کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ اور دیگر کا تذکرہ
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، أَنَّهُمَا بَايَعَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُمَا ابْنَا سَبْعِ سِنِينَ ، فَلَمَّا رَآهُمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَبَسَّمَ وَبَسَطَ يَدَهُ ، فَبَايَعَهُمَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، وَفِيهِ خِلَافٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما اور سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ان دونوں حضرات نے سات سال کی عمر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی تھی ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو ملاحظہ کیا ، تو آپ مسکرا دیے اور آپ نے اپنا دست مبارک بڑھایا اور ان دونوں سے بیعت لی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عیاش ہے ، جس میں اختلاف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15538
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ : لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَقُثَمَ وَعُبَيْدَ اللَّهِ ابْنَيْ عَبَّاسٍ وَنَحْنُ صِبْيَانٌ نَلْعَبُ ، إِذْ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " ارْفَعُوا هَذَا إِلَيَّ " . فَحَمَلَنِي أَمَامَهُ ، وَقَالَ لِقُثَمَ : " ارْفَعُوا هَذَا إِلَيَّ " . فَحَمَلَهُ وَرَاءَهُ ، وَكَانَ عُبَيْدُ اللَّهِ أَحَبَّ إِلَى عَبَّاسٍ مِنْ قُثَمَ فَمَا اسْتَحْيَا مِنْ عَمِّهِ أَنْ حَمَلَ قُثَمَ وَتَرْكَهُ . قَالَ : ثُمَّ مَسَحَ عَلَى رَأْسِي ثَلَاثًا ، كُلَّمَا مَسَحَ قَالَ : " اللَّهُمَّ اخْلُفْ جَعْفَرًا فِي وَلَدِهِ " . ¤ قَالَ : قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ : مَا فَعَلَ قُثَمُ ؟ قَالَ : اسْتُشْهِدَ ، قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ بِالْخَيْرِ قَالَ : أَجَلْ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مجھے اپنے بارے میں یہ بات یاد ہے ، میں ، قثم اور عبیداللہ تھے ، یہ دونوں سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے ہیں ، ہم بچے تھے اور کھیل رہے تھے ، اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک سواری پر ہمارے پاس سے گزرے ، آپ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ اس بچے کو مجھے پکڑا دو ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے آگے بٹھا لیا ، پھر آپ نے سیدنا قثم کے بارے میں فرمایا : اسے مجھے پکڑا دو ، آپ نے انہیں اپنے پیچھے بٹھا لیا ، عبیداللہ ، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو قثم سے زیادہ محبوب تھے ، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا سے اس حوالے سے کچھ محسوس نہیں کیا کہ آپ نے قثم کو بٹھا لیا اور عبیداللہ کو چھوڑ دیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر پر تین مرتبہ ہاتھ پھیرا ، ہر مرتبہ ہاتھ پھیرتے ہوئے آپ نے یہ دعا کی : اے اللہ ! جعفر کی اولاد کی دیکھ بھال کرنے والا ہو جا ! راوی کہتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : سیدنا قثم رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیا ہوا تھا ؟ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے جام شہادت نوش کیا تھا ۔ میں نے دریافت کیا : کیا اللہ اور اس کا رسول بھلائی کے بارے میں زیادہ بہتر جانتے تھے ؟ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں !
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ نے سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : سیدنا قثم رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیا ہوا تھا ؟ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے جام شہادت نوش کیا تھا ۔ میں نے دریافت کیا : کیا اللہ اور اس کا رسول بھلائی کے بارے میں زیادہ بہتر جانتے تھے ؟ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں ! یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15539
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (1760)»
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ وَهُوَ يَبِيعُ بَيْعَ الْغِلْمَانِ - أَوِ الصِّبْيَانِ - قَالَ : " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُ فِي بَيْعِهِ " . أَوْ قَالَ : " فِي صَفْقَتِهِ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عمرو بن حریث بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا ، جو بچوں کے ساتھ خرید و فروخت کا کھیل ، کھیل رہے تھے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے اللہ ! اس کی خرید و فروخت میں اس کے لیے برکت رکھ دے ! ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) اس کے سودے میں ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15540
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (1467)»
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالَ : وَفِيهَا مَاتَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ بِالْمَدِينَةِ ، وَيُكَنَّى أَبَا جَعْفَرٍ . - يَعْنِي سَنَةَ ثَمَانِينَ - . ¤
محمد محی الدین
محمد بن عبدالله بن نمیر بیان کرتے ہیں : اُس سال میں ، سیدنا عبداللہ بن جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کا مدینہ منورہ میں انتقال ہوا ، ان کی کنیت ابوجعفر تھی ، راوی کہتے ہیں : اس سے مراد سن 80 ہجری ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15541
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح