حدیث نمبر: 15381
عَنِ الزُّهْرِيِّ أَنَّ أَزْوَاجَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ ، وَعَائِشَةُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ ، وَأُمُّ سَلَمَةَ بِنْتُ أَبِي أُمَيَّةَ ، وَحَفْصَةُ بِنْتُ عُمَرَ ، وَأُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ أَبِي سُفْيَانَ ، وَمَيْمُونَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ ، وَجُوَيْرِيَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ ، وَزَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ ، وَسَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ ، وَصَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ . اجْتَمَعْنَ عِنْدَهُ تِسْعَةً[بَعْدَ خَدِيجَةَ] ، وَالْكِنْدِيَّةُ مِنْ بَنِي الْجَوْنِ ، وَالْعَالِيَةُ بِنْتُ ظَبْيَانَ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ كِلَابٍ ، وَزَيْنَبُ بِنْتُ خُزَيْمَةَ ، وَامْرَأَةٌ مَنْ بَنِي هِلَالٍ . ¤
محمد محی الدین
زہری بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج یہ ہیں : سیدہ خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا ، سیدہ عائشہ بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا ، سیدہ سلمہ بنت ابوامیہ رضی اللہ عنہا ، سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا ، سیدہ ام حبیبہ بنت ابوسفیان رضی اللہ عنہما ، سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا ، سیدہ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا ، سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا ، سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا ، سیده صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا ۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بعد یہ نو خواتین آپ کے ساتھ رہی ہیں ۔ اس کے علاوہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو جون سے تعلق رکھنے والی کندی خاتون کے ساتھ اور عالیہ بنت ظبیان کے ساتھ جن کا تعلق بنو عامر بن کلاب سے ہے اور سیدہ زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ، بنو ہلال سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کے ساتھ بھی شادی کی تھی ۔
حدیث نمبر: 15382
قَالَ الزُّهْرِيُّ : فَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ قَالَ : لَمَّا أَنْ دَخَلَتِ الْكِنْدِيَّةُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ : أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ . قَالَ : " عُذْتِ بِعَظِيمٍ ، الْحَقِي بِأَهْلِكِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
زہری بیان کرتے ہیں : عروہ بن زبیر نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ جب کندیہ ( نامی خاتون ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں آئیں تو انہوں نے کہا: میں آپ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نے ایک بڑی پناہ مانگی ہے تم اپنے گھر والوں کے پاس واپس چلی جاؤ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مرسل روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مرسل روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15383
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمْ يَكُنْ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - امْرَأَةٌ وَهَبَتْ نَفْسَهَا لَهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی ایسی خاتون نہیں تھیں ، جس خاتون نے اپنے آپ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہبہ کیا ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 15384
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ : تَزَوَّجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَدِيجَةَ بِنْتَ خُوَيْلِدٍ ، وَكَانَتْ قَبْلَهُ تَحْتَ عَتِيقِ بْنِ عَائِذٍ الْمَخْزُومِيِّ . ثُمَّ تَزَوَّجَ عَائِشَةَ بِمَكَّةَ وَلَمْ يَتَزَوَّجْ بِكْرًا غَيْرَهَا . ثُمَّ تَزَوَّجَ بِالْمَدِينَةِ حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ ، وَكَانَتْ قَبْلَهُ تَحْتَ خُنَيْسِ بْنِ حُذَافَةَ السَّهْمِيِّ . ¤ ثُمَّ تَزَوَّجَ سَوْدَةَ بِنْتَ زَمْعَةَ ، وَكَانَتْ قَبْلَهُ تَحْتَ السَّكْرَانِ بْنِ عَمْرٍو أَخِي بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ . ثُمَّ تَزَوَّجَ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ ، وَكَانَتْ قَبْلَهُ تَحْتَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ الْأَسَدِيِّ - أَسَدُ خُزَيْمَةَ . ثُمَّ تَزَوَّجَ أُمَّ حَرَامٍ . ثُمَّ تَزَوَّجَ أُمَّ سَلَمَةَ بِنْتَ أَبِي أُمَيَّةَ وَكَانَ اسْمُهَا هِنْدُ ، وَكَانَتْ قَبْلَهُ تَحْتَ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الْأَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى . ثُمَّ تَزَوَّجَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ ، وَكَانَتْ قَبْلَهُ تَحْتَ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ . ثُمَّ تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ . وَسَبَى جُوَيْرِيَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي ضِرَارٍ مِنْ بَنِي الْمُصْطَلِقِ ، مِنْ خُزَاعَةَ فِي غَزْوَتِهِ الَّتِي هَدَمَ فِيهَا مَنَاةَ ، غَزْوَةِ الْمُرَيْسِيعِ . وَسَبَى صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيِّ بْنِ أَخْطَبَ ، مِنْ بَنِي النَّضِيرِ ، وَكَانَتْ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ . وَاسْتَسَرَّ رَيْحَانَةَ مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ ، ثُمَّ أَعْتَقَهَا فَلَحِقَتْ بِأَهْلِهَا ، وَاحْتَجَبَتْ وَكَانَتْ عِنْدَ أَهْلِهَا . ، وَطَلَّقَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْغَالِيَةَ بِنْتَ ظَبْيَانَ ، وَفَارَقَ أُخْتَ بَنِي عَمْرِو بْنِ كِلَابٍ . وَفَارَقَ أُخْتَ بَنِي الْجَوْنِ الْكِنْدِيَّةَ ; مِنْ أَجْلِ بَيَاضٍ كَانَ بِهَا . وَتُوُفِّيَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ خُزَيْمَةَ الْهِلَالِيَّةُ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَيٌّ . وَبَلَغَنَا أَنَّ الْغَالِيَةَ بِنْتَ ظَبْيَانَ تَزَوَّجَتْ قَبْلَ أَنْ يُحَرِّمَ اللَّهُ نِسَاءَهُ ، وَنَكَحَتِ ابْنِ عَمٍّ لَهَا مِنْ قَوْمِهَا ، وَوَلَدَتْ فِيهِمْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَخْمِيمِيِّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . وَقَدْ رَوَاهُ مَرَّةً بِاخْتِصَارٍ مَوْقُوفًا عَلَى يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کی تھی وہ آپ سے پہلے عتیق بن عائذ مخزومی کی اہلیہ تھیں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کی ، آپ نے ان کے علاوہ کسی اور کنواری خاتون کے ساتھ شادی نہیں کی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ شادی کی ، وہ آپ سے پہلے سیدنا خنیس بن حذیفہ رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کی ، وہ آپ سے پہلے سکران بن عمرو کے نکاح میں تھیں ، جن کا تعلق بنو عامر بن لؤی سے ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ام حبیبہ بنت ابوسفیان رضی اللہ عنہما کے ساتھ شادی کی ، وہ آپ سے پہلے عبدااللہ بن جحش اسدی جن کا تعلق اسد خزیمہ سے ہے ، ان کے نکاح میں تھیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ام سلمہ بنت ابوامیہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کی تھی ، اس خاتون کا نام ہند تھا اور یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے سیدنا ابوسلمہ بن عبدالاسد بن عبدالعزیٰ رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کی تھی وہ آپ سے پہلے سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ جویریہ بنت حارث بن ابوزرعہ رضی اللہ عنہا ، جن کا تعلق خزاعہ قبیلے کی شاخ بنو مصطلق سے ہے انہیں اس غزوہ میں قیدی بنایا جس غزوے کے دوران آپ نے مناة کو منہدم کیا تھا اور یہ غزوہ مریسیع ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ صفیہ بنت حیی بن اخطب رضی اللہ عنہا ، جن کا تعلق بنو نضیر سے ہے ، انہیں قیدی بنایا ، یہ خاتون اس میں شامل تھیں ، جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو مال فے کے طور پر عطا کی تھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو قریظہ سے تعلق رکھنے والی ریحانہ نامی خاتون کو قیدی بنایا ، پھر آپ نے اسے آزاد کر لیا تو وہ اپنے اہل خانہ کے پاس واپس چلی گئیں ، انہوں نے حجاب کر لیا اور وہ اپنے اہلِ خانہ کے پاس ہی رہی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غالیہ بنت ظبیان نامی خاتون کو طلاق دے دی تھی ، آپ نے بنو عمرو بن کعب سے تعلق رکھنے والی خاتون سے علیحدگی اختیار کی تھی ، آپ نے بنو جون سے تعلق رکھنے والی خاتون کندیہ سے علیحدگی اختیار کی تھی ، جو ان کے جسم پر پھلبہری کے داغ کی وجہ سے تھی ، سیدہ زینب بنت خزیمہ ہلالیہ رضی اللہ عنہا کا انتقال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں ہو گیا تھا ، ہم تک یہ اطلاع پہنچی ہے کہ غالیہ بنت ظبیان نامی خاتون نے اس سے پہلے شادی کر لی تھی کہ اللہ تعالیٰ آپ کی ازواج ( کی کسی اور کے ساتھ شادی ) کو حرام قرار دیتا ، اس خاتون نے اپنی قوم سے تعلق رکھنے والے اپنے چچا زاد کے ساتھ نکاح کیا تھا اور ان کے ہاں اولاد بھی ہوئی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد قاسم بن عبداللہ اخمیمی کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، اسے ایک مرتبہ اختصار کے ساتھ یحیی بن ابوکثیر پر موقوف روایت کے طور پر بھی نقل کیا ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد قاسم بن عبداللہ اخمیمی کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، اسے ایک مرتبہ اختصار کے ساتھ یحیی بن ابوکثیر پر موقوف روایت کے طور پر بھی نقل کیا ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 15385
وَعَنْ قَتَادَةَ قَالَ : تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَمْسَ عَشْرَةَ امْرَأَةً ، مِنْهُنَّ سِتٌّ مِنْ قُرَيْشٍ وَوَاحِدَةٌ مِنْ نِسَاءِ الْقُرَيْطِ ، وَسَبْعٌ مِنْ سَائِرِ الْعَرَبِ ، وَوَاحِدَةٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ ، وَلَمْ يَتَزَوَّجْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ مِنْهُنَّ غَيْرَهَا ، فَأَوَّلُ مَنْ تَزَوَّجَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ : خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قُصَيٍّ ، وَكَانَتْ قَبْلَهُ عِنْدَ عَتِيقِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ مَخْزُومٍ ، ثُمَّ خَلَفَ عَلَيْهَا بَعْدَ عَتِيقٍ أَبُو هَالَةَ هِنْدُ بْنُ زُرَارَةَ بْنِ نَبَّاشِ بْنِ حَبِيبِ بْنِ صُرَدِ بْنِ سَلَامَةَ بْنِ جَرَاوَةَ بْنِ أُسَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ تَيْمٍ ، فَوَلَدَتْ لَهُ هِنْدُ بْنُ هِنْدٍ . ¤ قَالَ زُهَيْرٌ : قَالَ يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ : فَمَرَّ هِنْدُ بِالْبَصْرَةِ مُجْتَازًا ، فَهَلَكَ بِهَا ، فَلَمْ يَقُمْ سُوقٌ وَلَا كَلَأٌ يَوْمَئِذٍ ، فَتَزَوَّجَهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْدَهُمَا ، فَوَلَدَتْ لَهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ عَبْدَ مَنَافٍ ، وَوَلَدَتْ لَهُ فِي الْإِسْلَامِ غُلَامَيْنِ وَأَرْبَعَ بَنَاتٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا ، وَفِيهِ زُهَيْرُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
قتادہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پندرہ خواتین کے ساتھ شادی کی تھی ، ان میں سے چھ کا تعلق قریش سے تھا ، ایک کا تعلق قریط سے تھا اور سات خواتین کا تعلق عربوں کے دیگر قبائل سے تھا ، ایک کا تعلق بنی اسرائیل سے تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان نبوت سے پہلے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ اور کسی خاتون سے شادی نہیں کی ، آپ نے اعلانِ نبوت سے پہلے سب سے پہلے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا بنت خویلد بن اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی کے ساتھ شادی کی جو آپ سے پہلے عتیق بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم کے نکاح میں تھیں ، پھر اس کے بعد عتیق ابوہالہ ہند بن زراه بن نباش بن حبیب بن صرد بن سلامہ بن جراوہ بن اسید بن عمرو بن تیم کے نکاح میں آئیں اور انہوں نے ان صاحب کے بیٹے ہند بن ہند کو جنم دیا زہیر بیان کرتے ہیں : یونس بن عبید نے یہ بات بیان کی ہے کہ ہند نامی یہ صاحب بصرہ سے گزرے تھے اور وہاں ان کا انتقال ہو گیا تھا وہاں ابھی کوئی بازار نہیں تھا اور کوئی گھاس پھوس نہیں اگی تھی ان دونوں صاحبان کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کی تھی اعلان نبوت سے پہلے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپ کے بیٹے عبدمناف کو جنم دیا تھا اور اعلان نبوت کے بعد انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دو بیٹوں اور چار بیٹیوں کو جنم دیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مرسل روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی زہیر بن علاء ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مرسل روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی زہیر بن علاء ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 15386
وَعَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، وَعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ : اجْتَمَعَ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تِسْعُ نِسْوَةٍ مَعَ صَفِيَّةَ بَعْدَ خَدِيجَةَ ، مَاتَ عَنْهُنَّ كُلِّهِنَّ . ¤ قَالَ : وَزَادُ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ امْرَأَتَيْنِ سِوَى التِّسْعِ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ ، كِلْتَاهُمَا جَمَعَ ، وَكَانَتْ إِحْدَاهُمَا تُدْعَى أُمَّ الْمَسَاكِينِ ، وَكَانَتْ خَيْرَ نِسَائِهِ لِلْمَسَاكِينِ ، وَنَكَحَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي الْجَوْنِ ، فَلَمَّا جَاءَتْهُ اسْتَعَاذَتْ مِنْهُ فَطَلَّقَهَا وَنَكَحَ امْرَأَةً مِنْ كِنْدَةَ وَلَمْ يُجَامِعْهَا ، فَتَزَوَّجَتْ بَعْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَفَرَّقَ عُمَرُ بَيْنَهُمَا ، وَضَرَبَ زَوْجَهَا . ¤ فَقَالَتْ : اتَّقِ اللَّهَ يَا عُمَرُ ; إِنْ كُنْتُ مِنْ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ فَاضْرِبْ عَلَيَّ الْحِجَابَ ، وَأَعْطِنِي مِثْلَ مَا أَعْطَيْتَهُنَّ . قَالَ : أَمَّا هُنَالِكَ فَلَا ، قَالَتْ : فَدَعْنِي أَنْكِحْ . قَالَ : لَا وَلَا نِعْمَةَ ، وَلَا أُطَمِعُ فِي ذَلِكَ أَحَدًا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا ، وَزِيَادَةُ عُثْمَانَ مُعْضِلَةٌ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابن ابوملیکہ اور عمرو بن دینار بیان کرتے ہیں : سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بعد سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سمیت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں نو ازواج اکٹھی رہی تھیں اور ان تمام ازواج کا انتقال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت میں ہی ہوا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : عثمان بن ابوسلیمان نے ان نو خواتین کے علاوہ مزید دو خواتین کا ذکر کیا ہے جن کا تعلق بنو عامر بن صعصعہ سے تھا اور یہ دونوں ساتھ رہی تھیں ان میں سے ایک کو ام المساکین کہا: جاتا ہے جو آپ کی تمام ازواج میں سے مساکین کے حق میں سب سے زیادہ بہتر تھیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو جون سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کے ساتھ شادی کی تھی ، جب وہ خاتون آپ کے پاس آئی تو اس نے آپ سے پناہ مانگی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے طلاق دے دی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کندہ سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کے ساتھ شادی کی تھی ، لیکن آپ نے اس کی رخصتی نہیں کروائی ، اس خاتون نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دوسری شادی کر لی تھی ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس خاتون اور اس کے شوہر کے درمیان علیحدگی کروا دی تھی اور اس کے شوہر کی پٹائی کی تھی ، تو اس خاتون نے کہا: تھا کہ اے عمر ! اللہ سے ڈرو اگر میں امہات المؤمنین میں سے ایک ہوتی تو تم نے مجھے بھی پردے کا حکم کرنا تھا اور مجھے بھی وہی ادائیگیاں کرنی تھیں جو ان امہات المؤمنین کو ادائیگی کرتے ہو ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: لیکن اب تو ایسا نہیں ہے ، تو اس خاتون نے کہا: پھر تم مجھے نکاح کرنے دو ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جی نہیں یہ نہیں ہو سکتا اور اب میں کسی کو ایسا کرنے بھی نہیں دوں گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مرسل روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور عثمان نامی راوی کا نقل کردہ اضافی حصہ ” معضل “ ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مرسل روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور عثمان نامی راوی کا نقل کردہ اضافی حصہ ” معضل “ ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 15387
قَالَ الطَّبَرَانِيُّ : شِرَافُ بِنْتُ خَلِيفَةَ بْنِ فَرْوَةَ الْكَلْبِيَّةُ ، أُخْتُ دَحْيَةَ بْنِ خَلِيفَةَ ، تَزَوَّجَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی بیان کرتے ہیں : شراف بنت خلیفہ بن فروہ کلبیہ ، جو دحیہ بن خلیفہ کی بہن ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ شادی کی تھی لیکن ان کی رخصتی نہیں کروائی ۔
حدیث نمبر: 15388
وَعَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ : خَطَبَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - امْرَأَةً مِنْ كَلْبٍ ، فَبَعَثَ عَائِشَةَ تَنْظُرُ إِلَيْهَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
ابن ابوملیکہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کلب قبیلے سے تعلق رکھنے والی خاتون کو شادی کا پیغام بھیجا تھا اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بھیجا تھا تاکہ وہ اس خاتون کو دیکھ لیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 15389
قَالَ الطَّبَرَانِيُّ : قُتَيْلَةُ بِنْتُ قَيْسٍ الْكِنْدِيَّةُ - أُخْتُ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ - تَزَوَّجَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا حَتَّى فَارَقَهَا . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی بیان کرتے ہیں : قتیلہ بنت قیس کندیہ ہیں جو سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کی بہن ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کے ساتھ شادی کی تھی آپ نے ان کی رخصتی کروانے سے پہلے ان سے علیحدگی اختیار کر لی تھی ۔
حدیث نمبر: 15390
وَعَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمِ بْنِ الْأَوْقَصِ أَنَّهَا كَانَتْ مِنَ اللَّائِي وَهَبْنَ أَنْفُسَهُنَّ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ الْمِقْدَامِ بْنِ دَاوُدَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ وَرَوَاهُ أَيْضًا مُرْسَلًا عَنْ عُرْوَةَ بْنِ خَوْلَةَ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ عُرْوَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ خولہ بنت حکیم بن اوقص رضی اللہ عنہا ، یہ ان خواتین میں سے ایک ہیں جنہوں نے اپنا آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہبہ کر دیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت انہوں نے عروہ بن خولہ کے حوالے سے مرسل روایت کے طور پر بھی نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن یحیی بن عروہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت انہوں نے عروہ بن خولہ کے حوالے سے مرسل روایت کے طور پر بھی نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن یحیی بن عروہ ہے اور وہ متروک ہے ۔