کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی فضیلت کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 15229
عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ : قَالَ لِي غَيْرُ وَاحِدٍ : كَانَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَكْبَرَ بَنَاتِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ إِلَى ابْنِ جُرَيْجٍ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابن جریج بیان کرتے ہیں : ایک سے زیادہ افراد نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا آپ کی صاحبزادیوں میں سب سے بڑی تھیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ابن جریج تک اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ابن جریج تک اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15230
وَعَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ بَكَّارٍ قَالَ : فَوُلِدَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْقَاسِمُ ، وَهُوَ أَكْبَرُ وَلَدِهِ ، ثُمَّ زَيْنَبُ ، وَكَانَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ ، فَوَلَدَتْ لَهُ عَلِيًّا وَأُمَامَةَ ، وَكَانَ عَلِيٌّ مُسْتَرْضَعًا فِي بَنِي غَاضِرَ ، فَافْتَصَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبَوْهُ يَوْمَئِذٍ مُشْرِكٌ . وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ شَارَكَنِي فِي شَيْءٍ فَأَنَا أَحَقُّ بِهِ ، وَأَيُّمَا كَافِرٌ شَارَكَ مُسْلِمًا فِي شَيْءٍ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ مِنْهُ " . ¤ قَالَ الزُّبَيْرُ : وَحَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُؤَمَّلِيُّ قَالَ : تُوُفِّيَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ ابْنُ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ نَاهَزَ الْحُلُمَ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَرْدَفَهُ عَلَى رَاحِلَتِهِ يَوْمَ الْفَتْحِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَعُمَرُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
زبیر بن بکار بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد میں سیدنا قاسم رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے جو آپ کی اولاد میں سب سے بڑے ہیں پھر سیدہ زینب رضی اللہ عنہا پیدا ہوئیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی شادی سیدنا ابوالعاص بن ربیع بن عبدشمس رضی اللہ عنہ سے ہوئی تھی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے ان صاحب کے بیٹے علی اور صاحبزادی امامہ کو جنم دیا تھا ان کے صاحبزادے بنو غاضر میں دودھ پیتے بچے تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا دودھ چھڑوا لیا تھا ان صاحبزادے کے والد ( یعنی سیدنا ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ ) اس وقت مشرک تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص کسی بھی چیز میں میرا شراکت دار ہو تو میں اس چیز کا زیادہ حق دار ہوؤں گا اور جو کافر کسی چیز کے بارے میں کسی مسلمان کا شراکت دار ہو تو وہ مسلمان اس کافر سے زیادہ اس چیز کا حق دار ہو گا ۔ “ زبیر بیان کرتے ہیں : عمر بن ابوبکر مؤملی نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ سیدنا ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے سیدنا علی رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کے بھی صاحبزادے ہیں وہ قریب البلوغ تھے پھر ان کا انتقال ہوا فتح مکہ کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنی سواری پر اپنے پیچھے بٹھایا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور عمر بن ابوبکر نامی راوی متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور عمر بن ابوبکر نامی راوی متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 15231
وَعَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا قَدِمَ مَكَّةَ خَرَجَتِ ابْنَتُهُ زَيْنَبُ مِنْ مَكَّةَ مَعَ كِنَانَةَ - أَوِ ابْنِ كِنَانَةَ - فَخَرَجُوا فِي طَلَبِهَا ، فَأَدْرَكَهَا هَبَّارُ بْنُ الْأَسْوَدِ ، فَلَمْ يَزَلْ يَطْعَنُ بَعِيرَهَا بِرُمْحِهِ حَتَّى صَرَعَهَا ، وَأَلْقَتْ مَا فِي بَطْنِهَا ، فَتَحَمَّلَتْ ، وَاشْتَجَرَ فِيهَا بَنُو هَاشِمٍ وَبَنُو أُمَيَّةَ ، فَقَالَ بَنُو أُمَيَّةَ : نَحْنُ أَحَقُّ بِهَا ، وَكَانَتْ تَحْتَ ابْنِ عَمِّهِمْ أَبِي الْعَاصِ ، وَكَانَتْ عِنْدَ هِنْدَ بِنْتِ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ ، وَكَانَتْ تَقُولُ [ لِهَا هِنْدُ ] : هَذَا فِي سَبَبِ أَبِيكِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِزَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ : " أَلَا تَنْطَلِقُ فَتَجِيءَ بِزَيْنَبَ ؟ " . قَالَ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " فَخُذْ خَاتَمِي فَأَعْطِهَا إِيَّاهُ " . فَانْطَلَقَ زَيْدٌ ، فَلَمْ يَزَلْ يَتَلَطَّفُ فَلَقِيَ رَاعِيًا ، فَقَالَ : لِمَنْ تَرْعَى ؟ فَقَالَ : لِأَبِي الْعَاصِ ، فَقَالَ : لِمَنْ هَذِهِ الْغَنَمُ ؟ فَقَالَ : لِزَيْنَبَ بِنْتِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَارَ مَعَهُ شَيْئًا ، ثُمَّ قَالَ : هَلْ لَكَ أَنْ أُعْطِيَكَ شَيْئًا تُعْطِيهَا إِيَّاهُ وَلَا تَذْكُرُهُ لِأَحَدٍ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَأَعْطَاهُ الْخَاتَمَ ، فَعَرَفَتْهُ ، فَقَالَتْ : مَنْ أَعْطَاكَ هَذَا ؟ قَالَ : رَجُلٌ ، قَالَتْ : فَأَيْنَ تَرَكْتَهُ ؟ قَالَ : بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا ، فَسَكَتَتْ حَتَّى إِذَا كَانَ اللَّيْلُ خَرَجَتْ إِلَيْهِ ، فَلَمَّا جَاءَتْهُ قَالَ لَهَا : ارْكَبِي بَيْنَ يَدَيَّ عَلَى بَعِيرِهِ . قَالَتْ : لَا ، وَلَكِنِ ارْكَبْ أَنْتَ بَيْنَ يَدَيَّ ، فَرَكِبَ وَرَكِبَتْ وَرَاءَهُ ، حَتَّى أَتَتْ ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " هِيَ خَيْرُ بَنَاتِي ، أُصِيبَتْ فِيَّ " . ¤ فَبَلَغَ ذَلِكَ عَلِيَّ بْنَ حُسَيْنٍ ، فَانْطَلَقَ إِلَى عُرْوَةَ ، فَقَالَ : مَا حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكَ أَنَّكَ تُحَدِّثُهُ تَنْتَقِصُ حَقَّ فَاطِمَةَ ؟ ! فَقَالَ عُرْوَةُ : وَاللَّهِ مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَأَنِّي أَنْتَقِصُ فَاطِمَةَ حَقًّا هُوَ لَهَا ، وَأَمَّا بَعْدَ ذَلِكَ إِنِّي لَا أُحَدِّثُ بِهِ أَبَدًا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بَعْضَهُ ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لے آئے تو آپ کی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کنانہ ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) ابن کنانہ کے ہمراہ مکہ سے نکلیں وہ لوگ ان کی تلاش میں پیچھے آئے ہبار بن اسود ان صاحبزادی تک پہنچ گیا اور وہ مسلسل ان کے اونٹ کو نیزہ مارتا رہا ، یہاں تک کہ اس نے اس اونٹ کو گرا دیا سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کا حمل ضائع ہو گیا اور ان کا خون بہنے لگا پھر انہیں سواری پر سوار کیا گیا ان کے بارے میں بنو ہاشم اور بنو امیہ کے درمیان اختلاف ہو گیا بنو امیہ کا یہ کہنا تھا کہ ہم اس خاتون کے زیادہ حق دار ہیں اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ خاتون بنو امیہ سے تعلق رکھنے والے سیدنا ابوالعاص رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں وہ خاتون ہند بنت عتبہ بن ربیعہ کے پاس رہیں ہند نے اس خاتون سے کہا: یہ سب تمہارے والد کی وجہ سے ہوا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے کہا: تم جا کر زینب رضی اللہ عنہا کو لے نہیں آتے ؟ انہوں نے عرض کی ٹھیک ہے یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم یہ انگوٹھی لو اور یہ انگوٹھی اسے دے دینا سیدنا زید رضی اللہ عنہ چلے گئے ان کی ملاقات ایک چرواہے سے ہوئی انہوں نے دریافت کیا : تم کس کے جانور چراتے ہو اس نے جواب دیا : ابوالعاص کے سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : یہ بکریاں کس کی ہیں ، اس نے جواب دیا : زینب بنت محمد کی ، سیدنا زید رضی اللہ عنہ اس کے ساتھ کچھ دیر چلتے رہے پھر انہوں نے فرمایا : اگر میں تمہیں کوئی چیز دوں تو وہ تم سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو دے دو گے تم اس کا تذکرہ کسی سے نہ کرنا ، اس نے کہا: ٹھیک ہے ، تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے اس چرواہے کو وہ انگوٹھی دے دی وہ چرواہا گیا اس نے بکریاں اندر داخل کیں اور وہ انگوٹھی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو دے دی ، سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے وہ انگوٹھی پہچان لی تو انہوں نے دریافت کیا : تمہیں یہ کس نے دی ہے ، اس چرواہے نے بتایا : ایک شخص نے دی ہے ، سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا : تم نے اسے کہاں چھوڑا ہے ، اس نے بتایا فلاں فلاں جگہ پر ، سیدہ زینب رضی اللہ عنہا خاموش ہو گئیں جب رات ہوئی تو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نکل کر سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئیں جب سیدہ زینب رضی اللہ عنہا ان کے پاس آئیں تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ آگے سوار ہوں تو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے کہا: جی نہیں بلکہ تم آگے بیٹھو ، سیدنا زید رضی اللہ عنہ سوار ہوئے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا پیچھے بیٹھ گئیں یہاں تک کہ وہ ( مدینہ منورہ ) آ گئیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہ بیٹیوں میں سب سے بہتر ہے ، جسے میری وجہ سے تکلیف کا سامنا کرنا پڑا ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : اس بات کی اطلاع امام زین العابدین کو ملی تو وہ عروہ کے پاس گئے اور بولے : وہ حدیث کیا ہے جو تمہارے حوالے سے مجھ تک پہنچی ہے کہ تم اسے بیان کرتے ہوئے اور تم سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے حق کو کم کرنا چاہتے ہو ؟ عروہ نے کہا: اللہ کی قسم ! مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ مشرق اور مغرب کے درمیان جو کچھ بھی موجود ہے وہ مجھے مل جائے اور اس کے بدلے میں ، میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے حق میں سے کسی چیز میں کمی کروں ، تاہم آج کے بعد میں یہ حدیث کبھی بیان نہیں کروں گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور معجم اوسط میں اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے یہ روایت امام بزار نے بھی نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور معجم اوسط میں اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے یہ روایت امام بزار نے بھی نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15232
