کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادی سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا اور ان کی بہن اُم کلثوم رضی اللہ عنہا کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 15238
عَنْ قَتَادَةَ بْنِ دِعَامَةَ قَالَ : كَانَتْ رُقَيَّةُ عِنْدَ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي لَهَبٍ ، فَلَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - : ( تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ ) سَأَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عُتْبَةَ طَلَاقَ رُقَيَّةَ ، وَسَأَلَتْهُ رُقَيَّةُ ذَلِكَ ، فَطَلَّقَهَا ، فَتَزَوَّجَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - رُقَيَّةَ ، وَتُوُفِّيَتْ عِنْدَهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ زُهَيْرُ بْنُ الْعَلَاءِ ، ضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ; فَالْإِسْنَادُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
قتادہ بن دعامہ بیان کرتے ہیں : سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا ابولہب کے بیٹے عتبہ کے نکاح میں تھیں جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” ابولہب کے دونوں ہاتھ برباد ہو جائیں ۔ “ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عتبہ سے یہ کہا: کہ وہ سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دیدے ، سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا نے بھی اس سے یہ مطالبہ کیا ، تو اس نے اس خاتون کو طلاق دے دی ، پھر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کر لی اور سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ان کی زوجیت میں ہوا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی زہیر بن علاء ہے جسے ابوحاتم نے ضعیف قرار دیا ہے ، اور ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے ، تو اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی زہیر بن علاء ہے جسے ابوحاتم نے ضعیف قرار دیا ہے ، اور ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے ، تو اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 15239
وَعَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ بَكَّارٍ قَالَ : وَكَانَتْ رُقَيَّةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي لَهَبٍ ، فَفَارَقَهَا ، فَتَزَوَّجَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رُقَيَّةَ بِمَكَّةَ ، وَهَاجَرَتْ مَعَهُ إِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ ، فَوَلَدَتْ لَهُ عَبْدَ اللَّهِ ، وَبِهِ كَانَ يُكَنَّى ، وَقَدِمَتْ مَعَهُ إِلَى الْمَدِينَةِ ، وَتَخَلَّفَ عَنْ بَدْرٍ عَلَيْهَا بِإِذْنِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَضَرَبَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَعَ سُهْمَانِ أَهْلِ بَدْرٍ . قَالَ : وَأَجْرِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " وَأَجْرُكَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرَوَى عَنِ الزُّهْرِيِّ بَعْضَهُ ، وَرِجَالُهُمَا إِلَى قَائِلِهِمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
زبیر بن بکار بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی عتبہ بن ابولہب کے نکاح میں تھیں اس نے اس خاتون کو طلاق دے دی پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے مکہ میں سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کر لی ، سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ہمراہ حبشہ کی سرزمین کی طرف ہجرت کی ، سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا نے ان کے صاحبزادے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو جنم دیا اور انہی صاحبزادے کے حوالے سے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کنیت اختیار کرتے تھے پھر سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ مدینہ منورہ آ گئیں سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کی وجہ سے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ غزوہ بدر میں شریک نہیں ہو سکے ، ایسا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت ہوا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل بدر کے حصوں کے ہمراہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا بھی حصہ مقرر کیا تو انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ ! میرا اجر ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہیں اجر بھی ملے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے زہری کے حوالے سے اس کا کچھ حصہ منقول ہے اور ان دونوں روایات کے قائلین تک ان دونوں روایات کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے زہری کے حوالے سے اس کا کچھ حصہ منقول ہے اور ان دونوں روایات کے قائلین تک ان دونوں روایات کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 15240
وَعَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ : تُوُفِّيَتْ رُقَيَّةُ يَوْمَ جَاءَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِبُشْرَى بَدْرٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَهُوَ مُرْسَلٌ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
زہری بیان کرتے ہیں : سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کا انتقال اس دن ہوا تھا جب سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ہیں وہ غزوہ بدر کی کامیابی کی خوشخبری لے کے آئے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے
یہ روایت مرسل ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے
یہ روایت مرسل ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 15241
وَعَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ : تَزَوَّجَ عُثْمَانُ أُمَّ كُلْثُومٍ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتُوُفِّيَتْ عِنْدَهُ ، وَلَمْ تَلِدْ لَهُ شَيْئًا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادِ الَّذِي قَبْلَهُ . ¤
محمد محی الدین
زہری بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شادی سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی تھی اور اس خاتون نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی زوجیت میں انتقال کیا ، اس خاتون نے کسی بچے کو جنم نہیں دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اسی سند کے ساتھ نقل کی ہے جو اس سے پہلے روایت کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اسی سند کے ساتھ نقل کی ہے جو اس سے پہلے روایت کی ہے ۔
حدیث نمبر: 15242
وَعَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ بَكَّارٍ قَالَ : وَكَانَتْ أُمُّ كُلْثُومٍ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي لَهَبٍ الَّذِي أَكَلَهُ الْأَسَدُ فَفَارَقَهَا ، وَلَمَّا تُوُفِّيَتْ رُقَيَّةُ عِنْدَ عُثْمَانَ زَوَّجَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُمَّ كُلْثُومٍ ، فَتُوُفِّيَتْ عِنْدَهُ ، وَلَمْ تَلِدْ لَهُ شَيْئًا ، وَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ كَانَ لِي عَشْرٌ لَزَوَّجْتَكَهُنَّ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُنْقَطِعَ الْإِسْنَادِ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ قِصَّةُ طَلَاقِ عُتَيْبَةَ بْنِ أَبِي لَهَبٍ إِيَّاهَا فِي الْمَغَازِي فِيمَا لَقِيَ مِنْ أَذَى الْمُشْرِكِينَ ، وَبَعْضُهَا فِي مَنَاقِبِ عُثْمَانَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - . ¤
محمد محی الدین
زبیر بن بکار بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی عتبہ بن ابولہب کے نکاح میں تھیں یہ وہ شخص تھا جسے شیر نے کھا لیا تھا اس شخص نے اس خاتون کو طلاق دی تھی جب سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی زوجیت میں انتقال ہو گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا کی شادی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے کر دی تھی ، تو سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا انتقال ان کی زوجیت میں ہوا ، انہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے کسی بچے کو جنم نہیں دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ فرمایا تھا : ” اگر میری دس بیٹیاں بھی ہوتیں تو میں ان کی شادی ( یکے بعد دیگرے ) تمہارے ساتھ کر دیتا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور یہ سند کے اعتبار سے منقطع ہے ۔ اس سے پہلے یہ واقعہ گزر چکا ہے کہ عتیبہ بن ابولہب نے اس خاتون کو طلاق دے دی تھی یہ مغازی سے متعلق کتاب میں گزرا ہے جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مشرکین کی طرف سے جن اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا ان کا ذکر ہے ، اور اس کا کچھ حصہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے مناقب میں بھی گزرا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور یہ سند کے اعتبار سے منقطع ہے ۔ اس سے پہلے یہ واقعہ گزر چکا ہے کہ عتیبہ بن ابولہب نے اس خاتون کو طلاق دے دی تھی یہ مغازی سے متعلق کتاب میں گزرا ہے جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مشرکین کی طرف سے جن اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا ان کا ذکر ہے ، اور اس کا کچھ حصہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے مناقب میں بھی گزرا ہے ۔