کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت کا بیان اور ان کی شادی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ہونا
حدیث نمبر: 15206
عَنْ حُجْرِ بْنِ عَنْبَسٍ - وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ الْجَاهِلِيَّةَ - قَالَ : خَطَبَ عَلِيٌّ - رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ - إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاطِمَةَ ، فَقَالَ : " هِيَ لَكَ يَا عَلِيُّ لَسْتُ بِدَجَّالٍ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَقَالَ : مَعْنَى قَوْلِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَسْتُ بِدَجَّالٍ " . يَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ قَدْ كَانَ وَعَدَهُ ، فَقَالَ : إِنِّي لَا أُخْلِفُ الْوَعْدَ . وَحُجْرٌ لَا يُعْلَمُ رَوَى عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا هَذَا الْحَدِيثَ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ حُجْرًا لَمْ يَسْمَعْ مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حجر بن عنبس رضی اللہ عنہ جنہوں نے زمانہ جاہلیت پایا ہے وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لئے شادی کا پیغام دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے علی ! اس کی شادی تمہارے ساتھ ہو گی ، میں فریب کرنے والا شخص نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے وہ یہ کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ، میں فریب کرنے والا شخص نہیں ہوں ، یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ یہ وعدہ کر لیا تھا اور پھر آپ نے فرمایا : میں وعدے کی خلاف ورزی نہیں کروں گا ، حجر نامی راوی کے بارے میں یہ بات معلوم نہیں ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی روایت نقل کی ہو ۔ انہوں نے صرف
یہ روایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کی ہے ۔ اس روایت کے رجال ثقہ ہیں لیکن حجر نامی راوی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سماع نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے وہ یہ کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ، میں فریب کرنے والا شخص نہیں ہوں ، یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ یہ وعدہ کر لیا تھا اور پھر آپ نے فرمایا : میں وعدے کی خلاف ورزی نہیں کروں گا ، حجر نامی راوی کے بارے میں یہ بات معلوم نہیں ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی روایت نقل کی ہو ۔ انہوں نے صرف
یہ روایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کی ہے ۔ اس روایت کے رجال ثقہ ہیں لیکن حجر نامی راوی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 15207
وَعَنْ حُجْرِ بْنِ عَنْبَسٍ أَيْضًا - وَكَانَ قَدْ أَكَلَ الدَّمَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، وَشَهِدَ مَعَ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - الْجَمَلَ وَصِفِّينَ - فَقَالَ : خَطَبَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - فَاطِمَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هِيَ لَكَ يَا عَلِيُّ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حجر بن عنبس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے زمانہ جاہلیت میں خون کھایا ہوا ہے ، اور وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جنگ جمل اور جنگ صفین میں شریک ہوئے ہیں ۔ وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کے لئے پیغام دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے علی ! اس کی شادی تم سے ہو گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 15208
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أُزَوِّجَ فَاطِمَةَ مِنْ عَلِيٍّ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں فاطمہ کی شادی علی سے کروا دوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 15209
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : سَأُحَدِّثُكُمْ بِحَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمْ أَزَلْ أَطْلُبُ الشَّهَادَةَ لِلْحَدِيثِ فَلَمْ أُرْزَقْهَا : سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ يَقُولُ وَنَحْنُ نَسِيرُ مَعَهُ : " إِنَّ اللَّهَ لَمَّا أَمَرَنِي أَنْ أُزَوِّجَ فَاطِمَةَ مِنْ عَلِيٍّ فَفَعَلْتُ قَالَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - : إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى بَنَى جَنَّةً مِنْ لُؤْلُؤَةِ قَصَبٍ ، بَيْنَ كُلِّ قَصَبَةٍ إِلَى قَصَبَةٍ لُؤْلُؤَةٌ مِنْ يَاقُوتَةٍ مُشَذَّرَةٍ بِالذَّهَبِ ، وَجَعَلَ سُقُوفَهَا زَبَرْجَدًا أَخْضَرَ ، وَجَعَلَ فِيهَا طَاقَاتٍ مِنْ لُؤْلُؤَةٍ مُكَلَّلَةٍ بِالْيَوَاقِيتِ ، ثُمَّ جَعَلَ عَلَيْهَا غُرَفًا : لَبِنَةٌ مِنْ فِضَّةٍ ، وَلَبِنَةٌ مِنْ ذَهَبٍ ، وَلَبِنَةٌ مِنْ دُرٍّ ، وَلَبِنَةٌ مِنْ يَاقُوتٍ ، وَلَبِنَةٌ مِنْ زَبَرْجَدٍ ، ثُمَّ جَعَلَ فِيهَا عُيُونًا تَنْبُعُ فِي نَوَاحِيهَا ، وَحُفَّتْ بِالْأَنْهَارِ ، وَجَعَلَ عَلَى الْأَنْهَارِ قِبَابًا مِنْ دُرٍّ قَدْ شُعِّبَتْ بِسَلَاسِلِ الذَّهَبِ ، وَحُفَّتْ بِأَنْوَاعِ الشَّجَرِ ، وَبُنِيَ فِي كُلِّ غُصْنٍ قُبَّةً ، وَجَعَلَ فِي كُلِّ قُبَّةٍ أَرِيكَةً مِنْ دُرَّةٍ بَيْضَاءَ ، غِشَاؤُهَا السُّنْدُسُ وَالْإِسْتَبْرَقُ ، وَفَرَشَ أَرْضَهَا بِالزَّعْفَرَانِ ، وَفَتَقَ بِالْمِسْكِ وَالْعَنْبَرِ ، وَجَعَلَ فِي كُلِّ قُبَّةٍ حَوْرَاءَ ، وَالْقُبَّةُ لَهَا مِائَةُ بَابٍ ، عَلَى كُلِّ بَابٍ حَارِسَانِ وَشَجَرَتَانِ ، فِي كُلِّ قُبَّةٍ مِفْرَشٌ وَكِتَابٌ ، مَكْتُوبٌ حَوْلَ الْقِبَابِ آيَةُ الْكُرْسِيِّ . قُلْتُ لِجِبْرِيلَ : لِمَنْ بَنَى اللَّهُ هَذِهِ الْجَنَّةَ ؟ قَالَ : بَنَاهَا لِفَاطِمَةَ ابْنَتَكَ وَعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، سِوَى جِنَانِهِمَا تُحْفَةٌ أَتْحَفَهُمَا ، وَأَقَرَّ عَيْنَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ النُّورِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمِسْمَعِيُّ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں تم لوگوں کو ایک حدیث بیان کرتا ہوں ، جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہے ، میں اس حدیث کی گواہی مسلسل تلاش کرتا رہا لیکن وہ مجھے نہیں ملی ، غزوہ تبوک کے موقع پر جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے جب مجھے یہ حکم دیا کہ میں فاطمہ کی شادی علی سے کروا دوں تو میں نے ایسا کر دیا ، جبرائیل علیہ السلام نے یہ بتایا : اللہ تعالیٰ نے جنت میں موتیوں کا ایک گھر بنایا ہے ، جس کے ایک موتی سے لے کر دوسرے موتی ایسے ہیں ، جن پر سونا لگا ہوا ہے ، اور اس گھر کی چھت سبز زبرجد سے بنی ہوئی ہے ، اللہ تعالیٰ نے اس میں موتیوں کے بنے ہوئے طاق بنائے ہیں جو یاقوت سے آراستہ ہیں ، اور پھر ان پر بالاخانے بنائے ہیں جن میں ایک اینٹ چاندی کی ہے اور ایک اینٹ سونے کی ہے ، اور ایک اینٹ قیمتی پتھر کی ہے ، ایک اینٹ یاقوت کی ہے ایک اینٹ زبرجد کی ہے ، پھر اللہ تعالیٰ نے اس میں چشمے بنائے ہیں جو اس کے اطراف میں بہتے ہیں ، اور اسے نہروں سے ڈھانپ دیا گیا ہے اس نے اس کی نہروں کے پاس موتیوں سے بنے ہوئے قبے بنائے ہیں ، جن میں سونے کی بنی ہوئی زنجیریں لٹک رہی ہیں ، اور انہیں مختلف قسم کے درختوں سے ڈھانپا گیا ہے ، اس میں ہر شاخ میں ایک قبہ ہے اور ہر قبے میں ایک بستر ہے ، جو سونے کا بنا ہوا ہے ، اس کا بچھونا ، سندس اور استبرق کا ہے اور اس کی زمین زعفران کی ہے جو مشک اور عنبر سے آراستہ ہے اور اس میں سے ہر ایک میں ایک حور موجود ہے ، ہر قبے کے ایک سو دروازے ہیں ، ہر دروازے پر دو پہرے دار ہیں اور دو درخت ہیں اور ہر قبے میں بچھونے ہیں اور ایک تحریر شدہ تحریر ہے ، اس کے اردگرد آیت الکرسی لکھی ہوئی ہے ، میں نے جبرائیل علیہ السلام سے دریافت کیا : اللہ تعالیٰ نے یہ کس کے لئے بنایا ہے ؟ تو اس نے بتایا : یا رسول اللہ ! اس نے آپ کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے لئے اس کو بنایا ہے اور ان کے لیے اس باغ کے علاوہ بھی کچھ تحفے ہیں ، جو اللہ تعالیٰ انہیں عطا کرے گا اور ان کی آنکھوں کو ٹھنڈا کرے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالنور بن عبداللہ مسمعی ہے اور وہ کذاب ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالنور بن عبداللہ مسمعی ہے اور وہ کذاب ہے ۔
حدیث نمبر: 15210
