کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: خواتین کی ایک جماعت کا تذکرہ
حدیث نمبر: 15443
عَنْ قَيْلَةَ بِنْتِ مَخْرَمَةَ قَالَتْ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَلَّيْتُ مَعَهُ بَعْضَ الصَّلَاةِ ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قُمْتُ وَنَظَرَ إِلَيَّ - وَكَانَتِ امْرَأَةً طَوِيلَةً - فَقَالَ : " إِنْ كَانَ ابْنُ هَذِهِ لَيُقَاتِلُ مِنْ وَرَاءِ الْحَاجِزِ " . قَالَتْ : وَاللَّهِ إِنْ كَانَ لَكَذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَلَكِنَّهُ مَاتَ . قَالَتْ : اكْتُبْ لِي كِتَابًا . قَالَتْ : وَمَعِي ثَلَاثُ بَنَاتٍ ، فَكَتَبَ : " مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ لِقَيْلَةَ وَالنِّسْوَةِ الثَّلَاثِ ، لَا يُظْلَمْنَ حَقًّا ، وَلَا يُسْتَكْرَهْنَ عَلَى نِكَاحٍ ، وَكُلُّ مُؤْمِنٍ وَمُسْلِمٍ لِي وَلَهُنَّ نَاصِرٌ ، وَأَحْسِنَّ وَلَا تُسِئْنَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ قیلہ بنت مخرمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں ایک نماز ادا کی ، جب آپ نے نماز مکمل کی تو میں کھڑی ہو گئی ، آپ نے میری طرف دیکھا ، راوی کہتے ہیں : وہ ایک طویل القامت خاتون تھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر اس خاتون کا بیٹا رکاوٹ کے پیچھے سے جنگ میں حصہ لیتا ( تو یہ مناسب ہوتا ) اس خاتون نے عرض کی : اللہ کی قسم ! اگر وہ ہوتا تو ایسا ہی ہوتا ، یا رسول اللہ ! لیکن اس کا انتقال ہو چکا ہے ، پھر اس خاتون نے عرض کی : آپ میرے لئے تحریر لکھوا دیں ، اُس خاتون نے عرض کی : میری تین بیٹیاں ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تحریر لکھوائی : ” یہ اللہ کے رسول ، سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے قیلہ اور تین خواتین کے لئے کہ ان کے حق کے حوالے سے ( تحریر ہے ) ان کے ساتھ زیادتی نہیں کی جائے ، شادی کے بارے میں ان کے ساتھ زبردستی نہیں کی جائے گی ، مجھ پر ایمان رکھنے والا ، اسلام قبول کرنے والا ہر فرد ، ان کا مددگار ہو گا اور ان کے ساتھ اچھائی کی جائے گی ، ان کے ساتھ برائی نہیں کی جائے گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15443
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 15444
وَعَنْ جَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَرْبُوعِيِّ قَالَتْ : ذَهَبَ بِي أَبِي إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْدَمَا وَرَدَتْ عَلَى أَبِي الْإِبِلُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهَ لِبِنْتِي هَذِهِ بِالْبَرَكَةِ . قَالَتْ : فَأَجْلَسَنِي النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي حِجْرِهِ ، وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِي ، وَدَعَا لِي بِالْبَرَكَةِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ جمرہ بنت عبداللہ یربوعی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میرے والد مجھے ساتھ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے ، یہ اُس کے بعد کی بعد بات ہے کہ میرے والد کے پاس اونٹ آ گئے تھے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میری اس بیٹی کے لئے برکت کی دعا کیجئے ، راوی کہتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنی گود میں بٹھا لیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک میرے سر پر رکھا اور میرے لئے برکت کی دعا کی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی حمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15444
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 15445
قَالَ الطَّبَرَانِيُّ : التَّوْأَمَةُ بِنْتُ أُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ . لَهَا ذِكْرٌ وَلَا حَدِيثَ لَهَا . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی بیان کرتے ہیں : سیدہ توامہ بنت اُمیہ بن خلف رضی اللہ عنہا ان کا تذکرہ ملتا ہے ، لیکن اُن کے حوالے سے کوئی حدیث منقول نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15445
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 15446
قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ [عَبْدِ] الْحَكَمِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ : صَالِحٌ مَوْلَى التَّوْأَمَةِ ، وَهِيَ بِنْتُ أُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن حکم بن ابوزیاد بیان کرتے ہیں : صالح نامی شخص سیدہ توامہ رضی اللہ عنہا کا غلام تھا اور وہ خاتون امیہ بن خلف کی صاحبزادی تھیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15446
حدیث نمبر: 15447
قَالَ الطَّبَرَانِيُّ : تَمِيمَةُ بِنْتُ وَهْبٍ ، وَهِيَ الَّتِي طَلَّقَهَا رَفَاعَةُ - بِنْتُ سَمُوأَلٍ ، لَهَا ذِكْرٌ وَلَا حَدِيثَ لَهَا . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی بیان کرتے ہیں : سیدہ تمیمہ بنت وہب رضی اللہ عنہا ، یہ وہ خاتون ہیں ، جنہیں سیدنا رفاعہ بن سموال رضی اللہ عنہ نے طلاق دے دی تھی ، ان کا تذکرہ ملتا ہے ، لیکن ان کے حوالے سے کوئی حدیث مذکور نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15447
