مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - وَغَيْرِهِ . باب: حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ اور دیگر کا تذکرہ
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ : لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَقُثَمَ وَعُبَيْدَ اللَّهِ ابْنَيْ عَبَّاسٍ وَنَحْنُ صِبْيَانٌ نَلْعَبُ ، إِذْ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " ارْفَعُوا هَذَا إِلَيَّ " . فَحَمَلَنِي أَمَامَهُ ، وَقَالَ لِقُثَمَ : " ارْفَعُوا هَذَا إِلَيَّ " . فَحَمَلَهُ وَرَاءَهُ ، وَكَانَ عُبَيْدُ اللَّهِ أَحَبَّ إِلَى عَبَّاسٍ مِنْ قُثَمَ فَمَا اسْتَحْيَا مِنْ عَمِّهِ أَنْ حَمَلَ قُثَمَ وَتَرْكَهُ . قَالَ : ثُمَّ مَسَحَ عَلَى رَأْسِي ثَلَاثًا ، كُلَّمَا مَسَحَ قَالَ : " اللَّهُمَّ اخْلُفْ جَعْفَرًا فِي وَلَدِهِ " . ¤ قَالَ : قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ : مَا فَعَلَ قُثَمُ ؟ قَالَ : اسْتُشْهِدَ ، قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ بِالْخَيْرِ قَالَ : أَجَلْ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مجھے اپنے بارے میں یہ بات یاد ہے ، میں ، قثم اور عبیداللہ تھے ، یہ دونوں سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے ہیں ، ہم بچے تھے اور کھیل رہے تھے ، اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک سواری پر ہمارے پاس سے گزرے ، آپ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ اس بچے کو مجھے پکڑا دو ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے آگے بٹھا لیا ، پھر آپ نے سیدنا قثم کے بارے میں فرمایا : اسے مجھے پکڑا دو ، آپ نے انہیں اپنے پیچھے بٹھا لیا ، عبیداللہ ، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو قثم سے زیادہ محبوب تھے ، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا سے اس حوالے سے کچھ محسوس نہیں کیا کہ آپ نے قثم کو بٹھا لیا اور عبیداللہ کو چھوڑ دیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر پر تین مرتبہ ہاتھ پھیرا ، ہر مرتبہ ہاتھ پھیرتے ہوئے آپ نے یہ دعا کی : اے اللہ ! جعفر کی اولاد کی دیکھ بھال کرنے والا ہو جا ! راوی کہتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : سیدنا قثم رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیا ہوا تھا ؟ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے جام شہادت نوش کیا تھا ۔ میں نے دریافت کیا : کیا اللہ اور اس کا رسول بھلائی کے بارے میں زیادہ بہتر جانتے تھے ؟ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں !
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ نے سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : سیدنا قثم رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیا ہوا تھا ؟ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے جام شہادت نوش کیا تھا ۔ میں نے دریافت کیا : کیا اللہ اور اس کا رسول بھلائی کے بارے میں زیادہ بہتر جانتے تھے ؟ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں ! یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