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : جَاءَ أَبُو بَكْرٍ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَعَدَ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ عَلِمْتَ مُنَاصَحَتِي وَقِدَمِي فِي الْإِسْلَامِ ، وَأَنِّي ، وَأَنِّي . قَالَ : " وَمَا ذَاكَ ؟ " . قَالَ : تُزَوِّجُنِي فَاطِمَةَ ؟ فَسَكَتَ عَنْهُ - أَوْ قَالَ : فَأَعْرَضَ عَنْهُ - فَرَجَعَ أَبُو بَكْرٍ إِلَى عُمَرَ ، فَقَالَ : هَلَكْتُ وَأَهْلَكْتُ ، قَالَ : وَمَا ذَاكَ ؟ قَالَ : خَطَبْتُ فَاطِمَةَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَعْرَضَ عَنِّي قَالَ : مَكَانَكَ حَتَّى آتِيَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَطْلُبَ مِثْلَ الَّذِي طَلَبْتَ فَأَتَى عُمَرُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَعَدَ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ عَلِمْتَ مُنَاصَحَتِي وَقِدَمِي فِي الْإِسْلَامِ ، وَأَنِّي ، وَأَنِّي . قَالَ : " وَمَا ذَاكَ ؟ " . قَالَ : تُزَوِّجُنِي فَاطِمَةَ ؟ فَأَعْرَضَ ، فَرَجَعَ عُمَرُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ : إِنَّهُ يَنْتَظِرُ أَمْرَ اللَّهِ فِيهَا ، انْطَلِقْ بِنَا إِلَى عَلِيٍّ حَتَّى نَأْمُرَهُ أَنْ يَطْلُبَ مِثْلَ الَّذِي طَلَبْنَا ، قَالَ عَلِيٌّ : فَأَتَيَانِي وَأَنَا فِي سَبِيلٍ ، فَقَالَا : بِنْتُ عَمِّكَ تُخْطَبُ ، فَنَبَّهَانِي لِأَمْرٍ ، فَقُمْتُ أَجُرُّ رِدَائِي طَرَفًا عَلَى عَاتِقِي وَطَرَفًا آخَرَ فِي الْأَرْضِ ، حَتَّى أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَعَدْتُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ عَلِمْتَ قِدَمِي فِي الْإِسْلَامِ وَمُنَاصَحَتِي ، وَأَنِّي ، وَأَنِّي . قَالَ : " وَمَا ذَاكَ يَا عَلِيُّ ؟ " . قُلْتُ : تُزَوِّجُنِي فَاطِمَةَ ؟ قَالَ : " وَمَا عِنْدَكَ ؟ " . قُلْتُ : فَرَسِي وَبَدَنِي - يَعْنِي : دِرْعِي - قَالَ : " أَمَّا فَرَسُكَ فَلَا بُدَّ لَكَ مِنْهُ ، وَأَمَّا بَدَنُكَ فَبِعْهَا " . فَبِعْتُهَا بِأَرْبَعِ مِائَةٍ وَثَمَانِينَ دِرْهَمًا ، فَأَتَيْتُ بِهَا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَضَعْتُهَا فِي حِجْرِهِ ، فَقَبَضَ مِنْهَا قَبْضَةً ، فَقَالَ : " يَا بِلَالُ ، ابْغِنَا بِهَا طِيبًا " . وَأَمَرَهُمْ أَنْ يُجَهِّزُوهَا ، فَجَعَلَ لَهَا سَرِيرًا مُشَرَّطًا بِالشَّرِيطِ ، وَوِسَادَةً مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ ، وَمَلَأَ الْبَيْتَ كَثِيبًا - يَعْنِي رَمْلًا - وَقَالَ : " إِذَا أَتَتْكَ فَلَا تُحْدِثْ شَيْئًا حَتَّى آتِيَكَ " . فَجَاءَتْ مَعَ أُمِّ أَيْمَنَ ، فَقَعَدَتْ فِي جَانِبِ الْبَيْتِ وَأَنَا فِي جَانِبٍ ، فَجَاءَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " أَهَاهُنَا أَخِي ؟ " . فَقَالَتْ أُمُّ أَيْمَنَ : أَخُوكَ وَقَدْ زَوَّجْتَهُ ابْنَتَكَ ؟ ! فَقَالَ لِفَاطِمَةَ : " ائْتِينِي بِمَاءٍ " . فَقَامَتْ إِلَى قَعْبٍ فِي الْبَيْتِ فَجَعَلَتْ فِيهِ مَاءً فَأَتَتْهُ بِهِ ، فَمَجَّ فِيهِ ، ثُمَّ قَالَ لَهَا : " قُومِي " . فَنَضَحَ بَيْنَ ثَدْيَيْهَا وَعَلَى رَأْسِهَا ، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ " . ¤ [ ثُمَّ قَالَ : أَدْبِرِي ، فَأَدْبَرَتْ فَنَضَحَ بَيْنَ كَتِفَيْهَا ، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أُعِيذُهَا وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ ] ، ثُمَّ قَالَ : " ائْتِينِي بِمَاءٍ " . فَعَلِمْتُ الَّذِي يُرِيدُهُ ، فَمَلَأَتُ الْقَعْبَ مَاءً فَأَتَيْتُهُ بِهِ ، فَأَخَذَ مِنْهُ بِفِيهِ ، ثُمَّ مَجَّهُ فِيهِ ، ثُمَّ صَبَّ عَلَى رَأْسِي وَبَيْنَ يَدَيَّ ، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أُعِيذُهُ بِكَ وَذُرِّيَّتَهُ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ " . ثُمَّ قَالَ : " ادْخُلْ عَلَى أَهْلِكَ بِاسْمِ اللَّهِ وَالْبِرْكَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ يَعْلَى الْأَسْلَمِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کے سامنے بیٹھ گئے ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میری خیرخواہی اور اسلام میں قدیم ہونے سے واقف ہیں ، میں یہ ہوں اور میں وہ ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو کیا ہوا ؟ انہوں نے عرض کی : آپ میری شادی فاطمہ کے ساتھ کروا دیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے ، راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اعراض کیا ۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور بولے : میں ہلاکت کا شکار ہو گیا ، انہوں نے دریافت کیا : کیا ہوا ہے ؟ انہوں نے بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کا پیغام دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے اعراض کیا ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ یہیں رہیں ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاتا ہوں اور آپ سے وہی درخواست کرتا ہوں ، جو آپ نے کی ہے ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گئے ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میری خیرخواہی اور اسلام میں قدیم ہونے سے واقف ہیں ۔ میں یہ ہوں اور میں وہ ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر کیا ہوا ؟ انہوں نے عرض کی : آپ فاطمہ کے ساتھ میری شادی کروا دیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعراض کیا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس واپس آئے اور بولے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس خاتون کے بارے میں اللہ کے حکم کا انتظار کر رہے ہوں گے آپ ہمارے ساتھ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس چلئے تاکہ ہم انہیں یہ کہیں کہ وہ بھی یہی درخواست کریں جو ہم نے کی تھی ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : یہ دونوں صاحبان میرے پاس آئے ، میں راستے میں تھا ، ان دونوں نے کہا: آپ کے چچا کی بیٹی کو شادی کا پیغام دیا گیا ، پھر انہوں نے مجھے اس معاملے کے حوالے سے ترغیب دی تو میں اٹھا ، میری چادر کا ایک کنارہ میری گردن پر تھا اور دوسرا زمین پر تھا ، میں اسے کھینچتا ہوا گیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ گیا ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اسلام میں میرے قدیم ہونے اور میری خیرخواہی سے واقف ہیں ، اور یہ چیز ہے اور وہ چیز ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے علی ! تو کیا ہوا ؟ میں نے عرض کی : آپ میری فاطمہ کے ساتھ شادی کروا دیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہارے پاس کیا ہے ؟ میں نے عرض کی : میرے پاس گھوڑا ہے اور میری زرہ ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جہاں تک گھوڑے کا تعلق ہے تو وہ تمہارے لئے ضروری ہے ، جہاں تک زرہ کا تعلق ہے تو اسے تم فروخت کر دو ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے اسے چار سو اسّی درہم کے عوض میں فروخت کیا اور وہ رقم لے کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور وہ آپ کی گود میں رکھ دی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے مٹھی بھر رقم لی اور فرمایا : اے بلال ! اس کے ذریعے خوشبو لے کے آؤ ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا جہیز تیار کریں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے ایک پلنگ بنوایا اور چمڑے کا تکیہ بنوایا ، جس میں پتے بھرے ہوئے تھے ، پورے گھر میں ریت ڈالی گئی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب وہ خاتون تمہارے پاس آئے تو جب تک میں تمہارے پاس نہیں آ جاتا ، تم نے کوئی بات نہیں کرنی ۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا کے ساتھ ( سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے گھر ) آ گئیں اور گھر کے کونے میں بیٹھ گئیں ( سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ) میں گھر کے دوسرے کونے میں تھا ۔ اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے آپ نے دریافت کیا : کیا یہاں میرا بھائی ہے ؟ سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا نے عرض کی : وہ آپ کے بھائی ہیں ، اور آپ نے اپنی صاحبزادی کی شادی ان کے ساتھ کر دی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : میرے پاس پانی لے کے آؤ ، وہ اٹھ کر گھر میں موجود ایک برتن کی طرف بڑھیں اور انہوں نے اس میں پانی ڈالا اور وہ لے کر آ گئیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں کلی کی ، پھر آپ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : تم کھڑی ہو جاؤ ، پھر آپ نے ان کے سینے پر اور ان کے سر پر پانی چھڑکا پھر یہ دعا کی : اے اللہ ! میں اس کو اور اس کی اولاد کو مردود شیطان کے حوالے سے تیری پناہ میں دیتا ہوں ، پھر آپ نے فرمایا : منہ پھیر لو ۔ انہوں نے منہ پھیر لیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے دونوں کندھوں کے درمیان بھی پانی چھڑکا اور یہ دعا کی : اے اللہ ! میں اس کو اور اس کی اولاد کو مردود شیطان کے حوالے سے تیری پناہ میں دیتا ہوں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرے پاس اور پانی لے کر آؤ ۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ایسا ہی کیا ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ۔ انہوں نے برتن پانی سے بھرا اور وہ لے کر آ گئیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے تھوڑا سا پانی منہ میں لیا اور پھر اس پانی سے کلی کی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر اور میرے ہاتھوں پر پانی ڈالا ، اور پھر دعا کی : اے اللہ ! میں اس کو اور اس کی اولاد کو مردود شیطان کے حوالے سے تیری پناہ میں دیتا ہوں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اب تم اپنی بیوی کے پاس جاؤ ! اللہ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے اور برکت کے ہمراہ جاؤ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن یعلیٰ اسلمی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن یعلیٰ اسلمی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 15211
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَتَى أَبَا بَكْرٍ - رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ - فَقَالَ : يَا أَبَا بَكْرٍ ، مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَزَوَّجَ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : لَا يُزَوِّجُنِي ، قَالَ : إِذَا لَمْ يُزَوِّجْكَ فَمَنْ يُزَوِّجُ ; وَإِنَّكَ مِنْ أَكْرَمِ النَّاسِ عَلَيْهِ ، وَأَقْدَمِهِمْ فِي الْإِسْلَامِ ؟ قَالَ : فَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ - رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ - إِلَى بَيْتِ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - فَقَالَ : يَا عَائِشَةُ ، إِذَا رَأَيْتِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - طِيبَ نَفْسٍ وَإِقْبَالًا عَلَيْكِ فَاذْكُرِي لَهُ أَنِّي ذَكَرْتُ فَاطِمَةَ ; فَلَعَلَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَنْ يُيَسِّرَهَا لِي . قَالَ : فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَأَتْ مِنْهُ طِيبَ نَفْسٍ وَإِقْبَالًا ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَبَا بَكْرٍ ذَكَرَ فَاطِمَةَ ، وَأَمَرَنِي أَنْ أَذْكُرَهَا . قَالَ : " حَتَّى يَنْزِلَ الْقَضَاءُ " . قَالَ : فَرَجَعَ إِلَيْهَا أَبُو بَكْرٍ ، فَقَالَتْ : يَا أَبَتَاهُ ، وَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَذْكُرْ لَهُ الَّذِي ذَكَرْتَ . فَلَقِيَ أَبُو بَكْرٍ عُمَرَ ، فَذَكَرَ أَبُو بَكْرٍ لِعُمَرَ مَا أَخْبَرَتْهُ عَائِشَةُ ، فَانْطَلَقَ عُمَرُ إِلَى حَفْصَةَ ، فَقَالَ : يَا حَفْصَةُ إِذَا رَأَيْتِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِقْبَالًا - يَعْنِي عَلَيْكِ - فَاذْكُرِينِي لَهُ وَاذْكُرِي فَاطِمَةَ ; لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُيَسِّرَهَا لِي . قَالَ : فَلَقِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَفْصَةَ ، فَرَأَتْ طِيبَ نَفْسٍ وَرَأَتْ مِنْهُ إِقْبَالًا ، فَذَكَرَتْ لَهُ فَاطِمَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - فَقَالَ : " حَتَّى يَنْزِلَ الْقَضَاءُ " . فَلَقِيَ عُمَرُ حَفْصَةَ ، فَقَالَتْ لَهُ : يَا أَبَتَاهُ ، وَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ ذَكَرْتُ لَهُ شَيْئًا . فَانْطَلَقَ عُمَرُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَقَالَ : مَا يَمْنَعُكَ مِنْ فَاطِمَةَ ؟ فَقَالَ : أَخْشَى أَنْ لَا يُزَوِّجَنِي قَالَ : فَإِنْ لَمْ يُزَوِّجْكَ فَمَنْ يُزَوِّجُ ; وَأَنْتَ أَقْرَبُ خَلْقِ اللَّهِ إِلَيْهِ ؟ فَانْطَلَقَ عَلِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مِثْلَ عَائِشَةَ وَلَا مِثْلَ حَفْصَةَ ، قَالَ : فَلَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَتَزَوَّجَ فَاطِمَةَ قَالَ : " فَافْعَلْ " . قَالَ : مَا عِنْدِي إِلَّا دِرْعِي الْحُطَمِيَّةُ . قَالَ : " فَاجْمَعْ مَا قَدَرْتَ عَلَيْهِ وَائْتِنِي بِهِ " . قَالَ : فَأَتَى بِاثْنَتَيْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً أَرْبَعُ مِائَةٍ وَثَمَانِينَ ، فَأَتَى بِهَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَزَوَّجَهُ فَاطِمَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - فَقَبَضَ ثَلَاثَ قَبَضَاتٍ ، فَدَفَعَهَا إِلَى أُمِّ أَيْمُنَ ، فَقَالَ : " اجْعَلِي مِنْهَا قَبْضَةً فِي الطِّيبِ " . أَحْسَبُهُ قَالَ : " وَالْبَاقِي فِيمَا يُصْلِحُ الْمَرْأَةَ مِنَ الْمَتَاعِ " . فَلَمَّا فَرَغَتْ مِنَ الْجِهَازِ وَأَدْخَلَتْهُمْ بَيْتًا قَالَ : " يَا عَلِيُّ ، لَا تُحْدِثَنَّ إِلَى أَهْلِكَ شَيْئًا حَتَّى آتِيَكَ " . فَأَتَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا فَاطِمَةُ مُتَقَنِّعَةٌ ، وَعَلِيٌّ قَاعِدٌ ، وَأُمُّ أَيْمَنَ فِي الْبَيْتِ ، فَقَالَ : " يَا أُمَّ أَيْمَنَ ، ائْتِنِي بِقَدَحٍ مِنْ مَاءٍ " . فَأَتَتْهُ بِقَعْبٍ فِيهِ مَاءٌ ، فَشَرِبَ مِنْهُ ، ثُمَّ مَجَّ فِيهِ ، ثُمَّ نَاوَلَهُ فَاطِمَةَ فَشَرِبَتْ ، وَأَخَذَ مِنْهُ فَضَرَبَ جَبِينَهَا وَبَيْنَ كَتِفَيْهَا وَصَدْرِهَا ، ثُمَّ دَفَعَهُ إِلَى عَلِيٍّ ، فَقَالَ : " يَا عَلِيُّ اشْرَبْ " . ثُمَّ أَخَذَ مِنْهُ فَضَرَبَ بِهِ جَبِينَهُ وَبَيْنَ كَتِفَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " أَهْلُ بَيْتِي ، فَأَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ ، وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا " . فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأُمُّ أَيْمَنَ ، وَقَالَ : " يَا عَلِيُّ أَهْلَكَ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بولے : اے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ! کیا وجہ ہے آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کیوں نہیں کرتے ؟ انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ساتھ اس کی شادی نہیں کروائیں گے ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : اگر وہ آپ کے ساتھ نہیں کروائیں گے ، تو اور کس کے ساتھ کروائیں گے حالانکہ آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ معزز ہیں اور اسلام میں سب سے زیادہ قدیم ہیں ۔ راوی کہتے ہیں : سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر گئے اور فرمایا : اے عائشہ ! جب تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مزاج کو خوش گوار دیکھو اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے پاس موجود ہوں تو ان کے سامنے یہ بات ذکر کرنا کہ میں نے فاطمہ کا ذکر کیا ہے ، ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ وہ مجھے نصیب کر دے ۔ راوی کہتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مزاج کو خوشگوار دیکھا تو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کیا تھا اور انہوں نے مجھے یہ ہدایت کی تھی کہ میں اس کا ذکر کروں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ابھی ( اللہ کا ) فیصلہ آنے دو ۔ راوی کہتے ہیں : سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ دوبارہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ابا جان میری یہ خواہش تھی کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے وہ بات ذکر نہ کی ہوتی جو میں نے ذکر کی ہے ۔ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی ملاقات سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے وہ بات ذکر کی جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہی تھی ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور بولے : اے حفصہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے پاس آئیں ، تو تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ بات ذکر کرنا اور فاطمہ کا ذکر کرنا ، ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ وہ مجھے نصیب کر دے ۔ راوی کہتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے ہوئی اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مزاج کو خوشگوار دیکھا تو انہوں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تک اللہ تعالیٰ کا حکم نازل نہیں ہوتا ، بعد میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی ملاقات سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے ہوئی تو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: اے ابان جان میری یہ خواہش تھی کہ میں نے اس حوالے سے کوئی چیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ذکر نہ کی ہوتی ۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور بولے : کیا وجہ ہے کہ آپ فاطمہ کے ساتھ شادی کیوں نہیں کرتے ؟ انہوں نے کہا: مجھے یہ اندیشہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری شادی نہیں کروائیں گے ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر وہ آپ کے ساتھ شادی نہیں کروائیں گے ، تو کس کے ساتھ کروائیں گے جبکہ آپ اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے زیادہ قریبی ہیں ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے ۔ ان کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بات کرنے کے لئے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ، سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کی طرح کوئی نہیں تھا ۔ ان کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے عرض کی : میں فاطمہ کے ساتھ شادی کرنا چاہتا ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ٹھیک ہے ۔ انہوں نے عرض کی : میرے پاس صرف میری حطمی زرہ ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارے پاس جو چیز بھی ہے تم اسے اکٹھا کرو اور اسے لے کر میرے پاس آؤ ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ بارہ اوقیہ لیے کے آئے ، جو چار سو اسی درہم بنتے ہیں ۔ وہ اس رقم کو لے کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی شادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کروا دی ، آپ نے اس رقم کو تین حصوں میں تقسیم کیا ، وہ سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا کو دی اور فرمایا : ان میں سے ایک حصے کے ذریعے تم خوشبو لو ، راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے ، روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں ۔ باقی کی رقم کے ذریعے عورت کے لئے جو ضروری ساز و سامان ہوتا ہے ، وہ لو ، جب وہ خاتون تمام سامان تیار کر کے فارغ ہو گئیں ، تو انہوں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی کروا دی اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے گھر پہنچا دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے علی ! تم نے اپنی بیوی کے ساتھ کوئی بات اس وقت تک نہیں کرنی ، جب تک میں تمہارے پاس نہیں آ جاتا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے ، تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا چادر اوڑھ کر بیٹھی ہوئی تھیں اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی بیٹھے ہوئے تھے اور سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا بھی گھر میں موجود تھیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ام ایمن ! میرے پاس پانی کا پیالہ کے کر آؤ ! وہ ایک پیالہ لے کر آئیں ، جس میں پانی موجود تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے کچھ پانی پیا ، پھر اس میں کلی کر دی ، پھر آپ نے وہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو پکڑایا ، انہوں نے اسے پی لیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے کچھ پانی لے کر ان کی پیشانی پر ، ان کے دونوں کندھوں کے درمیان ، اور ان کے سینے پر چھڑکا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ پانی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف بڑھایا اور فرمایا : اے علی ! تم پیو ! پھر آپ نے اس میں سے کچھ پانی لے کر ان کی پیشانی اور ان کے دونوں کندھوں کے درمیان چھڑکا اور پھر یہ فرمایا : یہ میرے اہل بیت ہیں ، ( اے اللہ ! ) تو ان سے گندگی کو دور کر دے ، اور انہیں اچھی طرح سے پاک کر دے ! پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا تشریف لے گئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے علی ! اپنی بیوی کے پاس چلے جاؤ ۔
حدیث نمبر: 15212
وَفِي رِوَايَةٍ : قَالَ : خَطَبَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَاطِمَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : وَذَكَرَ الْحَدِيثَ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتِ بْنِ أَسْلَمَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو شادی کا پیغام دیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ثابت بن اسلم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ثابت بن اسلم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 15213
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَتْ فَاطِمَةُ تُذْكَرُ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَا يَذْكُرُهَا أَحَدٌ إِلَّا صَدَّ عَنْهُ ، حَتَّى يَئِسُوا مِنْهَا ، فَلَقِيَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ عَلِيًّا ، فَقَالَ : إِنِّي وَاللَّهِ مَا أَرَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَحْبِسُهَا إِلَّا عَلَيْكَ . فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - : فَلِمَ تَرَى ذَلِكَ ؟ [ فَوَاللَّهِ ] مَا أَنَا بِأَحَدِ الرَّجُلَيْنِ : مَا أَنَا بِصَاحِبِ دُنْيَا يَلْتَمِسُ مَا عِنْدِي ، وَقَدْ عَلِمَ مَا لِي صَفْرَاءُ وَلَا بَيْضَاءُ ، وَمَا أَنَا بِالْكَافِرِ الَّذِي يَتَرَفَّقُ بِهَا عَنْ دِينِهِ ! - يَعْنِي يَتَأَلَّفُهُ بِهَا - إِنِّي لَأَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ ! فَقَالَ سَعْدٌ : إِنِّي أَعْزِمُ عَلَيْكَ لَتُفَرِّجَنَّهَا عَنِّي ; فَإِنَّ لِي فِي ذَلِكَ فَرَجًا . قَالَ : أَقُولُ مَاذَا ؟ قَالَ : تَقُولُ : جِئْتُ خَاطِبًا إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . [ قَالَ: فَانْطَلَقَ وَهُوَ ثَقِيلٌ حَصِرٌ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كَأَنَّ لَكَ حَاجَةً يَا عَلِيُّ " فَقَالَ : أَجَلْ جِئْتُكَ خَاطِبًا إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِ اللَّهِ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ ] فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَرْحَبًا " . كَلِمَةٌ ضَعِيفَةٌ . ثُمَّ رَجَعَ إِلَى سَعْدٍ ، فَقَالَ لَهُ : قَدْ فَعَلْتُ الَّذِي أَمَرْتَنِي بِهِ ، فَلَمْ يَزِدْ عَلَيَّ أَنْ رَحَّبَ بِي كَلِمَةً ضَعِيفَةً . فَقَالَ سَعْدٌ : أَنْكَحَكَ وَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ ، إِنَّهُ لَا خَلْفٌ ، وَلَا كَذِبٌ عِنْدَهُ ، أَعْزِمُ عَلَيْكَ لَتَأْتِيَنَّهُ غَدًا ، فَلَتَقُولَنَّ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، مَتَى تُبْنِينِي ؟ فَقَالَ عَلِيٌّ : هَذِهِ أَشُدُّ عَلَيَّ مِنَ الْأُولَى ، أَوَّلًا أَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ حَاجَتِي ؟ قَالَ : قُلْ كَمَا أَمَرْتُكَ ، فَانْطَلَقَ عَلِيٌّ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَتَى تُبْنِينِي ؟ قَالَ : " اللَّيْلَةَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ " . ثُمَّ دَعَا بِلَالًا ، فَقَالَ : " يَا بِلَالُ ، إِنِّي قَدْ زَوَّجْتُ ابْنَتِي ابْنَ عَمِّي ، وَأَنَا أُحِبُّ أَنْ يَكُونَ مِنْ سُنَّةِ أُمَّتِي الطَّعَامُ عِنْدَ النِّكَاحِ ، فَائِتِ الْغَنَمَ ، فَخُذْ شَاةً وَأَرْبَعَةَ أَمْدَادٍ ، وَاجْعَلْ لِي قَصْعَةً أَجْمَعُ عَلَيْهَا الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارَ ، فَإِذَا فَرَغْتَ فَآذِنِّي " . فَانْطَلَقَ فَفَعَلَ مَا أَمَرَهُ بِهِ ، ثُمَّ أَتَاهُ بِقَصْعَةٍ فَوَضَعَهَا بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَطَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي رَأْسِهَا ، وَقَالَ : " أَدْخِلِ النَّاسَ عَلَيَّ زَفَّةً زَفَّةً ، وَلَا يُغَادِرْنَ زَفَّةً إِلَى غَيْرِهَا " . - يَعْنِي إِذَا فَرَغَتْ زَفَّةٌ فَلَا يَعُودُونَ ثَانِيَةً - . فَجَعَلَ النَّاسُ يَرِدُونَ ، كُلَّمَا فَرَغَتْ زَفَّةٌ وَرَدَتْ أُخْرَى ، حَتَّى فَرَغَ النَّاسُ . ثُمَّ عَمَدَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى مَا فَضَلَ مِنْهَا ، فَتَفَلَ فِيهِ وَبَارَكَ ، وَقَالَ : " يَا بِلَالُ ، احْمِلْهَا إِلَى أُمَّهَاتِكَ ، وَقُلْ لَهُنَّ : كُلْنَ وَأَطْعِمْنَ مَنْ غَشِيَكُنَّ " . ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى دَخَلَ عَلَى النِّسَاءِ ، فَقَالَ : " إِنِّي زَوَّجْتُ بِنْتِي ابْنَ عَمِّي ، وَقَدْ عَلِمْتُنَّ مَنْزِلَتَهَا مِنِّي ، وَأَنَا دَافِعُهَا إِلَيْهِ فَدُونَكُنَّ " . فَقُمْنَ النِّسَاءُ فَغَلَّفْنَهَا مِنْ طِيبِهِنَّ ، وَأَلْبَسْنَهَا مِنْ ثِيَابِهِنَّ ، وَحَلَّيْنَهَا مِنْ حُلِيِّهِنَّ ، ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ ، فَلَمَّا رَأَيْنَهُ النِّسَاءُ ذَهَبْنَ ، وَبَيْنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سِتْرٌ ، وَتَخَلَّفَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " عَلَى رِسْلِكِ ، مَنْ أَنْتِ ؟ " . قَالَتْ : أَنَا الَّتِي أَحْرُسُ ابْنَتَكَ ، إِنَّ الْفَتَاةَ لَيْلَةَ بِنَائِهَا لَا بُدَّ لَهَا مِنِ امْرَأَةٍ [ تَكُونُ ] قَرِيبَةٍ مِنْهَا ، إِنْ عَرَضَتْ لَهَا حَاجَةٌ أَوْ أَرَادَتْ أَمْرًا أَفْضَتْ بِذَلِكَ إِلَيْهَا . قَالَ : " فَإِنِّي أَسَالُ إِلَهِي أَنْ يَحْرُسَكِ مِنْ بَيْنِ يَدَيْكِ وَمِنْ خَلْفِكِ ، وَعَنْ يَمِينِكِ وَعَنْ شِمَالِكِ ، مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ " . ثُمَّ صَرَخَ بِفَاطِمَةَ فَأَقْبَلَتْ ، فَلَمَّا رَأَتْ عَلِيًّا جَالِسًا إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ حَصَرَتْ ] بَكَتْ ، فَخَشِيَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَكُونَ بُكَاؤُهَا أَنَّ عَلِيًّا لَا مَالَ لَهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا يُبْكِيكِ ؟ مَا أَلَوْتُكِ فِي نَفْسِي ، وَقَدْ أَصَبْتُ لَكِ خَيْرَ أَهْلِي ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ زَوَّجْتُكِ سَعِيدًا فِي الدُّنْيَا ، وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لِمَنِ الصَّالِحِينَ " . فَلَانَ مِنْهَا . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا أَسْمَاءُ ، ائْتِينِي بِالْمِخْضَبِ [ فَامْلَئِيهِ مَاءً ] " . فَأَتَتْ أَسْمَاءُ بِالْمِخْضَبِ ، فَمَجَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيهِ ، وَمَسَحَ فِي وَجْهِهِ وَقَدَمَيْهِ ، ثُمَّ دَعَا فَاطِمَةَ ، فَأَخَذَ كَفًّا مِنْ مَاءٍ فَضَرَبَ بِهِ عَلَى رَأْسِهَا ، وَكَفًّا بَيْنَ ثَدْيَيْهَا ، ثُمَّ رَشَّ جِلْدَهُ وَجِلْدَهَا ، ثُمَّ الْتَزَمَهَا ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ إِنَّهَا مِنِّي وَإِنِّي مِنْهَا ، اللَّهُمَّ كَمَا أَذْهَبْتَ عَنِّي الرِّجْسَ وَطَهَّرْتَنِي فَطَهِّرْهُمَا " . ثُمَّ دَعَا بِمِخْضَبٍ آخَرَ ، ثُمَّ دَعَا عَلِيًّا ، فَصَنَعَ بِهِ كَمَا صَنَعَ بِهَا ، ثُمَّ دَعَا لَهُ كَمَا دَعَا لَهَا ، ثُمَّ قَالَ لَهُمَا : " قُومَا إِلَى بَيْتِكُمَا ، جَمَعَ اللَّهُ بَيْنَكُمَا [ وَبَارَكَ ] فِي سِرِّكُمَا ، وَأَصْلَحَ بَالَكُمَا " . ثُمَّ قَامَ وَأَغْلَقَ عَلَيْهِمَا بَابَهُمَا بِيَدِهِ . ¤ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - : فَأَخْبَرَتْنِي أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - أَنَّهَا رَمَقَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يَزَلْ يَدْعُو لَهُمَا خَاصَّةً ، لَا يُشْرِكُهُمَا فِي دُعَائِهِ أَحَدًا حَتَّى تَوَارَى فِي حُجْرَتِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ الْعَلَاءِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شادی کے لئے پیغام دیا جاتا تھا ، جس بھی شخص نے اس حوالے سے ذکر کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہیں دیا یہاں تک کہ لوگ اس حوالے سے مایوس ہو گئے سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی ملاقات سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں میرا یہ خیال ہے کہ وہ تمہارے ساتھ اس خاتون کی شادی کرنا چاہتے ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا آپ کی یہ رائے کس وجہ سے بنی ہے ؟ اللہ کی قسم ! میں دو میں سے کسی بھی ایک طرح کا نہیں ہوں نہ تو میرے پاس دنیاوی ساز و سامان ہے جو ساز و سامان میرے پاس ہو ، اسے حاصل کرنے کی خواہش کی جائے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ بات جانتے ہیں کہ میرے پاس نہ دینار ہیں نہ درہم ہیں اور نہ ہی میں وہ کافر شخص ہوں کہ جس کے دین کے حوالے سے نرمی کی جائے ، یعنی تالیف قلب کے لئے ایسا کیا جائے ، میں اسلام قبول کرنے والا پہلا فرد ہوں ، تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: میں آپ کو تاکید کرتا ہوں کہ آپ یہ کام کریں کیونکہ میری یہ خواہش ہے کہ ایسا ہو ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : میں کیا کہوں ؟ انہوں نے کہا: میں یہ کہیں کہ آپ اللہ اور اس کے رسول کے پاس فاطمہ بنت محمد کے ساتھ شادی کا پیغام لے کے آیا ہوں ۔ راوی کہتے ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ تشریف لے گئے ان کو مشکل محسوس ہو رہی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا : اے علی ! لگتا ہے تمہیں کوئی کام ہے ، انہوں نے عرض کی جی ہاں ، میں آپ کے پاس اس لئے آیا ہوں تاکہ اللہ اور اس کے رسول کو فاطمہ بنت محمد کے ساتھ شادی کا پیغام دوں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : خوش آمدید ! یہ ایک مبہم جملہ تھا ، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ واپس سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے پاس واپس گئے اور انہوں نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ نے مجھے جو کام کہا: تھا وہ میں نے کر دیا ہے لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں مجھے صرف خوش آمدید کہا: ہے جو ایک مبہم جملہ ہے ، تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے ساتھ شادی کروا دیں گے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آج تک کبھی وعدہ خلافی نہیں کی اور نہ ہی غلط بیانی کی ہے ، میں آپ کو یہ تاکید کرتا ہوں کہ کل آپ نے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جانا ہے ، اور یہ کہنا ہے ، اے اللہ کے نبی آپ رخصتی کب کروائیں گے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ، یہ والی بات میرے نزدیک پہلے والی بات سے بھی زیادہ مشکل تھی ، انہوں نے کہا: کیا میں یہ نہ کہوں کہ یا رسول اللہ میرے کام کا کیا بنا ؟ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ نے وہی کہنا ہے جو میں نے آپ کو کہا: ہے ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اگلے دن گئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میرے ہاں رخصتی کب کروائیں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر اللہ نے چاہا تو آج رات کو ، پھر آپ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا : اے بلال ! میں اپنی بیٹی کی شادی اپنے چچا زاد سے کر رہا ہوں اور میری یہ خواہش ہے کہ میری امت کا طریقہ یہ ہو کہ نکاح کے وقت کھانا کھلایا جائے ، تو تم بکریوں والے ہو ، تم بکری لو چار ، مد اناج لو اور میرے لئے ایک پیالے میں کھانا تیار کرو تاکہ میں مہاجرین اور انصار کو وہ کھانا کھلاؤں ، جب تم اس سے فارغ ہو جاؤ تو مجھے بتا دینا ، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ چلے گئے ، انہوں نے وہ کام کیا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا تھا ، پھر وہ اس پیالے کو لے کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کو رکھ دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سرے پر ہاتھ لگایا اور پھر فرمایا : میرے پاس لوگوں کو گروہ در گروہ کر کے لے کر آتے رہو ، اور جب ایک گروہ ختم ہو جائے تو پھر دوسرا آ جائے ، کوئی دوسری مرتبہ نہ آئے ، تو لوگ آنے لگے ، جب ایک گروہ فارغ ہو جاتا ، تو دوسرا آ جاتا ، یہاں تک کہ سب لوگ فارغ ہو گئے ، پھر جو کھانا بچا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو لیا ، اس میں لعاب دہن ڈالا ، اس میں برکت کی دعا کی ، اور پھر فرمایا : اے بلال ! اسے اٹھا کر اپنی ماؤں کے پاس لے جاؤ اور ان سے یہ کہنا کہ اسے خود بھی کھاؤ اور جو تمہارے ہاں آئے اسے بھی کھلاؤ ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے ، آپ اپنی ازواج کے پاس تشریف لے گئے آپ نے فرمایا : میں نے اپنی بیٹی کی شادی اپنے چچا زاد کے ساتھ کر دی ہے ، اور تم یہ جانتی ہو کہ اس بیٹی کی میرے نزدیک کتنی حیثیت ہے ، اب میں اس کی رخصتی کروانے لگا ہوں تو تم نے بھی شامل ہونا ہے ، تو وہ خواتین اٹھیں ، انہوں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو خوشبو لگائی ، انہیں لباس پہنایا انہیں زیور پہنایا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لائے ، جب خواتین نے آپ کو دیکھا تو وہ چلی گئیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اور ان کے درمیان پردہ تھا ، صرف اسماء بنت عمیس رہ گئی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا تم کون ہو ؟ انہوں نے عرض کی : میں وہ ہوں جو آپ کی صاحبزادی کی حفاظت کروں گی جب لڑکی کی رخصتی ہوتی ہے تو اس کے ساتھ کوئی عورت ہونی چاہیے جو اس کے قریب رہے تاکہ اگر اس لڑکی کو کوئی کام درپیش ہو یا کوئی چیز چاہیے ہو تو وہ چیز اسے پکڑا سکے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں اپنے معبود سے یہ دعا کرتا ہوں کہ وہ تمہارے آگے کی طرف سے تمہارے دائیں طرف سے تمہارے بائیں طرف سے مردود شیطان سے تمہاری بھی اسی طرح حفاظت کرے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو پکارا ، وہ آئیں جب انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے دیکھا تو وہ شرما گئیں اور رونے لگیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اندیشہ ہوا کہ وہ شاید اس وجہ سے رو رہی ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس مال نہیں ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم کیوں رو رہی ہو ، میں نے تمہارے حوالے سے کوئی کوتاہی نہیں کی ہے ، میں نے تمہارے لئے اپنے اہل خانہ میں سے سب سے بہتر فرد کو منتخب کیا ہے ، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ! میں نے تمہاری شادی اس شخص سے کی ہے جو دنیا میں سعادت مند ہے اور آخرت میں نیک لوگوں میں سے ایک ہو گا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو تسلی دی پھر آپ نے ارشاد فرمایا : اسماء میرے پاس ایک برتن لے کے آؤ ، اسے پانی سے بھر دینا ، سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا ایک برتن لے کے آئیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں کلی کی پھر آپ نے اپنے چہرے اور دونوں پاؤں پر ہاتھ پھیرا پھر آپ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بلایا ، آپ نے چلو میں پانی لے کر وہ ان کے سر پر ڈالا اور ان کے سینے پر ڈالا اور ان کی جلد پر ڈالا ، پھر انہیں نے اپنے ساتھ لپٹا لیا ، پھر آپ نے یہ دعا فرمائی : اے اللہ ! میں اس سے ہوں ، اے اللہ ! جس طرح تو نے مجھ سے گندگی کو دور کیا ہے اور مجھے پاک کیا ہے ، تو ان دونوں کو بھی پاک کر دے ، پھر آپ نے پانی کا ایک اور برتن منگوایا پھر آپ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بلایا اور ان کے ساتھ بھی اسی طرح کیا جس طرح سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ کیا تھا ، پھر آپ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھی اسی طرح دعا دی جس طرح سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو دعا دی تھی ، پھر آپ نے ان دونوں کو فرمایا : تم دونوں اٹھ کر اپنے گھر چلے جاؤ ، اللہ تعالیٰ تم دونوں کو ایک ساتھ رکھے ، تمہارے پوشیدہ معاملات میں برکت رکھے ، تمہارے کام ٹھیک کرے ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے ، آپ نے ان دونوں کا دروازہ اپنے ہاتھ سے بند کیا ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا بغور جائزہ لیتی رہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حجرے میں داخل ہونے تک مسلسل بطور خاص ان دونوں کے لئے دعا کرتے رہے ، آپ نے اس دعا میں کسی اور کو ان دونوں کے ساتھ شریک نہیں کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن علاء ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن علاء ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 15214
