کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: نبی اکرم ﷺ کی زوجہ محترمہ سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 15344
عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ قَالَتْ : خَطَبَنِي عِدَّةٌ مِنْ قُرَيْشٍ ، فَأَرْسَلْتُ أُخْتِي حَمْنَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَسْتَشِيرُهُ ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَيْنَ هِيَ مِمَّنْ يُعَلِّمُهَا كِتَابَ رَبِّهَا وَسُنَّةَ نَبِيِّهَا ؟ " . قَالَتْ : وَمَنْ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ؟ قَالَ : " زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ " . قَالَ : فَغَضِبَتْ حَمْنَةُ غَضَبًا شَدِيدًا ، وَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تُزَوِّجُ بِنْتَ عَمِّكَ مَوْلَاكَ ؟ قَالَتْ : وَجَاءَتْنِي فَأَعْلَمَتْنِي ، فَغَضِبْتُ أَشَدَّ مِنْ غَضَبِهَا ، وَقُلْتُ أَشَدَّ مِنْ قَوْلِهَا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى : ( وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ ) . قَالَتْ : فَأَرْسَلْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : إِنِّي أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأُطِيعُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، أَفْعَلُ مَا رَأَيْتَ ، فَزَوَّجَنِي زَيْدًا ، وَكُنْتُ أَرَنِي [عَلَيْهِ]، فَشَكَانِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَعَاتَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ عُدْتُ فَأَخَذْتُهُ بِلِسَانِي ،[ فَشَكَانِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ]فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ ، وَاتَّقِ اللَّهَ " . فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنَا أُطَلِّقُهَا . قَالَتْ : فَطَلَّقَنِي ، فَلَمَّا انْقَضَتْ عِدَّتِي ، لَمْ أَعْلَمْ إِلَّا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ دَخَلَ عَلَيَّ وَأَنَا مَكْشُوفَةُ الشَّعْرِ ، فَقُلْتُ : إِنَّهُ أَمْرٌ مِنَ السَّمَاءِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بِلَا خِطْبَةٍ وَلَا شَهَادَةٍ ؟ فَقَالَ : " اللَّهُ الْمُزَوِّجُ ، وَجِبْرِيلُ الشَّاهِدُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ حَفْصُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَفِيهِ تَوْثِيقٌ لَيِّنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیده زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : قریش کے کچھ نوجوانوں نے مجھے شادی کے لئے پیغام بھیجا ، میں نے اپنی بہن حمنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا تاکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں مشورہ لوں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : وہ اس شخص سے کہاں غافل ہے جس نے اسے اس کے پروردگار کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت کی تعلیم دی ہے ، حمنہ نے دریافت کیا : وہ کون ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : زید بن حارثہ ، راوی کہتے ہیں ، تو حمنہ شدید غصے میں آ گئیں اور بولیں یا رسول اللہ ! آپ اپنی چچا زاد کی شادی اپنے غلام سے کریں گے ۔ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : حمنہ میرے پاس آئی اور اس نے مجھے اس بارے میں بتایا تو میں اس سے بھی زیادہ شدید غصے میں آ گئی اور میں نے اس سے بھی زیادہ سخت بات کہی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” کسی مومن مرد اور مومن عورت کے لئے اس بارے میں اختیار نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے میں فیصلہ دے دیں تو اس معاملے کے بارے میں ( اس فیصلے کو مسترد کرنے کا ) کوئی اختیار ہو ۔ “ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام بھیجا کہ میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتی ہوں اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتی ہوں آپ جو مناسب سمجھتے ہیں ویسا کر لیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری شادی زید کے ساتھ کر دی ، میری طرف سے زید کے ساتھ کچھ نامناسب رویہ ہوا تو انہوں نے میری شکایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ڈانٹا ، پھر میں نے ایسا کیا اور زبانی طور پر انہیں پریشانی کا شکار کیا تو انہوں نے پھر میری شکایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو ، سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ ! میں انہیں طلاق دینا چاہتا ہوں ، سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے کہا: انہوں نے مجھے طلاق دے دی ، جب میری عدت ختم ہو گئی تو مجھے پتہ نہیں چلا ، البتہ یہ ہوا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے ، میں نے بال کھولے ہوئے تھے ۔ میں نے کہا: یہ آسمان کی طرف سے آنے والا فیصلہ تھا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کسی شادی کے پیغام کے بغیر اور کسی گواہ کے بغیر ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ شادی کروانے والا ہے ، اور جبرائیل گواہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حفص بن سلیمان ہے اور وہ متروک ہے اور اس کے بارے میں کمزور توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حفص بن سلیمان ہے اور وہ متروک ہے اور اس کے بارے میں کمزور توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 15345