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اسْتَأْذَنَتْ أَبَا الْعَاصِ بْنَ الرَّبِيعِ زَوْجَهَا حِينَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُهَاجِرًا أَنْ تَذْهَبَ إِلَيْهِ ، فَأَذِنَ لَهَا ، فَقَدِمَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ إِنَّ أَبَا الْعَاصِ لَحِقَهَا بِالْمَدِينَةِ ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا : أَنْ خُذِي لِي مِنْ أَبِيكِ أَمَانًا ، فَأَطْلَعَتْ رَأْسَهَا مِنْ بَابِ حُجْرَتِهَا وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي بِالنَّاسِ الصُّبْحَ ، فَقَالَتْ : أَيُّهَا النَّاسُ ، أَنَا زَيْنَبُ ، وَإِنِّي قَدْ أَجَرْتُ أَبَا الْعَاصِ بْنَ الرَّبِيعِ ، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الصَّلَاةِ قَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنِّي لَا عِلْمَ لِي بِهَذَا حَتَّى سَمِعْتُهُ الْآنَ ، وَإِنَّهُ يُجِيرُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر ابوالعاص بن ربیع سے اجازت مانگی ، یہ اس وقت کی بات ہے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے تشریف لے جا چکے تھے ۔ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے یہ اجازت مانگی کہ وہ بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلی جائیں ، تو ان کے شوہر نے انہیں اجازت دے دی ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئیں پھر سیدنا ابوالعاص رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں اس خاتون کے پاس آئے اور انہیں یہ پیغام بھیجا کہ آپ اپنے والد سے میرے لئے امان حاصل کریں ، سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے اپنے حجرے کے دروازے سے سر باہر نکالا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت لوگوں کو صبح کی نماز پڑھا رہے تھے ، سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے کہا: اے لوگو ! میں زینب ہوں اور میں نے ابوالعاص بن ربیع کو پناہ دے دی ہے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو آپ نے ارشاد فرمایا : اے لوگو ! مجھے اس بارے میں علم نہیں تھا میں نے بھی ابھی یہ بات سنی ہے اور مسلمانوں کی طرف سے کوئی بھی شخص پناہ دے سکتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 15233
وَعَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ : كَانَ فِي الْأُسَارَى يَوْمَ بَدْرٍ أَبُو الْعَاصِ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ خَتَنُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - زَوْجَ ابْنَتِهِ ، وَكَانَ أَبُو الْعَاصِ مِنْ رِجَالِ مَكَّةَ الْمَعْدُودِينَ مَالًا وَأَمَانَةً ، وَكَانَ لِهَالَةَ بِنْتِ خُوَيْلِدٍ [ وَكَانَتْ ] خَدِيجَةُ خَالَتُهُ ، فَسَأَلَتْ خَدِيجَةُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يُزَوِّجَهُ زَيْنَبَ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يُخَالِفُهَا ، وَكَانَ قَبْلَ أَنْ يُنْزَلَ عَلَيْهِ ، وَكَانَتْ تَعُدُّهُ بِمَنْزِلَةِ وَلَدِهَا ، فَلَمَّا أَكْرَمَ اللَّهُ نَبِيَّهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالنُّبُوَّةِ ، وَآمَنَتْ بِهِ خَدِيجَةُ وَبَنَاتُهُ ، وَصَدَّقْنَهُ وَشَهِدْنَ أَنَّ مَا جَاءَ بِهِ هُوَ الْحَقُّ وَدِنَّ بِدِينِهِ ، وَثَبَتَ أَبُو الْعَاصِ عَلَى شِرْكِهِ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ زَوَّجَ عُتْبَةَ بْنَ أَبِي لَهَبٍ إِحْدَى ابْنَتَيْهِ : رُقَيَّةَ أَوْ أُمَّ كُلْثُومٍ ، فَلَمَّا بَادَئَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قُرَيْشًا بِأَمْرِ اللَّهِ وَبَادَوْهُ ، قَالَ : " إِنَّكُمْ قَدْ فَرَّغْتُمْ مُحَمَّدًا مِنْ هَمِّهِ ، فَرَدُّوا عَلَيْهِ بَنَاتِهِ فَاشْغَلُوهُ بِهِنَّ " . فَمَشَوْا إِلَى أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ ، فَقَالُوا : فَارِقْ صَاحِبَتَكَ ، وَنَحْنُ نُزَوِّجُكَ أَيَّ امْرَأَةٍ شِئْتَ . فَقَالَ : لَا هَاءَ اللَّهِ ، إِذًا لَا أُفَارِقُ صَاحِبَتِي ، وَمَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِامْرَأَتِي امْرَأَةً مِنْ قُرَيْشٍ . فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُثْنِي عَلَيْهِ فِي صِهْرِهِ خَيْرًا - فِيمَا بَلَغَنِي - . فَمَشَوْا إِلَى الْفَاسِقِ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي لَهَبٍ ، فَقَالُوا : طَلِّقِ امْرَأَتَكَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ ، وَنَحْنُ نُزَوِّجُكَ أَيَّ امْرَأَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ ، فَقَالَ : إِنْ زَوَّجْتُمُونِي بِنْتَ أَبَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ [ أَوْ بِنْتَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ فَارَقْتُهَا ] فَزَوَّجَهُ بِنْتَ سَعِيدِ [ بْنِ الْعَاصِ ] . فَفَارَقَهَا ، وَلَمْ يَكُنْ عَدُوُّ اللَّهِ دَخَلَ بِهَا ، فَأَخْرَجَهَا اللَّهُ مِنْ يَدِهِ ; كَرَامَةً لَهَا وَهَوَانًا لَهُ ، وَخَلَفَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ عَلَيْهَا بَعْدَهُ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَحِلُّ بِمَكَّةَ وَلَا يُحْرِمُ مَغْلُوبًا عَلَى أَمْرِهِ ، وَكَانَ الْإِسْلَامُ قَدْ فَرَّقَ بَيْنَ زَيْنَبَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبَيْنَ أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ ، إِلَّا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ لَا يَقْدِرُ عَلَى أَنْ يُفَرِّقَ بَيْنَهُمَا ، فَأَقَامَتْ مَعَهُ عَلَى إِسْلَامِهَا وَهُوَ عَلَى شِرْكِهِ ، حَتَّى هَاجَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْمَدِينَةِ ، وَهِيَ مُقِيمَةٌ مَعَهُ بِمَكَّةَ ، فَلَمَّا سَارَتْ قُرَيْشٌ إِلَى بَدْرٍ سَارَ مَعَهُمْ أَبُو الْعَاصِ بْنُ الرَّبِيعِ ، فَأُصِيبَ فِي الْأُسَارَى يَوْمَ بَدْرٍ ، وَكَانَ بِالْمَدِينَةِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤
محمد محی الدین
ابن اسحاق بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے قیدیوں میں سیدنا ابوالعاص بن ربیع بن عبدالعزی بن عبدشمس رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد تھے اور آپ کی صاحبزادی کے شوہر تھے سیدنا ابوالعاص رضی اللہ عنہ کا شمار مکہ کے گنے چنے افراد میں ہوتا تھا ، جو مال اور امانت کے اعتبار سے نمایاں حیثیت کے مالک تھے وہ سیدہ ہالہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا کے صاحبزادے تھے اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا ان کی خالہ تھیں ، سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ دریافت کیا تھا کہ وہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی شادی ان کے ساتھ کروا دیں ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے اختلاف نہیں کیا تھا یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہونے سے پہلے کی بات ہے ، سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا ان صاحبزادے کو اپنی اولاد کی طرح سمجھتی تھیں جب اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت سے سرفراز کیا اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا اور آپ کی صاحبزادیاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئیں اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کر دی اور اس بات کی گواہی دی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جو چیز لے کے آئے ہیں وہ حق ہے ، اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دین اختیار کیا تو ابوالعاص اپنے شرک پر ثابت قدم رہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک صاحبزادی سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا یا شاید ام کلثوم رضی اللہ عنہا کی شادی عقبہ بن ابولہب کے ساتھ کی تھی جب اللہ تعالیٰ کے معاملے میں قریش اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان اختلافات ہوئے تو کسی نے کہا: تم لوگوں نے ( سیدنا ) محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو پریشانی کے حوالے سے فارغ کیا ہوا ہے تم ان کی بیٹیوں کو واپس کر دو تاکہ وہ ان بیٹیوں میں مشغول ہو جائیں ، لوگ ابوالعاص بن ربیع کے پاس گئے اور ان سے کہا: تم اپنی بیوی سے علیحدگی اختیار کرو ، ہم تمہاری شادی جس کے ساتھ تم چاہو گے اس سے کروا دیں گے تو ان صاحب نے کہا: جی نہیں ، یہ نہیں ہو سکتا ، میں اپنی بیوی سے علیحدگی اختیار نہیں کروں گا اگرچہ مجھے اپنی بیوی کے عوض میں قریش سے تعلق رکھنے والی کوئی بھی عورت مل جائے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس حوالے سے ان کے داماد ہونے کے طور پر ان کی بھلائی کی تعریف کیا کرتے تھے ، لوگ فاسق عتبہ بن ابولہب کے پاس گئے اور یہ کہا: کہ تم سیدنا محمد کی صاحبزادی کو طلاق دے دو ہم تمہاری شادی قریش کی جس عورت سے تم چاہو گے اس سے کروا دیں گے ، اس نے کہا: اگر تم لوگ میری شادی ابان بن سعید بن العاص کی صاحبزادی سے کروا دو ۔ راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ، سعید بن العاص کی صاحبزادی سے کروا دو تو ٹھیک ہے ، پھر اس نے اپنی اہلیہ سے علیحدگی اختیار کی ، ان لوگوں نے اس کی شادی سعید بن العاص کی بیٹی سے کروا دی لیکن اللہ کا وہ دشمن اس عورت کی رخصتی نہیں کروا سکا اور اللہ تعالیٰ نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے جو عزت حاصل تھی اس سے بھی نکال دیا اور اسے رسوائی کا شکار کر دیا اس کے بعد سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اس صاحبزادی کے ساتھ شادی کی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ملکہ میں تبلیغی سرگرمیوں میں مصروف تھے ، اسلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا اور ان کے شوہر سیدنا ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ کے درمیان علیحدگی کروا دی تھی ، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ابھی ان دونوں کو باقاعدہ علیحدگی نہیں کروا سکے تھے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا اسلام قبول کرنے کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہی تھیں اور ان کے شوہر مشرک رہے تھے یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی تو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا مکہ میں اپنے شوہر کے پاس رہیں جب قریش بدر کی طرف گئے تو ان میں ابوالعاص بن ربیع بھی تھے بعد میں وہ بدر کے قیدیوں میں شامل ہوئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدینہ منورہ آئے ۔
