دینا ہے ، اصل بات یہ ہے کہ میں ان لوگوں کے درمیان رہا ہوں ، اور میری والدہ ان کے ساتھ ابھی بھی رہ رہی ہیں ، تم میں یہ چاہ رہا تھا کہ اس حوالے سے اپنی والدہ کی خاطر اُن پر کوئی احسان کر دوں ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی : کیا میں اس کی گردن اڑا دوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم اہل بدر سے تعلق رکھنے والے ایک فرد کو قتل کرو گے ؟ تمہیں کیا پتا ؟ ہو سکتا ہے ، اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کی طرف جھانک کر دیکھا ہو اور یہ فرما دیا ہو : ” تم جو چاہو عمل کرو ! “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، امام أحمد نے اس سے زیادہ مکمل روایت کے طور پر اسے نقل کیا ہے ، تاہم انہوں نے اس میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” میں اُن کے درمیان نمایاں حیثیت رکھتا تھا ( یا میں اُن کے درمیان اجنبی تھا ) ۔ “ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15660
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (2265) اخرجه احمد فى المسند (349/3)»
حدیث نمبر: 15661
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُتِيَ بِحَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَنْتَ كَتَبْتَ هَذَا الْكِتَابِ ؟ " . قَالَ : نَعَمْ ، أَمَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَغَيَّرَ الْإِيمَانُ مِنْ قَلْبِي ، وَلَكِنْ لَمْ يَكُنْ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ إِلَّا وَلَهُ جَذَمٌ وَأَهْلُ بَيْتٍ يَمْنَعُونَ لَهُ أَهْلَهُ ، وَكَتَبْتُ كِتَابًا رَجَوْتُ أَنْ يَمْنَعَ اللَّهُ بِذَلِكَ أَهْلِيَ ، فَقَالَ عُمَرُ - رَحِمَهُ اللَّهُ - : ائْذَنْ لِي فِيهِ قَالَ : " أَوَ كُنْتَ قَاتِلَهُ ؟ " . قَالَ : نَعَمْ : أَنْ أَذِنْتَ لِي قَالَ : " وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّهُ قَدِ اطَّلَعَ اللَّهُ إِلَى أَهْلِ بَدْرٍ ، فَقَالَ : اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سیدنا حاطب بن ابوبلتعہ رضی اللہ عنہ کو لایا گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا : کیا تم نے یہ مکتوب لکھا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! لیکن یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم ! میرے دل سے ایمان متغیر نہیں ہوا ہے ، اصل بات یہ ہے کہ یہاں قریش سے تعلق رکھنے والا جو بھی فرد موجود ہے ، اس کے تعلق دار اور خاندان کے افراد مکہ میں موجود ہیں ، جو اس کے گھر کے افراد کی دیکھ بھال کریں گے ، میں نے یہ مکتوب اس اُمید میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے میرے گھر والوں کی حفاظت کرے گا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : آپ مجھے اس کے بارے میں اجازت دیں ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم اسے قتل کر دو گے ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! اگر آپ مجھے اجازت دے دیتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہیں کیا معلوم ؟ ہو سکتا ہے ، اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کی طرف جھانک کر دیکھا ہو اور یہ فرمایا ہو : ” تم جو چاہو عمل کرو ! “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15661
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (5522) اخرجه احمد فى المسند (5878)»
حدیث نمبر: 15662
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : كَتَبَ حَاطِبُ بْنُ أَبِي بَلْتَعَةَ كِتَابًا إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ ، فَأَطْلَعَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - نَبِيَّهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَعَثَ عَلِيًّا وَالزُّبَيْرَ فِي أَثَرِ الْكِتَابِ ، فَأَدْرَكَا الْمَرْأَةَ عَلَى بَعِيرٍ ، فَاسْتَخْرَجَاهُ مِنْ قُرُونِهَا ، فَأَتَيَا بِهِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُرِئَ عَلَيْهِ ، فَأَرْسَلَ إِلَى حَاطِبٍ فَقَالَ : " يَا حَاطِبُ ، أَنْتَ كَتَبْتَ هَذَا [ الْكِتَابَ ] ؟ " . قَالَ : نَعَمْ قَالَ : " فَمَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ ؟ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لَنَاصِحٌ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ ، وَلَكِنِّي كُنْتُ غَرِيبًا فِي أَهْلِ مَكَّةَ ، وَكَانَ أَهْلِي بَيْنَ ظَهْرَانِيهِمْ وَخَشِيتُ عَلَيْهِمْ ، فَكَتَبْتُ كِتَابًا لَا يَضُرُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ شَيْئًا ، وَعَسَى أَنْ يَكُونَ مَنْفَعَةً لِأَهْلِي ، فَقَالَ عُمَرُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - : فَاخْتَرَطْتُ سَيْفِي ، ثُمَّ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَمْكِنِّي مِنْ حَاطِبٍ ; فَإِنَّهُ قَدْ كَفَرَ فَأَضْرِبُ عُنُقَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ، مَا يُدْرِيكَ ؟ لَعَلَّ اللَّهَ اطَّلَعَ عَلَى هَذِهِ الْعِصَابَةِ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ ، فَقَالَ : اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُهُمْ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حاطب بن ابی بلتعہ ( رضی اللہ عنہ ) نے اہل مکہ کی طرف ایک مکتوب لکھا ، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو اس کی اطلاع دیدی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے علی اور زبیر کو اس مکتوب کے پیچھے بھیجا ، وہ دونوں ایک عورت کے پاس پہنچے ، جو ایک اونٹ پر سوار تھی ، ان دونوں نے اس کے بالوں میں سے وہ مکتوب نکلوایا اور وہ مکتوب لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئے ، وہ مکتوب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پڑھا گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حاطب کو بلوایا اور دریافت کیا : اے حاطب ! کیا تم نے یہ مکتوب لکھا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم نے ایسا کیوں کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم ! میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا خیرخواہ ہوں لیکن میں مکہ میں غریب الوطن تھا ، اور میرے اہل خانہ ان لوگوں کے درمیان موجود ہیں ، مجھے ان اہل خانہ کے حوالے سے اندیشہ ہوا ، تو میں نے ایک ایسا مکتوب لکھا ، جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی نقصان نہیں کر سکتا ، لیکن یہ ہو سکتا تھا کہ وہ میرے اہل خانہ کے لئے نفع کا باعث بن جاتا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے اپنی تلوار نکالی اور پھر میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے حاطب کو قتل کرنے کی اجازت دیجئے ، کیونکہ اس نے کفر کا ارتکاب کیا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ابن خطاب ! تمہیں کیا معلوم ؟ ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ نے اہل بدر سے تعلق رکھنے والے اس گروہ کی طرف جھانک کر دیکھا ہو اور پھر یہ فرمایا ہو : ” تم جو چاہو عمل کرو میں نے تمہاری مغفرت کر دی ہے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے کبیر میں نقل کی ہے اس کو امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے اور ان کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15662
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2605)»
حدیث نمبر: 15663
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ أَنَّهُ حَدَّثَ : أَنَّ أَبَاهُ كَتَبَ إِلَى كُفَّارِ قُرَيْشٍ كِتَابًا وَهُوَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ شَهِدَ بَدْرًا ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلِيًّا وَالزُّبَيْرَ ، فَقَالَ : " انْطَلِقَا حَتَّى تُدْرِكَا امْرَأَةً مَعَهَا كِتَابٌ ، وَائْتِيَانِي بِهِ " . فَانْطَلَقَا حَتَّى لَقِيَاهَا ، فَقَالَا : أَعْطِينَا الْكِتَابَ الَّذِي مَعَكِ ، وَأَخْبَرَاهَا أَنَّهُمَا غَيْرُ مُنْصَرِفَيْنِ حَتَّى يَنْزِعَا كُلَّ ثَوْبٍ عَلَيْهَا ، فَقَالَتْ : أَلَسْتُمَا رَجُلَيْنِ مُسْلِمَيْنِ ؟ قَالَا : بَلَى ، وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَدَّثَنَا : أَنَّ مَعَكِ كِتَابًا ، فَلَمَّا أَيْقَنَتْ أَنَّهَا غَيْرُ مُنْفَلِتَةٍ مِنْهُمَا حَلَّتِ الْكِتَابَ مِنْ رَأْسِهَا فَدَفَعَتْهُ إِلَيْهِمَا ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَاطِبًا حَتَّى قَرَأَ عَلَيْهِ الْكِتَابَ ، فَقَالَ : " أَتَعْرِفَ هَذَا الْكِتَابَ ؟ " . قَالَ : نَعَمْ قَالَ : " فَمَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ ؟ " . قَالَ : هُنَاكَ وَلَدِي وَقَرَابَتِي ، وَكُنْتُ امْرَأً غَرِيبًا فِيكُمْ مَعْشَرَ قُرَيْشٍ ، فَقَالَ عُمَرُ : ائْذَنْ لِي فِي قَتْلِ حَاطِبٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّهُ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا ، وَإِنَّكَ لَا تَدْرِي لَعَلَّ اللَّهَ قَدِ اطَّلَعَ إِلَى أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ : اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ إِنِّي غَافِرٌ لَكُمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے عبدالرحمن بیان کرتے ہیں : اُن کے والد نے قریش کے کفار کی طرف ایک مکتوب لکھا ، سیدنا حاطب رضی اللہ عنہ اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، اُنہیں غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو بلایا اور ارشاد فرمایا : تم دونوں جاؤ ! تم ایک عورت کے پاس پہنچو گے ، جس کے پاس ایک مکتوب ہو گا ، تم اس مکتوب کو میرے پاس لے آنا ، یہ دونوں حضرات تشریف لے گئے ، اُن کی ملاقات اس عورت سے ہوئی ، ان دونوں نے کہا: تم ہمیں اپنے پاس موجود مکتوب دیدو ، ان دونوں نے اس عورت کو خبردار کیا کہ وہ دونوں اس وقت تک واپس نہیں جائیں گے ، جب تک اس کی جامہ تلاشی نہیں لے لیتے ، اس عورت نے دریافت کیا : کیا تم دونوں مسلمان نہیں ہو ؟ اُن دونوں حضرات نے جواب دیا : جی ہاں ! لیکن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ بات بتائی ہے کہ تمہارے پاس ایک مکتوب ہے ، جب اس عورت کو یہ یقین ہو گیا کہ وہ دونوں ایسے نہیں جائیں گے ، تو اس عورت نے اپنے سر میں سے مکتوب نکالا اور وہ ان دونوں حضرات کے حوالے کر دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حاطب رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور ان کے سامنے یہ مکتوب پڑھا گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم اس مکتوب سے واقف ہو ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم نے ایسا کیوں کیا ؟ انہوں نے عرض کی : وہاں میری اولاد اور رشتہ دار موجود ہیں ، اور میں قریش کے درمیان ایک غریب الوطن شخص ہوں ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : آپ مجھے حاطب کو قتل کرنے کی اجازت دیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس نے بدر میں شرکت کی ہے اور تم نہیں جانتے ، ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کی طرف جھانک کر یہ ارشاد فرمایا ہو : ” تم جو چاہو عمل کرو ! میں نے تمہاری مغفرت کر دی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15663
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3066)»
حدیث نمبر: 15664
وَعَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ قَالَتْ : جَاءَ غُلَامُ حَاطِبٍ ، فَقَالَ : وَاللَّهِ لَا يَدْخُلُ حَاطِبٌ الْجَنَّةَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كَذَبْتَ ; قَدْ شَهِدَ بَدْرًا وَالْحُدَيْبِيَةَ " . ¤ قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ غَيْرُ هَذَا فِي الصَّحِيحِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام مبشر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : سیدنا حاطب رضی اللہ عنہ کا غلام آیا اور بولا: اللہ کی قسم ! سیدنا حاطب رضی اللہ عنہ جنت میں داخل نہیں ہوں گے ، تو تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم نے جھوٹ بولا: ہے ، وہ غزوہ بدر اور حدیبیہ میں شریک ہوا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس خاتون کے حوالے سے اس کے علاوہ ایک حدیث ” صحیح “ میں مذکور ہے ،
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15664
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (102/25) اخرجه احمد فى المسند (362/6)»