کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان
حدیث نمبر: 15513
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالشِّعْبِ أَتَى أَبِي النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، مَا أَرَى أُمَّ الْفَضْلِ إِلَّا قَدِ اعْتَمَلَتْ عَلَى جَمَلٍ قَالَ : " لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَقَرَّ أَعْيُنَنَا بِغُلَامٍ " . فَأَتَى بِيَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا فِي خِرْقِي ، فَحَنَّكَنِي . قَالَ مُجَاهِدٌ : لَا نَعْلَمُ أَحَدًا حُنِّكَ بِرِيقِ النُّبُوَّةِ غَيْرَهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُتَّصِلًا ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا وَفِيهِمْ ضَعْفٌ ، وَرَوَاهُ مُخْتَصَرًا بِإِسْنَادٍ مُنْقَطِعٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شعب ( یعنی شعب ابی طالب ) میں تھے ، اُس وقت میرے والد ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بولے : اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) میرا یہ خیال ہے کہ ام فضل حاملہ ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” شاید اللہ تعالیٰ لڑکے کے ذریعے ہماری آنکھیں ٹھنڈی کرے ۔ “ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب میں پیدا ہوا تو مجھے کپڑے میں لپیٹ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے گھٹی دی ۔ مجاہد کہتے ہیں : اُن کے علاوہ ہمیں کسی ایسے فرد کے بارے میں علم نہیں ہے جسے نبوت کے لعاب کے ذریعے گھٹی دی گئی ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے متصل طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اور ان راویوں میں ضعف پایا جاتا ہے ، امام طبرانی نے اسے منقطع سند کے ساتھ مختصر روایت کے طور پر بھی نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے متصل طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اور ان راویوں میں ضعف پایا جاتا ہے ، امام طبرانی نے اسے منقطع سند کے ساتھ مختصر روایت کے طور پر بھی نقل کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 15514
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : حَدَّثَتْنِي أُمُّ الْفَضْلِ بِنْتُ الْحَارِثِ قَالَتْ : بَيْنَا أَنَا مَارَّةٌ وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْحِجْرِ ، فَقَالَ : " يَا أُمَّ الْفَضْلِ " . قُلْتُ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " إِنَّكِ حَامِلٌ بِغُلَامٍ " . قُلْتُ : كَيْفَ وَقَدْ تَحَالَفَتْ قُرَيْشٌ لَا يُوَلِّدُونَ النِّسَاءَ ؟ قَالَ : " هُوَ مَا أَقُولُ لَكِ ، فَإِذَا وَضَعْتِيهِ فَائْتِينِي بِهِ " . فَلَمَّا وَضَعْتُهُ ، أَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ ، وَأَلَّبَاهُ بِرِيقِهِ . قَالَ : " اذْهَبِي بِهِ ، فَلْتَجِدِنَّهُ كَيِّسًا " . قَالَ : فَأَتَيْتُ الْعَبَّاسَ فَأَخْبَرْتُهُ فَتَبَسَّمَ ، ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَ رَجُلًا جَمِيلًا مَدِيدَ الْقَامَةِ ، فَلَمَّا رَآهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَامَ إِلَيْهِ ، فَقَبَّلَ مَا بَيْنَ عَيْنَيْهِ وَأَقْعَدَهُ عَنْ يَمِينِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " هَذَا عَمِّي ، فَمَنْ شَاءَ فَلْيُبَاهِ بِعَمِّهِ " . فَقَالَ الْعَبَّاسُ : بَعْضَ الْقَوْلِ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " وَلِمَ لَا أَقُولُ وَأَنْتَ عَمِّي وَبَقِيَّةُ آبَائِي ؟ ! وَالْعَمُّ وَالِدٌ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدہ ام فضل بنت حارث رضی اللہ عنہا نے مجھے یہ بات بتائی ہے : وہ بیان کرتی ہیں : ” ایک مرتبہ میں گزر رہی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اُس وقت حطیم میں موجود تھے ، آپ نے فرمایا : اے ام فضل ! میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں حاضر ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : آپ کو ایک لڑکے کا حمل ہے ، میں نے عرض کی : یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ جبکہ قریش نے آپس میں یہ طے کیا ہے کہ خواتین کے ہاں بچے نہیں ہوں گے ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ویسا ہی ہے ، جیسے میں تمہیں کہہ رہا ہوں ، جب تم اسے جنم دو ، تو اسے میرے پاس لے کر آنا ، جب سیده ام فضل رضی اللہ عنہا نے سیدنا عبدالله رضی اللہ عنہ کو جنم دیا تو وہ انہیں لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کا نام عبداللہ تجویز کیا اور انہیں اپنے لعاب دہن کے ذریعے گھٹی دی اور فرمایا : اسے لے جاؤ ! تم اسے بہت سمجھدار پاؤ گی ۔ سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور انہیں اس بارے میں بتایا ، تو وہ مسکرا دیے ، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے ، وہ ایک خوبصورت طویل القامت شخص تھے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ملاحظہ فرمایا ، تو آپ اُن کے لیے کھڑے ہوئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کی دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا اور انہیں اپنے دائیں طرف بٹھایا اور پھر یہ فرمایا : ” یہ میرے چچا ہیں ، جو چاہے وہ اپنے چچا کو لا کر مقابلہ کر لے “ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ ! ذرا زیادہ نہیں ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں یہ کیوں نہ کہوں ؟ جبکہ آپ میرے چچا ہیں ، میرے آباؤ اجداد کا بقیہ ہیں ، اور چچا ، والد کی جگہ ہوتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