حدیث نمبر: 15234
قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ : فَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِيهِ عَبَّادٍ : عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ : لَمَّا بَعَثَ أَهْلُ مَكَّةَ فِي فِدَاءِ أَسْرَاهُمْ ، بَعَثَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي فِدَاءِ أَبِي الْعَاصِ ، وَبَعَثَتْ فِيهِ بِقِلَادَةٍ [ لَهَا ] كَانَتْ خَدِيجَةُ أَدْخَلَتْهَا بِهَا عَلَى أَبِي الْعَاصِ حِينَ بَنَى عَلَيْهَا ، فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَقَّ لَهَا رِقَّةً شَدِيدَةً ، وَقَالَ : " إِنْ رَأَيْتُمْ أَنْ تُطْلِقُوا لَهَا أَسِيرَهَا وَتَرُدُّوا عَلَيْهَا مَالَهَا فَافْعَلُوا " . فَقَالُوا : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَطْلَقُوهُ وَرَدُّوا عَلَيْهَا الَّذِي لَهَا . قَالَ : وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ أَخَذَ عَلَيْهِ ، وَوَعَدَهُ ذَلِكَ أَنْ يُخَلِّيَ سَبِيلَ زَيْنَبَ إِلَيْهِ ، إِذْ كَانَ فِيمَا شَرَطَ عَلَيْهِ فِي إِطْلَاقِهِ ، وَلَمْ يَظْهَرْ ذَلِكَ مِنْهُ وَلَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيُعْلَمُ ، إِلَّا أَنَّهُ لَمَّا خَرَجَ أَبُو الْعَاصِ إِلَى مَكَّةَ وَخَلَّى سَبِيلَهُ ، بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ وَرَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَقَالَ : " كُونَا بِبَطْنِ يَأْجَجَ حَتَّى تَمُرَّ بِكُمَا زَيْنَبُ ، فَتَصْحَبَانِهَا ، فَتَأْتِيَانِي بِهَا [ فَخَرَجَا مَكَانَهُمَا وَذَلِكَ بَعْدَ بَدْرٍ بِشَهْرٍ أَوْ شِبْهِهِ ] " . فَلَمَّا قَدِمَ أَبُو الْعَاصِ مَكَّةَ أَمَرَهَا بِاللُّحُوقِ بِأَبِيهَا ، فَخَرَجَتْ جَهْرَةً . ¤
محمد محی الدین
ابن اسحاق بیان کرتے ہیں : یحیی بن عباد بن عبداللہ بن زبیر نے اپنے والد عباد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کیا ہے : ” جب اہل مکہ نے اپنے قیدیوں کا فدیہ بھجوایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر ابوالعاص کا فدیہ بھیجوایا انہوں نے اس فدیہ میں ایک ہار بھی بھجوایا جو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ان کی رخصتی کے وقت انہیں دیا تھا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ ہار ملاحظہ کیا تو آپ پر شدید رقت طاری ہو گئی آپ نے فرمایا : اگر تم لوگ مناسب سمجھو تو زینب کے قیدی کو چھوڑ دو اور اس کا مال اسے واپس کر دو ، لوگوں نے عرض کی ٹھیک ہے یا رسول اللہ ! تو لوگوں نے انہیں چھوڑ دیا اور سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کا مال واپس بھجوا دیا جو ان کا تھا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوالعاص رضی اللہ عنہ سے یہ عہد لیا اور ان سے یہ وعدہ لیا کہ وہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے دیں گے یہ شرط ان کو چھوڑنے کے وقت عائد کی گئی تھی لیکن یہ شرط نہ ان کی طرف سے ظاہر کی گئی نہ اللہ کے رسول کی طرف سے ظاہر کی گئی تاکہ لوگوں کو اس کا پتہ چلتا جب سیدنا ابوالعاص رضی اللہ عنہ وہاں سے نکل کر مکہ گئے اور انہیں چھوڑ دیا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو اور انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو بھیجا اور آپ نے فرمایا کہ تم دونوں بطن یا جج کے مقام پر رہنا زینب تمہارے پاس سے گزرے گی تم دونوں اس کے ساتھ رہنا اور اسے لے کر آ جانا یہ دونوں حضرات نکل کر اس جگہ گئے یہ غزوہ بدر سے ایک ماہ بعد یا اس کے آس پاس کی بات ہے پھر سیدنا ابوالعاص رضی اللہ عنہ جب مکہ آئے تو انہوں نے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو یہ ہدایت کی کہ وہ اپنے والد کے پاس چلی جائیں تو وہ کھلے عام وہاں سے نکلی تھیں ۔
حدیث نمبر: 15235
قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ : حُدِّثْتُ عَنْ زَيْنَبَ أَنَّهَا قَالَتْ : بَيْنَمَا أَنَا أَتَجَهَّزُ بِمَكَّةَ لِلُّحُوقِ بِأَبِي لَقِيَتْنِي هِنْدُ بِنْتُ عُتْبَةَ ، فَقَالَتْ : يَا بِنْتَ عَمِّي ، إِنْ كَانَتْ لَكِ حَاجَةً بِمَتَاعٍ مِمَّا يَرْفُقُ بِكِ فِي سَفَرِكِ ، أَوْ مَا تَبْلُغِينَ بِهِ إِلَى أَبِيكِ [ فَإِنَّ عِنْدِي فِي حَاجَتِكِ ] ، فَلَا تَضْطَنِّي مِنْهُ ; فَإِنَّهُ لَا يَدْخُلُ بَيْنَ النِّسَاءِ مَا [ يَدْخُلُ ] بَيْنَ الرِّجَالِ . قَالَتْ : وَوَاللَّهِ مَا أَرَاهَا قَالَتْ ذَلِكَ إِلَّا لِتَفْعَلَ ، وَلَكِنِّي خِفْتُهَا ، فَأَنْكَرْتُ أَنْ أَكُونَ أُرِيدُ ذَلِكَ ، فَتَجَهَّزْتُ ، فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْ جِهَازِي قَدَّمَ إِلَيَّ حَمَوَيَّ كِنَانَةُ بْنُ الرَّبِيعِ أَخُو زَوْجِي بَعِيرًا فَرَكِبْتُهُ ، وَأَخَذَ قَوْسَهُ وَكِنَانَتَهُ ، ثُمَّ خَرَجَ بِهَا نَهَارًا يَقُودُ بِهَا ، وَهِيَ فِي هَوْدَجِهَا ، وَتَحَدَّثَتْ بِذَلِكَ رِجَالُ قُرَيْشٍ ، فَخَرَجُوا فِي طَلَبِهَا حَتَّى أَدْرَكُوهَا بِذِي طُوًى ، وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ سَبَقَ إِلَيْهَا هَبَّارُ بْنُ الْأَسْوَدِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قُصَيٍّ ، وَنَافِعُ بْنُ عَبْدِ الْقَيْسِ الزُّهْرِيُّ ، فَرَوَّعَهَا هَبَّارٌ [ بِقَيْنَةِ بَنِي أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ نَافِعٍ الَّذِي بِإِفْرِيقِيَّةَ ] فَرَوَّعَهَا هَبَّارٌ [ بِالرُّمْحِ ] وَهِيَ فِي هَوْدَجِهَا ، وَكَانَتْ حَامِلًا - فِيمَا يَزْعُمُونَ - فَلَمَّا وَقَعَتْ أَلْقَتْ مَا فِي بَطْنِهَا ، فَنَزَلَ حَمُوهَا وَنَثَرَ كِنَانَتُهُ ، وَقَالَ : وَاللَّهِ لَا يَدْنُو مِنِّي رَجُلٌ إِلَّا وَضَعْتُ فِيهِ سَهْمًا ، فَتَكَرْكَرَ النَّاسُ عَنْهُ ، وَجَاءَ أَبُو سُفْيَانَ فِي جُلَّةٍ مِنْ قُرَيْشٍ ، فَقَالَ : أَيُّهَا الرَّجُلُ ، كُفَّ عَنَّا نَبْلَكَ حَتَّى نُكَلِّمَكَ ، فَكَفَّ ، وَأَقْبَلَ أَبُو سُفْيَانَ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : إِنَّكَ لَمْ تُصِبْ ، خَرَجْتَ بِامْرَأَةٍ عَلَى رُءُوسِ النَّاسِ نَهَارًا ، وَقَدْ عَلِمْتَ مُصِيبَتَنَا وَنَكْبَتَنَا ، وَمَا دَخَلَ عَلَيْنَا مِنْ مُحَمَّدٍ ، فَيَظُنُّ النَّاسُ إِذَا خَرَجَتْ إِلَيْهِ ابْنَتُهُ عَلَانِيَةً مِنْ بَيْنِ ظَهْرَانِينَا أَنَّ ذَلِكَ مِنْ ذُلٍّ أَصَابَنَا عَنْ مُصِيبَتِنَا الَّتِي كَانَتْ ، وَأَنَّ ذَلِكَ مِنَّا ضَعْفٌ وَوَهْنٌ ، وَإِنَّهُ لَعَمْرِي مَا لَنَا فِي حَبْسِهَا عَنْ أَبِيهَا حَاجَةً ، وَلَكِنْ أَرْجِعِ الْمَرْأَةَ حَتَّى إِذَا هَدَأَ الصَّوْتُ وَتَحَدَّثَ النَّاسُ أَنَّا قَدْ رَدَدْنَاهَا ، فَسَلِّهَا سِرًّا وَأَلْحِقْهَا بِأَبِيهَا . قَالَ : فَفَعَلَ ، وَأَقَامَتْ لَيَالِيَ حَتَّى إِذَا هَدَأَ النَّاسُ ، خَرَجَ بِهَا لَيْلًا فَأَسْلَمَهَا إِلَى زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ وَصَاحِبِهِ ، فَقَدِمَا بِهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَقَامَ أَبُو الْعَاصِ بِمَكَّةَ ، وَكَانَتْ زَيْنَبُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ فَرَّقَ الْإِسْلَامُ بَيْنَهُمَا ، حَتَّى إِذَا كَانَ قُبَيْلَ الْفَتْحِ خَرَجَ أَبُو الْعَاصِ تَاجِرًا إِلَى الشَّامِ ، وَكَانَ رَجُلًا مَأْمُونًا بِأَمْوَالٍ لَهُ ، وَأَمْوَالٍ لِرِجَالٍ مِنْ قُرَيْشٍ أَبَضَعُوهَا مَعَهُ ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ تِجَارَتِهِ أَقْبَلَ قَافِلًا ، فَلَقِيَتْهُ سَرِيَّةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَصَابُوا مَا مَعَهُ ، وَأَعْجَزَهُمْ هَارِبًا ، فَلَمَّا قَدِمَتِ السَّرِيَّةُ بِمَا أَصَابُوا مِنْ مَالِهِ أَقْبَلَ أَبُو الْعَاصِ بْنُ الرَّبِيعِ تَحْتَ اللَّيْلِ ، حَتَّى دَخَلَ عَلَى زَيْنَبَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاسْتَجَارَهَا فَأَجَارَتْهُ ، وَجَاءَ فِي طَلَبِ مَالِهِ . ¤ فَلَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى صَلَاةِ الصُّبْحِ - كَمَا حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ رُومَانَ - فَكَبَّرَ وَكَبَّرَ النَّاسُ ، خَرَجَتْ زَيْنَبُ مِنْ صُفَّةِ النِّسَاءِ ، وَقَالَتْ : أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنِّي قَدْ أَجَرْتُ أَبَا الْعَاصِ بْنَ الرَّبِيعِ . فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الصَّلَاةِ ، أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ ، فَقَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، أَسْمِعْتُمْ ؟ " . قَالُوا : نَعَمْ . قَالَ : " أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا عَلِمْتُ بِشَيْءٍ كَانَ حَتَّى سَمِعْتُهُ ، إِنَّهُ لَيُجِيرُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ أَدْنَاهُمْ " . ثُمَّ انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى دَخَلَ عَلَى ابْنَتِهِ ، فَقَالَ : " يَا بُنَيَّةُ ، أَكْرِمِي مَثْوَاهُ ، وَلَا يَخْلُصُ إِلَيْكِ ، فَإِنَّكِ لَا تَحِلِّينَ لَهُ " . ¤
محمد محی الدین
ابن اسحاق بیان کرتے ہیں : عبداللہ بن ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم نے یہ بات بتائی ہے کہ مجھے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے حوالے سے یہ بات بتائی گئی ہے : وہ فرماتی ہیں : میں مکہ میں اپنے والد سے ملنے جانے کے لئے تیاری کر رہی تھی میری ملاقات ہند بنت عتبہ سے ہوئی اس نے کہا: اے میری چچا زاد اگر تمہیں سفر میں کسی سامان کی ضرورت ہو جس کے ذریعے تم اپنے والد تک پہنچ سکو تو تم مجھ سے اس بارے میں کوئی جھجک نہ کرنا کیونکہ خواتین کے درمیان آپس میں وہ اختلافات نہیں ہوتے جو مردوں کے درمیان ہوتے ہیں ۔ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : اللہ کی قسم ! اس کے بارے میں میرا یہی خیال ہے کہ اس نے جو بات کہی تھی وہ اس نے پوری کرنی تھی لیکن مجھے اس کے حوالے سے اندیشہ بھی تھا تو میں نے انکار کر دیا کہ میں ایسا کرنا چاہتی ہوں پھر میں نے سامان سفر تیار کیا جب میں تیاری کر کے فارغ ہو گئی تو میرا دیور کنانہ بن ربیع جو میرے شوہر کا بھائی ہے وہ میرے پاس اونٹ لے کے آیا میں اس پر سوار ہوئی اس نے کمان اور اپنے ترکش کو لیا پھر وہ مجھے لے کر دن کے وقت نکلا وہ اس جانور کو ہانک کر لے جا رہا تھا سیدہ زینب رضی اللہ عنہا اپنے ہودج میں موجود تھیں ۔ قریش سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد کو اس بارے میں پتہ چلا تو وہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی تلاش میں نکلے یہاں تک کہ ذی طوی کے مقام پر ان تک پہنچ گئے ان میں سے ہبار بن اسود بن مطلب بن اسد بن عبدالعزی بن قصی اور نافع بن عبدالقیس زہری پہلے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا تک پہنچ گئے سیدہ زینب بیٹھنا کے اونٹ کو ہبار نے نیزے کے ذریعے ڈرایا سیدہ زینب رضی اللہ عنہا ہودج میں سوار تھیں وہ حاملہ تھیں لوگوں کا یہ کہنا ہے جب وہ اس سے گریں تو ان کا حمل ضائع ہو گیا ان کا دیور سواری سے نیچے اترا ، اس نے ترکش میں تیر لگایا اور بولا: اللہ کی قسم جو بھی شخص قریب آنے کی کوشش کرے گا میں اسے تیر مار دوں گا ، لوگ اس سے پیچھے ہٹ گئے پھر ابوسفیان قریش کے اکابرین کے ہمراہ آیا اور بولا: اے شخص اپنے تیروں کو ہم سے روک لو ، ہم پہلے تمہارے ساتھ بات چیت کرتے ہیں ، اس نے ہاتھ روک لیا ، ابوسفیان آگے آیا ، وہ بھی آگے آیا ، ابوسفیان نے کہا: تم نے ٹھیک نہیں کیا ، تم اس خاتون کو لوگوں کے سامنے دن دہاڑے لے کر جا رہے ہو ، تم ہماری مصیبت اور پریشانی سے بھی واقف ہو جو سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی طرف سے ہم پر داخل ہوئی ہے جب تم ان کی صاحبزادی کو کھلے عام ہمارے درمیان سے لے کر ان کے پاس جاؤ گے تو لوگ یہ سمجھیں گے کہ ہمیں جو مصیبت لاحق تھی اس کی وجہ سے اس ذلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ، اور اس سے ہماری کمزوری ظاہر ہو گی مجھے اپنی زندگی کی قسم ہے ہمیں اس بارے میں کوئی ضرورت نہیں ہے کہ ہم اس خاتون کو اس کے والد کے پاس جانے سے روکیں ، لیکن تم اس خاتون کو واپس لے جاؤ ، جب آوازیں آنا بند ہو جائیں گی ( یعنی لوگ سو جائیں گے ) اور لوگ یہ بات چیت کریں گے کہ ہم اس خاتون کو واپس لے آئے تھے تو تم پوشیدہ طور پر اس خاتون کو لے جانا اور اس کے والد تک پہنچا دینا ، تو ان صاحب نے ایسا ہی کیا ۔ کچھ دن گزرنے کے بعد جب لوگ پرسکون ہو گئے تو وہ اس خاتون کو رات کے وقت لے کے نکلے اور انہوں نے اس خاتون کو سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہا اور ان کے ساتھی کے سپرد کیا ، پھر وہ دونوں اس خاتون کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئے اس دوران سیدنا ابوالعاص رضی اللہ عنہ مکہ میں مقیم رہے اور سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رہیں ، اسلام نے ان دونوں کے درمیان علیحدگی کروا دی تھی ، یہاں تک کہ فتح سے کچھ پہلے سیدنا ابوالعاص رضی اللہ عنہ شام کی طرف تجارت کا سامان لے کے نکلے ان کے پاس لوگوں کے کچھ اموال بھی تھے ، جس کا انہیں امین بنایا گیا تھا اور قریش سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں کے اموال تھے جو ان لوگوں نے سیدنا ابوالعاص رضی اللہ عنہ کو دیے تھے ، جب سیدنا ابوالعاص رضی اللہ عنہ تجارت کر کے فارغ ہوئے اور وہ واپس آ رہے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک جنگی مہم سے ان کا سامنا ہوا ، ان لوگوں نے ان کے پاس موجود سامان کو لے لیا ، جب وہ مہم حاصل کیے ہوئے مال کے ساتھ مدینہ منورہ آئی تو سیدنا ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ بھی رات کے وقت مدینہ منورہ آ گئے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور ان سے پناہ لی ، تو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے انہیں پناہ دے دی ، وہ صاحب اپنے مال کو حاصل کرنے کے لئے آئے تھے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز ادا کرنے کے لئے نکلے جیسا کہ یزید بن رمان نے یہ بات بیان کی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی تو لوگوں نے بھی تکبیر کہی ، اسی دوران سیدہ زینب رضی اللہ عنہا خواتین کی صف سے باہر نکلیں اور بولیں : اے لوگو ! میں نے ابوالعاص بن ربیع کو پناہ دے دی ہے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے بعد سلام پھیرا تو آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور بولے : اے لوگو ! کیا تم نے سنا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ! مجھے کسی چیز کا علم نہیں تھا ، یہاں تک کہ میں نے اب یہ بات سنی ہے ، مسلمانوں میں سے کوئی بھی فرد ان کی طرف سے پناہ دے سکتا ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی اور آپ اپنی صاحبزادی کے پاس تشریف لائے آپ نے فرمایا : اے میری بیٹی ! تم اس کی اچھی طرح دیکھ بھال کرنا لیکن وہ تمہارے قریب نہ آنے پائے ، کیونکہ تم اس کے لئے حلال نہیں ہو ۔
حدیث نمبر: 15236
قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ : وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَ إِلَى السَّرِيَّةِ الَّذِينَ أَصَابُوا مَالَ أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ : " إِنَّ هَذَا الرَّجُلَ مِنَّا قَدْ عَلِمْتُمْ [ وَقَدْ ] ، أَصَبْتُمْ لَهُ مَالًا ، فَإِنْ تُحْسِنُوا وَتَرُدُّوا عَلَيْهِ الَّذِي لَهُ ؛ فَإِنَّا نُحِبُّ ذَلِكَ ، وَإِنْ أَبَيْتُمْ فَهُوَ فَيْءُ اللَّهِ الَّذِي أَفَاءَهُ عَلَيْكُمْ ; فَأَنْتُمْ أَحَقُّ بِهِ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ نَرُدُّهُ ، فَرَدُّوا عَلَيْهِ مَالَهُ ، حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ يَأْتِي الرَّجُلُ بِالشَّنَّةِ وَالْإِدَاوَةِ ، حَتَّى إِنَّ أَحَدَهُمْ لَيَأْتِي بِالشِّظَاظِ ، حَتَّى إِذَا رَدُّوا عَلَيْهِ مَالَهُ بِأَسْرِهِ لَا يَفْقِدُ مِنْهُ شَيْئًا احْتَمَلَ إِلَى مَكَّةَ ، فَرَدَّ إِلَى كُلِّ ذِي مَالٍ مِنْ قُرَيْشٍ مَالَهُ مِمَّنْ كَانَ أَبْضَعَ مَعَهُ ، ثُمَّ قَالَ : يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ ، هَلْ بَقِيَ لِأَحَدٍ مِنْكُمْ عِنْدِي مَالٌ لَمْ يَأْخُذْهُ ؟ قَالُوا : لَا ، وَجَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا ; فَقَدْ وَجَدْنَاكَ عَفِيفًا كَرِيمًا ، قَالَ : فَإِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، وَاللَّهِ مَا مَنَعَنِي مِنَ الْإِسْلَامِ عِنْدَهُ إِلَّا تُخَوُّفُ أَنْ تَظُنُّوا أَنِّي إِنَّمَا أَرَدْتُ أَنْ آكُلَ أَمْوَالَكُمْ ، فَأَمَّا إِذْ أَدَّاهَا اللَّهُ إِلَيْكُمْ وَفَرَغْتُ مِنْهَا أَسْلَمْتُ . وَخَرَجَ حَتَّى قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ . ¤
محمد محی الدین
ابن اسحاق بیان کرتے ہیں : عبداللہ بن ابوبکر نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنگی مہم بھیجی جس نے سیدنا ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ کا مال حاصل کر لیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ شخص ہم میں سے ہے ، تم یہ بات جانتے ہو ، تم نے اس کا مال حاصل کیا ہے ، اگر تم اچھائی کرو اور اس کا مال اسے دے دو تو ہمیں یہ بات پسند ہو گی اور اگر تم یہ نہیں مانتے تو یہ اللہ تعالیٰ کا یہ مال فے ہو گا جو اس نے تمہیں فے کے طور پر عطا کیا ہے ، اور تم لوگ اس کے زیادہ حق دار ہو گے ، لوگوں نے عرض کی یا رسول اللہ ! ہم اسے واپس کر دیتے ہیں ، تو لوگوں نے ان کا مال انہیں واپس کر دیا یہاں تک کہ کوئی شخص پرانا مشکیزہ لے کے آیا ، کوئی برتن لے کے آیا ، یہاں تک کہ ان میں سے ایک شخص تو ” شظاظ“ ( نامی لکڑی ) بھی لے آیا یہاں تک کہ انہوں نے ان کا پورا مال انہیں واپس کر دیا ، اس میں کوئی بھی چیز کم نہیں تھی ، وہ اس سارے مال کو اٹھا کے مکہ گئے اور قریش سے تعلق رکھنے والے ہر شخص کا مال اسے واپس کیا ، جس نے بھی انہیں سامان دیا تھا ، پھر انہوں نے فرمایا : اے قریش کے گروہ ! کیا تم میں سے کسی ایک کا میرے پاس کچھ مال باقی رہ گیا ہے جو اس نے وصول نہ کیا ہو ؟ لوگوں نے کہا: جی نہیں ! اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا کرے ، ہم نے آپ کو پاک دامن اور معزز شخص پایا ہے ، تو سیدنا ابوالعاص رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اسلام قبول کرنے سے مجھے صرف اس بات نے روکے رکھا تھا کہ مجھے یہ اندیشہ تھا کہ کہیں تم لوگ یہ گمان نہ کرو کہ میں نے تمہارے مال کو ہتھیانے کا ارادہ کر لیا ہے ، اب جب اللہ تعالیٰ نے تمہیں ادائیگی کروا دی ہے ، اور میں اس حوالے سے فارغ ہو گیا ہوں تو میں اسلام قبول کرتا ہوں ، پھر وہ وہاں سے نکلے ، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ۔
حدیث نمبر: 15237
وَعَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ : أَنَّ رَجُلًا أَقْبَلَ بِزَيْنَبَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَحِقَهُ رَجُلَانِ مِنْ قُرَيْشٍ ، فَقَاتَلَاهُ حَتَّى غَلَبَاهُ عَلَيْهَا ، فَدَفَعَاهَا فَوَقَعَتْ عَلَى صَخْرَةٍ ، فَأَسْقَطَتْ وَهُرِيقَتْ دَمًا ، فَذَهَبُوا بِهَا إِلَى أَبِي سُفْيَانَ ، فَجَاءَتْهُ نِسَاءُ بَنِي هَاشِمٍ فَدَفَعَهَا إِلَيْهِنَّ ، ثُمَّ جَاءَتْ بَعْدَ ذَلِكَ مُهَاجِرَةً ، فَلَمْ تَزَلْ وَجِعَةً حَتَّى مَاتَتْ مِنْ ذَلِكَ الْوَجَعِ ، فَكَانُوا يَرَوْنَ أَنَّهَا شَهِيدَةٌ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَهُوَ مُرْسَلٌ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو لے کے آ رہا تھا ، قریش سے تعلق رکھنے والے دو افراد پہنچے ۔ ان دونوں نے اس شخص کے ساتھ لڑائی کی یہاں تک کہ وہ اس شخص پر غالب آ گئے ، ان دونوں نے اس خاتون کو دھکا دیا وہ خاتون ایک پتھر پر گریں اور ان کا حمل ضائع ہو گیا اور خون بہنے لگا وہ لوگ انہیں ساتھ لے کر ابوسفیان کے پاس چلے لے گئے بنو ہاشم کی خواتین ابوسفیان کے پاس آئیں تو اس نے اس خاتون کو ان خواتین کے حوالے کر دیا پھر اس کے بعد سیدہ زینب رضی اللہ عنہا ہجرت کر کے گئیں تھیں وہ اسی تکلیف میں مسلسل مبتلاء رہیں یہاں تک کہ اسی تکلیف کی وجہ سے ان کا انتقال ہوا ، لوگ یہ سمجھتے تھے وہ شہادت کے مرتبے پر فائز ہوئی ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے
یہ روایت مرسل ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے
یہ روایت مرسل ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