کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: حضرت ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے غلام حضرت سالم رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 15641
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ - فِي تَسْمِيَةِ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنْ قُرَيْشٍ ثُمَّ مِنْ بَنِي عَبْدِ شَمْسِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ - : سَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
عروہ بن زبیر نے ، غزوہ بدر میں شرکت کرنے والے افراد کے ناموں میں ، قریش کی شاخ بنو عبدشمس بن عبدمناف سے تعلق رکھنے والے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے غلام سیدنا سالم رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15641
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن، ولکنہ مرسل۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6370)»
حدیث نمبر: 15642
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ : كَانَ فَزَعٌ بِالْمَدِينَةِ ، فَأَتَيْتُ عَلَى سَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ وَهُوَ مُحْتَبٍ بِحَمَائِلِ سَيْفِهِ ، فَأَخَذْتُ سَيْفِي فَاحْتَبَيْتُ بِحَمَائِلِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، أَلَّا كَانَ مَفْزَعُكُمْ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ ؟ " . قَالَ : " أَلَا فَعَلْتُمْ كَمَا فَعَلَ هَذَانِ الرَّجُلَانِ الْمُؤْمِنَانِ ؟ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں خوف کی صورتحال پیدا ہو گئی ، تو میں سیدنا ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے غلام ، سالم رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، انہوں نے اپنی تلوار گردن میں لٹکائی ہوئی تھی ، میں نے بھی اپنی تلوار لی اور میں نے بھی وہ گردن میں لٹکا لی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! تم خطرے کی صورتحال میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کیوں نہیں آئے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم لوگ وہ کام نہیں کر سکتے تھے ؟ جو کام ان دو مؤمن افراد نے کیا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15642
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (203/4)»
حدیث نمبر: 15643
وَعَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَمِعَ سَالِمًا مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ يَقْرَأُ مِنَ اللَّيْلِ ، فَقَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي أُمَّتِي مِثْلَهُ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے غلام سیدنا سالم رضی اللہ عنہ کو رات کے وقت تلاوت کرتے ہوئے سنا ، تو ارشاد فرمایا : ” ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، جس نے میری اُمت میں اس جیسے افراد بنائے ہیں ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15643
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2694)»
حدیث نمبر: 15644
وَعَنْ عُرْوَةَ فِي تَسْمِيَةِ مَنِ اسْتُشْهِدَ يَوْمَ الْيَمَامَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ هَكَذَا فِي تَرْجَمَةِ سَالِمٍ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
عروہ نے جنگ یمامہ میں شریک ہونے والے افراد میں ان کا ذکر کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اسی طرح سیدنا سالم رضی اللہ عنہ کے حالات میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15644
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6370)»