کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے مناقب کا بیان
حدیث نمبر: 15189
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، وَفَاطِمَةُ سَيِّدَةُ نِسَائِهِمْ إِلَّا مَا كَانَ لِمَرْيَمَ بِنْتِ عِمْرَانَ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ غَيْرَ ذِكْرِ فَاطِمَةَ وَمَرْيَمَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” حسن اور حسین اہل جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں ، اور فاطمہ وہاں کی خواتین کی سردار ہے ، البتہ مریم بنت عمران کا معاملہ مختلف ہے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ترمذی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کا ذکر نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15189
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (1169) احمد (3/3)»
حدیث نمبر: 15190
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " سَيِّدَاتُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ بَعْدَ مَرْيَمَ بِنْتِ عِمْرَانَ : فَاطِمَةُ ، وَخَدِيجَةُ ، ثُمَّ آسِيَةُ بِنْتُ مُزَاحِمٍ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " وَآسِيَةُ " . وَرِجَالُ الْكَبِيرِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مریم بنت عمران کے بعد اہل جنت کی خواتین کی سردار فاطمہ اور خدیجہ ہیں ، اور پھر آسیہ بنت مزاحم ہیں جو فرعون کی اہلیہ تھیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے لفظ ” آسیہ “ نقل کیا ہے ، اور معجم کبیر کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15190
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12179)»
حدیث نمبر: 15191
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ مَلَكًا مِنَ السَّمَاءِ لَمْ يَكُنْ زَارَنِي ، فَاسْتَأْذَنَ اللَّهَ فِي زِيَارَتِي ، فَبَشَّرَنِي - أَوْ أَخْبَرَنِي - أَنَّ فَاطِمَةَ سَيِّدَةُ نِسَاءِ أُمَّتِي " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ مَرْوَانَ الذُّهْلِيِّ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” آسمان سے ایک فرشتہ آیا جو اس سے پہلے کبھی مجھ سے ملنے کے لئے نہیں آیا تھا اس نے اللہ تعالیٰ سے مجھ سے ملنے کی اجازت مانگی اور اس نے مجھے خوشخبری دیتے ہوئے یہ بتایا : فاطمہ میری امت کی خواتین کی سردار ہو گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف محمد بن مروان ذہلی کا معاملہ مختلف ہے ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15191
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 15192
وَعَنْ عَلِيٍّ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي طَالِبٍ - : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِفَاطِمَةَ : " أَلَا تَرْضَيْنَ أَنْ تَكُونِي سَيِّدَةَ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، وَابْنَاكِ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : ” کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تم اہل جنت کی خواتین کی سردار ہو جاؤ اور تمہارے دونوں بیٹے اہل جنت کے نوجوانوں کے سردار ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15192
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2650)»
حدیث نمبر: 15193
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : مَا رَأَيْتُ أَفْضَلَ مِنْ فَاطِمَةَ غَيْرَ أَبِيهَا . قَالَتْ : وَكَانَ بَيْنَهُمَا شَيْءٌ ؟ فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، سَلْهَا فَإِنَّهَا لَا تَكْذِبُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَأَبُو يَعْلَى ، إِلَّا أَنَّهَا قَالَتْ : مَا رَأَيْتُ أَحَدًا قَطُّ أَصْدَقُ مِنْ فَاطِمَةَ . وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : میں نے فاطمہ سے زیادہ فضیلت والا کوئی نہیں دیکھا ، صرف ان کے والد کا معاملہ مختلف ہے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے درمیان کوئی معاملہ ہوا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھ لیں وہ غلط بیانی نہیں کرتی ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” میں نے فاطمہ سے زیادہ سچا کبھی کوئی نہیں دیکھا“ ۔ ان دونوں روایات کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15193
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (4700)»
حدیث نمبر: 15194
وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ : اسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَمِعَ صَوْتَ عَائِشَةَ عَالِيًا ، وَهِيَ تَقُولُ : وَاللَّهِ لَقَدْ عَرَفْتُ أَنَّ عَلِيًّا وَفَاطِمَةَ أَحَبَّ إِلَيْكَ مِنِّي وَمِنْ أَبِي - مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا - . فَاسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ ، [ فَدَخَلَ ] فَأَهْوَى إِلَيْهَا ، فَقَالَ : يَا بِنْتَ فُلَانَةَ ، لَا أَسْمَعُكِ تَرْفَعِينَ صَوْتَكِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ غَيْرَ ذِكْرِ عَلِيٍّ وَفَاطِمَةَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی انہوں نے باہر سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کی بلند آواز سنی جو یہ کہہ رہی تھیں : اللہ کی قسم ! میں یہ بات جانتی ہوں کہ علی اور فاطمہ آپ کے نزدیک مجھ سے اور میرے والد سے زیادہ محبوب ہیں ۔ یہ بات انہوں نے دو یا تین مرتبہ کہی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت مانگی ، وہ اندر آئے تو وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف بڑھے اور بولے : اے فلانی کی بیٹی آئندہ میں تمہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آواز بلند کرتے ہوئے نہ سنوں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت امام ابوداؤد نے بھی نقل کی ہے تاہم انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا ذکر نہیں کیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15194
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (275/4)»
حدیث نمبر: 15195
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى عَلِيٍّ وَفَاطِمَةَ وَهُمَا يَضْحَكَانِ ، فَلَمَّا رَأَيَا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَكَتَا ، فَقَالَ لَهُمَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا لَكَمَا ، كُنْتُمَا تَضْحَكَانِ فَلَمَّا رَأَيْتُمَانِي سَكَتُّمَا ؟ " . فَبَادَرَتْ فَاطِمَةُ ، فَقَالَتْ : بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ هَذَا : أَنَا أَحَبُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْكِ ، فَقُلْتُ : بَلْ أَنَا أَحَبُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْكَ ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ : " يَا بُنَيَّةُ ، لَكِ رِقَّةُ الْوَلَدِ ، وَعَلِيٌّ أَعِزُّ عَلَيَّ مِنْكِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے ۔ وہ دونوں ہنس رہے تھے جب ان دونوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو وہ دونوں خاموش ہو گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے دریافت کیا : کیا وجہ ہے تم لوگ پہلے ہنس رہے تھے جب تم دونوں نے مجھے دیکھا تو تم دونوں خاموش ہو گئے ، تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے بات میں پہل کی اور عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے والد آپ پر قربان ہوں ، ان کا ( یعنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ) یہ کہنا ہے کہ میں تم سے زیادہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک محبوب ہوں اور میرا یہ کہنا ہے کہ بلکہ میں اللہ کے رسول کی آپ سے زیادہ محبوب ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے اور آپ نے فرمایا : اے میری بیٹی ! تمہارے لیے وہ محبت ہے ، جو اولاد کے لئے ہوتی ہے ، اور علی میرے نزدیک تم سے زیادہ قابل احترام ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15195
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11063)»
حدیث نمبر: 15196
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ أَحَبُ إِلَيْكَ ، أَنَا أَمْ فَاطِمَةُ ؟ قَالَ : " فَاطِمَةُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْكَ ، وَأَنْتَ أَعَزُّ عَلَيَّ مِنْهَا " . قُلْتُ : فَذَكَرَهُ وَقَدْ تَقَدَّمَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں آپ کے نزد یک زیادہ محبوب ہوں یا فاطمہ ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” فاطمہ میرے نزدیک تم سے زیادہ محبوب ہے اور تم میرے نزدیک اس سے زیادہ معزز ہو ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث بیان کی ہے جو اس سے پہلے گزر چکی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15196
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (400/22)»
حدیث نمبر: 15197
