کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: حضرت امام حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان
حدیث نمبر: 15169
وَعَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : تُوُفِّيَ مُعَاوِيَةُ فِي رَجَبٍ لِأَرْبَعِ لَيَالٍ خَلَوْنَ مِنْهُ ، وَاسْتُخْلِفَ يَزِيدُ سَنَةَ سِتِّينَ ، وَفِي سَنَةِ إِحْدَى وَسِتِّينَ قُتِلَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ وَأَصْحَابُهُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ - لِعَشْرِ لَيَالٍ خَلَوْنَ مِنَ الْمُحَرَّمِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ ، وَقُتِلَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَأُمُّهُ أُمُّ الْبَنِينَ : عَامِرِيَّةٌ وَجَعْفَرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، وَأُمُّهُ لَيْلَى بِنْتُ مَسْعُودٍ : نَهْشَلِيَّةٌ ، وَعَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ الْأَكْبَرُ ، وَأُمُّهُ لَيْلَى : ثَقَفِيَّةٌ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ ، وَأُمُّهُ : الرَّبَابُ بِنْتُ امْرِئِ الْقَيْسِ : كَلْبِيَّةٌ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحُسَيْنِ لِأُمِّ وَلَدٍ ، وَالْقَاسِمُ بْنُ الْحُسَيْنِ لِأُمِّ وَلَدٍ ، وَعَوْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، وَجَعْفَرُ بْنُ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، وَمُسْلِمُ بْنُ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، وَسُلَيْمَانُ مَوْلَى الْحُسَيْنِ . وَقُتِلُ الْحُسَيْنُ وَهُوَ ابْنُ ثَمَانٍ وَخَمْسِينَ سَنَةً - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ - رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ إِلَى قَائِلِيهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
لیث بن سعد بیان کرتے ہیں : رجب کے جب چار دن باقی رہ گئے تھے ، تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا ، اور ساٹھ ہجری میں یزید خلیفہ بن گیا ۔ اکسٹھ ہجری میں امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما اور ان کے ساتھیوں کو شہید کر دیا گیا ۔ یہ محرم کے دس دن گزرنے کے بعد عاشورہ کے دن کی بات ہے ۔ سیدنا عباس بن علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہما کو شہید کیا گیا ۔ ان کی والدہ سیدہ ام البنین عامریہ رضی اللہ عنہا ہیں ۔ سیدنا جعفر بن علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہما کو شہید کیا گیا ، سیدنا عبداللہ بن علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہما کو ، سیدنا عثمان بن علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو ، سیدنا ابوبکر بن علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا ، ان کی والدہ سیدہ لیلیٰ بنت مسعود نہشلیہ رضی اللہ عنہا ہیں میں ، امام حسین بن علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے علی اکبر کو شہید کیا گیا ، ان کی والدہ لیلیٰ ثقفیہ ہیں ، سیدنا عبداللہ بن حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا ، ان کی والدہ رباب ہیں جو امرء القیس کی صاحبزادی ہیں ، اور بنو کلب سے تعلق رکھتی ہیں ، ابوبکر بن حسین کو شہید کیا گیا جو ایک اُم ولد کے صاحبزادے تھے ، قاسم بن حسین کو شہید کیا گیا جو ایک اُم ولد کے صاحبزادے تھے ، عون بن عبداللہ بن جعفر بن ابوطالب کو شہید کیا گیا ، محمد بن عبداللہ بن جعفر بن ابوطالب کو شہید کیا گیا ، جعفر بن