حدیث نمبر: 15633
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَإِذَا حِسٌّ ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا بِلَالٌ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ الزُّبَيْرِيُّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں جنت میں داخل ہوا تو وہاں آہٹ محسوس ہوئی ، میں نے دیکھا تو وہ بلال تھا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مصعب بن ثابت زبیری ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مصعب بن ثابت زبیری ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 15634
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنِّي دَخَلْتُ الْجَنَّةَ ، فَسَمِعْتُ خَشْفَةً بَيْنَ يَدَيْ ، فَقُلْتُ : يَا جِبْرِيلُ ، مَا هَذِهِ الْخَشْفَةُ ؟ قَالَ : بِلَالٌ يَمْشِي أَمَامَكَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ ، وَأَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ تَقَدَّمَ فِيمَا اجْتَمَعَ مِنَ الْفَضْلِ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - وَغَيْرِهِمَا ، وَرِجَالُ الصَّغِيرِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے اپنے آگے کسی کی چاپ سنی ، میں نے دریافت کیا : اے جبرائیل ! یہ چاپ کس کی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : یہ بلال ہیں ، جو آپ کے آگے چل رہے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، انہوں نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، امام أحمد نے اسے ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کیا ہے ، جو اس سے پہلے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور دیگر حضرات کے اجتماعی فضائل سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ، معجم صغیر کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، انہوں نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، امام أحمد نے اسے ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کیا ہے ، جو اس سے پہلے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور دیگر حضرات کے اجتماعی فضائل سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ، معجم صغیر کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 15635
وَعَنْ وَحْشِيِّ بْنِ حَرْبٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَمَّا أُسْرِيَ بِي فِي الْجَنَّةِ سَمِعْتُ خَشْخَشَةً ، فَقُلْتُ : يَا جِبْرِيلُ ، مَا هَذِهِ الْخَشْخَشَةُ ؟ قَالَ : هَذَا بِلَالٌ " . ¤ قَالَ أَبُو بَكْرٍ : لَيْتَ أُمَّ بِلَالٍ وَلَدَتْنِي ، وَأَبُو بِلَالٍ ، وَأَنَا مِثْلُ بِلَالٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا وحشی بن حرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس رات مجھے معراج کروائی گئی ، جنت میں ، میں نے کسی کی آہٹ سنی ، تو میں نے دریافت کیا : اے جبرائیل ! یہ کس کی آہٹ ہے ؟ انہوں نے بتایا : یہ سیدنا بلال کی ہے ۔ “ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : کاش بلال کی والدہ اور والد نے مجھے جنم دیا ہوتا ، اور میں بلال کی مانند ہوتا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 15636
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " نِعْمَ الْمَرْءُ بِلَالٌ ، وَهُوَ سَيِّدُ الشُّهَدَاءِ ، وَالْمُؤَذِّنُونَ أَطْوَلُ النَّاسِ أَعْنَاقًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ حُسَامُ بْنُ مِصَكٍّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بلال اچھا آدمی ہے ، وہ شہداء کا سردار ہے ، اور اذان دینے والے لوگ قیامت کے دن سب سے لمبی گردن والے ہوں گئے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ہشام بن مصک ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ہشام بن مصک ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 15637