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كُنْتُ أَرَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُقَبِّلُ فَاطِمَةَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَرَاكَ تَفْعَلُ شَيْئًا مَا كُنْتَ تَفْعَلُهُ مِنْ قَبْلُ ، قَالَ لِي : " يَا حُمَيْرَاءُ ، إِنَّهُ لَمَّا كَانَ لَيْلَةُ أُسْرِيَ بِي إِلَى السَّمَاءِ أُدْخِلْتُ الْجَنَّةَ ، فَوَقَفْتُ عَلَى شَجَرَةٍ مِنْ شَجَرِ الْجَنَّةِ ، لَمْ أَرَ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً هِيَ أَحْسَنُ مِنْهَا حُسْنًا ، وَلَا أَبْيَضُ مِنْهَا وَرَقَةً ، وَلَا أَطْيَبُ مِنْهَا ثَمَرَةً ، فَتَنَاوَلْتُ ثَمَرَةً مِنْ ثَمَرَتِهَا فَأَكَلْتُهَا ، فَصَارَتْ نُطْفَةً فِي صُلْبِي ، فَلَمَّا هَبَطْتُ إِلَى الْأَرْضِ وَاقَعْتُ خَدِيجَةَ ، فَحَمَلَتْ بِفَاطِمَةَ ، فَإِذَا أَنَا اشْتَقْتُ إِلَى رَائِحَةِ الْجَنَّةِ شَمَمْتُ رِيحَ فَاطِمَةَ . يَا حُمَيْرَاءُ ، إِنَّ فَاطِمَةَ لَيْسَتْ كَنِسَاءِ الْآدَمِيِّينَ ، وَلَا تَعْتَلُّ كَمَا يَعْتَلُّونَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو قَتَادَةَ الْحَرَّانِيُّ ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَقَالَ : كَانَ يَتَحَرَّى الصِّدْقَ ، وَأَنْكَرَ عَلَى مَنْ نَسَبَهُ إِلَى الْكَذِبِ ، وَضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَغَيْرُهُ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : مَتْرُوكٌ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ أَيْضًا ، وَقَدْ ذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ فِي تَرْجَمَتِهِ فِي الْمِيزَانِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتی تھی کہ آپ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بوسہ دیا کرتے تھے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ آپ ایسا کام کرتے ہیں کہ آپ کے بارے میں میرا یہ خیال نہیں ہے کہ آپ پہلے ایسا کرتے ہوں گے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : اے حمیراء ! جس رات مجھے آسمان کی طرف معراج کروائی گئی مجھے جنت میں داخل کیا گیا ۔ میں وہاں ایک درخت کے پاس ٹھہرا ، میں نے اس سے زیادہ خوبصورت اور اس سے زیادہ سفید درخت جنت میں کوئی نہیں دیکھا ، جس کے پھل اس سے زیادہ پاکیزہ ہوں ۔ میں نے اس کا ایک پھل لیا اور اسے کھا لیا تو وہ میری پشت میں نطفہ بن گیا ، جب میں زمین پہ آیا تو میں نے خدیجہ کے ساتھ وظیفہ زوجیت ادا کیا ، تو وہ اس کے حوالے سے حاملہ ہو گئی ، تو جب میں جنت کی خوشبو سونگھنے کا مشتاق ہوتا ہوں ، تو میں فاطمہ کی خوشبو کو سونگھ لیتا ہوں ۔ اے حمیرا ! فاطمہ عام عورتوں کی طرح نہیں ہے ، اور وہ اس طرح علت کا شکار نہیں ہوئی ، جس طرح لوگ علت کا شکار ہوتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوقتادہ حرانی ہے جسے امام أحمد نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ وہ کہتے ہیں : یہ سچائی کے بارے میں کوشش کرتا رہتا تھا امام أحمد نے اس کا انکار کیا ہے کہ جس نے اس کو جھوٹ کی طرف منسوب کیا ہے امام بخاری رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے اس راوی کو ضعیف قرار دیا ہے بعض نے کہا: ہے : یہ متروک ہے ۔ اس روایت کی سند میں ایسے راوی بھی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں یہ حدیث کتاب میزان الاعتدال میں اس راوی کے حوالے سے ذکر کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15197
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 15198
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِفَاطِمَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - : " إِنَّ اللَّهَ غَيْرُ مُعَذِّبِكِ وَلَا وَلَدِكِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ تمہیں ، اور تمہاری اولاد کو عذاب نہیں دے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15198
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11685)»
حدیث نمبر: 15199
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي : ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ فَاطِمَةَ حَصَّنَتْ فَرْجَهَا ، وَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَدْخَلَهَا بِإِحْصَانِ فَرْجِهَا وَذُرِّيَّتَهَا الْجَنَّةَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ عَتَّابٍ ، وَقِيلَ : ابْنُ غِيَاثٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” فاطمہ نے اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس کے اپنی شرمگاہ کو حفاظت کرنے کی وجہ سے اسے اور اس کی اولاد کو جنت میں داخل کر دے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن عتاب ہے ، اور ایک روایت کے مطابق ابن غیاث ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15199
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2651) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (406/22)»
حدیث نمبر: 15200
وَعَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ كَانَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " أَيُّ شَيْءٍ خَيْرٌ لِلْمَرْأَةِ ؟ فَسَكَتُوا فَلَمَّا رَجَعَتْ قُلْتُ لِفَاطِمَةَ : أَيُّ شَيْءٍ خَيْرٌ لِلنِّسَاءِ ؟ " قَالَتْ : لَا يَرَاهُنَّ الرِّجَالُ . فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " إِنَّمَا فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّي - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : عورت کے لئے کیا چیز سب سے بہتر ہے ؟ لوگ خاموش رہے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : جب میں واپس گھر گیا تو میں نے فاطمہ سے دریافت کیا ، خواتین کے لئے کون سی چیز سب سے زیادہ بہتر ہے ، تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : یہ کہ مرد انہیں نہ دیکھیں ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : بعد میں میں نے اس بات کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : فاطمہ میری جان کا ٹکڑا ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15200
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2653)»
حدیث نمبر: 15201
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ - كَرَّمَ اللَّهُ وَجْهَهُ - خَطَبَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنْ كُنْتَ تَزَوَّجْهَا فَرُدَّ عَلَيْنَا ابْنَتَنَا " . إِلَى هَاهُنَا يَنْتَهِي حَدِيثُ خَالِدٍ [ الْحَذَّاءِ ] وَفِي الْحَدِيثِ زِيَادَةٌ : قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَاللَّهِ لَا تَجْتَمِعُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبِنْتُ عَدُوِّ اللَّهِ تَحْتَ رَجُلٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ وَاخْتَصَرَهُ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ أَيْضًا ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ تَمَّامٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے ابوجہل کی بیٹی کے لئے شادی کا پیغام دیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر تم نے اس عورت کے ساتھ شادی کرنی ہے تو ہماری بیٹی ہمیں واپس کر دو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خالد حذاء کی نقل کردہ روایت یہاں ختم ہو جاتی ہے ۔ اس حدیث میں یہ بات اضافی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ کی قسم ! اللہ کے رسول کی صاحبزادی ، اللہ کے دشمن کی بیٹی ایک ہی شخص کے نکاح میں اکٹھی نہیں ہوں گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ۔ انہوں نے معجم کبیر میں اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، امام بزار نے بھی اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن تمام ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15201
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (804) أخرجه البزار فى المسند (2652) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير 11975»
حدیث نمبر: 15202
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ قَالَتْ : خَطَبَنِي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَبَلَغَ ذَلِكَ فَاطِمَةَ فَأَتَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : إِنَّ أَسْمَاءَ مُتَزَوِّجَةٌ عَلِيًّا ، فَقَالَ لَهَا : " مَا كَانَ لَهَا أَنْ تُؤْذِيَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِمَا مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے مجھے شادی کا پیغام بھیجا ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اس بات کی اطلاع ملی تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں ، انہوں نے عرض کی : اسماء ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ شادی کرنے لگی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : اس عورت کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کو اذیت پہنچائے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور ان دونوں کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15202
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (405/22)»
حدیث نمبر: 15203
وَعَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ : أَنَّ حَسَنَ بْنَ حَسَنٍ بَعَثَ إِلَى الْمِسْوَرِ يَخْطُبُ ابْنَةً لَهُ ، فَقَالَ : قُلْ لَهُ يُوَافِينِي فِي وَقْتٍ ذَكَرَهُ ، فَلَقِيَهُ فَحَمِدَ اللَّهَ الْمِسْوَرُ ، وَقَالَ : مَا مِنْ سَبَبٍ ، وَلَا نَسَبٍ ، وَلَا صِهْرٍ ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ نَسَبِكُمْ وَصِهْرِكُمْ ، وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " فَاطِمَةُ شِجْنَةٌ مِنِّي ; يَبْسُطُنِي مَا يَبْسُطُهَا ، وَيَقْبِضُنِي مَا يَقْبِضُهَا ، وَإِنَّهُ تَنْقَطِعُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْأَنْسَابُ إِلَّا نَسَبِي وَسَبَبِي " . وَتَحْتُكَ ابْنَتَهَا ، فَلَوْ زَوَّجْتُكَ قَبَضَهَا ذَلِكَ ، فَذَهَبَ عَاذِرًا لَهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أُمُّ بَكْرٍ بِنْتُ الْمِسْوَرِ ، وَلَمْ يُجَرِّحْهَا أَحَدٌ وَلَمْ يُوَثِّقْهَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ سیدنا حسن بن حسن رضی اللہ عنہ نے سیدنا مسور رضی اللہ عنہ کو ان کی صاحبزادی کے لئے شادی کا پیغام دیا ، تو انہوں نے ( قاصد سے ) کہا: تم ان سے کہہ دو کہ وہ میرے ساتھ ملاقات کا وقت طے کر لیں جب ان کی ان سے ملاقات ہوئی ، تو سیدنا مسور رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی اور یہ بات بیان کی کہ آپ کے نسب اور آپ کے ساتھ سسرالی رشتے کے حوالے سے جو تعلق ہو گا میرے نزدیک کوئی سبب کوئی نسب اور کوئی سسرالی رشتہ اس سے زیادہ پسندیدہ نہیں ہے ، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : ” فاطمہ میرے وجود کا حصہ ہے ، وہ چیز مجھے خوش کرتی ہے ، جو اسے خوش کرتی ہے ، اور وہ مجھے ناگوار گزرتی ہے ، جو اسے ناگوار گزرتی ہے ، اور قیامت کے دن میرے سبب اور میرے نسب کے علاوہ تمام نسب منقطع ہو جائیں گے ۔ “ پھر سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اُن کی اولاد میں سے ایک صاحبزادی آپ کی اہلیہ ہیں ، اگر میں نے آپ کی شادی اپنی بیٹی سے کروا دی ، تو اس صاحبزادی کو دکھ ہو گا ، یہ عذر بیان کر کے وہ تشریف لے گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ام بکر بنت مسور ہے کسی نے اس پر جرح نہیں کی اور کسی نے اس کی توثیق بھی نہیں کی ۔ اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15203
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (25/20) احمد (323/4)»
حدیث نمبر: 15204
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " [ لِفَاطِمَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - ] إِنَّ اللَّهَ يَغْضَبُ لِغَضَبِكِ ، وَيَرْضَى لِرِضَاكِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ تمہارے غضب کی وجہ سے غضبناک ہوتا ہے اور تمہاری رضامندی کی وجہ سے راضی ہوتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15204
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (182)»
حدیث نمبر: 15205
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ : إِنِّي لَجَالِسٌ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ أَقْبَلَتْ فَاطِمَةُ ، فَقَامَتْ بِحِذَاءِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُقَابِلَهُ ، فَقَالَ : " ادْنِي يَا فَاطِمَةُ " . فَدَنَتْ دَنْوَةً ، ثُمَّ قَالَ : " ادْنِي يَا فَاطِمَةُ " . فَدَنَتْ دَنْوَةً ، ثُمَّ قَالَ : " ادْنِي يَا فَاطِمَةُ " . فَدَنَتْ دَنْوَةً حَتَّى قَامَتْ بَيْنَ يَدَيْهِ . قَالَ عِمْرَانُ : فَرَأَيْتُ صُفْرَةً قَدْ ظَهَرَتْ عَلَى وَجْهِهَا ، وَذَهَبَ الدَّمُ ، فَبَسَطَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ أَصَابِعِهِ ، ثُمَّ وَضَعَ كَفَّهُ بَيْنَ تَرَائِبِهَا ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ قَالَ : " اللَّهُمَّ مُشْبِعَ الْجَوْعَةِ ، وَقَاضِي الْحَاجَةِ ، وَرَافِعَ الْوَضَعَةِ ، لَا تُجِعْ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ " . فَرَأَيْتُ صُفْرَةَ الْجُوعِ قَدْ ذَهَبَتْ عَنْ وَجْهِهَا وَظَهَرَ الدَّمُ ، ثُمَّ سَأَلْتُهَا بَعْدَ ذَلِكَ ، فَقَالَتْ : مَا جُعْتُ بَعْدَ ذَلِكَ يَا عِمْرَانَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُتْبَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا اسی دوران سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا تشریف لائیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ کر کھڑی ہو گئیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : فاطمہ قریب آ جاؤ ، وہ قریب آ گئیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : فاطمہ قریب آ جاؤ ، وہ مزید قریب آ گئیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : فاطمہ قریب آ جاؤ ، وہ اور قریب آ گئیں ، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑی ہو گئیں ۔ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے ان کے چہرے پر زردی دیکھی ، ان کا خون کم ہو چکا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیاں بڑھائیں اور پھر اپنا ہاتھ ان کے سینے پر رکھا ، پھر آپ نے سر اٹھا کر یہ دعا کی : ” اے اللہ ! بھوک کو ختم کرنے والے ! حاجت کو پوری کرنے والے ! پست کو بلندی عطا کرنے والے ! تو فاطمہ بنت محمد کو بھوکا نہ رکھ ۔ “ راوی کہتے ہیں : تو میں نے دیکھا کہ ان کے چہرے سے بھوک کی زردی ختم ہو گئی اور خون ظاہر ہوا ، اس کے بعد میں نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے بتایا : اے عمران ! اس کے بعد مجھے کبھی بھوک محسوس نہیں ہوئی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عقبہ بن حمید ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15205
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن