کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے علم کا بیان
حدیث نمبر: 15515
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَضَعَ يَدَهُ عَلَى كَتِفِي أَوْ عَلَى مِنْكَبِي - شَكَّ سَعِيدٌ - ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ فَقِّهْهُ فِي الدِّينِ وَعَلِّمْهُ التَّأْوِيلَ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ غَيْرَ قَوْلِهِ : " وَعَلِّمْهُ التَّأْوِيلَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَلَهُ عِنْدَ الْبَزَّارِ ، وَالطَّبَرَانِيِّ : " اللَّهُمَّ عَلِّمْهُ تَأْوِيلَ الْقُرْآنِ " . ¤ وَلِأَحْمَدَ طَرِيقَانِ رِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک میرے کندھے پر رکھا ۔ ( راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) - میرے کندھے پر رکھا ۔ ( یہ شک سعید نامی راوی کو ہے ، یعنی اس میں کندھے کے لئے استعمال ہونے والا لفظ مختلف ہے ) ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا : ” اے اللہ ! تو اسے دین کی سمجھ بوجھ عطا کر دے اور اسے تفسیر کا علم عطا کر دے ۔ “
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں مذکور ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” اور تو اسے تفسیر کا علم عطا کر دے ! “ . یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے اور امام طبرانی نے یہ روایت ان الفاظ میں نقل کی ہے : ” اے اللہ ! تو اسے قرآن کی تفسیر کا علم عطا کر دے ! “ ۔ امام أحمد کی روایت کے دو طریق ہیں اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں مذکور ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” اور تو اسے تفسیر کا علم عطا کر دے ! “ . یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے اور امام طبرانی نے یہ روایت ان الفاظ میں نقل کی ہے : ” اے اللہ ! تو اسے قرآن کی تفسیر کا علم عطا کر دے ! “ ۔ امام أحمد کی روایت کے دو طریق ہیں اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15516
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : دَعَا لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " نِعْمَ تُرْجُمَانُ الْقُرْآنِ أَنْتَ " . وَدَعَا لِي جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - مَرَّتَيْنِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خِرَاشٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دعا دی اور ارشاد فرمایا : تم قرآن کے اچھے ترجمان ہو ! سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے بھی مجھے دو مرتبہ دعا دی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن خراش ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن خراش ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 15517
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِ ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ اللَّهُمَّ أَعْطِ الْحِكْمَةَ وَعَلِّمْهُ التَّأْوِيلَ ، وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى صَدْرِهِ فَوَجَدَ عَبْدُ اللَّهِ بَرْدَهَا فِي صَدْرِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ احْشُ جَوْفَهُ عِلْمًا وَحِلْمًا " . فَلَمْ يَسْتَوْحِشْ فِي نَفْسِهِ إِلَى مَسْأَلَةِ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ ، وَلَمْ يَزَلْ حَبْرَ هَذِهِ الْأُمَّةِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے سر پر رکھا اور یہ دعا کی : اے اللہ ! تو اسے حکمت عطا کر دے اور اسے تفسیر کا علم عطا کر دے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سینے پر ہاتھ رکھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک کی ٹھنڈک سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اپنے سینے میں محسوس کی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا کی : اے اللہ ! اس کے پیٹ کو ( یعنی سینے کو ) علم اور بردباری سے بھر دے ! راوی بیان کرتے ہیں : تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو کسی بھی شخص سے ، کسی چیز کے بارے میں دریافت کرتے ہوئے الجھن محسوس نہیں ہوئی ، اور وہ مسلسل اس اُمت کے بڑے عالم رہے ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں وفات دیدی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 15518
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كُنْتُ مَعَ أَبِي عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعِنْدَهُ رَجُلٌ يُنَاجِيهِ ، فَكَانَ كَالْمُعْرِضِ عَنْ أَبِي ، فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِ ، فَقَالَ أَبِي : أَيْ بُنَيَّ ، أَلَمْ تَرَ إِلَى ابْنِ عَمِّكِ كَالْمُعْرِضِ عَنِّي ؟ فَقُلْتُ : يَا أَبَتِ ، إِنَّهُ كَانَ عِنْدَهُ رَجُلٌ يُنَاجِيهِ . قَالَ : فَرُحْنَا إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ أَبِي : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ كَذَا وَكَذَا ، فَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ كَانَ عِنْدَكَ رَجُلٌ يُنَاجِيكَ ، فَهَلْ كَانَ عِنْدَكَ أَحَدٌ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَهَلْ رَأَيْتَهُ يَا عَبْدَ اللَّهِ ؟ " . قُلْتُ : نَعَمْ . قَالَ : " فَإِنَّ ذَلِكَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - هُوَ الَّذِي شَغَلَنِي عَنْكَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں اپنے والد کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک اور شخص موجود تھا ، جو آپ کے ساتھ سرگوشی میں بات چیت کر رہا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے والد کی طرف توجہ نہیں دی ، جب ہم آپ کے پاس سے نکلے ، تو میرے والد نے کہا: اے میرے بیٹے ! کیا تم نے اپنے چچازاد کو دیکھا نہیں ؟ وہ گویا مجھ سے اعراض کر رہے تھے ، میں نے کہا: ابا جان ! ان کے پاس ایک شخص موجود تھا ، جس کے ساتھ وہ سرگوشی میں بات چیت کر رہے تھے ، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : پھر بعد میں جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے تو میرے والد نے کہا: یا رسول اللہ ! میں نے عبداللہ سے یہ یہ بات کہی تھی ، تو اس نے مجھے بتایا کہ آپ کے پاس ایک فرد موجود تھا ، جو آپ کے ساتھ سرگوشی میں بات چیت کر رہا تھا ، تو کیا واقعی آپ کے پاس کوئی موجود تھا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے عبداللہ ! کیا تم نے اُس کو دیکھا تھا ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ جبرائیل تھا ، اور اسی کی وجہ سے میں آپ لوگوں کی طرف توجہ نہیں دے سکا ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15519
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : مَرَرْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلَيْهِ ثِيَابٌ بِيضٌ ، وَهُوَ يُنَاجِي دِحْيَةَ بْنَ خَلِيفَةَ الْكَلْبِيَّ ، وَهُوَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - وَأَنَا لَا أَعْلَمُ ، فَلَمْ أُسَلِّمْ ، فَقَالَ جِبْرِيلُ : يَا مُحَمَّدُ ، مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : " هَذَا ابْنُ عَمِّي ، هَذَا ابْنُ عَبَّاسٍ " . قَالَ : مَا أَشَدَّ وَضْحَ ثِيَابِهِ ، أَمَا إِنَّ ذُرِّيَّتُهُ سَتُسَوِّدُ بَعْدَهُ ، لَوْ سَلَّمَ عَلَيْنَا رَدَدْنَا عَلَيْهِ . فَلَمَّا رَجَعْتُ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا ابْنَ عَبَّاسٍ مَا مَنَعَكَ أَنْ تُسَلِّمَ ؟ " . قُلْتُ : بِأَبِي وَأُمِّي رَأَيْتُكَ تَنَاجِي دِحْيَةَ بْنَ خَلِيفَةَ ، فَكَرِهْتُ أَنْ تَنْقَطِعَ عَلَيْكُمَا مُنَاجَاتُكُمَا . قَالَ : " وَقَدْ رَأَيْتَ ؟ " . قُلْتُ : نَعَمْ . قَالَ : " أَمَا إِنَّهُ سَيَذْهَبُ بَصَرُكَ ، وَيُرَدُّ عَلَيْكَ فِي مَوْتِكَ " . ¤ قَالَ عِكْرِمَةُ : فَلَمَّا قُبِضَ ابْنُ عَبَّاسٍ ، وَوُضِعَ عَلَى سَرِيرِهِ ، جَاءَ طَائِرٌ شَدِيدُ الْوَهَجِ ، فَدَخَلَ فِي أَكْفَانِهِ ، فَأَرَادُوا نَشْرَ أَكْفَانَهُ ، فَقَالَ عِكْرِمَةُ : مَا تَصْنَعُونَ ؟ هَذِهِ بُشْرَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الَّتِي قَالَ لَهُ ، فَلَمَّا وُضِعَ فِي لَحْدِهِ ، تُلُقِّيَ بِكَلِمَةٍ سَمِعَهَا مَنْ عَلَى شَفِيرِ قَبْرِهِ : ( يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً فَادْخُلِي فِي عِبَادِي وَادْخُلِي جَنَّتِي ) . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا ، میرے جسم پر سفید لباس تھا ، اُس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا دحیہ بن خلیفہ کلبی رضی اللہ عنہ کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے ، وہ دراصل سیدنا جبرائیل علیہ السلام تھے ، مجھے اس بات کا علم نہیں تھا ، میں نے سلام نہیں کیا ، سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے دریافت کیا : اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! یہ کون ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا : یہ میرا چچا زاد ہے ، یہ ابن عباس ہے ، تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے کہا: اس نے کتنے سفید کپڑے پہنے ہوئے ہیں ، لیکن اس کے بعد اس کی اولاد سیاہ لباس پہنے گی ، اگر یہ ہمیں سلام کرتا ، تو ہم نے اسے جواب دینا تھا ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب میں واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت کیا : اے ابن عباس ! تم نے سلام کیوں نہیں کیا ؟ میں نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، میں نے دیکھا کہ آپ سیدنا دحیہ بن خلیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ سرگوشی میں بات چیت کر رہے ہیں ، تو مجھے یہ اچھا نہیں لگا کہ میں آپ کی بات چیت میں دخل دوں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم نے اُسے دیکھا تھا ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہاری بینائی رخصت ہو جائے گی اور پھر تمہارے مرنے پر ، وہ تمہیں لوٹائی جائے گی ۔ عکرمہ بیان کرتے ہیں : جب سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا انتقال ہو گیا اور ان کی میت تختے پر رکھی ہوئی تھی ، تو ایک انتہائی سفید رنگ کا پرندہ آیا اور ان کے کفن میں داخل ہو گیا ۔ لوگوں نے یہ ارادہ کیا کہ ان کا کفن کھول دیں ، تو عکرمہ نے کہا: تم لوگ کیا کرنے لگے ہو ؟ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیان کردہ خوشخبری ہے ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ارشاد فرمائی تھی ، جب سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی میت کو لحد میں رکھا گیا ، تو اسی دوران قبر کے کنارے پر موجود افراد نے کسی کو یہ پڑھتے ہوئے سنا : ” اسے مطمئن جان ! تم اپنے پروردگار کی طرف لوٹ جاؤ ، راضی رہتے ہوئے اور پسندیدہ ہوتے ہوئے ، تم میرے بندوں میں داخل ہو جاؤ اور تم میری جنت میں داخل ہو جاؤ“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 15520
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : بَعَثَ الْعَبَّاسُ بِعَبْدِ اللَّهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي حَاجَةٍ ، فَوَجَدَ عِنْدَهُ رَجُلًا فَرَجَعَ وَلَمْ يُكَلِّمْهُ ، فَقَالَ : " رَأَيْتَهُ ؟ " . قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : " ذَاكَ جِبْرِيلُ ، أَمَا إِنَّهُ لَنْ يَمُوتَ حَتَّى يَذْهَبَ بَصَرُهُ ، وَيُؤْتَى عِلْمًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو کسی کام کے سلسلے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص کو موجود پایا ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی بات کئے بغیر واپس چلے گئے ، بعد میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے دریافت کیا : کیا تم نے اس کو دیکھا تھا ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ جبرائیل تھا اور یہ ( یعنی سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ) اس وقت تک نہیں مرے گا ، جب تک اس کی بینائی رخصت نہیں ہو جاتی ، اور اسے علم دیا جائے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 15521
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قُلْتُ لِرَجُلٍ : هَلُمَّ فَلْنَتَعَلَّمْ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِنَّهُمْ كَثِيرٌ ، فَقَالَ : الْعَجَبُ وَاللَّهِ لَكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ ! أَتَرَى النَّاسَ يَحْتَاجُونَ إِلَيْكَ وَفِي النَّاسِ مَنْ تَرَى مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ! فَرَكِبْتُ ذَلِكَ ، وَأَقْبَلْتُ عَلَى الْمَسْأَلَةِ ، وَتَتَبُّعِ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِنْ كُنْتُ لَآتِي الرَّجُلَ فِي الْحَدِيثِ يَبْلُغُنِي أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَجِدُهُ قَائِلًا ، فَأَتَوَسَّدُ رِدَائِي عَلَى بَابِ دَارِهِ تَسْقِي الرِّيَاحُ عَلَى وَجْهِي حَتَّى يَخْرُجَ إِلَيَّ ، فَإِذَا رَآنِي قَالَ : يَا ابْنَ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا لَكَ ؟ . قُلْتُ : حَدِيثٌ بَلَغَنِي أَنَّكَ تُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْكَ ، فَيَقُولُ : هَلَّا أَرْسَلْتَ إِلَيَّ فَآتِيكَ ، فَأَقُولُ : أَنَا كُنْتُ أَحَقَّ أَنْ آتِيَكَ ، وَكَانَ ذَلِكَ الرَّجُلُ يَرَانِي ، فَذَهَبَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدِ احْتَاجَ النَّاسُ إِلَيَّ ، فَيَقُولُ : أَنْتَ كُنْتَ أَعْلَمَ مِنِّي . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا ، تو میں نے ایک شخص سے کہا: آؤ ! تاکہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے علم حاصل کریں ، اُن سے سوالات کریں کیونکہ اس وقت ان کی تعداد کافی زیادہ ہے ، تو اُس شخص نے کہا: اے ابن عباس ! اللہ کی قسم ! تم پر حیرانگی ہوتی ہے ، کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ لوگوں کو تم سے رجوع کرنے کی ضرورت پیش آئے گی ؟ جبکہ لوگوں کے درمیان تم دیکھ رہے ہو کہ اللہ کے رسول کے اصحاب موجود ہیں ۔ پھر میں سوار ہو کر گیا اور سوالات کرنے لگا ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے پیچھے جانے لگا ، بعض اوقات میں کسی حدیث کے سلسلے میں کسی صحابی کے پیچھے جاتا تھا ، جس کے بارے میں مجھے یہ پتا چلتا تھا کہ انہوں نے وہ حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی ہے ، تو میں انہیں پاتا تھا کہ وہ آرام کر رہے ہوتے تھے ، میں اُن کے گھر کے دروازے پر چادر کا تکیہ بنا کر موجود رہتا تھا ، ہوا میرے اوپر گرد و غبار ڈال دیتی تھی ، یہاں تک کہ وہ صاحب خود نکل کر باہر آتے اور جب مجھے دیکھتے تو یہ کہتے : اے اللہ کے رسول کے چچا زاد ! آپ کو کیا کام ہے ؟ میں جواب دیتا : ایک حدیث کے بارے میں پتہ کرنا تھا ، جس کے بارے میں مجھے یہ پتا چلا تھا کہ آپ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے روایت کرتے ہیں ، تو میں نے اس بات کو پسند کیا کہ وہ حدیث میں خود آپ سے سن لوں ، تو وہ صاحب کہتے : آپ نے مجھے پیغام کیوں نہیں بھیجا ؟ میں آپ کے پاس خود آ جاتا ، تو میں ان صاحب کو جواب دیتا : میں اس بات کا زیادہ حقدار ہوں کہ میں آپ کے پاس آتا ، پھر جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رخصت ہو گئے اور لوگوں کو میری ضرورت پیش آئی تو میرے اُس ساتھی نے مجھے ایسی حالت میں دیکھا ، تو وہ یہ بولا: تم مجھ سے زیادہ علم رکھتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15522
وَعَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ طَاوُسٍ قَالَ : جَالَسْتُ سَبْعِينَ أَوْ ثَمَانِينَ شَيْخًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا أَحَدٌ مِنْهُمْ خَالَفَ ابْنَ عَبَّاسٍ فَيَلْتَقِيَانِ إِلَّا قَالَ : الْقَوْلُ كَمَا قُلْتَ ، أَوْ قَالَ : صَدَقْتَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عبدالملک بن میسرہ نے طاؤس کا یہ بیان نقل کیا ہے : میں 70 ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) میں 80 بزرگ صحابہ کرام کے پاس بیٹھا ہوں ، ان میں سے کوئی ایک بھی سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے برخلاف رائے نہیں دیتا تھا ، جب وہ دونوں ملتے تھے تو وہ دوسرے صاحب یہی کہتے تھے : قول وہی ہے جو آپ نے کہا: ہے ، یا وہ یہ کہتے تھے : آپ نے سچ کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15523
وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ الْهُذَلِيِّ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى الْحَسَنِ ، فَقُلْتُ : إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ مِنَ الْقُرْآنِ بِمَنْزِلَةٍ . قَالَ : كَانَ عُمَرُ يَقُولُ : ذَاكُمْ فَتَى الْكُهُولِ ، إِنَّ لَهُ لِسَانًا سَئُولًا ، وَقَلْبًا عَقُولًا ، كَانَ يَقُومُ عَلَى مِنْبَرِنَا هَذَا - أَحْسَبُهُ قَالَ : عَشِيَّةَ عَرَفَةَ - فَيَقْرَأُ ( سُورَةَ الْبَقَرَةِ ) وَ سُورَةَ ( آلَ عِمْرَانَ ) ثُمَّ يُفَسِّرُهُمَا آيَةً آيَةً ، وَكَانَ مَثَجَّةً نَجْدًا غَرْبًا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَأَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
بکر ہذلی بیان کرتے ہیں : میں حسن کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے کہا: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو قرآن کے حوالے سے ایک نمایاں حیثیت حاصل ہے ، تو انہوں نے بتایا : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یہ فرمایا کرتے تھے : یہ نوجوان عمر رسیدہ افراد کی مانند ہے ، اس کے پاس ایسی زبان ہے جو سوال کرنے والی ہے ، اور ایسا دل ہے جو سمجھ بوجھ رکھنے والا ہے ، یہ عرفہ کی شام ہمارے اس منبر پر کھڑا ہوتا ، سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران کی تلاوت کرتا اور پھر ایک ایک آیت کی تفسیر بیان کرتا چلا جاتا ، وہ ( علم کا ) چھلکتا ہوا ، بھرا ہوا ڈول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس میں ابوبکر ہذلی نامی راوی ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس میں ابوبکر ہذلی نامی راوی ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 15524
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ هِرَقْلَ كَتَبَ إِلَى مُعَاوِيَةَ ، وَقَالَ : إِنْ كَانَ بَقِيَ فِيهِمْ مِنَ النُّبُوَّةِ فَيُجِيبُونِي عَمَّا أَسْأَلُهُمْ عَنْهُ ، وَكَتَبَ إِلَيْهِ يَسْأَلُهُ عَنِ الْمَجَرَّةِ ، وَعَنِ الْقَوْسِ ، وَعَنِ الْبُقْعَةِ الَّتِي لَمْ تُصِبْهَا الشَّمْسُ إِلَّا سَاعَةً وَاحِدَةً . ¤ قَالَ : فَلَمَّا أَتَى مُعَاوِيَةَ الْكِتَابُ وَالرَّسُولُ قَالَ : إِنَّ هَذَا شَيْءٌ مَا كُنْتُ أُرَاهُ أُسْأَلُ عَنْهُ إِلَى يَوْمِي هَذَا ، فَطَوَى مُعَاوِيَةُ الْكِتَابَ - كِتَابَ هِرَقْلَ - فَبَعَثَ بِهِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ : إِنَّ الْقَوْسَ أَمَانٌ لِأَهْلِ الْأَرْضِ مِنَ الْغَرَقِ ، وَالْمَجَرَّةَ بَابُ السَّمَاءِ الَّذِي تَنْشَقُّ مِنْهُ ، وَأَمَّا الْبُقْعَةُ الَّتِي لَمْ تُصِبْهَا الشَّمْسُ إِلَّا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ : فَالْبَحْرُ الَّذِي أُفْرِجَ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ہرقل نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا اور یہ کہا: اگر ان لوگوں کے درمیان نبوت میں کوئی باقی ہوا ، تو وہ مجھے اس چیز کے بارے میں جواب دیں گے ، جس کے بارے میں ، میں نے اُن سے سوال کیا ہے ، ہرقل نے انھیں خط لکھ کر اُن سے مجرہ ( شاید کہکشاں مراد ہے ) ، قوس اور زمین کے اس خطے کے بارے میں دریافت کیا ، جسے صرف ایک گھڑی کے لئے دھوپ لگی تھی ، راوی بیان کرتے ہیں : جب وہ مکتوب اور قاصد ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے فرمایا : یہ ایک ایسی چیز ہے جس کے بارے میں میرا یہ گمان نہیں تھا کہ مجھ سے اس بارے میں بھی دریافت کیا جائے گا ، پھر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ہرقل کا مکتوب لپیٹا اور وہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو بھجوا دیا ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں جوابی خط میں لکھا : ” قوس اہل زمین کے لیے ڈوبنے سے امان ہے ، اور مجرہ آسمان کا دروازہ ہے جس کو کھولا جاتا ہے ، جہاں تک زمین کے اس حصے کا تعلق ہے جسے دن کی ایک گھڑی کے لئے دھوپ لگی تھی ، تو وہ دریا کا وہ حصہ ہے ، جس کو بنی اسرائیل کے لئے کشادہ کیا گیا تھا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15525
وَعَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ الْهِلَالِيِّ قَالَ : خَرَجَ نَافِعُ بْنُ الْأَزْرَقِ ، وَنَجْدَةُ بْنُ عُوَيْمِرٍ ، فِي نَفَرٍ مِنْ رُءُوسِ الْخَوَارِجِ يُنَقِّرُونَ عَنِ الْعِلْمِ وَيَطْلُبُونَهُ ، حَتَّى قَدِمُوا مَكَّةَ ، فَإِذَا هُمْ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَاعِدًا قَرِيبًا مِنْ زَمْزَمَ ، وَعَلَيْهِ رِدَاءٌ لَهُ أَحْمَرُ وَقَمِيصٌ ، فَإِذَا نَاسٌ قِيَامٌ يَسْأَلُونَهُ عَنِ التَّفْسِيرِ ، يَقُولُونَ : يَا أَبَا عَبَّاسٍ ، مَا تَقُولُ فِي كَذَا وَكَذَا ؟ فَيَقُولُ : هُوَ كَذَا وَكَذَا . فَقَالَ لَهُ نَافِعٌ : مَا أَجْرَأَكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ عَلَى مَا تُخْبِرُ بِهِ مُنْذُ الْيَوْمِ ! فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ : ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ وَعَدِمَتْكَ ، أَلَا أُخْبِرُكَ مَنْ هُوَ أَجْرَأُ مِنِّي ؟ قَالَ : مَنْ هُوَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ ؟ قَالَ : رَجُلٌ تَكَلَّمَ بِمَا لَيْسَ لَهُ بِهِ عِلْمٌ ، أَوْ رَجُلٌ كَتَمَ عِلْمًا عِنْدَهُ . قَالَ : صَدَقْتَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ ، إِنِّي أَتَيْتُكَ لِأَسْأَلَكَ . قَالَ : هَاتِ يَا ابْنَ الْأَزْرَقِ فَسَلْ . قَالَ : أَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - : يُرْسَلُ عَلَيْكُمَا شُوَاظٌ مِنْ نَارٍ وَنُحَاسٌ . مَا الشُّوَاظُ ؟ قَالَ : اللَّهَبُ الَّذِي لَا دُخَانَ فِيهِ . قَالَ : وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : نَعَمْ ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ أُمَيَّةَ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ : ¤ أَلَا مَنْ مُبْلِغٍ حَسَّانَ عَنِّي مُغَلْغَلَةً تَذُبُّ إِلَى عُكَاظِ أَلَيْسَ أَبُوكَ قَيْنًا كَانَ فِينَا ¤ إِلَى الْقَيْنَاتِ فَسْلًا فِي الْحِفَاظِ يَمَانِيًّا يَظَلُّ يُشِبُّ كِيرًا ¤ وَيَنْفُخُ دَائِبًا لَهَبَ الشُّوَاظِ . ¤ قَالَ : صَدَقْتَ . فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِهِ : وَنُحَاسٌ فَلَا تَنْتَصِرَانِ . قَالَ : الدُّخَانُ الَّذِي لَا لَهَبَ فِيهِ . قَالَ : وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : نَعَمْ ، أَمَا سَمِعْتَ نَابِغَةَ بَنِي ذُبْيَانَ يَقُولُ : ¤ يُضِيءُ كَضَوْءِ سِرَاجِ السَّلِيطِ لَمْ يَجْعَلِ اللَّهُ فِيهِ نُحَاسًا ¤ . ¤ يَعْنِي دُخَانًا . قَالَ : صَدَقْتَ . فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ : أَمْشَاجٍ نَبْتَلِيهِ . قَالَ : مَاءُ الرَّجُلِ وَمَاءُ الْمَرْأَةِ ، إِذَا اجْتَمَعَا فِي الرَّحِمِ كَانَ مَشِيجًا . قَالَ : وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : نَعَمْ ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ أَبِي ذُؤَيْبٍ الْهُذَلِيِّ وَهُوَ يَقُولُ : ¤ كَأَنَّ النَّصْلَ وَالْقَوْقِينَ مِنْهُ خِلَالَ الرِّيشِ سِيطَ بِهِ مَشِيجُ ¤ قَالَ : صَدَقْتَ . فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ . مَا السَّاقُ بِالسَّاقِ ؟ قَالَ : الْحَرْبُ . قَالَ : وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : نَعَمْ ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ أَبِي ذُؤَيْبٍ : ¤ أَخُو الْحَرْبِ إِنْ عَضَّتْ بِهِ الْحَرْبُ عَضَّهَا وَإِنْ شَمَّرَتِ عَنْ سَاقِهَا الْحَرْبُ شَمَّرَا ¤ . ¤ قَالَ : صَدَقْتَ . فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - : بَنِينَ وَحَفَدَةً . مَا الْبَنِينُ وَالْحِفْدَةُ ؟ قَالَ : أَمَّا بُنُوكَ فَإِنَّهُمْ يَتَعَاطَوْنَكَ ، وَأَمَّا حَفَدَتُكَ فَإِنَّهُمْ خَدَمُكَ . قَالَ : وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : نَعَمْ ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ أُمَيَّةَ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ : ¤ حَفْدُ الْوَلَائِدِ حَوْلَهُنَّ وَأُلْقِيَتْ بِأَكُفِّهِنَّ أَزِمَّةُ الْأَحْمَالِ ¤ . ¤ قَالَ : صَدَقْتَ . فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - : إِنَّمَا أَنْتَ مِنَ الْمُسَحَّرِينَ [مَنِ الْمُسَحَّرُونَ] ؟ قَالَ : مِنَ الْمَخْلُوقِينَ . قَالَ : وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : نَعَمْ ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ أُمَيَّةَ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ الثَّقَفِيِّ وَهُوَ يَقُولُ : ¤ فَإِنْ تَسْأَلِينَا مِمَّ نَحْنُ فَإِنَّنَا عَصَافِيرُ مِنْ هَذَا الْأَنَامِ الْمُسَحَّرِ ¤ . قَالَ : صَدَقْتَ . فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - : فَنَبَذْنَاهُمْ فِي الْيَمِّ وَهُوَ مُلِيمٌ . مَا الْمُلِيمُ ؟ قَالَ : الْمُذْنِبُ . قَالَ : وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : نَعَمْ ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ أُمَيَّةَ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ وَهُوَ يَقُولُ : ¤ بِعِيدٌ مِنَ الْآفَاتِ لَسْتَ لَهَا بِأَهْلٍ وَلَكِنَّ الْمُسِيءَ هُوَ الْمُلِيمُ ¤ . ¤ قَالَ : صَدَقْتَ . فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - : قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ ، مَا الْفَلَقُ ؟ قَالَ : هُوَ الصُّبْحُ قَالَ : وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : نَعَمْ ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ لَبِيَدِ بْنِ رَبِيعَةَ وَهُوَ يَقُولُ : ¤ الْفَارِجُ الْهَمِّ مَبْذُولٌ عَسَاكِرُهُ مَا يُفَرِّجُ ضَوْءَ الظُّلْمَةِ الْفَلَقُ ¤ قَالَ : صَدَقْتَ . فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - : لِكَيْلَا تَأْسَوْا عَلَى مَا فَاتَكُمْ وَلَا تَفْرَحُوا بِمَا آتَاكُمْ . مَا الْأَسَاةُ ؟ قَالَ : لَا تَحْزَنُوا . قَالَ : وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : نَعَمْ ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ لَبِيَدِ بْنِ رَبِيعَةَ : ¤ قَلِيلُ الْأَسَى فِيمَا أَتَى الدَّهْرَ دُونَهُ كَرِيمُ الثَّنَا حُلْوُ الشَّمَائِلِ مُعْجَبُ ¤ . ¤ قَالَ : صَدَقْتَ . فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - : إِنَّهُ ظَنَّ أَنْ لَنْ يَحُورَ . مَا يَحُورُ ؟ قَالَ : يَرْجِعُ . قَالَ : هَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : نَعَمْ ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ لَبِيدِ بْنِ رَبِيعَةَ : ¤ وَمَا الْمَرْءُ إِلَّا كَشِهَابٍ وَضَوْئُهُ يَحُورُ رَمَادًا بَعْدَ إِذْ هُوَ سَاطِعُ ¤ . ¤ قَالَ : صَدَقْتَ . فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - : يَطُوفُونَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ حَمِيمٍ آنٍ . مَا الْآنُ ؟ قَالَ : الَّذِي انْتَهَى حَرُّهُ قَالَ : وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : نَعَمْ ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ نَابِغَةِ بَنِي ذُبْيَانَ : ¤ فَإِنْ يَقْبِضْ عَلَيْكَ أَبُو قُبَيْسٍ تَحُطُّ بِكَ الْمُنْيَةُ فِي هَوَانِ ¤ وَتُخْضِبُ لِحْيَةً غَدَرَتْ وَخَانَتْ بِأَحْمَرَ مِنْ نَجِيعِ الْجَوْفِ آنِ ¤ . ¤ قَالَ : صَدَقْتَ . فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - : فَأَصْبَحَتْ كَالصَّرِيمِ . مَا الصَّرِيمُ ؟ قَالَ : اللَّيْلُ الْمُظْلِمُ . قَالَ : وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : نَعَمْ ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ نَابِغَةِ بَنِي ذُبْيَانَ : ¤ لَا تَزْجُرُوا مُكْفَهِرًّا لَا كَفَاءَ لَهُ كَاللَّيْلِ يَخْلِطُ أَصْرَامًا بِأَصْرَامِ ¤ قَالَ : صَدَقْتَ . فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - : إِلَى غَسَقِ اللَّيْلِ . مَا غَسَقُ اللَّيْلِ ؟ قَالَ : إِذَا أَظْلَمَ . قَالَ : وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : نَعَمْ ، أَمَا سَمِعْتَ بِقَوْلِ النَّابِغَةِ : ¤ كَأَنَّمَا جَدَّ مَا قَالُوا وَمَا وَعَدُوا آلٌ تَضَمَّنَهُ مِنْ دَامِسٍ غَسَقِ ¤ قَالَ أَبُو خَلِيفَةَ : الْآلُ : الشَّرَابُ . قَالَ : صَدَقْتَ . فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - : وَكَانَ اللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ مُقِيتًا . مَا الْمُقِيتُ ؟ قَالَ : قَادِرٌ . قَالَ : وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : نَعَمْ ، أَمَا سَمِعْتَ بِقَوْلِ النَّابِغَةَ : ¤ وَذِي ضِغْنٍ كَفَفْتُ الضِّغْنَ عَنْهُ وَإِنِّي فِي مَسَاءَتِهِ مُقِيتُ ¤ . ¤ قَالَ : صَدَقْتَ . فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - : وَاللَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ ؟ قَالَ : إِقْبَالُ سَوَادِهِ . قَالَ : وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : نَعَمْ ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ امْرِئِ الْقَيْسِ : ¤ عَسْعَسَ حَتَّى لَوْ يَشَاءُ أَدْنَى كَأَنَّ لَهُ مِنْ ضَوْءِ نُورِهِ قَبَسُ ¤ . ¤ قَالَ : صَدَقْتَ . فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - : وَأَنَا بِهِ زَعِيمٌ . قَالَ : الزَّعِيمُ الْكَفِيلُ . قَالَ : وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : نَعَمْ ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ امْرِئِ الْقَيْسِ : ¤ وَإِنِّي زَعِيمٌ إِنْ رَجَعْتُ مُمَلَّكًا بِسَيْرٍ تَرَى مِنْهُ الْغُرَانِقَ أَزْوَرَا ¤ . ¤ قَالَ : صَدَقْتَ . فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - : وَفُومِهَا . مَا الْفُومُ ؟ قَالَ : الْحِنْطَةُ . قَالَ : وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : نَعَمْ ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ أَبِي ذُؤَيْبٍ الْهُذَلِيِّ . ¤ : ¤ قَدْ كُنْتُ أَحْسَبُنِي كَأَغْنَى وَافِدٍ قَدِمَ الْمَدِينَةَ عَنْ زِرَاعَةِ فُومِ ¤ . ¤ قَالَ : صَدَقْتَ . فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - : وَالْأَزْلَامُ . مَا الْأَزْلَامُ ؟ قَالَ : الْقِدَاحُ . قَالَ : وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : نَعَمْ ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ الْحُطَيْئَةِ : ¤ لَا يَزْجُرُ الطَّيْرَ إِنْ مَرَّتْ بِهِ سُنُحًا وَلَا يُقَامُ لَهُ قَدْحٌ بِأَزْلَامِ ¤ . ¤ قَالَ : صَدَقْتَ . فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى : وَأَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ ؟ قَالَ : أَصْحَابُ الشِّمَالِ . قَالَ : وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : نَعَمْ ، أَمَا سَمِعْتَ زُهَيْرِ بْنِ أَبِي سُلْمَى حَيْثُ يَقُولُ : ¤ نَزَلَ الشَّيْبُ بِالشِّمَالِ قَرِيبًا وَالْمُرُورَاتُ دَانِيًا وَحَقِيرًا ¤ قَالَ : صَدَقْتَ . فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - : وَإِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ ؟ قَالَ : اخْتَلَطَ مَاؤُهَا بِمَاءِ الْأَرْضِ . قَالَ : وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : نَعَمْ ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ زُهَيْرِ بْنِ أَبِي سُلْمَى : ¤ لَقَدْ عَرَفَتْ رَبِيعَةُ فِي جُذَامٍ وَكَعْبٌ خَالَهَا وَابْنَا ضِرَارِ ¤ لَقَدْ نَازَعْتُمُ حَسَبًا قَدِيمًا وَقَدْ سَجَرَتْ بِحَارُهُمُ بِحَارِى ¤ . ¤ قَالَ : صَدَقْتَ . فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - : وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الْحُبُكِ . مَا الْحُبُكُ ؟ قَالَ : الطَّرَائِقُ . قَالَ : وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : نَعَمْ ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ زُهَيْرِ بْنِ أَبِي سُلْمَى : ¤ مُكَلَّلٌ بِأُصُولِ النَّجْمِ تَنْسِجُهُ رِيحُ الشَّمَالِ لِضَاحٍ مَا بِهِ حُبُكُ ¤ قَالَ : صَدَقْتَ . فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - : وَأَنَّهُ تَعَالَى جَدُّ رَبِّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَةً ؟ قَالَ : ارْتَفَعَتْ عَظَمَةُ رَبِّنَا . قَالَ : وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : نَعَمْ ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ طَرَفَةَ بْنِ الْعَبْدِ لِلنُّعْمَانِ بْنِ الْمُنْذِرِ : ¤ إِلَى مَلِكٍ يَضْرِبُ الدَّارِعِينَ لَمْ يُنْقِصِ الشَّيْبُ مِنْهُ قُبَالَا ¤ أَيَرْفَعُ جَدِّكَ أنِّي امْرُؤٌ سَقَتْنِي الْأَعَادِي سِجَالًا سِجَالَا ¤ . ¤ قَالَ : صَدَقْتَ . فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - : حَتَّى تَكُونَ حَرَضًا ؟ قَالَ : الْحَرَضُ : الْبَالِي . قَالَ : وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : نَعَمْ ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ طَرَفَةَ بْنِ الْعَبْدِ : ¤ أَمِنْ ذِكْرِ لَيْلَى إِنْ نَأَتْ غُرْبَةٌ بِهَا أُعَدُّ حَرِيضًا لِلْكَرَى مُحَرِّمَا ¤ . ¤ قَالَ : صَدَقْتَ . فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - : وَأَنْتُمْ سَامِدُونَ ؟ قَالَ : لَاهُونَ . قَالَ : وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : نَعَمْ ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ هَزِيلَةَ بِنْتِ بَكْرٍ وَهِيَ تَبْكِي عَادًا : ¤ نَعَيْتُ عَادًا لِصَمَا وَأَتَى سَعْدٌ شَرِيدَا ¤ قِيلَ قُمْ فَانْظُرْ إِلَيْهِمْ ثُمَّ دَعْ عَنْكَ السُّمُودَا ¤ . ¤ قَالَ : صَدَقْتَ . فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - : إِذَا اتَّسَقَ . مَا اتِّسَاقُهُ ؟ قَالَ : إِذَا اجْتَمَعَ قَالَ : فَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : نَعَمْ ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ أَبِي صِرْمَةَ الْأَنْصَارِيِّ : ¤ إِنَّ لَنَا قَلَائِصًا نَفَائِقَا مُسْتَوْسِقَاتٌ لَوْ تَجِدْنَ سَائِقَا ¤ . ¤ قَالَ : صَدَقْتَ . فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - : الْأَحَدُ الصَّمَدُ ، أَمَّا الْأَحَدُ فَقَدْ عَرَفْنَاهُ ، فَمَا الصَّمَدُ ؟ قَالَ : الَّذِي يُصْمَدُ إِلَيْهِ فِي الْأُمُورِ كُلِّهَا . قَالَ : فَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : نَعَمْ ، أَمَا سَمِعْتَ بِقَوْلِ الْأَسْدِيَةِ : ¤ أَلَا بَكَّرَ النَّاعِي بِخَبَرِ بَنِي أَسَدْ بِعَمْرِو بْنِ مَسْعُودٍ وَبِالسَّيِّدِ الصَّمَدْ ¤ قَالَ : صَدَقْتَ . فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى : يَلْقَ أَثَامًا . مَا الْأَثَامُ ؟ قَالَ : الْجَزَاءُ . قَالَ : وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : نَعَمْ ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ بِشْرِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ الْأَسَدِيِّ : ¤ وَإِنَّ مَقَامَنَا يَدْعُو عَلَيْهِمْ بِأَبْطُحِ ذِي الْمَجَازِ لَهُ أَثَامُ ¤ قَالَ : صَدَقْتَ . فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - : وَهُوَ كَظِيمٌ ؟ قَالَ : السَّاكِتُ قَالَ : وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : نَعَمْ ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ زُهَيْرِ بْنِ خُزَيْمَةَ الْعَبْسِيِّ : ¤ فَإِنْ تَكْ كَاظِمًا بِمُصَابِ شَاسٍ فَإِنِّي الْيَوْمَ مُنْطَلِقُ اللِّسَانِ ¤ قَالَ : صَدَقْتَ . فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - : أَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رِكْزًا . مَا رِكْزًا ؟ قَالَ : صَوْتًا . قَالَ : وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : نَعَمْ ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ خِرَاشِ بْنِ زُهَيْرٍ : فَإِنْ سَمِعْتُمْ بَخِيلٍ هَابِطٍ شَرَفًا أَوْ بَطْنِ قُفٍّ فَأَخْفَوُا الرِّكْزَ وَاكْتَتِمُوا ¤ . ¤ قَالَ : صَدَقْتَ . فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - : إِذْ تَحُسُّونَهُمْ بِإِذْنِهِ ؟ قَالَ : إِذْ تَقْتُلُونَهُمْ بِإِذْنِهِ . قَالَ : وَهَلْ كَانَتِ الْعَرَبُ تَعْرِفُ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْكِتَابُ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : نَعَمْ ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ عُتْبَةَ اللَّيْثِيِّ : ¤ نَحُسُّهُمْ بِالْبِيضِ حَتَّى كَأَنَّمَا نُفَلِّقُ مِنْهُمْ بِالْجَمَاجِمِ حَنْظَلَا ¤ قَالَ : صَدَقْتَ . فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - : يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ . هَلْ كَانَ الطَّلَاقُ يُعْرَفُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، طَلَاقًا بَائِنًا ثَلَاثًا ، أَمَا سَمِعْتَ قَوْلَ أَعْشَى بْنِ قَيْسِ بْنِ ثَعْلَبَةَ حِينَ أَخَذَهُ أَخْتَانُهُ غَيْرَةً ، فَقَالُوا : إِنَّكَ قَدْ أَضْرَرْتَ بِصَاحِبَتِنَا ، وَإِنَّا نُقْسِمُ بِاللَّهِ أَنْ لَا نَضَعَ الْعَصَا عَنْكَ أَوْ تُطَلِّقَهَا ، فَلَمَّا رَأَى الْجِدَّ مِنْهُمْ وَأَنَّهُمْ فَاعِلُونَ بِهِ شَرًّا قَالَ : ¤ أَجَارَتَنَا بِينِي فَإِنَّكِ طَالِقَهْ كَذَاكَ أُمُورُ النَّاسِ غَادٍ وَطَارِقَهْ ¤ فَقَالُوا : وَاللَّهِ لَتُبِيتَنَّ لَهَا الطَّلَاقَ ، أَوْ لَا نَضَعُ الْعَصَا عَنْكَ ، فَقَالَ : ¤ فَبِينِي حَصَانَ الْفَرْجِ غَيْرَ دَمِيمَةٍ وَمَامُوقَةً مِنَّا كَمَا أَنْتَ وَامِقَهْ ¤ فَقَالُوا : وَاللَّهُ لَنُبِينَنَّ لَهَا الطَّلَاقَ أَوْ لَا نَضَعُ الْعَصَا عَنْكَ ، فَقَالَ : ¤ فَبِينِي فَإِنَّ الْبَيْنَ خَيْرٌ مِنَ الْعَصَا وَأَنْ لَا تَزَالَ فَوْقَ رَأْسِكِ بَارِقَهْ ¤ فَأَبَانَهَا بِثَلَاثِ تَطْلِيقَاتٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جُوَيْبِرٌ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
حدیث نمبر: 15526
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي آخِرِ اللَّيْلِ ، فَصَلَّيْتُ خَلْفَهُ ، فَأَخَذَ بِيَدِي ، فَجَرَّنِي حَتَّى جَعَلَنِي حِذَاءَهُ ، فَلَمَّا أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى صَلَاتِهِ خَنِسْتُ ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ : " مَا شَأْنُكَ أَجْعَلُكَ حِذَائِي فَتَخْنِسُ ؟ " . فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَيَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِحِذَائِكَ وَأَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الَّذِي أَعْطَاكَ اللَّهُ ؟ قَالَ : فَأَعْجَبَهُ ، فَدَعَا لِي أَنْ يَزِيدَنِي اللَّهُ عِلْمًا وَفِقْهًا . قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہ بیان کرتے ہیں : میں رات کے آخری حصے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے آپ کی اقتداء میں نماز ادا کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے کھینچا اور مجھے اپنے برابر کھڑا کر لیا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز کی طرف متوجہ ہوئے ، تو میں ذرا پیچھے ہٹ گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کرتے رہے ، جب آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو آپ نے فرمایا : تمہارا کیا معاملہ ہے ؟ میں نے تمہیں اپنے برابر کھڑا کیا تھا اور تم پیچھے ہٹ گئے ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا کسی کے لئے یہ مناسب ہے ؟ کہ وہ آپ کے برابر کھڑا ہو کر نماز ادا کرے ؟ جبکہ آپ اللہ کے رسول ہیں ، اور آپ کو اللہ تعالیٰ نے ( مخصوص شان ) عطا کی ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات اچھی لگی ، آپ نے میرے لئے یہ دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مجھے مزید علم اور سمجھ بوجھ عطا کرے ۔
علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15527
وَعَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ : شَهِدْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ وَابْنَ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ لِابْنِ عَبَّاسٍ : أَتَذْكُرُ حِينَ اسْتَقْبَلَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ جَاءَ مَنْ سَفَرٍ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَحَمَلَنِي أَنَا وَغُلَامًا مِنْ بَنِي هَاشِمٍ وَتَرَكَكَ . قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ مِنْ رِوَايَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، وَهَذَا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابن ابوملیکہ بیان کرتے ہیں : میں سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس موجود تھا ، جب سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: کیا آپ کو یاد ہے ؟ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر سے تشریف لائے تھے ، تو ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کیا تھا ، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور بنو ہاشم سے تعلق رکھنے والے لڑکے کو اٹھا لیا تھا اور آپ کو چھوڑ دیا تھا ۔
میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں مذکور ہے ، تاہم اس میں سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما اور سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے اور اس روایت میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا واقعہ ہے ، یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں مذکور ہے ، تاہم اس میں سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما اور سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے اور اس روایت میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا واقعہ ہے ، یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15528
وَعَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ : شَتَمَ رَجُلٌ ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : إِنَّكَ لَتَشْتُمُنِي وَأَنَا فِيَّ ثَلَاثُ خِصَالٍ : إِنِّي لَآتِي عَلَى الْآيَةِ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَلَوَدِدْتُ أَنَّ جَمِيعَ النَّاسِ يَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ ، وَإِنِّي لَأَسْمَعُ بِالْحَاكِمِ مِنْ حُكَّامِ الْمُسْلِمِينَ يَعْدِلُ فِي حُكْمِهِ فَأَفْرَحُ ، وَلَعَلِّي لَا أُقَاضَى إِلَيْهِ أَبَدًا ، وَإِنِّي لَأَسْمَعُ بِالْغَيْثِ قَدْ أَصَابَ الْبَلَدَ مِنْ بِلَادِ الْمُسْلِمِينَ ، فَأَفْرَحُ وَمَا لِي بِهِ سَائِمَةٌ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابن بریدہ اسلمی بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو برا کہا: ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : تم مجھے برا کہہ رہے ہو ؟ جبکہ میرے اندر تین خصوصیات ہیں ، میں اللہ کی کتاب کی کوئی ایک آیت پڑھتا ہوں ، تو میری یہ خواہش ہوتی ہے کہ سب لوگوں کو اس کے بارے میں وہی علم ہو ، جو علم مجھے ہے ، اور میں مسلمان حکمرانوں میں سے کسی حاکم کے بارے میں سنتا ہوں کہ اس نے فیصلہ دیتے ہوئے عدل سے کام لیا ہے ، تو میں اس بات پر خوش ہوتا ہوں ، حالانکہ میں نے شاید کبھی بھی کسی عدالتی فیصلے کے بارے میں اسے نہیں کہا: ہو گا ، اور جب میں کسی بادل کے بارے میں سنتا ہوں کہ مسلمانوں کے کسی علاقے میں وہ برسا ہے ، تو میں اس پر خوش ہوتا ہوں ، حالانکہ مجھے اس کے بدلے میں کوئی فائدہ نہیں ہوتا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15529
وَعَنْ حَسَّانِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ : بَدَتْ لَنَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ حَاجَةٌ إِلَى الْوَالِي ، وَكَانَ الَّذِي طَلَبْنَا إِلَيْهِ أَمْرًا صَعْبًا ، فَمَشَيْنَا إِلَيْهِ بِرِجَالٍ مِنْ قُرَيْشٍ وَغَيْرِهِمْ ، فَكَلَّمُوهُ وَذَكَرُوا لَهُ وَصِيَّةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِنَا ، فَذَكَرَ لَهُمْ صُعُوبَةَ الْأَمْرِ ، فَعَذَرَهُ الْقَوْمُ ، وَأَلَحَّ عَلَيْهِ ابْنُ عَبَّاسٍ فَوَاللَّهِ مَا وَجَدَ بُدًّا مِنْ قَضَاءِ حَاجَتِهِ ، فَخَرَجْنَا حَتَّى دَخَلْنَا الْمَسْجِدَ ، وَإِذَا الْقَوْمُ أَنْدِيَةٌ . قَالَ حَسَّانُ : فَضَحِكْتُ وَأَنَا أَسْمَعُهُمْ ، إِنَّهُ وَاللَّهِ كَانَ أَوْلَاكُمْ بِهَا ، إِنَّهَا وَاللَّهِ صَبَابَةُ النُّبُوَّةِ ، وَوِرَاثَةُ أَحْمَدَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَيَهْدِيهِ أَعْرَاقُهُ ، وَانْتِزَاعُ شِبْهِ طِبَاعِهِ ، فَقَالَ الْقَوْمُ : أَجْمِلْ يَا حَسَّانُ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : صَدَقُوا ، فَأَحْمَلَ فَأَنْشَأَ حَسَّانُ يَمْدَحُ ابْنَ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَقَالَ : ¤ إِذَا مَا ابْنُ عَبَّاسٍ بَدَا لَكَ وَجْهُهُ رَأَيْتَ لَهُ فِي كُلِّ مُجَمَعَةٍ فَضْلَا إِذَا قَالَ لَمْ يَتْرُكْ مَقَالًا لِقَائِلٍ ¤ بِمُلْتَقِطَاتٍ لَا تَرَى بَيْنَهَا فَضْلَا كَفَى وَشَفَى مَا فِي النُّفُوسِ فَلَمْ يَدَعْ ¤ لِذِي إِرْبَةٍ فِي الْقَوْلِ جَدًّا وَلَا هَزْلَا ¤ سَمَوْتَ إِلَى الْعُلْيَا بِغَيْرِ مَشَقَّةٍ ¤ فَنِلْتَ ذُرَاهَا لَا دَنِيًّا وَلَا وَغِلَا خُلِقْتَ حَلِيفًا لِلْمُرُوءَةِ وَالنَّدَى بَلِيغًا ¤ وَلَمْ تُخْلَقْ كَهَامًا وَلَا خَبَلَا فَقَالَ الْوَالِي : وَاللَّهِ مَا أَرَادَ بِالْكَهَامِ الْخَبَلَ غَيْرِي ، وَاللَّهُ بَيْنِي وَبَيْنَهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حسان بن ثابت بھی بیان کرتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والے ، ہم کچھ افراد کو حاکم وقت سے کوئی کام پڑ گیا ، وہ ایک ایسا حکمران تھا ، جس نے ہمیں کسی مشکل کا شکار کرنا تھا ، تو ہم قریش سے تعلق رکھنے والے اور دیگر اقوام سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں کو ساتھ لے کر حاکم کے پاس گئے ، ان لوگوں نے حاکم کے ساتھ بات چیت کی ، اور حاکم کے سامنے یہ بات ذکر کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی تلقین کی تھی ، حاکم نے ان لوگوں کے سامنے یہ بات ذکر کی کہ یہ معاملہ مشکل ہے ، تو ان لوگوں نے حاکم کو معذور قرار دیا ، لیکن سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما مسلسل حاکم کے سامنے اصرار کرتے رہے ، یہاں تک کہ یہ صورتحال ہوئی کہ اللہ کی قسم ! حاکم کے لئے اس کام کو کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں رہا ، ہم اس کے پاس سے نکلے اور مسجد میں داخل ہوئے ، وہاں لوگوں کی مختلف ٹولیاں بیٹھی ہوئی تھیں ، سیدنا حسان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں ہنس پڑا ، میں ان لوگوں کو سن رہا تھا ( وہ کہہ رہے تھے : ) اللہ کی قسم ! وہ ( یعنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ) اس کام کے لیے سب سے زیادہ موزوں تھے ، اللہ کی قسم وہ نبوت ( یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان کے باقی رہ جانے والے فرد ہیں اور سیدنا أحمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وارث ہیں ، ان کے ساتھ نسبی تعلق اور فطری قربت رکھتے ہیں ، لوگوں نے کہا: اے سیدنا حسان ! آپ بھی کچھ کہیں ، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : یہ لوگ ٹھیک کہہ رہے ہیں ، تو سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی تعریف کرتے ہوئے یہ اشعار کہے : ” جب سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا چہرہ ، آپ کے سامنے آئے گا ، تو آپ کو ان کی ہر چیز میں فضیلت نظر آئے گی ، جب وہ بات کریں تو ( مقابل فریق کے لیے ) کہنے کو کچھ نہیں رہنے دیتے ، وہ ایسی مربوط ( گفتگو کرتے ہیں ) کہ آپ کو اس گفتگو میں کوئی چیز اضافی ( یعنی غیر ضروری ) نظر نہیں آئے گی ، دلوں میں جو بھی ( سوچ ، خیال ، فکر یا پریشانی ہو ) وہ اس کے لیے کفایت کر جاتے ہیں اور اس کی شفا کا باعث بن جاتے ہیں ، وہ کسی بھی عقلمند کے لیے ، بات کرنے کے لیے سنجیدگی یا مذاق کا کوئی پہلو نہیں رہنے دیتے ( اے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ) آپ کسی مشقت کا شکار ہوئے بغیر ، بلند مرتبے پر فائز ہوئے ہیں ، اور ( بلند مرتبے کی ) کوہان ( یعنی بلند ترین سطح ) تک پہنچے ہیں ، آپ نہ تو کمتر ہیں اور نہ ہی کمزور ( یا کوتاہی والے ) ہیں ، آپ مروت کے حلیف کے طور پر پیدا ہوئے اور آپ کی آواز بلیغ ہے ، اور آپ بزدل یا فاسد پیدا نہیں ہوئے ۔ “
حدیث نمبر: 15530
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ قَالَ : تُوُفِّيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ سَنَةَ ثَمَانٍ ، وَسِنُّهُ ثِنْتَانِ وَسَبْعُونَ سَنَةً ، وَكَانَ يُصَفِّرُ لِحْيَتَهُ . قَالَ : وُلِدْتُ قَبْلَ الْهِجْرَةِ بِثَلَاثِ سِنِينَ وَنَحْنُ فِي الشِّعْبِ ، وَتُوُفِّيَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا ابْنُ ثَلَاثَ عَشْرَةَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ . ¤
محمد محی الدین
یحیی بن بکیر بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا انتقال 72 سال کی عمر میں 68 ہجری میں ہوا ، وہ داڑھی پر زرد رنگ کا خضاب لگاتے تھے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : میں ہجرت سے تین سال پہلے پیدا ہوا تھا ، اس وقت ہم لوگ شعب ابوطالب میں تھے ، اور جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا ، اس وقت میری عمر 13 سال تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ۔
حدیث نمبر: 15531
وَعَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ قَالَ : رَأَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ وَلَهُ جُمَّةٌ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
حبیب بن ابوثابت بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو دیکھا ہے ، اُن کے بال بڑے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15532
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَبْدُ اللَّهِ طَوِيلًا مُشْرَبًا حُمْرَةَ صُفْرَةٍ وَسِيمًا صَبِيحَ الْوَجْهِ لَهُ صَغِيرَتَانِ. ¤
محمد محی الدین
محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما طویل القامت شخص تھے ، اُن کا رنگ سرخ و سفید تھا ، وہ بھرپور جسم کے مالک وجیہ و شکیل شخص تھے ، ان کا چہرہ خوبصورت تھا ، ان کی زلفیں تھیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ۔
حدیث نمبر: 15533
وَعَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ : رَأَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ أَيَّامَ مِنَى طَوِيلُ الشَّعْرِ ، عَلَيْهِ إِزَارٌ فِيهِ بَعْضُ الْإِسْبَالِ ، وَعَلَيْهِ رِدَاءٌ أَصْفَرُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
ابواسحاق بیان کرتے ہیں : میں نے منیٰ میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو دیکھا ، ان کے بال لمبے تھے ، ان کے جسم پر تہبند موجود تھا جو کچھ لٹکا ہوا تھا ، اور انہوں نے زرد چادر اوڑھی ہوئی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 15534
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : تُوُفِّيَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً وَقَدْ خُتِنْتُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا ، اس وقت میری عمر 15 سال تھی اور میرے ختنے ہو چکے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15535
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ : مَاتَ ابْنُ عَبَّاسٍ بِالطَّائِفِ فَشَهِدْنَا جِنَازَتَهُ ، فَجَاءَ طَائِرٌ لَمْ يُرَ عَلَى خِلْقَتِهِ حَتَّى دَخَلَ فِي نَعْشِهِ ، ثُمَّ لَمْ يُرَ خَارِجًا مِنْهُ ، فَلَمَّا دُفِنَ تُلِيَتْ هَذِهِ الْآيَةُ عَلَى شَفِيرِ الْقَبْرِ ، لَمْ يُدْرَ مَنْ تَلَاهَا : ( يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً فَادْخُلِي فِي عِبَادِي وَادْخُلِي جَنَّتِي ) . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا انتقال طائف میں ہوا ، ہم اُن کے جنازے میں شریک ہوئے ، ایک پرندہ آیا ، اس جیسی مخلوق نہیں دیکھی گئی تھی ، یہاں تک کہ وہ اُن کی میت میں داخل ہو گیا ، پھر وہ باہر نکلتا ہوا نظر نہیں آیا ، جب انہیں دفن کیا گیا ، تو ان کی قبر کے کنارے پر اس آیت کی تلاوت سنائی دی ، لیکن یہ پتہ نہیں چلا کہ وہ تلاوت کون کر رہا ہے ؟ ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اسے مطمئن جان ! تم اپنے پروردگار کی طرف لوٹ آؤ ، راضی رہتے ہوئے اور پسندیدہ ہوتے ہوئے ، تم میرے بندوں میں داخل ہو جاؤ ، تم میری جنت میں داخل ہو جاؤ ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15536
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَامِينَ ، عَنْ أَبِيهِ نَحْوَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : جَاءَ طَائِرٌ أَبْيَضُ ، يُقَالُ لَهُ : الْغُرْنُوقُ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن یامین نے اپنے والد کے حوالے سے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ایک سفید رنگ کا پرندہ آیا جسے ” غرنوق “ کہا: جاتا تھا ۔