کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: نبی اکرم ﷺ کے چچا ، حضفت حمزہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 15457
عَنِ الْعَبَّاسِ قَالَ : تَزَوَّجَ عَبْدُ الْمُطَّلِبِ هَالَةَ بِنْتَ أُهَيْبِ بْنِ عَبْدِ مَنَافِ بْنِ زُهْرَةَ ، فَوَلَدَتْ لَهُ حَمْزَةَ وَصَفِيَّةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جناب عبدالمطلب نے ہالہ بنت اہیب بن عبدمناف بن زہرہ سے شادی کی تھی ، تو اس خاتون نے جناب عبدالمطلب کے صاحبزادے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ اور صاحبزادی سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو جنم دیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عمران ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 15458
وَعَنْ عُرْوَةَ فِي تَسْمِيَةِ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
عروہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ بدر میں شرکت کرنے والے افراد کے ناموں میں ، سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 15459
وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ فِي تَسْمِيَةِ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابن شہاب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ بدر میں شرکت کرنے والوں کے ناموں میں ، سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب بن عبدمناف رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 15460
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ قَالَ : كَانَ إِسْلَامُ حَمْزَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - حَمِيَّةً [وَكَانَ رَجُلًا رَامِيًا ] ، وَكَانَ يَخْرُجُ مِنَ الْحَرَمِ فَيَصْطَادُ ، فَإِذَا رَجَعَ مَرَّ بِمَجْلِسِ قُرَيْشٍ ، وَكَانُوا يَجْلِسُونَ عِنْدَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، فَيَمُرُّ بِهِمْ فَيَقُولُ : رَمَيْتُ كَذَا وَكَذَا ، وَصَنَعْتُ كَذَا وَكَذَا ، ثُمَّ يَنْطَلِقُ إِلَى مَنْزِلِهِ . فَأَقْبَلَ مِنْ رَمْيِهِ ذَاتَ يَوْمٍ، فَلَقِيَتْهُ امْرَأَةٌ ، فَقَالَتْ : يَا أَبَا عُمَارَةَ ، مَاذَا لَقِيَ ابْنُ أَخِيكَ مِنْ أَبِي جَهْلِ بْنِ هِشَامٍ ، شَتَمَهُ ، وَتَنَاوَلَهُ ، وَفَعَلَ [ بِهِ] وَفَعَلَ ، فَقَالَ : هَلْ رَآهُ أَحَدٌ ؟ قَالَتْ : إِي وَاللَّهِ ، لَقَدْ رَآهُ نَاسٌ ، فَأَقْبَلَ حَتَّى انْتَهَى إِلَى ذَلِكَ الْمَجْلِسِ عِنْدَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، فَإِذَا هُمْ جُلُوسٌ وَأَبُو جَهْلٍ فِيهِمْ ، فَاتَّكَأَ عَلَى قَوْسِهِ ، وَقَالَ : رَمَيْتَ كَذَا وَكَذَا ، وَفَعَلْتَ كَذَا وَكَذَا ، ثُمَّ جَمَعَ يَدَيْهِ بِالْقَوْسِ ، فَضَرَبَ بِهَا بَيْنَ أُذُنَيْ أَبِي جَهْلٍ فَدَقَّ سَنَتَهَا ، ثُمَّ قَالَ : خُذْهَا بِالْقَوْسِ ، وَأُخْرَى بِالسَّيْفِ ، أَشْهَدُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَّهُ جَاءَ بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ . ¤ قَالُوا : يَا أَبَا عِمَارَةَ ، إِنَّهُ سَبَّ آلِهَتَنَا ، وَإِنْ كُنْتَ أَنْتَ وَأَنْتَ أَفْضَلُ مِنْهُ مَا أَقْرَرْنَاكَ وَذَاكَ ، وَمَا كُنْتَ يَا أَبَا عِمَارَةَ فَاحِشًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن کعب قرظی بیان کرتے ہیں : سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ نے ، حمیت کی وجہ سے اسلام قبول کیا تھا ، وہ ایک تیر انداز شخص تھے ، وہ حرم کی حدود سے باہر شکار کرنے کے لئے چلے گئے ، جب وہ واپس آئے تو وہ قریش کی ایک محفل کے پاس سے گزرتے ، وہ لوگ صفا اور مروہ کے پاس بیٹھے ہوئے ہوتے تھے ، جب سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس سے گزرتے تو انہیں یہ بتاتے : میں نے اتنے اتنے تیر مارے اور میں نے اتنے اتنے جانوروں کو گرا دیا ، پھر وہ اپنے گھر واپس چلے جاتے ، اسی طرح وہ ایک دن تیر اندازی کر کے واپس آئے ، تو ایک خاتون کی ان سے ملاقات ہوئی ، تو اس خاتون نے کہا: اے ابوعمارہ ! ابوجہل بن ہشام کی طرف سے آپ کے بھتیجے کو کس صورت حال کا سامنا کرنا پڑا ہے ؟ ابوجہل نے انہیں برا کہا: ہے اور ان کی گستاخی کی ہے اور ان کے ساتھ یہ کیا ہے اور وہ کیا ہے ، سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا کسی نے اس کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے ؟ اس خاتون نے جواب دیا : جی ہاں ! اللہ کی قسم ! کئی لوگوں نے اس کو دیکھا ہے ، تو سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ وہاں سے چلتے ہوئے صفا اور مروہ کے پاس اُن لوگوں کی محفل میں آئے ، وہاں وہ لوگ بیٹھے ہوئے تھے ، ان کے درمیان ابوجہل بھی بیٹھا ہوا تھا ، سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ نے اپنی کمان کے ساتھ ٹیک لگائی اور بتایا : میں نے اتنے اتنے تیر مارے اور یہ یہ کیا ، پھر انہوں نے دونوں ہاتھوں کے ساتھ کمان پکڑی اور اس کے ذریعے ابوجہل کے دونوں کانوں کے درمیان ضرب لگائی ، اور اس کے دانت توڑ دیئے ، پھر انہوں نے کہا: کمان کے ذریعے یہ ضرب سنبھالو ، اور دوسری ( ضرب ) تلوار کے ذریعے ہو گی ، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ، اور وہ اللہ کی طرف سے حق لے کر آئیں گے ، ان لوگوں نے کہا: اے ابوعمارہ ! وہ ہمارے معبودوں کو برا کہتے ہیں اور جہاں تک آپ کی بات ہے تو آپ اُن سے زیادہ نمایاں حیثیت کے مالک ہیں ، ہم آپ کو ایسا نہیں کرنے دیں گے ، اور اے ابوعمارہ ! آپ تو بدزبانی کرنے والے نہیں تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مرسل روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مرسل روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15461
وَعَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ الْأَخْنَسِ بْنِ شَرِيقٍ حَلِيفِ بَنِي زُهْرَةَ ، أَنَّ أَبَا جَهْلٍ اعْتَرَضَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالصَّفَا فَآذَاهُ ، وَكَانَ حَمْزَةُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - صَاحِبَ قَنْصٍ وَصَيْدٍ ، وَكَانَ يَوْمَئِذٍ فِي قَنْصِهِ ، فَلَمَّا رَجَعَ قَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ - وَكَانَتْ قَدْ رَأَتْ مَا صَنَعَ أَبُو جَهْلٍ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : يَا أَبَا عِمَارَةَ ، لَوْ رَأَيْتَ مَا صَنَعَ - تَعْنِي أَبَا جَهْلٍ - بِابْنِ أَخِيكَ ! فَغَضِبَ حَمْزَةُ ، وَمَضَى كَمَا هُوَ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بَيْتَهُ ، وَهُوَ مُعَلِّقٌ قَوْسَهُ فِي عُنُقِهِ حَتَّى دَخَلَ الْمَسْجِدَ ، فَوَجَدَ أَبَا جَهْلٍ فِي مَجْلِسٍ مِنْ مَجَالِسِ قُرَيْشٍ ، فَلَمْ يُكَلِّمْهُ حَتَّى عَلَا رَأْسَهُ بِقَوْسِهِ فَشَجَّهُ ، فَقَامَ رِجَالٌ مِنْ قُرَيْشٍ إِلَى حَمْزَةَ يُمْسِكُونَهُ عَنْهُ ، فَقَالَ حَمْزَةُ : دِينِي دِينُ مُحَمَّدٍ ، أَشْهَدُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ ، فَوَاللَّهِ لَا أَنْثَنِي عَنْ ذَلِكَ ، فَامْنَعُونِي مِنْ ذَلِكَ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ . ¤ فَلَمَّا أَسْلَمَ حَمْزَةُ عَزَّ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالْمُسْلِمُونَ ، وَثَبَتَ لَهُمْ بَعْضُ أَمْرِهِمْ ، وَهَابَتْ قُرَيْشٌ ، وَعَلِمُوا أَنَّ حَمْزَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - سَيَمْنَعُهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
یعقوب بن عتبہ بن مغیرہ بن اخنس بن شریق ، جو بنو زہرہ کے حلیف ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ صفا پہاڑ کے پاس ابوجہل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آیا ، اور اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت پہنچائی ، سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ شکار کرنے کے لئے جایا کرتے تھے وہ اُس دن شکار کرنے گئے ہوئے تھے ، جب وہ واپس آئے تو ان کی اہلیہ نے ان سے کہا: وہ خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ابوجہل کے سلوک کو دیکھ چکی تھی ، اُس نے کہا: اے ابوعمارہ ! اگر آپ اس کو دیکھتے کہ اس نے آپ کے بھتیجے کے ساتھ کیا کیا ہے ؟ اس خاتون کی مراد ابوجہل تھا ، تو سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ غصے میں آ گئے ، وہ گھر میں داخل ہونے سے پہلے واپس چلے گئے ، انہوں نے اپنی گردن میں کمان لٹکائی ہوئی تھی ، وہ مسجد میں داخل ہوئے ، انہوں نے ابوجہل کو ایک محفل میں بیٹھے ہوئے دیکھا ، انہوں نے اس کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں کی ، یہاں تک کہ اس کے سر پر کمان مار کر اسے زخمی کر دیا ، قریش کے کچھ نوجوان اُٹھ کر سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تاکہ انہیں روکیں ، تو سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میرا بھی وہی دین ہے جو محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کا دین ہے ، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کا رسول ہے ، اللہ کی قسم ! اب میں اس بات سے پیچھے نہیں ہٹوں گا ، اگر تم لوگ سچے ہو تو مجھے اس سے روک کے دکھاؤ ، جب سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کر لیا ، تو اس کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو مضبوطی کا احساس ہوا اور ان کے بعض معاملات اُن کے لئے پختہ ہو گئے اور قریش خوف زدہ ہو گئے ، اور انہیں یہ بات پتہ چل گئی کہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ اُن کو روک دیں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 15462
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَبِيبَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِنَّهُ لَمَكْتُوبٌ عِنْدَ اللَّهِ فِي السَّمَاءِ السَّابِعَةِ : حَمْزَةُ أَسَدُ اللَّهِ وَأَسَدُ رَسُولِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَيَحْيَى وَأَبُوهُ لَمْ أَعْرِفْهُمَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
یحیی بن عبدالرحمن بن ابولبیبہ اپنے والد کے حوالے سے ، اپنے دادا کے حوالے سے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، ساتویں آسمان میں اللہ تعالیٰ کے پاس یہ لکھا ہوا ہے : ” حمزہ ، اللہ اور اس کے رسول کا شیر ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، یحیی نامی راوی اور اس کا والد ، میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، یحیی نامی راوی اور اس کا والد ، میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15463
وَعَنْ عُمَيْرِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ : كَانَ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يُقَاتِلُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَيَقُولُ : أَنَا أَسَدُ اللَّهِ ، وَأَسَدُ رَسُولِهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ إِلَى قَائِلِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عمیر بن اسحاق بیان کرتے ہیں : سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے دو تلواروں کے ساتھ جنگ میں حصہ لیتے تھے اور یہ فرماتے تھے : ” میں اللہ کا شیر ہوں اور اس کے رسول کا شیر ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے قائل تک اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے قائل تک اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15464
وَعَنْ عَلِيٍّ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي طَالِبٍ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " سَيِّدُ الشُّهَدَاءِ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ الْحَزَوَّرِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” شہداء کے سردار ، حمزہ بن عبدالمطلب ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن حزور ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن حزور ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 15465
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَفْضَلُ الشُّهَدَاءِ عِنْدَ اللَّهِ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حَكِيمُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ الْأَزْدِيُّ : فِيهِ نَظَرٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمام شہداء میں سب سے زیادہ فضیلت والے حمزہ بن عبدالمطلب ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حکیم بن زید ہے ، ازدی کہتے ہیں : اس میں غور و فکر کی گنجائش ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حکیم بن زید ہے ، ازدی کہتے ہیں : اس میں غور و فکر کی گنجائش ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 15466
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " سَيِّدُ الشُّهَدَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، وَرَجُلٌ قَامَ إِلَى إِمَامٍ جَائِرٍ فَأَمَرَهُ وَنَهَاهُ فَقَتَلَهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن تمام شہداء کے سردار ، حمزہ بن عبدالمطلب ہوں گے ، اور وہ شخص ہو گا جو ظالم حکمران کے سامنے کھڑا ہو کر اسے ( نیکی کا ) حکم دے ، یا اُسے ( برائی سے ) منع کرے ، اور وہ ( حکمران ) اُسے قتل کروا دے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