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 15448
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالَ : شُرَحْبِيلُ ابْنُ حَسَنَةَ إِنَّمَا حَسَنَةُ أُمُّهُ ، وَكَانَتْ مِمَّنْ هَاجَرَ إِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن عبداللہ بن نمیر بیان کرتے ہیں : سیدنا شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ ۔ ” حسنہ “ ان کی والدہ کا نام تھا اور یہ ان خواتین میں سے ایک ہیں ، جنہوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15448
حدیث نمبر: 15449
قَالَ الطَّبَرَانِيُّ : ذَقِرَةُ أُمُّ وَلَدِ أُذَيْنَةَ ، يُقَالُ : لَهَا صُحْبَةٌ . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی بیان کرتے ہیں : سیدہ ذقرہ رضی اللہ عنہا اذینہ کی ام ولد تھیں ، ایک قول کے مطابق انہیں صحابیہ ہونے کا شرف حاصل ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15449
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 15450
- وَقَالَ : رَائِطَةُ بِنْتُ مُنَبِّهِ بْنِ الْحَجَّاجِ السَّهْمِيُّ : أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی بیان کرتے ہیں : سیدہ رائطہ بنت منبہ بن حجاج سہمی رضی اللہ عنہا یہ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی والدہ تھیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15450
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 15451
- وَقَالَ : سَفَّانَةُ بِنْتُ حَاتِمٍ أُخْتُ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی بیان کرتے ہیں : سیدہ سفانہ بنت حاتم رضی اللہ عنہا ، یہ سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کی بہن تھیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15451
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 15452
- وَقَالَ : السَّوْدَاءُ بِنْتُ خَلَفِ بْنِ ضِرَارِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُرْطِ بْنِ زَرَاحِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی بیان کرتے ہیں : سیدہ سوداء رضی اللہ عنہا بنت خلف بن ضرار بن عبداللہ قرط بن زراح بن عدی بن کعب ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15452
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 15453
- وَقَالَ : شَيْمَاءُ بِنْتُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ رَفَاعَةَ ، أُخْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الرَّضَاعَةِ . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی بیان کرتے ہیں : سیدہ شیماء رضی اللہ عنہا بنت حارث بن عبدالعزیٰ بن رفاعہ ، یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رضائی بہن تھیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15453
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 15454
- وَقَالَ : لَيْلَى بِنْتُ أَبِي حَثْمَةَ بْنِ حُذَيْفَةَ بْنِ غَانِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ هُوَيْجِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ ، أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ . ¤ قُلْتُ : حَدِيثُهَا فِي الْهِجْرَةِ إِلَى الْحَبَشَةِ . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی بیان کرتے ہیں : سیده لیلیٰ رضی اللہ عنہا بنت ابوحثمہ بن حذیفہ بن غانم بن عبداللہ بن عبید بن ہویج بن عدی بن کعب ، یہ سیدنا عبداللہ بن عامر بن ربیعہ کی والدہ تھیں اور ہجرت کرنے والی خواتین میں سے ایک ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس خاتون نے حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کے بارے میں حدیث نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15454
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 15455
- وَقَالَ : أُمُّ أُسَيْدٍ الْأَنْصَارِيَّةُ . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی بیان کرتے ہیں : سیدہ ام اسید انصاریہ رضی اللہ عنہا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15455
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 15456
- وَقَالَ : أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ بِنْتُ الْحَارِثِ بْنِ قُدَيْدٍ الْهُذَلِيَّةُ : أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، فَرَضَ لَهَا عُمَرُ فِي أَخْذِ النِّسَاءِ مِنَ الْغَنِيمَةِ . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی بیان کرتے ہیں : سیدہ ام عبدالله رضی اللہ عنہا بنت حارث بن قدید ہذلیہ ، یہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی والدہ ہیں ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مال غنیمت میں سے خواتین کے لئے جو حصہ لیا تھا ، اُس میں ان کے لئے حصہ مقرر کیا تھا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15456
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح