حدیث نمبر: 15441
قَالَ الطَّبَرَانِيُّ : هِنْدُ بِنْتُ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ أُمُّ مُعَاوِيَةَ . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی بیان کرتے ہیں : سیدہ ہند رضی اللہ عنہا بنت عتبہ بن ربیعہ بن عبدشمس بن عبدمناف ہیں جو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی والدہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 15442
وَعَنْ حُمَيْدِ بْنِ مَهَبٍّ الطَّائِيِّ قَالَ : كَانَتْ هِنْدُ بِنْتُ عُتْبَةَ عِنْدَ الْفَاكِهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ الْمَخْزُومِيِّ ، وَكَانَ الْفَاكِهُ مِنْ فِتْيَانِ قُرَيْشٍ ، وَكَانَ لَهُ بَيْتٌ لِلضِّيَافَةِ يَغْشَاهُ النَّاسُ مِنْ غَيْرِ إِذْنٍ ، فَخَلَّى ذَلِكَ الْبَيْتَ يَوْمًا ، وَاضْطَجَعَ الْفَاكِهُ وَهِنْدُ وَقْتَ الْقَائِلَةِ ، ثُمَّ خَرَجَ الْفَاكِهُ فِي بَعْضِ حَاجَاتِهِ ، وَأَقْبَلَ رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ يَغْشَاهُ ، فَوَلَجَ الْبَيْتَ ، فَلَمَّا رَأَى الْمَرْأَةَ وَلَّى هَارِبًا ، فَأَبْصَرَهُ الْفَاكِهُ وَهُوَ خَارِجٌ مِنَ الْبَيْتِ ، فَأَقْبَلَ إِلَى هِنْدٍ فَضَرَبَهَا بِرِجْلِهِ ، وَقَالَ : مَنْ هَذَا الَّذِي كَانَ عِنْدَكِ ؟ قَالَتْ : مَا كَانَ عِنْدِي أَحَدٌ وَمَا انْتَبَهْتُ حَتَّى أَنْبَهْتَنِي . قَالَ : الْحَقِي بِأَبِيكِ ، وَتَكَلَّمَ فِيهَا النَّاسُ ، فَقَالَ لَهَا أَبُوهَا : يَا بُنَيَّةُ ، إِنَّ النَّاسَ قَدْ أَكْثَرُوا فِيكِ فَنَبِّئِينِي نَبَأَكِ ، فَإِنْ يَكُنِ الرَّجُلُ عَلَيْكِ صَادِقًا دَسَسْتُ لَهُ مَنْ يَقْتُلُهُ ; فَيَنْقَطِعُ عَنْكِ الْفَاكِهُ ، وَإِنْ يَكْ كَاذِبًا حَاكَمْتُهُ إِلَى بَعْضِ كُهَّانِ الْيَمَنِ ، فَحَلَفَتْ لَهُ بِمَا كَانُوا يَحْلِفُونَ بِهِ أَنَّهُ لَكَاذِبٌ عَلَيْهَا . فَقَالَ لِلْفَاكِهِ : يَا هَذَا ، إِنَّكَ رَمَيْتَ ابْنَتِي بِأَمْرٍ عَظِيمٍ ، فَحَاكِمْنِي إِلَى بَعْضِ كُهَّانِ الْيَمَنِ . ¤ فَخَرَجَ عُتْبَةُ فِي جَمَاعَةٍ مِنْ بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ ، وَخَرَجَ الْفَاكِهُ فِي جَمَاعَةٍ مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ ، وَخَرَجَتْ مَعَهُمْ هِنْدٌ فِي نِسْوَةٍ مَعَهَا . فَلَمَّا شَارَفُوا الْبِلَادَ قَالُوا : نَرِدُ عَلَى الْكَاهِنِ فَتَنَكَّرَ حَالُ هِنْدٍ ، وَتَغَيَّرَ وَجْهُهَا ، فَقَالَ لَهَا أَبُوهَا : إِنِّي أَرَى مَا بِكِ مِنْ تَنَكُّرِ الْحَالِ ، وَمَا ذَاكَ إِلَّا لِمَكْرُوهٍ عِنْدَكِ ، أَفَلَا كَانَ هَذَا قَبْلَ أَنْ يَشْهَدَ النَّاسُ مَسِيرَنَا ؟ فَقَالَتْ : لَا وَاللَّهِ يَا أَبَتَاهُ ، مَا ذَاكَ لِمَكْرُوهٍ ، وَلَكِنْ أَعْرِفُ أَنَّكُمْ تَأْتُونَ بَشَرًا يُخْطِئُ وَيُصِيبُ ، وَلَا آمَنُ أَنْ يَسِمَنِي بِسِمَةٍ تَكُونُ عَلَيَّ سُبَّةً فِي الْعَرَبِ . ¤ فَقَالَ : إِنِّي أَخْتَبِرُهُ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَنْظُرَ فِي أَمْرِكِ . فَصَفَّرَ بِفَرَسِهِ حَتَّى أَدْلَى ، ثُمَّ أَخَذَ حَبَّةً مِنْ بُرٍّ فَأَدْخَلَهَا فِي إِحْلِيلِهِ وَأَوْكَأَ عَلَيْهَا بِسَيْرٍ ، فَلَمَّا صَبَّحُوا الْكَاهِنَ أَكْرَمَهُمْ وَنَحَرَ لَهُمْ ، فَلَمَّا تَغَدَّوْا قَالَ لَهُ عُتْبَةُ : إِنَّا قَدْ جِئْنَاكَ فِي أَمْرٍ ، وَإِنِّي قَدْ خَبَّأْتُ لَكَ خَبِيئًا أَخْتَبِرُكَ بِهِ ، فَانْظُرْ مَا هُوَ . قَالَ : تَمْرَةٌ فِي كَمَرَةٍ . قَالَ : أُرِيدُ أَبْيَنَ مِنْ هَذَا . قَالَ : حَبَّةٌ مِنْ بُرٍّ فِي إِحْلِيلِ مُهْرٍ . قَالَ : صَدَقْتَ ، فَانْظُرْ فِي أَمْرِ هَؤُلَاءِ النِّسْوَةِ . فَجَعَلَ يَدْنُو مِنْ إِحْدَاهُنَّ وَيَضْرِبُ كَتِفَهَا ، وَقَالَ : قُومِي غَيْرَ وَحْشَاءَ وَلَا زَانِيَةٍ ، وَلَتَلِدَنَّ غُلَامًا يُقَالُ لَهُ : مُعَاوِيَةُ ، فَقَامَ إِلَيْهَا الْفَاكِهُ فَأَخَذَ بِيَدِهَا ، فَنَثَرَتْ يَدَهَا مِنْ يَدِهِ وَقَالَتْ : إِلَيْكَ ، فَوَاللَّهِ لَأَحْرِصَنَّ عَلَى أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ مِنْ غَيْرِكَ . فَتَزَوَّجَهَا أَبُو سُفْيَانَ فَجَاءَتْ بِمُعَاوِيَةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ زَحْرُ بْنُ حِصْنٍ ، وَهُوَ مَجْهُولٌ . ¤
محمد محی الدین
حمید بن منہب طائی بیان کرتے ہیں : سیدہ ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا ، فاکہہ بن مغیرہ مخزومی کی اہلیہ تھیں ، فاکہہ قریش کے نوجوانوں میں سے ایک تھے ، ان کا مہمانوں کے لئے ایک مخصوص کمرہ تھا جہاں لوگ اجازت لیے بغیر اندر آ سکتے تھے ، ایک دن گھر میں اور کوئی نہیں تھا صرف فاکہہ اور ہند دوپہر کے وقت آرام کے لئے لیٹے ہوئے تھے ، پھر فاکہہ کسی کام کے سلسلے میں باہر چلے گئے اسی دوران ان کا ایک ملاقاتی آ گیا اور گھر کے اندر داخل ہو گیا ، جب اس نے دیکھا کہ اندر خاتون ہیں ، تو وہ اس وقت جلدی سے واپس چلا گیا ، فاکہہ نے اس شخص کو دیکھ لیا جو گھر سے نکل رہا تھا ، وہ ہند کے پاس آئے ، انہیں پاؤں مارا اور دریافت کیا : وہ شخص کون تھا ؟ جو ابھی تمہارے پاس تھا ، سیدہ ہند رضی اللہ عنہا نے جواب دیا : میرے پاس تو کوئی بھی نہیں تھا اور میں تو اس وقت بیدار ہوئی ہوں جب آپ نے مجھے ہلایا ہے ، تو فاکہہ نے کہا: تم اپنے باپ کے پاس چلی جاؤ ، لوگوں نے اس بارے میں بات چیت شروع کر دی ، تو سیدہ ہند رضی اللہ عنہا کے والد نے ان سے کہا: اے میری بیٹی ! لوگ تمہارے بارے میں بہت زیادہ باتیں کر رہے ہیں ، تم مجھے اصل صورت حال کے بارے میں بتاؤ ، اگر تو وہ شخص تمہارے بارے میں سچ بول رہا ہے تو پھر میں اس کے لئے کسی شخص کو تیار کرتا ہوں جو اسے قتل کر دے اور اگر وہ شخص جھوٹ بول رہا ہے ، تو پھر میں یمن کے کسی کاہن کے سامنے تمہارا مقدمہ پیش کرتا ہوں ، اور لوگ جس طرح حلف اٹھاتے ہیں اس طرح میں بھی حلف اٹھا لوں گا کہ وہ شخص اس بارے میں جھوٹا ہے ، پھر عتبہ نے فاکہہ سے کہا: اے شخص تم نے میری بیٹی پر بہت بڑا الزام لگایا ہے اب تم میرے ساتھ یمن کے کسی کاہن کے سامنے مقدمہ پیش کرو ، عتبہ ، بنو عبدمناف کے لوگوں کی ایک جماعت کو ساتھ لے کے نکلا اور فاکہہ بنو مخزوم کے لوگوں کی ایک جماعت کو ساتھ لے کے نکلا اور سیدہ ہند رضی اللہ عنہا ان لوگوں کے ہمراہ چند خواتین سمیت نکلیں ، یہ لوگ مختلف علاقوں سے گزرتے رہے ، لوگوں نے کہا: ہم کاہن کے پاس جانے والے ہیں اور ہند کی حالت تبدیل ہو رہی ہے ، اور اس کا چہرہ متغیر ہو رہا ہے ، سیدہ ہند رضی اللہ عنہا کے والد نے ان سے کہا: میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہاری حالت تبدیل ہو رہی ہے اور اس کی وجہ صرف یہی ہو سکتی ہے کہ یہ چیز تمہارے نزدیک ناپسندیدہ ہے ، لوگوں کے ہمارے سفر میں شریک ہونے سے پہلے ایسا کیوں نہیں ہوا ؟ تو سیدہ ہند رضی اللہ عنہا نے کہا: جی نہیں اللہ کی قسم ! اے ابا جان ! میں نے وہ غلط کام نہیں کیا ، بلکہ مجھے یہ خیال آ رہا تھا کہ آپ لوگ ایک انسان کے پاس جا رہے ہیں جو غلط بھی ہو سکتا ہے اور ٹھیک بھی ہو سکتا ہے ، اور اس بات کا اندیشہ موجود ہے کہ وہ مجھ پر کوئی الزام لگا دے ، تو یہ ہمیشہ کے لئے میرے لئے الزام بن جائے گا ، تو عتبہ نے کہا: میں تمہارے معاملے میں اس کا جائزہ لینے سے پہلے اس کا امتحان لوں گا ، عتبہ نے اپنے گھوڑے کے کان میں سیٹی بجائی تو اس کی شرمگاہ منتشر ہو گئی ، پھر عتبہ نے گندم کا ایک دانا لیا اور وہ اس کی شرمگاہ کے سوراخ میں داخل کر کے اس پر کپڑا باندھ دیا ، اگلے دن صبح جب وہ لوگ کاہن کے پاس پہنچے تو کاہن نے ان کی مہمان نوازی کی ، ان کے لئے جانور قربان کیا ، پھر عتبہ نے اس سے کہا: ہم آپ کے پاس ایک کام کے سلسلے میں آئے ہیں ، لیکن اس سے پہلے میں نے آپ کے لئے ایک چیز چھپا کے رکھی ہے ، آپ مجھے اس کے بارے میں بتائیے اور جائزہ لیں کہ وہ کیا ہے ، تو اس نے کہا: نر کی شرمگاہ میں دانہ ہے ، عتبہ نے کہا: میں اس سے زیادہ واضح چاہتا ہوں ۔ اس نے کہا: گندم کا دانہ ، گھوڑے کی شرمگاہ کے اندر ہے ، عتبہ نے کہا: آپ نے ٹھیک کہا: ہے ، اب آپ ان خواتین کے معاملے کا جائزہ لیں ، تو وہ شخص ان میں سے ہر ایک خواتین کے پاس آتا اور اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتا اور یہ کہتا : تم پرے ہو جاؤ ، یہاں تک کہ وہ ہند کے قریب آیا ، اس نے ہند کے کندھے پر ہاتھ مارا اور بولا: تم کھڑی ہو جاؤ ، ایسی حالت میں کہ نہ تمہیں وحشت ہو اور نہ ہی تم زنا کرنے والی ہو اور تم ایک لڑکے کو جنم دو گی ، جس کا نام معاویہ ہو گا ، تو فاکہہ اٹھ کر اس خاتون کے پاس آیا ، اس نے سیدہ ہند رضی اللہ عنہا کا ہاتھ پکڑا تو سیدہ ہند رضی اللہ عنہا نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ سے چھڑا لیا اور بولیں : تم چلے جاؤ ! اللہ کی قسم ! میری یہ خواہش ہے کہ وہ بچہ تمہارے علاوہ کسی اور سے ہو ۔ پھر بعد میں سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے اس خاتون کے ساتھ شادی کی اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی زحر بن حصن ہے اور وہ مجہول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی زحر بن حصن ہے اور وہ مجہول ہے ۔