کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 15547
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ شَمْخِ بْنِ مَخْزُومِ بْنِ صَاهِلَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ تَمِيمِ بْنِ الْهُذَيْلِ بْنِ مُدْرِكَةَ بْنِ إِلْيَاسَ بْنِ مُضَرَ بْنِ نِزَارِ بْنِ مَعَدِّ بْنِ عَدْنَانَ حَلِيفُ بَنِي زُهْرَةَ ، وَقَدْ شَهِدَ بَدْرًا . ¤
محمد محی الدین
محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں : یہ سیدنا عبدالله رضی اللہ عنہ بن مسعود بن حارث بن شماس بن مخزوم بن صالح بن حارث بن تمیم بن ہذیل بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان ہیں ، یہ بنوزہرہ کے حلیف ہیں اور انھیں غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15547
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (8402)»
حدیث نمبر: 15548
وَفِي رِوَايَةٍ : ابْنُ مَخْزُومِ بْنِ كَاهِلِ بْنِ حَارِثِ بْنِ سَعْدِ بْنِ هُذَيْلٍ ، حُلَفَاءِ بَنِي زُهْرَةَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَرِجَالُ الْأَوَّلِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : یہ ( سیدنا عبدالله رضی اللہ عنہ بن مسعود بن حارث بن شماس ) بن مخزوم بن کاہل بن حارث بن سعد بن ہذیل ہیں ، جو بنوزہرہ کے حلیف تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے اور پہلی روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15548
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8403)»
حدیث نمبر: 15549
وَعَنْ أَحْمَدَ بْنِ رِشْدِينَ الْمِصْرِيِّ قَالَ : أَمْلَى عَلِيَّ مُوسَى بْنُ عَوْنٍ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودِ بْنِ كَاهِلِ بْنِ حَبِيبِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ مَخْزُومِ بْنِ صَاهِلَةَ بْنِ كَاهِلِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ تَمِيمِ بْنِ سَعْدِ بْنِ هُذَيْلِ بْنِ مُدْرِكَةَ بْنِ إِلْيَاسَ بْنِ مُضَرَ بْنِ نِزَارٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَمُوسَى بْنُ عَوْنٍ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
أحمد بن رشدین مصری بیان کرتے ہیں : موسیٰ بن عون نے مجھے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا نسب املاء کروایا تھا ، وہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بھائی کی اولاد میں سے تھے ( یعنی ان صاحب نے اپنے آباء و اجداد کا نسب بیان کرتے ہوئے اپنے دادا عبداللہ بن عتبہ کا یہ نسب بیان کیا : ) سیدنا عبداللہ بن عتبہ بن مسعود بن کاہل بن حبیب بن ثابت بن مخزوم بن صاہلہ بن کاہل بن حارث بن تمیم بن سعد بن ہذیل بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نزار ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور موسیٰ بن عون نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15549
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8401)»
حدیث نمبر: 15550
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَإِنِّي لَسَادِسُ سِتَّةٍ مَا عَلَى الْأَرْضِ مُسْلِمٌ غَيْرَنَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مجھے اپنے بارے میں یہ بات یاد ہے کہ میں ( اسلام قبول کرنے والا ) چھٹا فرد تھا ، روئے زمین پر ہمارے علاوہ اور کوئی مسلمان نہیں تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15550
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2676) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8406)»
حدیث نمبر: 15551
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ مَرْوَانَ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ وَهُوَ بِعَرَفَةَ ، فَقَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، جِئْتُ مِنَ الْكُوفَةِ وَتَرَكْتُ بِهَا رَجُلًا يُمْلِي الْمَصَاحِفَ عَنْ ظَهْرِ قَلْبٍ . قَالَ : فَغَضِبَ عُمَرُ ، وَانْتَفَخَ حَتَّى كَادَ يَمْلَأُ مَا بَيْنَ شُعْبَتَيِ الرَّحْلِ ، فَقَالَ : وَيْحَكَ ! مَنْ هُوَ ؟ فَقَالَ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ ، فَمَا زَالَ عُمَرُ يُطْفِئُ وَيُسَرِّي عَنْهُ الْغَضَبَ حَتَّى عَادَ إِلَى حَالِهِ الَّتِي كَانَ عَلَيْهَا ، فَقَالَ : وَيْحَكَ ! وَاللَّهِ مَا أَعْلَمُهُ بَقِيَ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ هُوَ أَحَقُّ بِذَلِكَ مِنْهُ ، وَسَأُحَدِّثُكَ عَنْ ذَلِكَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَزَالُ يَسْمُرُ عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ اللَّيْلَةَ كَذَلِكَ لِأَمْرٍ مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ ، وَإِنَّهُ سَمَرَ عِنْدِهِ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَأَنَا مَعَهُ ، ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَمْشِي وَنَحْنُ نَمْشِي مَعَهُ ، فَإِذَا رَجُلٌ قَائِمٌ يُصَلِّي فِي الْمَسْجِدِ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْتَمِعُ قِرَاءَتَهُ ، فَلَمَّا كِدْنَا نَعْرِفُ الرَّجُلَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ رَطْبًا كَمَا أُنْزِلَ فَلْيَقْرَأْهُ عَلَى قِرَاءَةِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ " . قَالَ : ثُمَّ جَلَسَ الرَّجُلُ يَدْعُو ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " سَلْ تُعْطَهُ " . قَالَ عُمَرُ : فَقُلْتُ : وَاللَّهِ لَأَعُودَنَّ إِلَيْهِ فَلَأُبَشِّرَنَّهُ . قَالَ : فَغَدَوْتُ إِلَيْهِ لِأُبَشِّرَهُ ، فَوَجَدْتُ أَبَا بَكْرٍ قَدْ سَبَقَنِي فَبَشَّرَهُ ، فَلَا وَاللَّهِ مَا سَابَقْتُهُ إِلَى خَيْرٍ قَطُّ إِلَّا سَبَقَنِي إِلَيْهِ . ¤
محمد محی الدین
قیس بن مروان بیان کرتے ہیں : ایک شخص سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا وہ اس وقت عرفہ میں موجود تھے ، اس شخص نے کہا: اے امیرالمؤمنین ! میں کوفہ سے آیا ہوں ، اور میں نے وہاں ایک صاحب کو چھوڑا ہے ، جو زبانی طور پر قرآن مجید املاء کرواتے ہیں ، راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ غصے سے میں آ گئے اور شدید غصے میں آ گئے ، انہوں نے دریافت کیا : تمہارا ستیاناس ہو ، وہ شخص کون ہے ؟ اس شخص نے جواب دیا : وہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں ، راوی بیان کرتے ہیں : تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا غصہ ٹھنڈا ہونا شروع ہوا ، جب اُن کی کیفیت ٹھیک ہو گئی ، جو پہلے تھی ، تو انہوں نے فرمایا : تمہارا ستیاناس ہو ، اللہ کی قسم ! ان کے بارے میں میرا علم یہ ہے کہ لوگوں میں کوئی بھی ایسا شخص باقی نہیں ہے ، جو اس بارے میں اُن سے زیادہ حق رکھتا ہو اور میں تمہیں اُس کے بارے میں بتاتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معمول تھا کہ آپ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھ کر رات کے وقت گفتگو کرتے تھے ، جو مسلمانوں کے کسی معاملے کے بارے میں ہوتی تھی ، ایک رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ گفتگو کر رہے تھے ، میں بھی آپ کے پاس موجود تھا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے باہر تشریف لائے ، ہم بھی آپ کے ساتھ چلتے ہوئے آئے ، تو ایک شخص مسجد میں کھڑا ہوا نماز ادا کر رہا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر اُس کی تلاوت سننے لگے ، قریب تھا کہ ہم اُس شخص کو پہچان جاتے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص یہ چاہتا ہو کہ وہ قرآن کو بالکل اسی طرح پڑھے ، جس طرح یہ نازل ہوا ہے ، اُسے ابن ام عبد ( یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود ) کی تلاوت کے مطابق قرآن کو پڑھنا چاہیے ۔ “ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : پھر وہ شخص بیٹھ کر دعا مانگنے لگا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوئے اور یہ کہنے لگے : تم مانگو ! تمہیں دیا جائے گا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے سوچا ، اللہ کی قسم ! کل میں اس شخص کے پاس ضرور جاؤں گا ، اور اُسے ضرور خوشخبری سناؤں گا ، وہ کہتے ہیں : جب میں اگلے دن صبح اُسے خوشخبری دینے کے لیے اس کے پاس گیا ، تو میں نے یہ صورتحال پائی کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ مجھ سے پہلے اسے خوشخبری سنا چکے تھے ، اللہ کی قسم ! میں نے بھلائی کے جس بھی کام کے بارے میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے مقابلہ کرنے کی کوشش کی ، تو وہ اس بارے میں مجھ سے سبقت لے جا چکے ہوتے تھے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15551
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن ولکن عند الشواھد حدیث صحیح، ولہ شاہد
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (194) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (8422)»
حدیث نمبر: 15552
وَفِي رِوَايَةٍ : فَأَتَى عُمَرُ عَبْدَ اللَّهِ لِيُبَشِّرَهُ فَوَجَدَ أَبَا بَكْرٍ خَارِجًا ، فَقَالَ : إِنْ فَعَلْتَ إِنَّكَ لَسَبَّاقٌ بِالْخَيْرِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى بِإِسْنَادَيْنِ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ قَيْسِ بْنِ مَرْوَانَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، تاکہ انہیں خوشخبری سنائیں ، تو انہوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پایا کہ وہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے نکل رہے تھے ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بولے : اگر آپ نے یہ کیا ہے ، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ بھلائی کی طرف بہت زیادہ سبقت لے جانے والے ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف قیس بن مروان کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15552
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8417)»
حدیث نمبر: 15553
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - : أَنَّ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ بَشَّرَاهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ غَضًّا كَمَا أُنْزِلَ فَلْيَقْرَأْهُ عَلَى قِرَاءَةِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ أَبِي النَّجُودِ ، وَهُوَ عَلَى ضَعْفِهِ حَسَنُ الْحَدِيثَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ فُرَاتِ بْنِ مَحْبُوبٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ خوشخبری سنائی : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص یہ چاہتا ہو کہ وہ قرآن کو بالکل اسی طرح پڑھے ، جس طرح وہ نازل ہوا ہے ، تو اُسے ابن ام عبد کی قرأت کے مطابق اسے پڑھنا چاہیے ۔ “
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن ابوالنجود ہے اور وہ ضعیف ہونے کے باوجود حسن الحدیث ہے ، امام أحمد کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ، امام طبرانی کے رجال بھی صحیح کے رجال ہیں ، صرف فرات بن محبوب کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15553
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2681) اخرجه احمد فى المسند (35)»
حدیث نمبر: 15554
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ أَنَّهُمَا بَشَّرَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لَهُ : " سَلْ تُعْطَهُ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : ان دونوں حضرات نے انہیں یہ خوشخبری سنائی اور یہ بتایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے ( یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں ) یہ فرمایا : ” تم مانگو ! تمہیں وہ دیا جائے گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15554
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2681)»
حدیث نمبر: 15555
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ غَرِيضًا كَمَا أُنْزِلَ فَلْيَقْرَأْهُ عَلَى قِرَاءَةِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، إِلَّا أَنَّهُمَا قَالَا : " غَضًّا " بَدَلَ : " غَرِيضًا " . ، وَفِيهِ جَرِيرُ بْنُ أَيُّوبَ الْبَجَلِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص یہ پسند کرتا ہو کہ وہ قرآن کو بالکل اُسی طرح پڑھے جس طرح یہ نازل ہوا ہے ، تو اُسے ( قرآن کو ) ابن ام عبد کی قرأت کے مطابق پڑھنا چاہیے ۔ “
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم ان دونوں نے لفظ ” عریض “ کی جگہ لفظ ” غض “ نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جریر بن ایوب بجلی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15555
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2682) اخرجه ابو يعلى فى المسند (6106) اخرجه احمد فى المسند (446/2)»
حدیث نمبر: 15556
وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ غَضًّا كَمَا أُنْزِلَ فَلْيَقْرَأْهُ عَلَى قِرَاءَةِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ". ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص یہ پسند کرتا ہو کہ وہ قرآن کو بالکل اسی طرح پڑھے ، جیسے یہ نازل ہوا ہے ، تو اسے ( قرآن کو ) ابن ام عبد کی قرأت کے مطابق پڑھنا چاہیے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور امام بزار کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15556
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2680)»
حدیث نمبر: 15557
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ قَالَ : بَيْنَمَا ابْنُ مَسْعُودٍ فِي الْمَسْجِدِ وَهُوَ يَدْعُو ، مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبُو بَكْرٍ ، فَلَمَّا حَاذَاهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَمِعَ دُعَاءَهُ ، وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَعْرِفُهُ ، فَقَالَ : " مَنْ هَذَا ؟ سَلْ تُعْطَهُ " . فَرَجَعَ أَبُو بَكْرٍ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، فَقَالَ : الدُّعَاءُ الَّذِي كُنْتَ تَدْعُو بِهِ ؟ فَقَالَ : حَمِدْتُ اللَّهَ وَمَجَّدْتُهُ ، ثُمَّ قُلْتُ : اللَّهُمَّ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، وَعْدُكَ حَقٌّ ، وَلِقَاؤُكَ حُقٌّ ، وَكِتَابُكَ حَقٌّ ، وَالنَّبِيُّونَ حَقٌّ ، وَمُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَقٌّ ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ ، وَالنَّارُ حَقٌّ ، وَرُسُلُكَ حَقٌّ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن عتبہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مسجد میں موجود تھے ، اور وہ دعا کر رہے تھے ، اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا وہاں سے گزر ہوا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے قریب پہنچے ، تو آپ نے ان کی دعا سنی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پہچانا نہیں ، آپ نے دریافت کیا : یہ کون ہے ؟ تم مانگو ! تمہیں دیا جائے گا ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بولے : وہ دعا کیا تھی ؟ جو تم کر رہے تھے ، انہوں نے جواب دیا : میں نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی ، اس کی بزرگی بیان کی ، پھر میں نے یہ کہا: ” اے اللہ تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، تیرا وعدہ حق ہے ، تیری بارگاہ میں حاضری حق ہے ، تیری کتاب حق ہے ، انبیاء کرام حق ہیں ، سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم حق ہیں ، جنت حق ہے ، جہنم حق ہے اور تیرے رسول حق ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15557
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8419)»
حدیث نمبر: 15558
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ : أَنَّهُ بَيْنَا هُوَ فِي الْمَسْجِدِ مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَدْعُو ، وَمَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، فَلَمَّا حَاذَى ِبهِ سَمِعَ دُعَاءَهُ وَهُوَ لَا يَعْرِفُهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "سَلْ تُعْطَهُ" فَرَجَعَ أَبُو بَكْرٍ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : الدُّعَاءُ الَّذِي دَعَوْتَ بِهِ مَا هُوَ ؟ قَالَ: حَمِدْتُ اللَّهَ وَمَجَّدْتُهُ ، ثُمَّ قُلْتُ : اللَّهُمَّ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، وَعْدُكَ حَقٌّ ، وَلِقَاؤُكَ حُقٌّ ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ ، وَالنَّارُ حَقٌّ ، وَرُسُلُكَ حَقٌّ، وَالنَّبِيُّونَ حَقٌّ ، وَمُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَقٌّ . ¤ قُلْتُ: رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَغَيْرُهُ بِاخْتِصَارٍ. ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ وَسَعِيدِ بْنِ الرَّبِيعِ السَّمَّانِ وَهُمَا ثِقَتَانِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ وہ مسجد میں موجود تھے ، اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے گزرے ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اس وقت دعا کر رہے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے ، تو آپ نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی دعا کو سنا ، آپ اُن کو پہچانے نہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم مانگو ! تمہیں وہ دیا جائے گا ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس واپس آئے اور انہوں نے دریافت کیا : وہ دعا کیا تھی ؟ جو تم مانگ رہے تھے ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : میں نے اللہ تعالیٰ کی حمد اور اس کی بزرگی بیان کی ، پھر میں نے یہ کہا: ” اے اللہ ! تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، تیرا وعدہ حق ہے ، تیری بارگاہ میں حاضری حق ہے ، جنت حق ہے ، جہنم حق ہے ، تیرے رسول حق ہیں ، انبیاء کرام حق ہیں ، سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم حق ہیں ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمذی اور دیگر حضرات نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عبداللہ بن أحمد بن حنبل اور سعید بن ربیع سمان کا معاملہ مختلف ہے اور یہ دونوں ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15558
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8418)»
حدیث نمبر: 15559
وَعَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : أَيُّ الْقِرَاءَتَيْنِ كَانَتْ آخِيرًا : قِرَاءَةُ عَبْدِ اللَّهِ أَوْ قِرَاءَةُ زَيْدٍ ؟ قَالَ : قُلْنَا : قِرَاءَةُ زَيْدٍ قَالَ : لَا إِلَّا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَعْرِضُ الْقُرْآنَ عَلَى جِبْرِيلَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - كُلِّ عَامٍ مَرَّةً ، فَلَمَّا كَانَ فِي الْعَامُ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ عَرَضَهُ عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ ، وَكَانَ آخِرُ الْقِرَاءَةِ قِرَاءَةَ عَبْدِ اللَّهِ . قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
مجاہد بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : دو قرأتوں میں سے کون سی بعد والی ہے ؟ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت یا سیدنا زید رضی اللہ عنہ کی قرأت ؟ راوی کہتے ہیں : ہم نے جواب دیا : سیدنا زید رضی اللہ عنہ کی قرأت ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال سیدنا جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ ایک مرتبہ قرآن کا دور کیا کرتے تھے ، جب وہ سال آیا جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہونا تھا ، تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دو مرتبہ دور کیا ، تو آخری قرأت سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرأت ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس روایت کا کچھ حصہ مذکور ہے ، یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15559
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2683) اخرجه احمد فى المسند (2494)»
حدیث نمبر: 15560
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَبْعِينَ سُورَةً ، وَخَتَمْتُ الْقُرْآنَ عَلَى خَيْرِ النَّاسِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - . قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ غَيْرَ قَوْلِهِ : وَخَتَمْتُ الْقُرْآنَ إِلَى آخِرِهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ سَالِمٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ستر سورتیں پڑھ کر سنائی ہیں اور میں نے پورا قرآن لوگوں میں سب سے بہتر فرد سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے سامنے پڑھا ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت صحیح میں مذکور ہے ، تاہم اس میں قرآن ختم کرنے والا حصہ نہیں ہے ، یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن سالم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15560
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8446)»
حدیث نمبر: 15561
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : أَمَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ابْنَ مَسْعُودٍ فَصَعِدَ شَجَرَةً ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَأْتِيَهُ مِنْهَا بِشَيْءٍ ، فَنَظَرَ أَصْحَابُهُ إِلَى سَاقِ عَبْدِ اللَّهِ حِينَ صَعِدَ فَضَحِكُوا مِنْ حُمُوشَةِ سَاقَيْهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا تَضْحَكُونَ ؟ لَرِجْلُ عَبْدِ اللَّهِ أَثْقَلُ فِي الْمِيزَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ أُحُدٍ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُمْ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أُمِّ مُوسَى وَهِيَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو حکم دیا ، وہ درخت پر چڑھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ ہدایت کی تھی کہ وہ اس درخت میں سے کچھ اتار کر لائیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے اوپر چڑھنے کے وقت ان کی پنڈلیوں کو دیکھا ، تو وہ لوگ اُن کی پنڈلیوں کے کمزور ہونے پر ہنس پڑے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم کس بات پر ہنس رہے ہو ؟ قیامت کے دن عبداللہ کی ٹانگ ، میزان میں ، اُحد پہاڑ سے زیادہ وزنی ہو گی ۔ “
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف اُم موسیٰ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ خاتون ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15561
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (539) اخرجه احمد فى المسند (920)»
حدیث نمبر: 15562
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ : أَنَّهُ كَانَ يَجْتَنِي سِوَاكًا مِنْ أَرَاكٍ ، وَكَانَ دَقِيقَ السَّاقَيْنِ ، فَجَعَلَتِ الرِّيحُ تَكْفَؤُهُ ، فَضَحِكَ الْقَوْمُ مِنْهُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مِمَّ تَضْحَكُونَ ؟ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مِنْ دِقَّةِ سَاقَيْهِ . فَقَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَهُمَا فِي الْمِيزَانِ أَثْقَلُ مِنْ أُحُدٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ مِنْ طُرُقٍ ، وَفِي بَعْضِهَا : " لَسَاقَا ابْنِ مَسْعُودٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَشَدُّ وَأَعْظَمُ مِنْ أُحُدٍ " . وَفِي بَعْضِهَا : بَيْنَا هُوَ يَمْشِي وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ هَمَزَهُ أَصْحَابُهُ أَوْ بَعْضُهُمْ . ¤ وَأَمْثَلُ طُرُقِهَا فِيهِ : عَاصِمُ بْنُ أَبِي النَّجُودِ ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ عَلَى ضَعْفِهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ وَأَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ پیلو کے درخت سے مسواک چن رہے تھے ، اُن کی پنڈلیاں پتلی تھیں ، ہوا کی وجہ سے اُن کا کپڑا اڑا تو کچھ لوگ ان کی پنڈلیاں دیکھ کر ہنس پڑے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم لوگ کس بات پر ہنسے ہو ؟ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ان کی پنڈلیوں کے کمزور ہونے پر ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، میزان میں یہ دونوں ( پنڈلیاں ) احد پہاڑ سے زیادہ وزنی ہوں گی ۔ “
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے اور امام طبرانی نے مختلف اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ۔ بعض روایات میں یہ الفاظ ہیں : ” ابن مسعود کی دونوں پنڈلیاں ، قیامت کے دن ، اُحد پہاڑ سے زیادہ مضبوط اور زیادہ بڑی ہوں گی ۔ “ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” ایک مرتبہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلتے ہوئے جا رہے تھے ، اسی دوران آپ کے بعض اصحاب نے ان پر تبصرہ کیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ اس روایت کے تمام طرق میں ، جو سب سے زیادہ مثالی طریق ہے ، اس میں ایک راوی عاصم بن ابونجود ہے اور وہ ضعیف ہونے کے باوجود حسن الحدیث ہے ، امام أحمد اور امام ابویعلیٰ کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15562
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2678) أخرجه أبو يعلى فى المسند (5310) اخرجه احمد فى المسند (3991)»
حدیث نمبر: 15563
وَعَنْ قُرَّةَ بْنِ إِيَاسٍ : أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَقَى شَجَرَةً يَجْتَنِي مِنْهَا سِوَاكًا ، فَوَضَعَ رِجْلَيْهِ عَلَيْهَا ، فَضَحِكَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ دِقَّةِ سَاقَيْهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَهُمَا أَثْقَلُ فِي الْمِيزَانِ مِنْ أُحُدٍ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
قرہ بن ایاس بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود ایک درخت پر چڑھے ، تاکہ اس میں سے مسواک اتاریں ، انہوں نے اپنے پاؤں اس پر رکھے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب اُن کی پنڈلیوں کے کمزور ہونے پر ہنس پڑے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ دونوں ، میزان میں اُحد پہاڑ سے زیادہ وزنی ہوں گی ۔ “
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15563
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2677) أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (28/19)»
حدیث نمبر: 15564
وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ : ذَهَبَ ابْنُ مَسْعُودٍ وَنَاسٌ مَعَهُ إِلَى كَبَاثٍ ، فَصَعِدَ ابْنُ مَسْعُودٍ شَجَرَةً لِيَجْتَنِيَ مِنْهَا ، فَنَظَرُوا إِلَى سَاقَيْهِ فَضَحِكُوا مِنْ حُمُوشَتِهِمَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مِنْ أَيِّ شَيْءٍ تَضْحَكُونَ ؟ " . قَالُوا : مِنْ حُمُوشَةِ سَاقَيِ ابْنِ مَسْعُودٍ ! فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَاللَّهِ إِنَّهُمَا لَأَثْقَلُ فِي الْمِيزَانِ مِنْ أُحُدٍ " . ثُمَّ ذَهَبَ كُلُّ إِنْسَانٍ فَاجْتَنَى فَحْلًا يَأْكُلُهُ ، وَجَاءَ ابْنُ مَسْعُودٍ بِجِنَائِهِ قَدْ جَعَلَهُ فِي حِجْرِهِ ، فَوَضْعَهُ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : ¤ هَذَا جِنَايَ وَخِيَارُهُ فِيهِ وَكُلُّ جَانٍ يَدُهُ إِلَى فِيهِ ¤ فَأَكَلَ مِنْهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَرْزَمِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوطفیل بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ گئے ، اُن کے ساتھ کچھ لوگ بھی تھے ، یہ لوگ پیلو کے درخت کی طرف گئے ، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ درخت پر چڑھے تاکہ اُس سے مسواک اتاریں ، یا پھل اتاریں ، لوگوں نے ان کی پنڈلیوں کو دیکھا ، تو ان کی پنڈلیوں کی کمزوری پر وہ ہنس پڑے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم لوگ کس بات پر ہنستے ہو ؟ لوگوں نے عرض کی : ابن مسعود کی پنڈلیوں کی کمزوری پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ کی قسم ! یہ دونوں میزان میں ، اُحد پہاڑ سے زیادہ وزنی ہوں گی ۔ “ پھر ہر شخص گیا اور وہ پھل چننے لگا اور اسے کھانے لگا ، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے جو پھل اتارا تھا ، وہ اُسے اپنی جھولی میں رکھ کر آئے ، اور اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دیا اور یہ شعر پڑھا : ” یہ میرا چنا ہوا پھل ہے اور اس میں بہتر پھل ہے اور ہر پھل چننے والے کا ہاتھ اس کے اپنے منہ کی طرف ہے ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس پھل میں سے کھایا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبیداللہ عرزمی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15564
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
حدیث نمبر: 15565
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِحَاجَتِهِ ، فَلَقِيتُهُ بِمَاءٍ ، فَقَالَ : " مَنْ أَمَرَكَ بِهَذَا ؟ " . فَقُلْتُ : مَا أَمَرَنِي بِهِ أَحَدٌ ! فَقَالَ : " قَدْ أَحْسَنْتَ ، أَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ " . ثُمَّ جَاءَ عَلِيٌّ فَبَشَّرَهُ بِالْجَنَّةِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ الْقَاسِمِ ، وَكَانَ يَضَعُ الْحَدِيثَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے ، میں پانی لے کر آپ کے پیچھے گیا ، آپ نے دریافت کیا : تمہیں کس نے اس بات کا حکم دیا ؟ میں نے عرض کی : مجھے کسی نے اس بارے میں ہدایت نہیں کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نے اچھا کام کیا ہے ، تم جنت کی خوشخبری قبول کرو ! پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی جنت کی خوشخبری دی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالغفار بن قاسم ہے اور وہ حدیث ایجاد کرتا تھا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15565
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10341)»
حدیث نمبر: 15566
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : مَا كَذَبْتُ مُنْذُ أَسْلَمْتُ إِلَّا كَذِبَةً وَاحِدَةً ، كُنْتُ أَرْحَلُ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَتَى رَجُلٌ مِنَ الطَّائِفِ فَسَأَلَنِي : أَيُّ الرِّحْلَةِ أَحَبُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَقُلْتُ : الطَّائِفِيَّةُ الْمُنْكَبَّةُ ، وَكَانَ يَكْرَهُهَا . فَلَمَّا أُتِيَ بِهَا قَالَ : " مَنْ رَحَلَ هَذِهِ ؟ " . قَالُوا : رَحَّالُكَ قَالَ : " مُرُوا ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ أَنْ يَرْحَلَ " . فَأُعِيدَتْ إِلَيَّ الرِّحْلَةُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب سے میں نے اسلام قبول کیا ہے ، میں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا: ، البتہ ایک مرتبہ کی غلط بیانی کا معاملہ مختلف ہے ، میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے پالان تیار کیا کرتا تھا ، طائف سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آیا ، اُس نے مجھ سے دریافت کیا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پالان تیار کرنے کا کون سا طریقہ پسند ہے ؟ میں نے جواب دیا : طائفیہ منکبہ ، حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کو ناپسند کرتے تھے ، جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : یہ پالان کس نے تیار کیا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : آپ کا پالان تیار کرنے والے شخص نے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ابن ام عبد سے کہو کہ وہ پالان تیار کیا کرے ، تو پالان تیار کرنے کی ذمہ داری مجھے واپس مل گئی ۔
یہ روایت امام طبرانی اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15566
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف۔
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (5268) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10366)»
حدیث نمبر: 15567
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خُطْبَةً خَفِيفَةً ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ خُطْبَتِهِ قَالَ : " يَا أَبَا بَكْرٍ ، قُمْ فَاخْطُبْ " . فَقَصَّرَ دُونَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ خُطْبَتِهِ قَالَ : " يَا عُمَرُ ، قُمْ فَاخْطُبْ " . فَقَامَ فَقَصَّرَ دُونَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَدُونَ أَبِي بَكْرٍ . فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ خُطْبَتِهِ قَالَ : " يَا فُلَانُ ، قُمْ فَاخْطُبْ " . فَشَفَقَ الْقَوْلَ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اسْكُتْ أَوِ اجْلِسْ ; فَإِنَّ التَّشْقِيقَ مِنَ الشَّيْطَانِ ، وَإِنَّ الْبَيَانَ مِنَ السِّحْرِ " . ¤ وَقَالَ : " يَا ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ ، قُمْ فَاخْطُبْ " . فَقَامَ ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - رَبُّنَا ، وَإِنَّ الْإِسْلَامَ دِينُنَا ، وَإِنَّ الْقُرْآنَ إِمَامُنَا ، وَإِنَّ الْبَيْتَ قِبْلَتُنَا ، وَإِنَّ هَذَا نَبِيُّنَا - وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَضِينَا مَا رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى لَنَا وَرَسُولُهُ ، وَكَرِهْنَا مَا كَرِهَ اللَّهُ تَعَالَى لَنَا وَرَسُولُهُ . ¤ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَصَابَ ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ ، أَصَابَ ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ وَصَدَقَ ، وَرَضِيتُ بِمَا رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى لِي وَلِأُمَّتِي وَابْنُ أُمِّ عَبْدٍ " وَكَرِهْتُ مَا كَرِهَ اللَّهُ تَعَالَى لِي وَلِأُمَّتِي وَابْنِ أُمِّ عَبْدٍ ". ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے مختصر خطبہ ارشاد فرمایا ، جب آپ خطبہ دے کر فارغ ہوئے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ابوبکر ! تم اُٹھو اور تم خطبہ دو ، انہوں نے خطبہ دیا ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبہ سے مختصر تھا ، جب وہ خطبہ دے کر فارغ ہوئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے عمر ! تم اٹھو اور تم خطبہ دو ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اُٹھے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ دونوں سے مختصر خطبہ دیا ، جب وہ خطبہ دے کر فارغ ہوئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے فلاں ! تم اُٹھو اور خطبہ دو ! اس شخص نے بنا سنوار کر باتیں شروع کیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : تم خاموش ہو جاؤ ! راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : تم بیٹھ جاؤ ! کیونکہ اس طرح بنا سنوار کر بات کرنا ، شیطان کی طرف سے ہوتا ہے ، اور بعض بیان جادو ہوتے ہیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ابن عبد ! تم اُٹھو اور خطبہ دو ، تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ، انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد یہ کہا: ” اے لوگو ! بے شک اللہ تعالیٰ ہمارا پروردگار ہے ، بے شک اسلام ہمارا دین ہے ، بے شک قرآن ہمارا پیشوا ہے ، بے شک کعبہ ہمارا قبلہ ہے ، بے شک ” یہ “ ہمارے نبی ہیں ۔ انہوں نے اپنے ہاتھ کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اشارہ کر کے یہ بات کہی ۔ تو ہم اُس سے راضی ہیں ، جس سے اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لیے راضی ہیں ، اور اُس چیز کو ہم ناپسند کرتے ہیں ، جسے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لئے ناپسندیدہ قرار دیا ہو ۔ “ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ابن ام عبد نے ٹھیک کہا: ہے ، ابن ام عبد نے ٹھیک کہا: ہے ، اور اس نے سچ کہا: ہے ، میں اس چیز سے راضی ہوں ، جس سے اللہ تعالیٰ میرے لئے اور میری اُمت اور ابن ام عبد کے لئے راضی ہو اور میں اُس چیز کو ناپسند کرتا ہوں ، جسے اللہ تعالیٰ میرے لئے اور میری امت کے لئے ، اور ابن ام عبد کے لیے ناپسند کرے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، صرف یہ ہے کہ عبیداللہ بن عثمان بن خثیم نامی راوی نے سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15567
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
حدیث نمبر: 15568
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " رَضِيتُ لِأُمَّتِي مَا رَضِيَ لَهَا ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ ، وَكَرِهْتُ لِأُمَّتِي مَا كَرِهَ لَهَا ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارِ الْكَرَاهَةِ ، وَرَوَاهُ فِي الْكَبِيرِ مُنْقَطِعَ الْإِسْنَادِ . وَفِي إِسْنَادِ الْبَزَّارِ مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَفِيهِ خِلَافٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں اپنی اُمت کے لئے اُس چیز سے راضی ہوں ، جس چیز سے ابن ام عبد اُن کے لیے راضی ہے ، اور میں اپنی امت کے لئے اُس چیز کو ناپسند کرتا ہوں ، جو چیز ابن ام عبد ان کے لیے ناپسند کرتا ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں ناپسندیدہ چیز کے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اسے معجم کبیر میں منقطع سند کے ساتھ نقل کیا ہے ، امام بزار کی سند میں ایک راوی محمد بن حمید رازی ہے اور وہ ثقہ ہے اور اس میں اختلاف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15568
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2679) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8458)»
حدیث نمبر: 15569
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : مَا بَقِيَ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ أُحُدٍ إِلَّا أَرْبَعَةٌ ، أَحَدُهُمْ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : غزوۂ احد کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف چار افراد باقی رہ گئے تھے ، جن میں سے ایک سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15569
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 15570
وَعَنِ الْحَسَنِ قَالَ : قَالَ رَجُلٌ لِعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ : أَرَأَيْتَ رَجُلًا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يُحِبُّهُ ، أَلَيْسَ رَجُلًا صَالِحًا ؟ قَالَ : بَلَى . قَالَ : قَدْ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يُحِبُّكَ ، وَقَدِ اسْتَعْمَلَكَ قَالَ : قَدِ اسْتَعْمَلَنِي فَوَاللَّهِ مَا أَدْرِي حُبًّا كَانَ لِي مِنْهُ أَوِ اسْتِعَانَةً بِي ؟ وَلَكِنْ سَأُحَدِّثُكَ بِرَجُلَيْنِ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يُحِبُّهُمَا : عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، وَعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ عَنْهُمَا رَاضٍ . وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . قُلْتُ : وَلَهُ طُرُقٌ فِي تَرْجَمَةِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ . ¤
محمد محی الدین
حسن بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے کہا: ایسے شخص کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے وصال کے وقت ، اُس سے محبت رکھتے ہوں ، تو کیا وہ نیک شخص نہیں ہو گا ؟ سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں ! اُس شخص نے کہا: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آپ سے محبت رکھتے تھے ، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو عامل مقرر کیا تھا ، تو سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عامل مقر رکیا تھا ، لیکن اللہ کی قسم ! مجھے نہیں معلوم کہ یہ اس وجہ سے تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے محبت رکھتے تھے یا آپ اس کام کے سلسلے میں مجھ سے خدمت لینا چاہ رہے تھے ، البتہ میں تمہیں دو ایسے افراد کے بارے میں بتا دیتا ہوں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں سے محبت رکھتے تھے ، وہ عبداللہ بن مسعود اور عمار بن یاسر ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں سے راضی تھے ۔ “ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس روایت کے کچھ طرق سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے حالات والے باب میں آئیں گے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15570
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (203/4)»
حدیث نمبر: 15571
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ : إِنَّا لَجُلُوسٌ مَعَ عُمَرَ إِذْ جَاءَ عَبْدُ اللَّهِ يَكَادُ الْجُلُوسُ يُوَازُونَهُ مِنْ قِصَرِهِ ، فَضَحِكَ عُمَرُ حِينَ رَآهُ ، فَجَعَلَ يُكَلِّمُ عُمَرَ وَيُضَاحِكُهُ وَهُوَ قَائِمٌ عَلَيْهِ ، ثُمَّ وَلَّى فَاتَّبَعَهُ عُمَرُ بَصَرَهُ حَتَّى تَوَارَى ، فَقَالَ : كُنَيْفٌ مُلِئَ فِقْهًا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
زید بن وہب بیان کرتے ہیں : ہم لوگ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، اسی دوران سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے ، قریب تھا کہ وہ لوگوں کے ساتھ بیٹھ جاتے ، لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جب اُنہیں دیکھا تو مسکرا دیے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ گفتگو کرنے لگے اور انہیں دیکھ کر مسکراتے رہے ، وہ سیدنا عمر کے پاس ہی کھڑے رہے ، پھر جب وہ واپس چلے گئے ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مسلسل ان کی طرف دیکھتے رہے ، یہاں تک کہ وہ نگاہوں سے اوجھل ہو گئے ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : یہ ایک ایسا برتن ( یعنی فرد ) ہے ، جو سمجھ بوجھ سے بھرا ہوا ہے ( یہاں سمجھ بوجھ سے مراد ، دین کی سمجھ بوجھ ، یعنی دین کا علم ہے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15571
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8477)»
حدیث نمبر: 15572
وَعَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ قَالَ : كَتَبَ عُمَرُ إِلَى أَهْلِ الْكُوفَةِ : قَدْ بَعَثْتُ عَمَّارًا أَمِيرًا ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ وَزِيرًا ; وَهُمَا مِنَ النُّجَبَاءِ ، مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ ، فَاقْتَدُوا بِهِمَا وَاسْمَعُوا مِنْ قَوْلِهِمَا ، وَقَدْ آثَرْتُكُمْ بِعَبْدِ اللَّهِ عَلَى نَفْسِي . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ حَارِثَةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
حارثہ بن مضرب بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اہل کوفہ کی طرف خط لکھا ، میں نے عمار رضی اللہ عنہ کو امیر بنا کر اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو وزیر بنا کر بھیجا ہے ، یہ دونوں حضرات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے برگزیدہ افراد میں سے ایک ہیں ، جنہیں غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل ہے ، تو تم لوگ ان دونوں کی پیروی کرو اور ان دونوں کے حکم پر عمل پیرا ہو ، میں نے عبداللہ کے حوالے سے تمہارے لیے ، اپنی ذات پر ایثار کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف حارثہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15572
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8478)»
حدیث نمبر: 15573
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ : رَأَيْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ نَظِيفًا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
قیس بن ابوحازم بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو دیکھا ہے ، وہ صاف ستھرے فرد تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15573
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8408)»
حدیث نمبر: 15574
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ قَالَ : تُوُفِّيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - وَيُكَنَّى : أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَهُوَ ابْنُ بِضْعٍ وَسِتِّينَ سَنَةً ، فِي سَنَةِ اثْنَتَيْنِ وَثَلَاثِينَ بِالْمَدِينَةِ ، وَأَوْصَى إِلَى الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ وَصَلَّى عَلَيْهِ، وَدُفِنَ بِالْبَقِيعِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
یحیی بن بکیر بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا ، اُن کی کنیت ابوعبدالرحمن تھی ، انتقال کے وقت ان کی عمر 60 سال سے کچھ زیادہ تھی ، اُن کا انتقال 32 ہجری میں مدینہ منورہ میں ہوا ، انہوں نے سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے بارے میں وصیت کی تھی ، سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے اُن کی نماز جنازہ پڑھائی اور انہیں جنت البقیع میں دفن کیا گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15574
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8404)»