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ : قَالَ نَفَرٌ مِنَ الْأَنْصَارِ لِعَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - : عِنْدَكَ فَاطِمَةُ ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ ] فَقَالَ : " مَا حَاجَةُ ابْنِ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - ؟ " . فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ذَكَرْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . فَقَالَ : " مَرْحَبًا وَأَهْلًا " . لَمْ يَزِدْ عَلَيْهَا . فَخَرَجَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ عَلَى أُولَئِكَ الرَّهْطِ مِنَ الْأَنْصَارِ يَنْتَظِرُونَهُ ، فَقَالُوا : مَا وَرَاءَكَ ؟ قَالَ : مَا أَدْرِي ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ لِي : " مَرْحَبًا وَأَهْلًا " . قَالُوا : يَكْفِيكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِحْدَاهُمَا ، أَعْطَاكَ الْأَهْلَ وَالْمَرْحَبَ . فَلَمَّا كَانَ بَعْدَمَا زَوَّجَهُ قَالَ : " يَا عَلِيُّ ، إِنَّهُ لَا بُدَّ لِلْعَرُوسِ مِنْ وَلِيمَةٍ " . قَالَ سَعْدٌ : عِنْدِي كَبْشٌ ، وَجَمَعَ لَهُ مِنَ الْأَنْصَارِ أَصْوُعًا مِنْ ذُرَةٍ ، فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الْبِنَاءِ قَالَ : " لَا تُحْدِثْ شَيْئًا حَتَّى تَلْقَانِي " . فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمَاءٍ ، فَتَوَضَّأَ مِنْهُ ، ثُمَّ أَفْرَغَهُ عَلَيَّ فَقَالَ : " اللَّهُمَّ بَارِكْ فِيهِمَا ، وَبَارِكْ لَهُمَا فِي بِنَائِهِمَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : قَالَ نَفَرٌ مِنَ الْأَنْصَارِ لِعَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - : لَوْ خَطَبْتَ فَاطِمَةَ . وَقَالَ فِي آخِرِهِ : " اللَّهُمَّ بَارِكْ فِيهِمَا ، وَبَارِكْ لَهُمَا فِي شِيلَهِمَا " . وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرَ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ سَلِيطٍ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کر لیں ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ابن ابوطالب کو کیا کام ہے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں فاطمہ بنت رسول اللہ کا ذکر کرنا چاہتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : خوش آمدید ہے ، آپ نے مزید کچھ نہیں فرمایا ، سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ انصار سے تعلق رکھنے والے ان افراد کے پاس تشریف لے گئے جو ان کا انتظار کر رہے تھے ، ان لوگوں نے دریافت کیا : کیا ہوا ؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کچھ سمجھ نہیں آئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے صرف یہی فرمایا کہ خوش آمدید ، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول کے لئے دو الفاظ میں سے ایک ہی استعمال کر لینا آپ کے لئے کافی تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو آپ کے لئے دو الفاظ استعمال کیے ہیں ، جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شادی ہو گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے علی ! شادی کے لئے ولیمہ ضروری ہے ، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے پاس ایک دنبہ ہے ، پھر انصار نے ان کے لئے اناج کے کچھ صاع جمع کیے ، جب رخصتی کی رات آئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : تم نے کوئی بات نہیں کرنی جب تک تم مجھ سے نہیں مل لیتے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا ، اس سے وضو کیا پھر آپ نے وہ پانی مجھ پر ڈالا ، پھر آپ نے یہ دعا کی : اے اللہ ! ان دونوں میں برکت رکھ دے اور ان دونوں کی شادی میں ان دونوں کے لئے برکت رکھ دے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا: اگر آپ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لئے شادی کا پیغام دیں تو یہ مناسب ہو گا ۔ اور اس روایت کے آخر میں یہ الفاظ ہیں : ” اے اللہ ! ان دونوں میں اور ان دونوں کے لئے ان کے ملاپ میں برکت رکھ دے ! ان دونوں کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ، صرف عبدالکریم بن سلیط کا معاملہ مختلف ہے اور ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا: اگر آپ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لئے شادی کا پیغام دیں تو یہ مناسب ہو گا ۔ اور اس روایت کے آخر میں یہ الفاظ ہیں : ” اے اللہ ! ان دونوں میں اور ان دونوں کے لئے ان کے ملاپ میں برکت رکھ دے ! ان دونوں کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ، صرف عبدالکریم بن سلیط کا معاملہ مختلف ہے اور ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 15215
عَنْ جَابِرٍ قَالَ : حَضَرْنَا عُرْسَ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - وَفَاطِمَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - فَمَا رَأَيْنَا عُرْسًا كَانَ أَحْسَنَ مِنْهُ ; حَشَوْنَا الْفِرَاشَ - يَعْنِي اللِّيفَ - وَأَتَيْنَا بِتَمْرٍ وَزَبِيبٍ فَأَكَلْنَا ، وَكَانَ فِرَاشُهَا لَيْلَةَ عُرْسِهَا إِهَابَ كَبْشٍ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَيْمُونٍ الْقَدَّاحُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شادی میں شریک ہوئے تھے ، ہم نے اس سے زیادہ اچھی شادی کوئی نہیں دیکھی ، ہم نے گدے کو پتوں سے بھر دیا تھا اور ہم کھجوریں اور کشمش لے کے آئے تھے ، ہم نے وہ کھائیں تھیں اور شادی کی رات ان کا بچھونا دنبے کی کھال تھی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن میمون قداح ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن میمون قداح ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 15216
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ قَالَتْ : لَمَّا أُهْدِيَتْ فَاطِمَةُ إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، لَمْ نَجِدْ فِي بَيْتِهِ إِلَّا رَمْلًا مَبْسُوطًا ، وَوِسَادَةً حَشْوُهَا لِيفٌ ، وَجَرَّةً ، وَكُوزًا ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : [ إِلَى عَلِيٍّ ] " لَا تُحْدِثَنَّ حَدَثًا - أَوْ قَالَ : لَا تَقْرَبَنَّ أَهْلَكَ - حَتَّى آتِيَكَ " . فَجَاءَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " أَثَمَّ أَخِي ؟ " . فَقَالَتْ أُمُّ أَيْمَنَ - وَهِيَ أُمُّ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، وَكَانَتْ حَبَشِيَّةً ، وَكَانَتِ امْرَأَةً صَالِحَةً - : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا أَخُوكَ وَزَوَّجْتَهُ ابْنَتَكَ ؟ وَكَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - آخَى بَيْنَ أَصْحَابِهِ ، وَآخَى بَيْنَ عَلِيٍّ وَنَفْسِهِ . قَالَ : " إِنَّ ذَلِكَ يَكُونُ يَا أُمَّ أَيْمَنَ " . ¤ قَالَتْ : فَدَعَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ ، ثُمَّ قَالَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ ، ثُمَّ مَسَحَ صَدْرَ عَلِيٍّ وَوَجْهَهُ ، ثُمَّ دَعَا فَاطِمَةَ ، فَقَامَتْ إِلَيْهِ تَعْثُرُ فِي مِرْطِهَا مِنَ الْحَيَاءِ ، فَنَضَحَ عَلَيْهَا مِنْ ذَلِكَ ، وَقَالَ لَهَا مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ ، ثُمَّ قَالَ لَهَا : " أَمَا إِنِّي لَمْ آلُكِ أَنْ أَنَكَحْتَكِ أَحَبَّ أَهْلِي إِلَيَّ " . ثُمَّ رَأَى سَوَادًا مِنْ وَرَاءِ السِّتْرِ - أَوْ مِنْ وَرَاءِ الْبَابِ - فَقَالَ : " مَنْ هَذَا ؟ " . قَالَتْ : أَسْمَاءُ ، قَالَ : " أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ ؟ " . قَالَتْ : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " جِئْتُ كَرَامَةً لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ مَعَ ابْنَتِهِ ] ؟ " . قَالَتْ : نَعَمْ ، إِنَّ الْفَتَاةَ لَيْلَةَ يُبْنَى بِهَا لَا بُدَّ لَهَا مِنِ امْرَأَةٍ تَكُونُ قَرِيبًا مِنْهَا ، إِنْ عَرَضَتْ لَهَا حَاجَةٌ أَفْضَتْ ذَلِكَ إِلَيْهَا . قَالَتْ : فَدَعَا لِي بِدُعَاءٍ إِنَّهُ لَأَوْثَقُ عَمَلِي عِنْدِي . ثُمَّ قَالَ لِعَلِيٍّ : " دُونَكَ أَهْلَكَ " . ثُمَّ خَرَجَ فَوَلَّى ، فَمَا زَالَ يَدْعُو لَهُمَا حَتَّى تَوَارَى فِي حُجَرِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف کروائی گئی تو ہمیں گھر میں صرف ریت بچھانے کے لئے ملی اور ایک تکیہ تھا جس میں پتے بھرے ہوئے تھے اور ایک مٹکا تھا اور ایک پیالہ تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا کہ تم نے اس وقت تک کچھ نہیں کرنا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) تم نے اپنی بیوی کے قریب نہیں جانا جب تک میں تمہارے پاس نہیں آ جاتا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، آپ نے دریافت کیا : کیا یہاں میرا بھائی ہے ؟ سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا جو سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کی والدہ ہیں ، انہوں نے کہا: وہ ایک حبشی خاتون تھی اور ایک نیک خاتون تھیں ، انہوں نے کہا: یا رسول اللہ ! یہ آپ کے بھائی ہیں ، اور آپ نے اپنی صاحبزادی کے ساتھ ان کی شادی کر دی ہے ۔ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا تھا تو آپ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور اپنے درمیان بھائی چارہ قائم کیا تھا ، آپ نے فرمایا : اے ام ایمن ! ایسا ہو جاتا ہے ، سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن منگوایا جس میں پانی موجود تھا پھر جو اللہ کو منظور تھا وہ پڑھا ، پھر آپ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سینے اور چہرے پر ہاتھ پھیرا ، پھر آپ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بلایا تو وہ اٹھ کر آپ کے پاس آئیں ، وہ شرم کی وجہ سے اپنی چادر میں دہری ہو رہی تھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر بھی پانی چھڑکا اور جو اللہ کو منظور تھا ، وہ پڑھا ، پھر آپ نے ان سے فرمایا : میں نے تمہارے بارے میں ، اس بارے میں کوئی کوتاہی نہیں کی ہے کہ میں نے تمہاری شادی اپنے خاندان میں سے اپنے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ فرد کے ساتھ کی ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پردے کے پیچھے کسی کو ملاحظہ کیا تو دریافت کیا : کون ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : اسماء ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اسماء بنت عمیس ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم یہاں اس لئے آئی ہو تاکہ اللہ کے رسول کی صاحبزادی کے ساتھ رہو ، انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! جب لڑکی کی شادی ہوتی ہے اور اس کی رخصتی ہوتی ہے ، تو اس کے ساتھ کوئی عورت اس کے قریب ہونی چاہیے تاکہ اسے کوئی ضرورت پیش آئے تو وہ اس کو پورا کر سکے ، سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دعا دی ، جو میرے نزدیک میرا سب سے زیادہ قابل وثوق عمل ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : تم اپنی بیوی کو ساتھ لو ، پھر آپ تشریف لے گئے اور مسلسل ان دونوں کے لئے دعا کرتے رہے یہاں تک کہ آپ اپنے حجرے میں داخل ہو گئے ۔
حدیث نمبر: 15217
وَفِي رِوَايَةٍ : عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ أَيْضًا قَالَتْ : كُنْتُ فِي زِفَافِ فَاطِمَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا أَصْبَحَتْ جَاءَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَضَرَبَ الْبَابَ ، فَقَامَتْ إِلَيْهِ أُمُّ أَيْمَنَ فَفَتَحَتْ لَهُ الْبَابَ ، فَقَالَ لَهَا : " يَا أُمَّ أَيْمَنَ ، ادْعِي لِي أَخِي " . فَقَالَتْ : أَخُوكَ هُوَ - [ أَيْ كَلِمَةٌ يَمَانِيَّةٌ ] - وَتُنْكِحُهُ ابْنَتَكَ ؟ قَالَ : " يَا أُمَّ أَيْمَنَ ، ادْعِي لِي " . فَسَمِعَ النِّسَاءُ صَوْتَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَحَشْحَشْنَ ، فَجَلَسَ فِي نَاحِيَةٍ ، ثُمَّ جَاءَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَدَعَا لَهُ ، ثُمَّ نَضَحَ عَلَيْهِ مِنَ الْمَاءِ ، ثُمَّ قَالَ : " ادْعُوا لِي فَاطِمَةَ " . فَجَاءَتْ وَهِيَ عَرِقَةٌ ، أَوْ حِزِقَةٌ مِنَ الْحَيَاءِ ، فَقَالَ : " اسْكُتِي ; فَقَدَ أَنَكَحْتُكِ أَحَبَّ أَهْلِ بَيْتِي إِلَيَّ " . فَذَكَرَ نَحْوَهُ . رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ الرِّوَايَةِ الْأُولَى رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے منقول ہے ، وہ بیان کرتی ہیں : جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی ہوئی تو اگلے دن صبح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، آپ نے دروازے پر دستک دی ، سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا اٹھ کر آپ کے پاس گئیں ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے دروازہ کھولا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون سے فرمایا : اے ام ایمن ! میرے بھائی کو میرے پاس بلا کے لاؤ ، انہوں نے عرض کی : وہ آپ کے بھائی ہیں اور آپ نے اپنی صاحبزادی کی شادی ان کے ساتھ کر دی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ام ایمن ! اسے میرے پاس بلا کے لاؤ ، خواتین نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سن لی ، وہ ایک طرف ہو گئیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک کونے میں تشریف فرما ہوئے ، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا پھر آپ نے ان پر پانی چھڑکا ، پھر فرمایا : میرے پاس فاطمہ کو بلا کے لاؤ ، جب وہ آئیں تو وہ شرم کی وجہ سے دہری ہو رہی تھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : خاموش ہو جاؤ ، میں نے تمہاری شادی اس شخص کے ساتھ کی ہے جو میرے اہل بیت میں میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت ذکر کی ہے ۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے نقل کی ہیں اور پہلی روایت کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15218
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : لَمَّا جَهَّزَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاطِمَةَ إِلَى عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - بَعَثَ مَعَهَا بِخَمِيلٍ - قَالَ عَطَاءٌ : مَا الْخَمِيلُ ؟ قَالَ : قَطِيفَةٌ - وَوِسَادَةٍ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ ، وَإِذْخِرٍ ، وَقِرْبَةٍ . كَانَا يَتَفَرَّشَانِ الْخَمِيلَ ، وَيَلْتَحِفَانِ بِنِصْفِهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ وَقَدِ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شادی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ کی تو ان کے ہمراہ ایک خمیل بھیجا ۔ عطا کہتے ہیں : انہوں نے دریافت کیا : خمیل سے مراد کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : چادر اور ایک چمڑے سے بنا ہوا تکیہ بھیجا جس کے اندر پتے اور اذخر بھرا ہوا تھا اور ایک مشکیزہ بھیجا ، انہوں نے چادر کو نیچے بچھا لیا اور اس کا نصف حصہ اپنے اوپر اوڑھ لیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
حدیث نمبر: 15219
وَعَنْ أُمِّ أَيْمَنَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - زَوَّجَ ابْنَتَهُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - وَأَمَرَهُ أَنْ لَا يَدْخُلَ عَلَى أَهْلِهِ حَتَّى يَجِيئَهُ ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ قُلْتُ : رَوَى هَذَا فِي تَرْجَمَةِ أُمِّ أَيْمَنَ ، وَلَمْ يَذْكُرْ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ مَا يُنَاسِبُهُ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شادی سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ سے کی اور انہیں یہ حکم دیا کہ جب تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس نہیں آ جاتے وہ اپنی بیوی کے پاس نہ جائیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا کے حالات میں ذکر کی گئی ہے اس سے پہلے یا اس کے بعد اس کو ذکر کرنے کی کوئی مناسب جگہ نہیں تھی ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا کے حالات میں ذکر کی گئی ہے اس سے پہلے یا اس کے بعد اس کو ذکر کرنے کی کوئی مناسب جگہ نہیں تھی ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 15220
وَعَنْ أُمِّ سَلْمَى قَالَتْ : اشْتَكَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَكْوَاهَا الَّتِي قُبِضَتْ فِيهَا ، فَكُنْتُ أُمَرِّضُهَا ، فَأَصْبَحَتْ يَوْمًا كَأَمْثَلِ مَا رَأَيْنَاهَا فِي شَكْوَاهَا تِلْكَ ، قَالَتْ : وَخَرَجَ عَلِيٌّ لِبَعْضِ حَاجَتِهِ ، فَقَالَتْ : يَا أُمَّهْ ، اسْكُبِي لِي غُسْلًا ، فَسَكَبْتُ لَهَا غُسْلًا فَاغْتَسَلَتْ كَأَحْسَنِ مَا رَأَيْتُهَا تَغْتَسِلُ ، ثُمَّ قَالَتْ : يَا أُمَّهْ أَعْطِينِي ثِيَابِيَ الْجُدُدَ ، فَأَعْطَيْتُهَا فَلَبِسَتْهَا ، ثُمَّ قَالَتْ : يَا أُمَّهْ ، قَدِّمِي لِي فِرَاشِي وَسَطَ الْبَيْتِ ، فَفَعَلْتُ ، وَاضْطَجَعَتْ ، وَاسْتَقْبَلَتِ الْقِبْلَةَ ، وَجَعَلَتْ يَدَهَا تَحْتَ خَدِّهَا ، ثُمَّ قَالَتْ : يَا أُمَّهْ ، إِنِّي مَقْبُوضَةٌ الْآنَ وَقَدْ تَطَهَّرْتُ ، فَلَا يَكْشِفْنِي أَحَدٌ . فَقُبِضَتْ مَكَانَهَا ، قَالَتْ : فَجَاءَ عَلِيٌّ فَأَخْبَرْتُهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمیٰ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا جب اس بیماری میں مبتلا ہوئیں جس میں ان کا انتقال ہوا تھا ، تو میں ان کی تیمارداری کر رہی تھی ایک دن میں نے انہیں اچھی حالت میں دیکھا ، جب سے وہ بیمار ہوئی تھیں ، میں نے انہیں اس طرح کی حالت میں نہیں دیکھا تھا ، وہ خاتون بیان کرتی ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ کسی کام کے سلسلے میں باہر گئے ہوئے تھے ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: تم میرے لئے غسل کے لئے پانی تیار کرو ، میں نے ان کے لئے غسل کے لئے پانی تیار کیا ، تو انہوں نے اچھی طرح غسل کیا ، پھر انہوں نے فرمایا : تم مجھے نئے کپڑے دو ، انہوں نے انہیں نئے کپڑے دیے ، وہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے پہن لئے ، پھر انہوں نے فرمایا : تم میرے لئے گھر کے درمیان میں میرا بستر بچھا دو ، میں نے ایسا ہی کیا ، وہ لیٹ گئیں ۔ انہوں نے قبلہ کی طرف رخ کیا اور اپنا ہاتھ اپنے رخسار کے نیچے رکھا اور پھر یہ کہا: اب میرا انتقال ہونے لگا ہے ، میں نے طہارت حاصل کر لی ہے اب کوئی خاتون میرا کپڑا نہ ہٹائے ، پھر اسی جگہ پر ان کا انتقال ہوا ، وہ خاتون بیان کرتی ہیں : جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے تو میں نے انہیں اس بارے میں بتایا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 15221
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ : أَنَّ فَاطِمَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - لَمَّا حَضَرَتْهَا الْوَفَاةُ أَمَرَتْ عَلِيًّا - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَوَضَعَ لَهَا غُسْلًا ، فَاغْتَسَلَتْ وَتَطَهَّرَتْ ، وَدَعَتْ بِثِيَابِ أَكْفَانِهَا ، فَأُتِيَتْ بِثِيَابٍ غِلَاظٍ خُشْنٍ وَلَبِسَتْهَا ، وَمَسَّتْ مِنْ حَنُوطٍ ، ثُمَّ أَمَرَتْ عَلِيًّا أَنْ لَا تُكْشَفَ إِذَا قُبِضَتْ ، وَأَنْ تُدْرَجَ كَمَا هِيَ فِي ثِيَابِهَا ، فَقُلْتُ لَهُ : هَلْ عَلِمْتَ أَحَدًا فَعَلَ ذَلِكَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، كَثِيرُ بْنُ الْعَبَّاسِ ، وَكَتَبَ فِي أَطْرَافِ أَكْفَانِهِ : يَشْهَدُ كَثِيرُ بْنُ الْعَبَّاسِ : أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ لَمْ يُدْرِكِ الْقِصَّةَ فَالْإِسْنَادُ مُنْقَطِعٌ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن محمد بن عقیل بیان کرتے ہیں : جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا: تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کے لئے غسل کے لئے پانی رکھا ، انہوں نے غسل کیا اور طہارت حاصل کی پھر انہوں نے کفن کے کپڑے منگوائے ، ان کے پاس موٹے کپڑے لائے گئے م وہ انہوں نے پہن لئے ، انہوں نے اس پر حنوط لگائی پھر انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا: جب ان کا انتقال ہو جائے تو ان کا کپڑا نہ ہٹایا جائے اور انہیں اسی کپڑے میں لپیٹ دیا جائے ۔ راوی کہتے ہیں میں نے اپنے استاد سے دریافت کیا ، کیا آپ کو کسی کے بارے میں علم ہے کہ انہوں نے ایسا کیا ہو ؟ تو ان صاحب نے جواب دیا : جی ہاں ، کثیر بن عباس نے بھی ایسا ہی کیا تھا اور انہوں نے اپنے کفن کے کناروں پر یہ لکھوایا تھا کہ کثیر بن عباس اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور عبداللہ بن محمد نامی راوی نے اس واقعہ کا زمانہ نہیں پایا تو سند منقطع ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور عبداللہ بن محمد نامی راوی نے اس واقعہ کا زمانہ نہیں پایا تو سند منقطع ہے ۔
حدیث نمبر: 15222
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقٍ قَالَ : تُوُفِّيَتْ فَاطِمَةُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - وَهِيَ بِنْتُ ثَمَانٍ وَعِشْرِينَ ، وَكَانَ مَوْلِدُهَا وَقُرَيْشٌ تَبْنِي الْكَعْبَةَ قَبْلَ مَبْعَثِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِسَبْعِ سِنِينَ وَسِتَّةِ أَشْهُرٍ ، وَأَقَامَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمَكَّةَ عَشْرَ سِنِينَ بَعْدَ مَبْعَثِهِ ، ثُمَّ هَاجَرَ فَأَقَامَ عَشْرًا ، ثُمَّ عَاشَتْ فَاطِمَةُ بَعْدَهُ سِتَّةَ أَشْهُرٍ ، وَتُوُفِّيَتْ سَنَةَ إِحْدَى عَشْرَةَ [ مِنَ الْهِجْرَةِ ] . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ إِلَى ابْنِ إِسْحَاقَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں : سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا انتقال اٹھائیس سال کی عمر میں ہوا تھا جب وہ پیدا ہوئیں تھیں اس وقت قریش خانہ کعبہ کی تعمیر کر رہے تھے یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے سات سال چھ ماہ پہلے کی بات ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی بعثت کے بعد دس سال مکہ میں مقیم رہے پھر آپ نے ہجرت کی اور آپ دس سال ( مدینہ منورہ میں ) مقیم رہے ، آپ کے وصال کے بعد سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا چھ ماہ تک زندہ رہی تھیں اور ان کا انتقال گیارہ ہجری میں ہوا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ابن اسحاق تک اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ابن اسحاق تک اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 15223
وَعَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ : تُوُفِّيَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهِيَ بِنْتُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ سَنَةً . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
ابوبکر بن ابوشیبہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ستائیس سال کی عمر میں ہوا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 15224
وَعَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ : قَالَ لِي غَيْرُ وَاحِدٍ : كَانَتْ فَاطِمَةُ أَصْغَرَ وَلَدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَحَبَّهُنَّ إِلَيْهِ . وَزَعَمَ الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ أَنَّ رُقَيَّةَ أَصْغَرَ مِنْ فَاطِمَةَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ إِلَى ابْنِ جُرَيْجٍ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابن جریج بیان کرتے ہیں : ایک سے زیادہ افراد نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد میں سب سے کمسن تھیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب تھیں ۔ زبیر بن بکار کا یہ کہنا ہے : سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کمسن تھیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ابن جریج تک اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ابن جریج تک اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15225
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ " فُسْتُقَةَ " قَالَ : كَانَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تُكَنَّى : أُمُّ أَبِيهَا . ¤ قَالَ : كَانَتْ أَصْغَرَ وَلَدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ خَدِيجَةِ . وَقِيلَ : كَانَتْ تَوْأَمَ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . فِي الطَّبَرَانِيِّ مُنْقَطِعُ الْإِسْنَادِ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن علی مدینی فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی کنیت وہی تھی جو ان کے والد کی والدہ کی تھی ، وہ بیان کرتے ہیں : سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد میں سب سے کمسن تھی ، ایک قول یہ ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے بعد پیدا ہوئی تھیں ۔ طبرانی کی روایت سند کے اعتبار سے منقطع ہے ۔
حدیث نمبر: 15226
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : تُوُفِّيَتْ فَاطِمَةُ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِسِتَّةِ أَشْهُرٍ ، وَدَفَنَهَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ لَيْلًا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ أَحَدِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے چھ ماہ بعد سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہو گیا تھا ۔ سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے انہیں رات کے وقت ہی دفن کر دیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15227
وَعَنْ أَبِي جَعْفَرٍ - يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيٍّ - قَالَ : مَكَثَتْ فَاطِمَةُ بَعْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَلَاثَةَ أَشْهُرٍ ، وَمَا رُئِيَتْ ضَاحِكَةً بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا أَنَّهُمْ قَدِ امْتَرَوْا فِي طَرَفِ نَابِهَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
امام ابوجعفر یعنی امام محمد بن علی ( یعنی امام باقر ) بیان کرتے ہیں : سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد تین ماہ زندہ رہی تھیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد انہیں کبھی ہنستے ہوئے نہیں دیکھا گیا ، البتہ لوگوں کو ان کے اطراف کے دانتوں کے بارے میں شک ہوتا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں البتہ امام باقر نے اس واقعہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں البتہ امام باقر نے اس واقعہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
حدیث نمبر: 15228
وَعَنْ عَلِيٍّ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي طَالِبٍ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ ، قِيلَ : يَا أَهْلَ الْجَمْعِ ، غُضُّوا أَبْصَارَكُمْ حَتَّى تَمُرَّ فَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . فَتَمُرُّ وَعَلَيْهَا رَيْطَتَانِ خَضْرَاوَانِ [ أَوْ حَمْرَاوَانِ ] " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَحْرٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب قیامت کا دن ہو گا ، تو یہ کہا: جائے گا : اے اہل محشر ! اپنی نگاہیں جھکا لو جب تک فاطمہ بنت محمد نہیں گزر جاتیں ، جب فاطمہ گزریں گی تو ان کے جسم پر دو سبز رنگ کی ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) دو سرخ رنگ کی چادریں ہوں گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالحمید بن بحر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالحمید بن بحر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