کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کا تذکرہ ، جو نبی اکرم ﷺ کے محبوب ہیں
حدیث نمبر: 15542
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : لَمَّا اسْتَعْمَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ قَالَ النَّاسُ فِيهِ ، فَبَلَغَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوْ شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ بَلَغَنِي مَا قُلْتُمْ فِي أُسَامَةَ ، وَلَقَدْ قُلْتُمْ ذَلِكَ فِي أَبِيهِ قَبْلَهُ ، وَإِنَّهُ لَخَلِيقٌ بِالْإِمَارَةِ ، وَإِنَّهُ لَخَلِيقٌ بِالْإِمَارَةِ ، وَإِنَّهُ لَخَلِيقٌ بِالْإِمَارَةِ ، وَإِنَّهُ أَتَى حِبُّ النَّاسِ إِلَيَّ " . ¤ قَالَ :مَنِ اسْتَثْنَى فَاطِمَةَ وَغَيْرَهَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو ایک مہم کا امیر مقرر کیا ، تو کچھ لوگوں نے اس بارے میں بات چیت کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع ملی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ تم نے اسامہ کے بارے میں بات کی ہے ، اس سے پہلے تم لوگ اس کے باپ کے بارے میں بھی بات کر چکے ہو ، وہ امیر بننے کے لائق ہے ، وہ امیر بننے کے لائق ہے ، وہ امیر بننے کے لائق ہے اور وہ میرے نزدیک سب لوگوں سے زیادہ محبوب ہے ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : بعض حضرات نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور دیگر کا استثناء کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 15543
وَفِي رِوَايَةٍ : إِنَّهُ لَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ كُلِّهِمْ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقُولُ : حَاشَا فَاطِمَةَ . قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” وہ میرے نزدیک سب لوگوں سے زیادہ محبوب ہے ۔ “ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما یہ فرماتے تھے : البتہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہما کا معاملہ مختلف ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ، یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ، یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15544
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يُبْغِضَ أُسَامَةَ بَعْدَ مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ كَانَ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَلْيُحِبَّ أُسَامَةَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : کسی کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ سے بغض رکھے ، اس کے بعد کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھتا ہے ، اُسے اسامہ سے محبت رکھنی چاہیے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15545
وَعَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ قَالَ : سَمِعْتُ أَشْيَاخَنَا يَقُولُونَ : كَانَ نَقْشُ خَاتَمِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ : حِبُّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابوبکر بن شعیب بیان کرتے ہیں : میں نے اپنے مشائخ کو یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا ہے : سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی انگوٹھی میں یہ نقش تھا : ” اللہ کے رسول کے محبوب ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15546
وَعَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ : كَانَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ يُدْعَى بِالْأَمِيرِ حَتَّى مَاتَ ، يَقُولُونَ : بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ لَمْ يَنْزِعْهُ حَتَّى مَاتَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
زہری بیان کرتے ہیں : سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو ان کے انتقال تک ” امیر “ کہہ کر بلایا جاتا تھا ، لوگ یہ کہتے تھے : کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ( امیر ) بنا کر بھیجا تھا اور پھر انھیں اُس عہدے سے الگ نہیں کیا ، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مرسل روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مرسل روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