عقیل بن ابوطالب کو شہید کیا گیا ، مسلم بن عقیل بن ابوطالب کو شہید کیا گیا ، امام حسین کے غلام سلیمان کو شہید کیا گیا اور امام حسین کے دودھ پیتے بچے عبداللہ کو شہید کیا گیا ، جب امام حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا ، اس وقت ان کی عمر اٹھاون سال تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس قول کے قائل تک اس روایت کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس قول کے قائل تک اس روایت کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15170
وَعَنْ مُنْذِرٍ الثَّوْرِيِّ قَالَ : كُنَّا إِذَا ذَكَرْنَا حُسَيْنًا وَمَنْ قُتِلَ مَعَهُ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَنَفِيَّةِ : قُتِلَ مَعَهُ سَبْعَةَ عَشَرَ [ شَابًّا ] ، كُلُّهُمِ ارْتَكَضَ فِي رَحِمِ فَاطِمَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَعَنْهُمْ - . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
مندر ثوری بیان کرتے ہیں : جب سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھ شہید ہونے والوں کا ہم ذکر کرتے تھے ، تو محمد بن حنفیہ کہتے تھے : ان کے ساتھ سترہ ایسے نوجوان شہید ہوئے تھے جو سب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی اولاد سے تعلق رکھتے تھے اللہ تعالی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے اور ان لوگوں سے راضی ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، اور ان دونوں میں سے ایک کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، اور ان دونوں میں سے ایک کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15171
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ قَالَ : قُتِلَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ وَهُوَ ابْنُ ثَمَانٍ وَخَمْسِينَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
امام محمد باقر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں : جب سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو شہید کیا گیا تو ان کی عمر اٹھاون سال تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15172
وَعَنِ الْحَسَنِ - يَعْنِي الْبَصْرِيَّ - قَالَ : قُتِلَ مَعَ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ سِتَّةَ عَشَرَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ ، وَاللَّهِ مَا عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ يَوْمَئِذٍ أَهْلُ بَيْتٍ يُشْبِهُونَهُمْ . قَالَ سُفْيَانُ : وَمَنْ يَشُكُّ فِي هَذَا ؟ . ¤
محمد محی الدین
حسن بصری بیان کرتے ہیں : امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے ساتھ ان کے اہلِ خانہ میں سے سولہ افراد شہید کیے گئے اور اس وقت اللہ کی قسم ! روئے زمین پر کوئی گھرانہ ایسا نہیں تھا ، جو ان لوگوں کی مانند ہو ۔ سفیان کہتے ہیں : اس میں شک بھی کس کو ہو سکتا ہے ؟
حدیث نمبر: 15173
عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ : قُتِلَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ يَوْمَ عَاشُورَاءَ فِي سَنَةَ إِحْدَى وَسِتِّينَ ، وَهُوَ ابْنُ ثَمَانٍ وَخَمْسِينَ ، وَكَانَ يَخْضِبُ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
ابوبکر بن ابوشیبہ بیان کرتے ہیں : امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو عاشورہ کے دن اکسٹھ ہجری میں شہید کیا گیا ، اس وقت ان کی عمر اٹھاون سال تھی انہوں نے مہندی اور کتم خضاب کے طور پر لگایا ہوا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 15174
وَعَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عَلِيًّا قُتِلَ وَهُوَ ابْنُ ثَمَانٍ وَخَمْسِينَ ، وَقُتِلَ الْحُسَيْنُ كَذَلِكَ ، وَمَاتَ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ وَهُوَ كَذَلِكَ . ¤
محمد محی الدین
امام جعفر صادق رحمہ اللہ اپنے والد ( امام باقر رحمہ اللہ ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تھے اس وقت ان کی عمر اٹھاون سال تھی اور جب امام حسین رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو اس وقت ان کی عمر بھی اتنی ہی تھی اور جب امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو اس وقت ان کی عمر بھی اتنی ہی تھی ۔
حدیث نمبر: 15175
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ قَالَ : قُتِلَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ كَثِيرٌ ، فَبَاعَ فِيهَا عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ عَيْنَ كَذَا وَعَيْنَ كَذَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ نُوحُ بْنُ دَرَّاجٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
امام زین العابدین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو شہید کر دیا گیا ، تو ان کے ذمہ بہت سا قرض تھا ، تو امام زین العابدین رضی اللہ عنہ نے فلاں فلاں جگہ کو فروخت کر کے وہ قرض ادا کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نوح بن دراج ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نوح بن دراج ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 15176
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمَخْزُومِيِّ قَالَ : لَمَّا أُدْخِلَ ثَقَلُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ عَلَى يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ وَوُضِعَ رَأْسُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، بَكَى يَزِيدُ ، وَقَالَ : ¤ نُفَلِّقُ هَامًا مِنْ رِجَالٍ أَحِبَّةٍ إِلَيْنَا وَهُمْ كَانُوا أَعَقَّ وَأَظْلَمَا . ¤ أَمَا وَاللَّهِ لَوْ كُنْتُ صَاحِبَكَ مَا قَتَلْتُكَ أَبَدًا . فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ : لَيْسَ هَكَذَا . قَالَ يَزِيدُ : كَيْفَ يَا ابْنَ أُمِّ ؟ قَالَ : ( مَا أَصَابَ مِنْ مُصِيبَةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي أَنْفُسِكُمْ إِلَّا فِي كِتَابٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ نَبْرَأَهَا إِنَّ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ ) . وَعِنْدَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أُمِّ الْحَكَمِ ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ - يَعْنِي ابْنَ أُمِّ الْحَكَمِ - : ¤ لَهَامٌ بِجَنْبِ الطَّفِّ أَدْنَى قَرَابَةً مِنِ ابْنِ زِيَادِ الْعَبْدِ ذِي النَّسَبِ الْوَغْلِ ¤ سُمَيَّةُ أَمْسَى نَسْلُهَا عَدَدَ الْحَصَى وَبِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ لَيْسَ لَهَا نَسْلُ ¤ . ¤ فَرَفَعَ يَزِيدُ يَدَهُ ، فَضَرَبَ صَدْرَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَقَالَ : اسْكُتْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ هُوَ ابْنُ زُبَالَةَ ، ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن حسن مخزومی بیان کرتے ہیں : جب امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے اہل خانہ کو یزید بن معاویہ کے پاس لایا گیا ، اور ان کا سر اس کے سامنے رکھا گیا ، تو یزید رو پڑا اور اس نے یہ شعر پڑھا : ” ہم اپنے نزدیک چند محبوب لوگوں کی وجہ سے سر کٹوا لیتے ہیں ، حالانکہ وہ لوگ زیادہ نافرمان اور زیادہ ظالم ہوتے ہیں ۔ “ پھر اس نے کہا: اللہ کی قسم ! اگر میں آپ کے سامنے ہوتا تو میں آپ کو کبھی شہید نہ کرتا ، تو امام زین العابدین رضی اللہ عنہ نے کہا: ایسا نہیں ہے ، یزید نے کہا: وہ کیسے ؟ امام زین العابدین رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی : ” زمین میں ، یا تمہارے وجودوں میں جو مصیبت لاحق ہوتی ہے ، تو وہ ایک تحریر میں ہے ، اس سے پہلے کہ ہم اس کو پیدا کریں ، اور یہ ( سب پہلے سے تحریر کر دینا ) اللہ تعالیٰ کے لئے آسان ہے ۔ “ اس وقت وہاں عبدالرحمن بن ام حکم موجود تھے ، تو عبدالرحمن بن ام حکم نے یہ اشعار پڑھے : ” طف “ کے مقام پر موجود سر ، زیادہ قریب کی رشتہ داری رکھتا تھا ، ابن زیاد غلام کی بہ نسبت ، جس کا نسب ہی مشکوک ہے ، سمیہ کی اولاد ، تو کنکریوں کی تعداد میں بے شمار ہو گئی ہے ، لیکن اللہ کے رسول کی صاحبزادی کی نسل ( یعنی ) اولاد زندہ نہیں رہی ۔ “ یزید نے ہاتھ اٹھا کر عبدالرحمن کے سینے پر مارا اور بولا: تم خاموش رہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے محمد بن حسن نامی راوی سے مراد محمد بن حسن بن زبالہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے محمد بن حسن نامی راوی سے مراد محمد بن حسن بن زبالہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 15177
وَعَنْ أَبِي قَبِيلٍ قَالَ : لَمَّا قُتِلَ الْحُسَيْنُ احْتَزُّوا رَأَسَهُ ، وَقَعَدُوا فِي أَوَّلِ مَرْحَلَةٍ يَشْرَبُونَ النَّبِيذَ ، يَتَحَيَّوْنَ بِالرَّأْسِ ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ قَلَمٌ مِنْ حَدِيدٍ مِنْ حَائِطٍ ، فَكَتَبَ بِسَطْرِ دَمٍ : ¤ أَتَرْجُو أُمَّةٌ قَتَلَتْ حُسَيْنًا شَفَاعَةَ جَدِّهِ يَوْمَ الْحِسَابِ . ¤ فَهَرَبُوا وَتَرَكُوا الرَّأْسَ ، ثُمَّ رَجَعُوا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
ابوقبیل بیان کرتے ہیں : جب امام حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا ، تو لوگوں نے ان کا سر اتار لیا ، وہ لوگ پہلے مرحلے پر بیٹھ کر نبیذ پینے لگے اور امام حسین رضی اللہ عنہ کے سر کے حوالے سے ذکر کرنے لگے ، تو لوہے کا ایک قلم نکل کر ان کے سامنے آیا اور اس نے خون کے ساتھ دیوار پر یہ شعر لکھا : ” وہ امت جس نے حسین کو شہید کیا ہے ، کیا وہ قیامت کے دن ان کے نانا کی شفاعت کی امید رکھے گی ؟ “ تو وہ لوگ بھاگ گئے اور سر کو وہاں چھوڑ دیا پھر وہ لوگ واپس آئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 15178
وَعَنْ إِمَامٍ لِبَنِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَشْيَاخٍ لَهُ قَالَ : غَزَوْنَا الرُّومَ ، فَنَزَلُوا فِي كَنِيسَةٍ مِنْ كَنَائِسِهِمْ ، قَرَأُوا فِي حَجَرٍ مَكْتُوبٍ : ¤ أَتَرْجُو أُمَّةٌ قَتَلَتْ حُسَيْنًا شَفَاعَةَ جَدِّهِ يَوْمَ الْحِسَابِ . ¤ فَسَأَلْنَاهُمْ : مُنْذُ كَمْ بُنِيَتْ هَذِهِ الْكَنِيسَةُ ؟ قَالُوا : قَبْلَ أَنْ يُبْعَثَ نَبِيُّكُمْ بِثَلَاثِ مِائَةِ سَنَةٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
بنو سلیمان کے امام اپنے بزرگوں کے حوالے سے یہ بات بیان کرتے ہیں : ہم لوگ روم کی سرزمین پر جنگ میں حصہ لے رہے تھے ۔ ان لوگوں نے ایک گرجے میں رہائش اختیار کی وہاں ایک پتھر پر یہ شعر لکھا ہوا تھا : ” وہ امت جس نے حسین کو شہید کیا ہو ، کیا وہ قیامت کے دن ان کے نانا سے شفاعت کی امید رکھے گی ؟ “ راوی کہتے ہیں : ہم نے ان لوگوں سے دریافت کیا کہ یہ گرجا کب بنا تھا ؟ تو لوگوں نے بتایا : یہ تم لوگوں کے نبی کی بعثت سے تین سو سال کا پہلے کا بنا ہوا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 15179
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : سَمِعْتُ الْجِنَّ تَنُوحُ عَلَى الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے جنات کو امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما پر نوحہ کرتے ہوئے سنا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15180
وَعَنْ مَيْمُونَةَ قَالَتْ : سَمِعْتُ الْجِنَّ تَنُوحُ عَلَى الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیده میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے جنات کو امام حسین رضی اللہ عنہ پر نوحہ کرتے ہوئے سنا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15181
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : مَا سَمِعْتُ نَوْحَ الْجِنِّ مُنْذُ قُبِضَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا اللَّيْلَةَ ، وَمَا أَرَى ابْنِي إِلَّا قُبِضَ - تَعْنِي الْحُسَيْنَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَقَالَتْ لِجَارِيَتِهَا : اخْرُجِي اسْأَلِي ، فَأُخْبِرَتْ أَنَّهُ قَدْ قُتِلَ ، وَإِذَا جِنِّيَّةٌ تَنُوحُ : ¤ أَلَا يَا عَيْنُ فَاحْتَفِلِي بِجَهْدِ وَمَنْ يَبْكِي عَلَى الشُّهَدَاءِ بَعْدِي عَلَى رَهْطٍ تَقُودُهُمُ الْمَنَايَا ¤ إِلَى مُتَجَبِّرٍ فِي مُلْكِ عَبْدِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ ثَابِتِ بْنِ هُرْمُزَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد میں نے کبھی جنات کا نوحہ نہیں سنا ، ایک رات ایسا ہوا تو مجھے اندازہ ہو گیا کہ میرا بیٹا انتقال کر گیا ہے ۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی مراد امام حسین رضی اللہ عنہ تھے ، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اپنی کنیز سے کہا: تم جاؤ اور اس بارے میں دریافت کرو ، تو انہیں یہ بات بتائی گئی کہ امام حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا ہے ، وہاں ایک جن نے نوحہ کرتے ہوئے یہ اشعار پڑھے : ” خبردار ! اے آنکھ تم خوب روؤ ! اور میرے بعد شہداء پر کون روئے گا ؟ ان پر جنہیں ایک غلام کی حکومت میں ، تقدیر موت کے منہ میں لے گئی “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن ثابت بن ہرمز ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن ثابت بن ہرمز ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 15182
وَعَنْ أَبِي جَنَابٍ الْكَلْبِيِّ قَالَ : حَدَّثَنِي الْجَصَّاصُونَ قَالُوا : كُنَّا إِذَا خَرَجْنَا إِلَى الْجَبَّانِ بِاللَّيْلِ عِنْدَ مَقْتَلِ الْحُسَيْنِ سَمِعْنَا الْجِنَّ يَنُوحُونَ عَلَيْهِ وَيَقُولُونَ : ¤ مَسَحَ الرَّسُولُ جَبِينَهُ فَلَهُ بَرِيقٌ فِي الْخُدُودِ أَبَوَاهُ مِنْ عُلْيَا قُرَيْ ¤ شٍ جَدُّهُ خَيْرُ الْجُدُودِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَأَبُو جَنَابٍ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوجناب کلبی بیان کرتے ہیں : مجھے لوگوں نے یہ بات بتائی ہے کہ جب ہم لوگ نکل کر رات کے وقت امام حسین رضی اللہ عنہ کی قتل گاہ کی طرف گئے ، تو ہم نے جنوں کو ان پر نوحہ کرتے ہوئے سنا وہ یہ کہہ رہے تھے : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی پیشانی پر ہاتھ پھیرا تھا ، تو ان کے رخساروں میں اس کی چمک موجود تھی ، ان کے والدین قریش کے بڑوں میں سے تھے ، اور ان کے نانا ، سب اجداد سے بہتر تھے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں اور ابوجناب نامی راوی مدلس ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں اور ابوجناب نامی راوی مدلس ہے ۔
حدیث نمبر: 15183
وَعَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حُمَيْدٍ الْجَهْمِيِّ - مِنْ وَلَدِ أَبِي جَهْمِ بْنِ حُذَيْفَةَ - أَنَّهُ كَانَ يُنْشِدُ فِي قَتْلِ الْحُسَيْنِ ، وَقَالَ هَذَا الشِّعْرَ لِزَيْنَبَ بِنْتِ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ : ¤ مَاذَا تَقُولُونَ إِنْ قَالَ النَّبِيُّ لَكُمْ مَاذَا فَعَلْتُمْ وَأَنْتُمْ آخِرُ الْأُمَمِ بِعِتْرَتِي وَبِأَنْصَارِي وَذُرِّيَتِي ¤ مِنْهُمْ أُسَارَى وَقَتْلَى ضُرِّجُوا بِدَمِ مَا كَانَ هَذَا جَزَائِي إِذْ نَصَحْتُ لَكُمْ ¤ أَنْ تَخْلُفُونِي بِسُوءٍ فِي ذَوِي رَحِمِي . ¤ فَقَالَ أَبُو الْأَسْوَدِ الدُّؤَلِيُّ : نَقُولُ : ( رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ ) . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادٍ مُنْقَطِعٍ . ¤
محمد محی الدین
أحمد بن محمد بن حمید جہمی جو سیدنا ابوجہم بن حذیفہ رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے ہیں ، انہوں نے امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بارے میں یہ اشعار کہے ، اور یہ بتایا : یہ اشعار سیدہ زینب بنت عقیل بن ابوطالب رضی اللہ عنہما کے ہیں : ” اس وقت تم لوگ کیا کہو گے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تم لوگوں سے پوچھ لیا : تم آخری امت ہو ، تو تم نے میری عترت ، میرے انصار اور میری ذریت کے ساتھ کیا کیا ؟ ان میں سے کچھ کو قیدی بنا لیا گیا اور کچھ قتل ہو کر خون میں لت پت ہو گئے ، میں نے تمہاری جو خیرخواہی کی تھی کیا اس کا یہی بدلہ ہے کہ تم میرے بعد میرے رشتہ داروں کے ساتھ اس طرح کا سلوک کرو ۔ “ تو ابواسود دؤیلی نے کہا: ہم یہ کہتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اے ہمارے پروردگار ! ہم نے اپنے اوپر ظلم کیا ، اگر تو نے ہماری مغفرت نہ کی اور ہم پر رحم نہ کیا ، تو ہم خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائیں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے منقطع سند کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے منقطع سند کے ساتھ نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 15184
وَرَوَاهُ بِإِسْنَادٍ آخَرَ أَجْوَدَ مِنْهُ ، وَزَادَ فِيهِ : فَقَالَ أَبُو الْأَسْوَدِ الدُّؤَلِيُّ : ¤ أَقُولُ وَزَادَنِي حَنَقًا وَغَيْظًا أَزَالَ اللَّهُ مُلْكَ بَنِي زِيَادِ وَأَبْعَدَهُمْ كَمَا بَعُدُوا وَخَانُوا ¤ كَمَا بَعِدَتْ ثَمُودُ وَقَوْمُ عَادِ وَلَا رَجَعَتْ رَكَائِبُهُمْ إِلَيْهِمْ ¤ إِذَا قَفَّتْ إِلَى يَوْمِ التَّنَادِي . ¤
محمد محی الدین
انہوں نے اسے ایک اور سند کے ساتھ نقل کیا ہے ، جو زیادہ عمدہ ہے ، اور اس میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ ابواسود دؤیلی نے کہا: ” میں یہ کہتا ہوں ، جبکہ میرا غصہ اور فریاد زیادہ ہو گئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ زیاد کی اولاد کی حکومت کو ختم کر دے ، اور جس طرح انہوں نے عہد شکنی کی اور خیانت کی تو انہیں یوں برباد کر دے جس طرح قوم ثمود اور قوم عاد برباد ہو گئی تھیں ، اور ان کی سواریاں ، جب وہ ٹھہر جائیں ، تو قیامت کے دن تک ان کی طرف واپس نہ آئیں ۔ “
حدیث نمبر: 15185
وَعَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْهَيْثَمِ قَالَ : كَانَ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْتَلِمَ الْحَجَرَ أَوْسَعَ لَهُ النَّاسُ ، وَالْفَرَزْدَقُ بْنُ غَالِبٍ يَنْظُرُ إِلَيْهِ ، فَقَالَ رَجُلٌ : [ أَبَا ] فِرَاسُ ، مَنْ هَذَا ؟ فَقَالَ الْفَرَزْدَقُ : ¤ هَذَا الَّذِي تَعْرِفُ الْبَطْحَاءُ وَطْأَتُهُ وَالْبَيْتُ يَعْرِفُهُ وَالْحِلُّ وَالْحَرَمُ هَذَا ابْنُ خَيْرِ عِبَادِ اللَّهِ كُلِّهِمُ ¤ هَذَا التَّقِيُّ النَّقِيُّ الطَّاهِرُ الْعَلَمُ يَكَادُ يُمْسِكُهُ عِرْفَانُ رَاحَتِهِ ¤ وَرُكْنُ الْحَطِيمِ لَدَيْهِ حِينَ يَسْتَلِمُ إِذَا رَأَتْهُ قُرَيْشٌ قَالَ قَائِلُهَا ¤ إِلَى مَكَارِمِ هَذَا يَنْتَهِي الْكَرَمُ يُفْضِي حَيَاءً وَيُفْضِي مِنْ مَهَابَتِهِ ¤ فَلَا يُكَلَّمُ إِلَّا حِينَ يَبْتَسِمُ فِي كَفِّهِ خَيْزُرَانٌ رِيحُهُ عَبِقُ ¤ بِكَفِّ أَرْوَعَ فِي عِرْنِينِهِ شَمَمُ مُشْتَقَّةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ نَبْعَتُهُ ¤ طَابَتْ عَنَاصِرُهُ وَالْخِيَمُ وَالشِّيَمُ لَا يَسْتَطِيعُ جَوَادٌ بُعْدَ غَايَتِهِمْ ¤ وَلَا يُدَانِيهِمُ قَوْمٌ وَإِنْ كَرِمُوا أَيُّ الْعَشَائِرِ لَيْسَتْ فِي رِقَابِهِمُ ¤ لِأَوَّلِيَّةِ هَذَا أَوَّلُهُ نَعَمُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سلیمان بن ہیثم بیان کرتے ہیں : امام زین العابدین رضی اللہ عنہ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے جب انہوں نے حجر اسود کا استلام کرنے کا ارادہ کیا ، تو لوگوں نے ان کے لئے جگہ بنا دی ۔ فرزدق نامی شاعر یہ منظر دیکھ رہا تھا کسی شخص نے کہا: اے ابوفراس ! یہ کون صاحب ہیں ؟ تو فرزدق نے یہ اشعار کہے : ” یہ وہ ہیں جن کی چاپ کو بطحاء کی وادی پہچانتی ہے ، بیت اللہ ، حل اور حرم ( کے علاقے ) انہیں پہچانتے ہیں ، یہ اللہ تعالیٰ کے تمام بندوں سے زیادہ بہتر ہستی کے صاحبزادے ہیں ، یہ پرہیزگار ہیں ، صاف ستھرے ہیں ، پاک ہیں ، نمایاں ہیں ، ممکن ہے کہ ان کے استلام کرنے کے وقت ، ان کی ہتھیلی کو پہچان کر ، حطیم کا کونہ ان کو تھام لے ، قریش نے جب ان کو دیکھا تو ان میں سے کسی کہنے والے نے کہا: ان کی کرم نوازی پر آ کر ، کرم ختم ہو جاتا ہے ، یہ حیا کی وجہ سے نگاہیں جھکا کر رکھتے ہیں اور ان کی ہیبت کی وجہ سے دوسروں کی نگاہیں ( ان کے آگے ) جھکی رہتی ہیں ، تو ان کے ساتھ کلام صرف اس وقت کیا جاتا ہے ، جب یہ مسکرا دیتے ہیں ، ان کے ہاتھ میں خیزران ( نامی درخت کی چھڑی ) ہے ، ان کی خوشبو بہترین ہے اور ان کی ہتھیلی کی خوشبو ہر طرف پھیلتی ہے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اوصاف حاصل کیے ہیں ، ان کے عناصر اور ان کی خوبو پاکیزہ ہے ، کوئی تیز رفتار ، ان کے مقام تک نہیں پہنچ سکتا ، اور کوئی بھی قوم ، خواہ وہ کتنی ہی معزز کیوں نہ ہو ، ان کے قریب نہیں پہنچ سکتی ، کون سا خاندان ایسا ہے ، جس کی گردن میں ان کی اولیت اور ان کے احسان کا پٹہ نہ ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 15186
وَعَنْ سَفِيانٍ قَالَ : قَلْتُ لِعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ : رَأَيْتُ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ ؟ قَالَ : أَسُودُ الرَّأْسِ وَاللِّحْيَةِ ، إِلَّا شَعَرَاتٍ هَاهُنَا فِي مُقَدَّمِ لِحْيَتِهِ ، فَلَا أَدْرِي أَخَضَبَ وَتَرَكَ ذَلِكَ الْمَكَانَ تَشَبُّهًا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوْ لَمْ يَكُنْ شَابَ مِنْهُ غَيْرُ ذَلِكَ ؟ قَالَ : وَرَأَيْتُ حَسَنًا وَقَدْ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ ، فَسَجَدَ بَيْنَ الْإِمَامِ وَبَيْنَ بَعْضِ النَّاسِ ، فَقِيلَ لَهُ : اجْلِسْ ، فَقَالَ : قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سفیان بیان کرتے ہیں : میں نے عبیداللہ بن ابویزید سے دریافت کیا ، تم نے امام حسین رضی اللہ عنہ کی زیارت کی ہے ؟ اس نے بتایا : ان کے سر اور داڑھی کے بال سیاہ تھے صرف یہاں پر داڑھی کے آگے والی طرف کچھ بال سفید تھے ، مجھے نہیں معلوم کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مشابہت اختیار کرتے ہوئے اس جگہ پر خضاب لگایا تھا یا اس کے علاوہ ان کا کوئی اور بال سفید ہی نہیں ہوا تھا ۔ انہوں نے یہ بات بتائی کہ میں نے سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کو دیکھا نماز کھڑی ہو گئی ، تو وہ امام اور کچھ لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے ان سے کہا: گیا آپ بیٹھ جائیں تو انہوں نے کہا: نماز کھڑی ہو چکی ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15187
وَعَنْ مُصْعَبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : حَجَّ الْحُسَيْنُ خَمْسًا وَعِشْرِينَ حَجَّةً مَاشِيًا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادٍ مُنْقَطِعٍ . ¤
محمد محی الدین
مصعب بن عبداللہ بیان کرتے ہیں : امام حسین رضی اللہ عنہ نے پیدل پچیس حج کیے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے منقطع سند کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے منقطع سند کے ساتھ نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 15188
وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ قَالَ : خَرَجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ بَيْتِ عَائِشَةَ ، فَمَرَّ عَلَى بَيْتِ فَاطِمَةَ ، فَسَمِعَ حُسَيْنًا يَبْكِي ، فَقَالَ : " أَلَمْ تَعْلَمِي أَنَّ بُكَاءَهُ يُؤْذِينِي ؟ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي حَدِيثِ أَبِي أُمَامَةَ الطَّوِيلِ فِي الْإِخْبَارِ بِقَتْلِهِ النَّهْيَ عَنْ بُكَائِهِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - . وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ بَيْعَتِهِ فِي الْبَيْعَةِ . ¤
محمد محی الدین
یزید بن ابوزیاد بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر سے باہر آئے آپ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر کے پاس سے گزرے آپ نے سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کو روتے ہوئے سنا تو فرمایا : کیا تم یہ بات نہیں جانتی ہو کہ اس کا رونا مجھے تکلیف دیتا ہے ؟
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ۔ اس سے پہلے سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ایک طویل حدیث گزر چکی ہے ، جس میں انہیں رلانے کی ممانعت کا ذکر ہے ، جس میں امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کی اطلاع کا ذکر ہے اور بیعت سے متعلق باب میں ، ان کی بیعت سے متعلق روایت گزر چکی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ۔ اس سے پہلے سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ایک طویل حدیث گزر چکی ہے ، جس میں انہیں رلانے کی ممانعت کا ذکر ہے ، جس میں امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کی اطلاع کا ذکر ہے اور بیعت سے متعلق باب میں ، ان کی بیعت سے متعلق روایت گزر چکی ہے ۔