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِنَبِيِّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ الْجَنَّةَ ، فَسَمِعَ وَجْسًا ، فَقَالَ : " يَا جِبْرِيلُ ، مِنْ هَذَا ؟ " . قَالَ : هَذَا بِلَالٌ الْمُؤَذِّنُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِلنَّاسِ حِينَ جَاءَ : " قَدْ أَفْلَحَ بِلَالٌ ، رَأَيْتُ لَهُ كَذَا وَكَذَا " . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ قَابُوسٍ وَقَدْ وُثِّقَ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جس رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کروائی گئی ، اس ( معراج کے دوران ) میں ، جب آپ جنت میں داخل ہوئے ، تو آپ نے کسی کی ہلکی سی آواز سنی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے جبرائیل : یہ کون ہے ؟ انہوں نے بتایا : یہ سیدنا بلال مؤذن رضی اللہ عنہ ہیں ۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے ، تو آپ نے لوگوں سے ارشاد فرمایا : ” تحقیق بلال کامیاب ہو گیا ، میں نے اس کے لئے یہ یہ کچھ دیکھا ہے “ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور قابوس کے علاوہ اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، ویسے قابوس کی بھی توثیق کی گئی ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور قابوس کے علاوہ اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، ویسے قابوس کی بھی توثیق کی گئی ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 15638
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : بَشَّرْتُ بِلَالًا ، فَقَالَ لِي : يَا عَبْدَ اللَّهِ ، بِمَا تُبَشِّرُنِي ؟ فَقُلْتُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " يَجِيءُ بِلَالٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى نَاقَةٍ ، رِجْلُهَا مِنْ ذَهَبٍ ، وَزِمَامُهَا مَنْ دُرٍّ وَيَاقُوتٍ ، مَعَهُ لِوَاءٌ يَتْبَعُهُ الْمُؤَذِّنُونَ ، فَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ حَتَّى إِنَّهُ لَيَدْخُلُ مَنْ أَذَّنَ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا ، يُرِيدُ بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَخْزُومِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو خوشخبری سنائی ، تو انہوں نے دریافت کیا : اے عبداللہ ! تم مجھے کس بات کی خوشخبری سنانا چاہتے ہو ؟ تو میں نے جواب دیا : میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” قیامت کے دن ، بلال ایک ایسی اونٹنی پر سوار ہو کر آئے گا ، جس کے پاؤں سونے کے بنے ہوئے ہوں گے ، اس کی لگام قیمتی پتھروں اور یاقوت کی بنی ہوئی ہو گی ، بلال کے پاس ایک جھنڈا ہو گا اور اذان دینے والے لوگ اُس کے پیچھے ہوں گے ، اور وہ ( یعنی سیدنا بلال رضی اللہ عنہ ) ان ( یعنی مؤذنین ) کو جنت میں داخل کروا دے گا ، یہاں تک کہ وہ ہر ایسے فرد کو داخل کروا دے گا ، جس نے چالیس دن تک صرف اللہ کی رضا کے حصول کے لئے اذان دی ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خالد بن اسماعیل مخزومی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خالد بن اسماعیل مخزومی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 15639
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَثَلُ بِلَالٍ مَثَلُ النَّحْلَةِ ; غَدَتْ تَأْكُلُ مِنَ الْحُلْوِ وَالْمُرِّ ، ثُمَّ هُوَ حُلْوٌ كُلُّهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بلال کی مثال ، شہد کی مکھی کی مانند ہے ، جو جا کر میٹھی اور کڑوی ( یعنی ہر قسم کی چیز ) کھا لیتی ہے ، لیکن پھر وہ سب کچھ میٹھا بن جاتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 15640
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ قَالَ : تُوُفِّيَ بِلَالٌ - مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ - وَيُقَالُ : إِنَّهُ تَرِبُ أَبِي بَكْرٍ بِدِمَشْقَ فِي الطَّاعُونِ ، وَدُفَنَ عِنْدَ بَابِ الصَّغِيرِ ، وَيُكْنَى : أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ، وَيُقَالُ : يُكْنَى أَبَا عَمْرٍو فِي سَنَةِ سَبْعَ عَشْرَةَ ، وَهُوَ مِنْ مُولَدِي السَّوَادِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
یحیی بن بکیر بیان کرتے ہیں : سیدنا بلال رضی اللہ عنہ ، جو سیدنا ابوبکر کے ساتھ نسبت ولاء رکھتے ہیں ، اور ایک قول کے مطابق وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہم عمر تھے ، اُن کا انتقال طاعون کی وجہ سے ” دمشق “ میں ہوا تھا ، اور انہیں ” باب صغیر “ کے پاس دفن کیا گیا ، اُن کی کنیت ابوعبداللہ تھی ، اور ایک قول کے مطابق ان کی کنیت ابوعمرو تھی ، ان کا انتقال 17 ہجری میں ، یا شاید 18 ہجری میں ہوا تھا ، اور وہ پیدائشی غلام تھے ۔