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ : ثُمَّ تَزَوَّجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ ، وَكَانَتْ قَبْلَهُ تَحْتَ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، عَنْ شَيْخِهِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَهْدِيٍّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کر لی وہ اس سے پہلے سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد قاسم بن عبداللہ بن مہدی کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد قاسم بن عبداللہ بن مہدی کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 15346
وَعَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ : تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشِ بْنِ رِئَابِ[بْنِ أَسَدِ] بْنِ خُزَيْمَةَ . وَأَمُّهَا : أُمَيْمَةُ بِنْتُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ هَاشِمٍ عَمَّةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . قَالَ : وَهِيَ أَوَّلُ نِسَاءِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تُوُفِّيَتْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
زہری بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا بنت جحش بن رئاب بن اسد بن خزیمہ کے ساتھ شادی کر لی ان کی والدہ کا نام امیمہ بنت عبدالمطلب بن ہاشم تھا اور وہ ( یعنی امیمہ ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی تھیں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سب سے پہلے انہی کا ( یعنی سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا ) کا انتقال ہوا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مرسل روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مرسل روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 15347
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ : هَاجَرَ مِنْ بَنِي أَسَدٍ مِنْ نِسَائِهِمْ زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ وَنِسْوَةٌ . فَذَكَرَهُنَّ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ إِلَى قَائِلِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں : بنو اسد کی خواتین میں سے سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا نے ہجرت کی اور کچھ دیگر خواتین نے بھی کی جن کا ذکر ابن اسحاق نے کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے قائل تک اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے قائل تک اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 15348
وَعَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَاءَ [بَيْتَ] زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ ، فَاسْتَأْذَنَ ، فَأَذِنَتْ لَهُ زَيْنَبُ وَلَا خِمَارَ عَلَيْهَا ، فَأَلْقَتْ كُمَّ دِرْعِهَا عَلَى رَأْسِهَا ، فَسَأَلَهَا عَنْ زَيْدٍ ، فَقَالَتْ : ذَهَبَ قَرِيبًا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَهُ هَمْهَمَةٌ قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ : فَاتَّبَعْتُهُ ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " تَبَارَكَ مُصَرِّفُ الْقُلُوبِ " . فَمَا زَالَ يَقُولُهَا حَتَّى تَغَيَّبَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا ، وَبَعْضُهُ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ كَمَا تَرَاهُ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا وَفِي بَعْضِهِمْ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوبکر بن سلیمان بن ابوحثمہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لائے ، آپ نے اندر آنے کے لئے اجازت طلب کی ، سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے آپ کو اجازت پیش کی ، ان کے سر پر اس وقت چادر نہیں تھی ، انہوں نے اپنی آستین اپنے سر پر رکھ لی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون سے سیدنا زید رضی اللہ عنہ کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے بتایا : یا رسول اللہ ! وہ تھوڑی دور گئے ہیں ( یا تھوڑی دیر پہلے گئے ہیں ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کھڑے ہوئے ، آپ کے کچھ کہنے کی ہلکی آواز آئی ، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں آپ کے پیچھے گئی تو میں نے آپ کو یہ کہتے ہوئے سنا : ” برکت والی ہے وہ ذات جو دلوں کو پھیر دیتی ہے “ آپ مسلسل یہ کلمات کہتے رہے ، یہاں تک کہ نگاہوں سے اوجھل ہو گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مرسل روایت کے طور پر نقل کی ہے اس کا کچھ حصہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے جیسا کہ آپ ملاحظہ کر سکتے ہیں اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی اور اس کے بعض راویوں میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مرسل روایت کے طور پر نقل کی ہے اس کا کچھ حصہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے جیسا کہ آپ ملاحظہ کر سکتے ہیں اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی اور اس کے بعض راویوں میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 15349
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : بَنَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِزَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ . فَذَكَرَ حَدِيثَ الْوَلِيمَةِ إِلَى أَنْ قَالَ : وَإِنَّ زَيْنَبَ لَجَالِسَةٌ فِي جَنْبِ الْبَيْتِ . ¤ قَالَ : وَكَانَتِ الْمَرْأَةُ قَدْ أُعْطِيَتْ جَمَالًا ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَدِيدَ الْحَيَاءِ . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کی رخصتی کروائی اس کے بعد انہوں نے ولیمہ سے متعلق حدیث ذکر کی ہے جس میں آگے چل کر وہ یہ کہتے ہیں : سیدہ زینب رضی اللہ عنہا گھر کے ایک کونے میں بیٹھی ہوئی تھیں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : وہ ایک خاتون تھیں جنہیں خوبصورتی عطا کی گئی تھی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شدید حیاء والے تھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15350
وَعَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : دَخَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَنْزِلَهُ وَمَعَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، فَإِذَا هُوَ بِزَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ تُصَلِّي ، وَهِيَ فِي صَلَاتِهَا تَدْعُو ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّهَا لَأَوَّاهَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَابُلُتِّيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
راشد بن سعد بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں داخل ہوئے ، آپ کے ساتھ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی تھے ، وہاں سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا نماز ادا کر رہی تھیں اور وہ نماز کے دوران دعا کر رہی تھیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ عبادت گزار عورت ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبداللہ بابلتی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبداللہ بابلتی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 15351
وَعَنْ أَبِي بَرْزَةَ قَالَ : كَانَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تِسْعُ نِسْوَةٍ ، فَقَالَ يَوْمًا : " خَيْرُكُنَّ أَطْوَلُكُنَّ يَدًا " . فَقَامَتْ كُلُّ وَاحِدَةٍ تَضَعُ يَدَهَا عَلَى الْجِدَارِ ، فَقَالَ : " لَسْتُ أَعْنِي هَذَا ، وَلَكِنْ أَصْنَعُكُنَّ يَدَيْنِ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ ; لِأَنَّهُ يَعْتَضِدُ بِمَا يَأْتِي . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نو ازواج تھیں ، آپ نے ارشاد فرمایا : تم میں سب سے زیادہ بہتر وہ ہے جس کا ہاتھ سب سے زیادہ لمبا ہو ان میں سے ہر خاتون اٹھی اور اس نے دیوار پر رکھ کر اپنا ہاتھ ناپا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں نے یہ مراد نہیں لیا تھا ، بلکہ میری مراد یہ تھی کہ جو دونوں ہاتھوں کے ذریعے زیادہ کام کرتی ہے ( اور آمدن صدقہ کر دیتی ہے ) ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے
یہ روایت اس روایت کے ذریعے مستند ہو جاتی ہے جو آگے آئے گی ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے
یہ روایت اس روایت کے ذریعے مستند ہو جاتی ہے جو آگے آئے گی ۔
حدیث نمبر: 15352
وَعَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَحْنُ جُلُوسٌ ، فَقَالَ : " أَوَّلُكُنَّ يَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ أَطْوَلُكُنَّ يَدًا " . فَجَعَلْنَا نُقَدِّرُ أَذْرُعَنَا أَيَّتُنَا أَطْوَلُ يَدًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَسْتُ ذَاكَ أَعْنِي إِنَّمَا أَعْنِي أَصْنَعُكُنَّ يَدًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَسْلَمَةُ بْنُ عُلَيٍّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، ہم بیٹھی ہوئی تھیں ، آپ نے ارشاد فرمایا : تم میں سے حوض پر میرے پاس سب سے پہلے وہ آئے گی ، جس کے ہاتھ سب سے زیادہ لمبے ہیں ، تو ہم نے اپنی کلائیوں کو ناپنا شروع کیا کہ کس کے ہاتھ زیادہ لمبے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے یہ مراد نہیں لیا ، میری مراد یہ تھی کہ جو ہاتھ کے ذریعے زیادہ کام کرتی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مسلمہ بن علی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مسلمہ بن علی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 15353
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبَزَى أَنَّ عُمَرَ كَبَّرَ عَلَى زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ أَرْبَعًا ، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : مَنْ يُدْخِلُ هَذِهِ قَبْرَهَا ؟ فَقُلْنَ : مَنْ كَانَ يَدْخُلُ عَلَيْهَا فِي حَيَاتِهَا . ثُمَّ قَالَ عُمَرُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " أَسْرَعُكُنَّ بِي لُحُوقًا أَطْوَلُكُنَّ يَدًا " . فَكُنَّ يَتَطَاوَلْنَ بِأَيْدِيهِنَّ ، وَإِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ لِأَنَّهَا كَانَتْ صَنَّاعًا تُعِينُ بِمَا تَصْنَعُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن ابزیٰ بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کی نماز جنازہ میں چار تکبیریں پڑھیں ، پھر انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کو پیغام بھیج کر دریافت کیا کہ انہیں قبر میں کون اتارے گا ، تو ان ازواج نے بتایا کہ جو شخص ان کی زندگی میں ان کے ہاں آیا کرتا تھا ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرمایا کرتے تھے کہ تم میں سے مجھ سے پہلے وہ ملے گی ، جس کے ہاتھ زیادہ لمبے ہوں گے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج نے اپنے ہاتھوں کی پیمائش کی ، حالانکہ اصل بات تھی کہ سیده زینب رضی اللہ عنہا کام کرتی تھیں اور اپنے کیے ہوئے کام کے معاوضے کو اللہ کی راہ میں خرچ کرتی تھیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15354
وَعَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ قَالَ : تُوُفِّيَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ زَوْجُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي خِلَافَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابن منکدر بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا انا کا انتقال سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں ہوا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15355
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ : تُوُفِّيَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ زَوْجُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَنَةَ عِشْرِينَ ، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ .
محمد محی الدین
محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کا انتقال بیس ہجری میں ہوا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ( مستند ہیں ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ( مستند ہیں ) ۔
حدیث نمبر: 15356
وَعَنِ الشَّعْبِيِّ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ عُمَرَ عَلَى زَيْنَبَ ، وَكَانَتْ أَوَّلَ نِسَاءِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَوْتًا ، وَكَانَ يُعْجِبُهُ أَنْ يُدْخِلَهَا قَبْرَهَا ، فَأَرْسَلَ إِلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : مَنْ يُدْخِلُهَا قَبْرَهَا ؟ فَقُلْنَ : مَنْ كَانَ يَرَاهَا فِي حَيَاتِهَا فَلْيُدْخِلْهَا قَبْرَهَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
امام شعبی بیان کرتے ہیں : انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی نماز جنازہ ادا کی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے سب سے پہلے اُن کا انتقال ہوا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی یہ خواہش تھی کہ وہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو قبر میں اتاریں ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کو پیغام بھیج کر دریافت کیا کہ انہیں قبر میں کون اتار سکتا ہے ؟ تو ان ازواج نے بتایا کہ جو ان کی زندگی میں انہیں دیکھ سکتا تھا وہ انہیں قبر میں اتارے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