حدیث نمبر: 15102
عَنْ بِشْرِ بْنِ غَالِبٍ قَالَ : كُنْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ ، فَرَأَى الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ وَقَالَ : يَا أَبَا عَبْدَ اللَّهِ ، لَقَدْ رَأَيْتُكَ عَلَى يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ خَضَّبْتَهُمَا دَمًا حِينَ أَتَى بِكَ حِينَ وُلِدْتَ فَسُرِرْتُ ، فَلَفَّكَ فِي خِرْقَةٍ ، وَلَقَدْ تَفَلَ فِي فِيكَ ، وَلَقَدْ تَكَلَّمَ بِكَلَامٍ لَا أَدْرِي مَا هُوَ ، وَلَقَدْ كَانَتْ فَاطِمَةُ سَبَقَتْهُ بِسُرَّةِ الْحَسَنِ ، فَقَالَ : " لَا تَسْبِقِينِي بِهَذَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ضِرَارُ بْنُ صُرَدَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
#N/A
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15102
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 15103
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ الْحِزَامِيِّ قَالَ : كَانَ جَسَدُ الْحُسَيْنِ شِبْهَ جَسَدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ نَحْوَ هَذَا . ¤
محمد محی الدین
محمد بن ضحاک بن عثمان حزامی بیان کرتے ہیں : سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا جسم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم سے مشابہت رکھتا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ اس سے پہلے اس نوعیت کی احادیث گزر چکی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15103
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2845)»
حدیث نمبر: 15104
وَعَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : لَمْ يَكُنْ بَيْنَ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ إِلَّا طُهْرًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيٍّ لَمْ يُدْرِكْ ذَلِكَ . ¤
محمد محی الدین
امام جعفر صادق رحمہ اللہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ” سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے درمیان صرف ایک طہر کا فرق ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، البتہ امام باقر رحمہ اللہ نے اس واقعہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15104
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2766)»
حدیث نمبر: 15105
وَعَنْ عَلِيٍّ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي طَالِبٍ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِلْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ : " مَنْ أَحَبَّ هَذَا فَقَدَ أَحَبَّنِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْحَارِثُ الْأَعْوَرُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے بارے میں فرمایا : ” جو شخص اس سے محبت رکھے گا ، وہ مجھ سے محبت رکھے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حارث اعور ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15105
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2643)»
حدیث نمبر: 15106
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : كَانَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَ يُحِبُّهُ حُبًّا شَدِيدًا ، فَقَالَ : أَذْهَبُ إِلَى أُمِّي ، فَقُلْتُ : أَذْهَبُ مَعَهُ ؟ فَجَاءَتْ بَرْقَةٌ مِنَ السَّمَاءِ ، فَمَشَى فِي ضَوْئِهَا حَتَّى بَلَغَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُثْمَانَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ، ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شدید محبت کرتے تھے ، انہوں نے دریافت کیا : کیا میں اپنی والدہ کے پاس چلا جاؤں ؟ ( راوی کہتے ہیں : ) میں نے عرض کی : میں ان کے ساتھ چلا جاتا ہوں ، راوی کہتے ہیں : تو اسی دوران آسمان سے ایک روشنی آئی اور وہ اس کی روشنی میں چلتے ہوئے اپنی منزل تک پہنچ گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عثمان ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15106
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2660)»
حدیث نمبر: 15107
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : جَاءَ الْحُسَيْنُ يَشْتَدُّ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي ، فَالْتَزَمَ عُنُقَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَامَ بِهِ وَأَخَذَ بِيَدِهِ ، فَلَمْ يَزَلْ مُمْسِكَهَا حَتَّى رَكَعَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ مُخْتَلَفٌ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ دوڑتے ہوئے آئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت نماز ادا کر رہے تھے ۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن پکڑ لی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے ، آپ نے ان کا ہاتھ پکڑا اور آپ نے مسلسل انہیں پکڑے رکھا ، یہاں تک کہ آپ رکوع میں چلے گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15107
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2657)»
حدیث نمبر: 15108
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَّجَ مَا بَيْنَ فَخِذَيِ الْحُسَيْنِ ، وَقَبَّلَ زَبِيبَتَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے دونوں زانوں کو کھولا اور ان کے زبیبہ کو بوسہ دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15108
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2658)»
حدیث نمبر: 15109
وَعَنْ رَجَاءِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ : كُنْتُ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ مَرَّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ فَسَلَّمَ ، فَرَدَّ عَلَيْهِ الْقَوْمُ السَّلَامَ ، وَسَكَتَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، ثُمَّ رَفَعَ ابْنُ عَمْرٍو صَوْتَهُ بَعْدَمَا سَكَتَ الْقَوْمُ ، فَقَالَ : وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى الْقَوْمِ ، فَقَالَ : أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَحَبِّ أَهْلِ الْأَرْضِ إِلَى أَهْلِ السَّمَاءِ ؟ قَالُوا : بَلَى . قَالَ : هُوَ هَذَا الْمُقَفِّي ، وَاللَّهِ مَا كَلَّمْتُهُ كَلِمَةً وَلَا كَلَّمَنِي كَلِمَةً مُنْذُ لَيَالِي صِفِّينَ ، وَوَاللَّهِ لَأَنْ يَرْضَى عَنِّي أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَكُونَ لِي مِثْلُ أَحَدٍ . فَقَالَ لَهُ أَبُو سَعِيدٍ : أَلَا تَغْدُو إِلَيْهِ ؟ قَالَ : بَلَى ، فَتَوَاعَدُوا أَنْ يَغْدُوَا إِلَيْهِ ، وَغَدَوْتُ مَعَهُمَا ، فَاسْتَأْذَنَ أَبُو سَعِيدٍ فَأَذِنَ فَدَخَلْنَا إِلَّا ابْنَ عَمْرٍو ، فَلَمْ يَزَلْ بِهِ حَتَّى أَذِنَ لَهُ الْحُسَيْنُ ، فَدَخَلَ ، فَلَمَّا رَآهُ زَحَلَ لَهُ ، وَهُوَ جَالِسٌ إِلَى جَنْبِ الْحُسَيْنِ فَمَدَّهُ الْحُسَيْنُ إِلَيْهِ ، فَقَامَ ابْنُ عَمْرٍو فَلَمْ يَجْلِسْ ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ خَلَا عَنْ أَبِي سَعِيدٍ فَأَزْحَلَ لَهُ ، فَجَلَسَ بَيْنَهُمَا ، فَقَصَّ أَبُو سَعِيدٍ الْقِصَّةَ ، فَقَالَ : أَكَذَاكَ يَا ابْنَ عَمْرٍو ؟ أَتَعْلَمُ أَنِّي أَحَبُّ أَهْلِ الْأَرْضِ إِلَى أَهْلِ السَّمَاءِ ؟ قَالَ : إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ ، إِنَّكَ لَأَحَبُّ أَهْلِ الْأَرْضِ إِلَى أَهْلِ السَّمَاءِ . قَالَ : فَمَا حَمَلَكَ عَلَى أَنْ قَاتَلَتَنِي وَأَبِي يَوْمَ صِفِّينَ ؟ وَاللَّهِ لَأَبِي خَيْرٌ مِنِّي . قَالَ : أَجَلْ ، وَلَكِنَّ عَمْرًا شَكَانِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : إِنْ عَبْدَ اللَّهِ يَصُومُ النَّهَارَ وَيَقُومُ اللَّيْلَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " صَلِّ وَنَمْ ، وَصُمْ وَأَفْطِرْ ، وَأَطِعْ عَمْرًا " . فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ صِفِّينَ ، أَقْسَمَ عَلَيَّ ، وَاللَّهِ مَا كَثَّرْتُ لَهُمْ سَوَادًا ، وَلَا اخْتَرَطْتُ لَهُمْ سَيْفًا ، وَلَا طَعَنْتُ بِرُمْحٍ ، وَلَا رَمَيْتُ بِسَهْمٍ . فَقَالَ الْحَسَنُ : أَمَا عَلِمْتَ أَنَّهُ لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيَةِ الْخَالِقِ ؟ قَالَ : بَلَى . قَالَ : كَأَنَّهُ قَبِلَ مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ ، وَفِيهِ لِينٌ ، وَهُوَ حَافِظٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ مِنَ الْبَزَّارِ فِي تَرْجَمَةِ الْحَسَنِ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
رجاء بن ربیعہ بیان کرتے ہیں : میں مسجد نبوی میں موجود تھا ، اسی دوران سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما وہاں سے گزرے ، انہوں نے سلام کیا ، حاضرین نے انہیں سلام کا جواب دیا ، سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ خاموش رہے ، پھر سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے خاموش ہونے کے بعد آواز بلند کی اور بولے : آپ پر بھی سلام ہو ، اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں ، پھر وہ حاضرین کی طرف متوجہ ہوئے اور بولے : کیا میں تمہیں یہ بات نہ بتاؤں کہ اہل آسمان کے نزدیک اہل زمین میں سے سب سے زیادہ محبوب کون ہے ؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں ، تو انہوں نے فرمایا : یہ والے صاحب جو ابھی چلے گئے ہیں ، اللہ کی قسم ! جنگ صفین کے بعد سے لے کر ابھی تک میں نے ان کے ساتھ کوئی بات نہیں کی اور انہوں نے میرے ساتھ کوئی بات نہیں کی اور اللہ کی قسم ! اگر یہ مجھ سے راضی ہو جائیں تو یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہو گا کہ مجھے احد پہاڑ جتنی دولت مل جائے ، سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ ان کی طرف چلیں گے ، انہوں نے کہا: ٹھیک ہے ، پھر انہوں نے یہ طے کیا کہ اگلے دن وہ سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کے پاس جائیں گے ، راوی کہتے ہیں : ان دونوں صاحبان کے ساتھ میں بھی گیا ، سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت مانگی ، سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے انہیں اجازت دے دی ، ہم لوگ اندر داخل ہوئے ، سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ اندر داخل نہیں ہوئے وہ باہر ہی رہے ، یہاں تک کہ سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے انہیں بھی اجازت دی تو وہ اندر آئے ، جب سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھا تو ان کے لئے جگہ کی اور وہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے پہلو میں آ کے بیٹھ گئے ، سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف نگاہ کی ، سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے تھے وہ بیٹھے نہیں تھے ، جب انہوں نے دیکھا تو سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے ہٹ کے ان کے لئے جگہ بنائی اور وہ ان دونوں کے درمیان بیٹھ گئے ۔ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے پورا واقعہ بیان کیا ، تو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : اے ابن عمرو ! کیا اسی طرح ہے ؟ کیا آپ یہ بات جانتے ہیں کہ میں اہل آسمان کے نزدیک اہل زمین میں سب سے زیادہ محبوب ہوں ؟ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں ! رب کعبہ کی قسم ! آپ اہل آسمان کے نزدیک اہل زمین میں سے سب سے زیادہ محبوب ہیں ، سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : پھر آپ نے جنگ صفین کے موقع پر میرے والد کے ساتھ جنگ کیوں کی تھی ، اللہ کی قسم ! میرے والد مجھ سے بہتر ہیں ؟ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں لیکن سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ میری شکایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی اور یہ کہا: عبداللہ دن کے وقت روزہ رکھ لیتا ہے اور رات کو نفل پڑھتا رہتا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم رات کے وقت نفل پڑھ بھی لیا کرو اور سو بھی جایا کرو ، نفلی روزہ رکھا بھی کرو اور چھوڑ بھی دیا کرو ، اور عمرو کی بات ماننا ۔ جب جنگ صفین کا موقع آیا تو سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے مجھے قسم دی اللہ کی قسم ! میں نے ان لوگوں کی تعداد میں اضافہ نہیں کیا اور نہ ہی میں نے ان لوگوں کے لئے تلوار کو سونتا ، نہ ہی ان کی خاطر نیزے کے ذریعے حملہ کیا ، نہ ان کی خاطر کوئی تیر پھینکا ، تو سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا آپ یہ بات نہیں جانتے کہ خالق کی معصیت میں مخلوق کی اطاعت نہیں کی جاتی ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں ! راوی کہتے ہیں : گویا انہوں نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی اس بات کو قبول کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن سعید بن بشیر ہے اور اس میں کمزوری پائی جاتی ہے اور وہ حافظ ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ اس سے پہلے سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کے حالات میں امام بزار کی نقل کردہ روایت گزر چکی ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15109
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 15110
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، فَلْيَنْظُرْ إِلَى الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ " . ¤ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُهُ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الرَّبِيعِ بْنِ سَعْدٍ ، وَقِيلَ : ابْنُ سَعِيدٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” جو شخص یہ چاہتا ہو کہ وہ اہل جنت سے تعلق رکھنے والے کسی شخص کو دیکھے تو وہ سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو دیکھ لے ۔ “ ( سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف ربیع بن سعد کا معاملہ مختلف ہے اور ایک قول کے مطابق یہ ربیع بن سعید ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15110
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الأوسط (1874)»
حدیث نمبر: 15111
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنَّ مَلَكَ الْقَطْرِ اسْتَأْذَنَ [ رَبَّهُ ] أَنْ يَأْتِيَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَذِنَ لَهُ ، فَقَالَ لِأُمِّ سَلَمَةَ : " امْلُكِي عَلَيْنَا الْبَابَ لَا يَدْخُلْ عَلَيْنَا أَحَدٌ " . قَالَ : وَجَاءَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ لِيَدْخُلَ فَمَنَعَتْهُ ، فَوَثَبَ فَدَخَلَ ، فَجَعَلَ يَقْعُدُ عَلَى ظَهْرِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلَى مِنْكَبِهِ ، وَعَلَى عَاتِقِهِ ، قَالَ : فَقَالَ الْمَلَكُ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَتُحِبُّهُ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قَالَ : [ أَمَا ] إِنَّ أُمَّتَكَ سَتَقْتُلُهُ ، وَإِنْ شِئْتَ أَرَيْتُكَ الْمَكَانَ الَّذِي يُقْتَلُ بِهِ . فَضَرَبَ بِيَدِهِ ، فَجَاءَ بِطِينَةٍ حَمْرَاءَ ، فَأَخَذَتْهَا أُمُّ سَلَمَةَ فَصَرَّتْهَا فِي خِمَارِهَا . قَالَ ثَابِتٌ : بَلَغَنَا أَنَّهَا كَرْبَلَاءُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَفِيهَا عِمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : بارش کے فرشتے نے اپنے پروردگار سے یہ اجازت مانگی کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے ، تو پروردگار نے اسے اجازت دے دی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : تم دروازے کا دھیان رکھنا ، کوئی ہمارے پاس نہ آئے ، راوی کہتے ہیں : اسی دوران سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما آئے انہوں نے اندر آنے کی کوشش کی ، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے انہیں روکا ، لیکن وہ اچھل کر اندر آ گئے اور آ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت اور کندھوں اور گردن پر بیٹھنے لگے ، راوی کہتے ہیں : اس فرشتے نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا : آپ اس سے محبت رکھتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : جی ہاں ! اس فرشتے نے کہا: لیکن آپ کی امت اسے شہید کر دے گی ، اگر آپ چاہیں ، تو میں آپ کو وہ جگہ دکھا دیتا ہوں جہاں اسے شہید کیا جائے گا ، پھر اس فرشتے نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور سرخ رنگ کی مٹی لے آیا ( راوی کہتے ہیں : ) سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے وہ مٹی لے لی تھی اور اسے اپنی تھیلی میں باندھ لیا تھا ۔ ثابت نامی راوی کہتے ہیں : ہم تک
یہ روایت پہنچی ہے کہ وہ مٹی کربلا کی تھی ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ امام بزار اور امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمارہ بن زاذان ہے ، جسے ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، ابویعلیٰ کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15111
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (3402) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2813) اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير 242/3»
حدیث نمبر: 15112
وَعَنْ نُجَيٍّ الْحَضْرَمِيِّ أَنَّهُ سَارَ مَعَ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - وَكَانَ صَاحِبَ مُطْهَرَتِهِ ، فَلَمَّا حَاذَى نِينَوَى وَهُوَ مُنْطَلِقٌ إِلَى صِفِّينَ ، فَنَادَى عَلِيٌّ : اصْبِرْ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ، اصْبِرْ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ بِشَطِّ الْفُرَاتِ . قُلْتُ : وَمَا ذَاكَ ؟ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمٍ ، وَإِذَا عَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ ، قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، أَغْضَبَكَ أَحَدٌ ؟ مَا شَأْنُ عَيْنَيْكَ تَفِيضَانِ ؟ قَالَ : " بَلْ قَامَ مِنْ عِنْدِي جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - قَبْلُ ، فَحَدَّثَنِي أَنَّ الْحُسَيْنَ يُقْتَلُ بِشَطِّ الْفُرَاتِ " . قَالَ : فَقَالَ : " هَلْ لَكَ أَنْ أُشِمَّكَ مِنْ تُرْبَتِهِ ؟ " . قُلْتُ : نَعَمْ . قَالَ : فَمَدَّ يَدَهُ ، فَقَبَضَ قَبْضَةً مِنْ تُرَابٍ ، فَأَعْطَانِيهَا ، فَلَمْ أَمْلِكْ عَيْنَيَّ أَنْ فَاضَتَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَلَمْ يَنْفَرِدْ نُجَيٌّ بِهَذَا . ¤
محمد محی الدین
نجی حضرمی بیان کرتے ہیں : وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ چلتے ہوئے جا رہے تھے وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے طہارت کے پانی کے نگران تھے جب یہ لوگ نینوا کے مقام پر پہنچے یہ لوگ اس وقت صفین کی طرف جا رہے تھے ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بلند آواز میں کہا: اے ابوعبداللہ صبر سے کام لینا ، اے ابوعبداللہ صبر سے کام لینا ، یہ دریائے فرات کی بات ہے ، میں نے دریافت کیا : اس کی کیا وجہ ہے ؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے ، میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! کیا کسی نے آپ کو غصہ دلایا ہے ، کیا وجہ ہے کہ آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ابھی جبرائیل میرے پاس سے اٹھ کے گیا ہے اس نے مجھے یہ بتایا ہے کہ حسین کو فرات کے کنارے پر قتل کر دیا جائے گا ، اس نے کہا: کیا آپ اس بات میں دلچسپی رکھتے ہیں کہ میں آپ کو وہاں کی مٹی سونگھاؤں ، میں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو اس فرشتے نے ہاتھ بڑھایا اور مٹھی بھر مٹی لی اور وہ مجھے دے دی تو مجھے اپنی آنکھوں پر ق ابونہیں رہا اور وہ بہنے لگیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام ابویعلیٰ نے اور امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، نجی نامی راوی اس روایت کو نقل کرنے میں منفرد نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15112
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (363) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2811) أخرجه الطبراني فى المعجم الصغير 648»
حدیث نمبر: 15113
وَعَنْ عَائِشَةَ أَوْ أُمِّ سَلَمَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِإِحْدَاهُمَا : " لَقَدْ دَخَلَ عَلَيَّ الْبَيْتَ مَلَكٌ ، فَلَمْ يَدْخُلْ عَلَيَّ قَبْلَهَا ، قَالَ : إِنَّ ابْنَكَ هَذَا حُسَيْنٌ مَقْتُولٌ ، وَإِنْ شِئْتَ أَرَيْتُكَ مِنْ تُرْبَةِ الْأَرْضِ الَّتِي يُقْتَلُ بِهَا " . قَالَ : فَأَخْرَجَ تُرْبَةً حَمْرَاءَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا یا شاید سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” آج میرے پاس ایک ایسا فرشتہ آیا جو اس سے پہلے کبھی میرے پاس نہیں آیا ، اس نے بتایا : آپ کے اس بیٹے حسین کو قتل کر دیا جائے گا اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو اس سرزمین کی مٹی دکھا سکتا ہوں جہاں اسے قتل کیا جائے گا ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر اس فرشتے نے سرخ مٹی لا کے دی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15113
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (294/6)»
حدیث نمبر: 15114
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : دَخَلَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يُوحَى إِلَيْهِ ، فَنَزَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ مُنْكَبٌّ ، وَهُوَ عَلَى ظَهْرِهِ فَقَالَ جِبْرِيلُ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَتُحِبُّهُ يَا مُحَمَّدُ ؟ قَالَ : " يَا جِبْرِيلُ ، وَمَا لِي لَا أُحِبُّ ابْنِي ! " . قَالَ : فَإِنَّ أُمَّتَكَ سَتَقْتُلُهُ مِنْ بَعْدِكَ ، فَمَدَّ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - يَدَهُ ، فَأَتَاهُ بِتُرْبَةٍ بَيْضَاءَ ، فَقَالَ : فِي هَذِهِ الْأَرْضِ يُقْتَلُ ابْنُكَ هَذَا ، وَاسْمُهَا الطَّفُّ ، فَلَمَّا ذَهَبَ جِبْرِيلُ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالْتَزَمَهُ فِي يَدِهِ يَبْكِي ، فَقَالَ : " يَا عَائِشَةُ ، إِنَّ جِبْرِيلَ أَخْبَرَنِي أَنَّ ابْنِي حُسَيْنًا مَقْتُولٌ فِي أَرْضِ الطَّفِّ ، وَأَنَّ أُمَّتِي سَتُفْتَنُ بَعْدِي " . ثُمَّ خَرَجَ إِلَى أَصْحَابِهِ ، فِيهِمْ عَلِيٌّ ، وَأَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ ، وَحُذَيْفَةُ ، وَعَمَّارٌ ، وَأَبُو ذَرٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ - وَهُوَ يَبْكِي ، فَقَالُوا : مَا يُبْكِيكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ : " أَخْبَرَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ : أَنَّ ابْنِي الْحُسَيْنَ يُقْتَلُ بَعْدِي بِأَرْضِ الطَّفِّ ، وَجَاءَنِي بِهَذِهِ التُّرْبَةِ ، وَأَخْبَرَنِي أَنَّ فِيهَا مَضْجَعَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ ، وَأَوَّلُهُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَجْلَسَ حُسَيْنًا عَلَى فَخِذِهِ ، فَجَاءَهُ جِبْرِيلُ . وَفِي إِسْنَادِ الْكَبِيرِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَفِي إِسْنَادِ الْأَوْسَطِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما ( جو اس وقت بچے تھے ) وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر اس وقت وحی نازل ہو رہی تھی وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر چڑھ گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سر جھکایا ہوا تھا اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت پر چڑھ گئے ، سیدنا جبرائیل نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا : اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! کیا آپ اس سے محبت رکھتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے جبرائیل میں اپنے بیٹے سے کیوں نہ محبت رکھوں ؟ سیدنا جبرائیل نے بتایا : آپ کے بعد آپ کی امت عنقریب اسے شہید کر دے گی پھر سیدنا جبرائیل نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور سفید رنگ کی مٹی لے کے آنے ، انہوں نے بتایا : اس سرزمین پر آپ کے بیٹے کو شہید کیا جائے گا ، اور اس جگہ کا نام طف ہے ، جب سیدنا جبرائیل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے چلے گئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے آپ نے سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کو گود میں اٹھا کر ساتھ لپٹایا ہوا تھا اور رو رہے تھے ، آپ نے فرمایا : ” اے عائشہ ! جبرائیل نے مجھے بتایا ہے کہ میرے بیٹے حسین کو طف کی سرزمین پر قتل کر دیا جائے گا ، اور میرے بعد میری امت آزمائش کا شکار ہو جائے گی ۔ “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے پاس تشریف لے گئے جن میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدنا ابوبکر ، سیدنا عمر ، سیدنا حذیفہ ، سیدنا عمار ، سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہم موجود تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رو رہے تھے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کس وجہ سے رو رہے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جبرائیل نے مجھے بتایا ہے کہ میرے بیٹے حسین کو میرے بعد طف کی سرزمین پر قتل کر دیا جائے گا ، وہ میرے پاس یہ مٹی لے کے آئے تھے ۔ انہوں نے بتایا : اس جگہ پر اس کی شہادت ہو گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور معجم اوسط میں بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کے آغاز میں یہ الفاظ ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو اپنی زانوں پر بٹھایا ہوا تھا اسی دوران سیدنا جبرائیل آپ کے پاس آئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ معجم کبیر کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور معجم اوسط کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15114
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2814)»
حدیث نمبر: 15115
وَعَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ نَائِمًا عِنْدَهَا ، وَحُسَيْنٌ يَحْبُو فِي الْبَيْتِ ، فَغَفَلَتْ عَنْهُ ، فَحَبَا حَتَّى أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَعِدَ عَلَى بَطْنِهِ ، فَوَضَعَ ذَكَرِهِ فِي سُرَّتِهِ فَبَالَ ، قُلْتُ : فَاسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَحَطَطْتُهُ عَنْ بَطْنِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " دَعِي ابْنِي " . فَلَمَّا قَضَى بِوَلَهُ ، أَخَذَ كُوزًا مِنْ مَاءٍ فَصَبَّهُ ، وَقَالَ : " إِنَّهُ يُصَبُّ مِنَ الْغُلَامِ ، وَيُغْسَلُ مِنَ الْجَارِيَةِ " . قَالَتْ : ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي وَاحْتَضَنَهُ ، فَكَانَ إِذَا رَكَعَ وَسَجَدَ وَضَعَهُ ، وَإِذَا قَامَ حَمَلَهُ ، فَلَمَّا جَلَسَ جَعَلَ يَدْعُو وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ وَيَقُولُ ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَقَدْ رَأَيْتُكَ تَصْنَعُ الْيَوْمَ شَيْئًا مَا رَأَيْتُكَ تَصْنَعُهُ ؟ قَالَ : " إِنَّ جِبْرِيلَ أَتَانِي ، فَأَخْبَرَنِي أَنَّ ابْنِي يُقْتَلُ ، قُلْتُ : فَأَرِنِي إِذًا ، فَأَتَانِي بِتُرْبَةٍ حَمْرَاءَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَفِيهِمَا مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیده زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں سوئے ہوئے تھے اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ گھر میں گھٹنوں کے بل چل رہے تھے میں ان سے غافل ہوئی ، تو وہ گھٹنوں کے بل چلتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے آپ کے پیٹ پر چڑھ گئے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیٹ پر پیشاب کر دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہو گئے ، میں اٹھ کر آپ کے پاس آئی اور انہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیٹ سے ہٹایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرے بیٹے کو رہنے دو ، جب انہوں نے پیشاب مکمل کر لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کا برتن لے کے اس پر چھڑک دیا ، آپ نے فرمایا : لڑکے کے پیشاب پر پانی چھڑک دیا جائے گا اور لڑکی کے پیشاب کو دھویا جائے گا ۔ “ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر نماز ادا کرنے لگے ، آپ نے انہیں اٹھایا ہوا تھا جب آپ رکوع یا سجدے میں جاتے تھے تو انہیں زمین پر کھڑا کر دیتے تھے ، جب اٹھتے تھے تو پھر اٹھا لیتے تھے ، جب آپ تشریف فرما ہوئے تو آپ نے دونوں ہاتھ بلند کر کے دعا کرنا شروع کی جب آپ نے نماز مکمل کر لی تو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے آج آپ کو ایسا کام کرتے ہوئے دیکھا ہے ، جو میں نے آپ کو پہلے کرتے ہوئے نہیں دیکھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جبرائیل میرے پاس آیا تھا اور اس نے مجھے یہ بتایا ہے کہ میرے بیٹے کو قتل کر دیا جائے گا ، میں نے کہا: تم مجھے وہ جگہ دکھاؤ ! تو وہ میرے پاس سرخ مٹی لے کے آیا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، اور ان دونوں کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15115
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 15116
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسًا ذَاتَ يَوْمٍ فِي بَيْتِي قَالَ : " لَا يَدْخُلُ عَلَيَّ أَحَدٌ " . فَانْتَظَرْتُ فَدَخَلَ الْحُسَيْنُ ، فَسَمِعْتُ نَشِيجَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَبْكِي ، فَاطَّلَعْتُ فَإِذَا حُسَيْنٌ فِي حِجْرِهِ وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَمْسَحُ جَبِينَهُ وَهُوَ يَبْكِي ، فَقُلْتُ : وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ حِينَ دَخَلَ ، فَقَالَ : " إِنَّ جِبْرِيلَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - كَانَ مَعَنَا فِي الْبَيْتِ ، فَقَالَ : أَتُحِبُّهُ ؟ قُلْتُ : أَمَّا فِي الدُّنْيَا فَنَعَمْ . قَالَ : إِنَّ أُمَّتَكَ سَتَقْتُلَ هَذَا بِأَرْضٍ يُقَالُ لَهَا : كَرْبَلَاءُ ، فَتَنَاوَلَ جِبْرِيلُ مِنْ تُرْبَتِهَا " . فَأَرَاهَا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا أُحِيطُ بِحُسَيْنٍ حِينَ قُتِلَ قَالَ : مَا اسْمُ هَذِهِ الْأَرْضِ ؟ قَالُوا : كَرْبَلَاءُ ، فَقَالَ : صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ; كَرْبٌ وَبَلَاءٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں تشریف فرما تھے ، آپ نے فرمایا : کوئی میرے پاس نہ آنے پائے ، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں انتظار کرتی رہی ، اسی دوران سیدنا حسین رضی اللہ عنہ آ گئے ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے رونے کی آواز سنی ، میں نے جھانک کے دیکھا تو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ آپ کی گود میں تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی پر ہاتھ پھیر رہے تھے اور رو رہے تھے ، میں نے کہا: اللہ کی قسم ! ان کے آنے کا مجھے پتہ نہیں چلا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا جبرائیل ہمارے ساتھ گھر میں موجود تھے اس نے دریافت کیا : کیا آپ ان سے محبت کرتے ہیں ، میں نے جواب دیا : جہاں تک دنیا کا تعلق ہے تو جی ہاں ! تو جبرائیل نے بتایا : آپ کی امت اسے ایسی سرزمین پر قتل کر دے گی ، جس کا نام کربلا ہے ، پھر جبرائیل نے وہاں کی مٹی لی اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھائی ، جب سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو اس جگہ پر گھیر لیا گیا جہاں وہ شہید ہوئے تھے ، تو انہوں نے دریافت کیا : اس جگہ نام کیا ہے ، لوگوں نے بتایا کربلا ، تو انہوں نے فرمایا : اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے ، یہ کرب اور بلا کی جگہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15116
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2819)»
حدیث نمبر: 15117
وَفِي رِوَايَةٍ : صَدَقَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ; أَرْضُ كَرْبٍ وَبَلَاءٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ أَحَدِهَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا ہے یہ کرب و بلا کی جگہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15117
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2812 و 2902)»
حدیث نمبر: 15118
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : كَانَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ يَلْعَبَانِ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَيْتِي ، فَنَزَلَ جِبْرِيلُ فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، إِنْ أَمَتَّكَ تَقْتُلُ ابْنَكَ هَذَا مِنْ بَعْدِكَ ، وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى الْحُسَيْنِ ، فَبَكَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَضَمَّهُ إِلَى صَدْرِهِ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا أُمَّ سَلَمَةَ ، وَدِيعَةٌ عِنْدَكَ هَذِهِ التُّرْبَةُ " . فَشَمَّهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ : " وَيْحٌ ، وَكُرَبٌ ، وَبَلَاءٌ " . قَالَتْ : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا أُمَّ سَلَمَةَ ، إِذَا تَحَوَّلَتْ هَذِهِ التُّرْبَةُ دَمًا ، فَاعْلَمِي أَنَّ ابْنِي قَدْ قُتِلَ " . قَالَ : فَجَعَلَتْهَا أُمُّ سَلَمَةَ فِي قَارُورَةٍ ، ثُمَّ جَعَلَتْ تَنْظُرُ إِلَيْهَا كُلَّ يَوْمٍ وَتَقُولُ : إِنَّ يَوْمًا تَحَوَّلِينَ فِيهِ دَمًا لَيَوْمٌ عَظِيمٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ ثَابِتٍ النُّكْرِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے میرے گھر میں کھیل رہے تھے اسی دوران سیدنا جبرائیل نازل ہوئے ، انہوں نے بتایا : اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی امت آپ کے بعد آپ کے اس بیٹے کو قتل کر دے گی ، انہوں نے حسین کی طرف اشارہ کر کے یہ بات کہی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رونے لگے ، آپ نے انہیں اپنے سینے کے ساتھ چمٹا لیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے ام سلمہ یہ منی تمہارے پاس ودیعت کے طور پر رہے گی ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو سونگھا تھا اور فرمایا تھا : بربادی اور کرب اور بلا ہے ۔ “ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب یہ مٹی خون میں تبدیل ہو جائے تو تم یہ بات جان لینا کہ میرے بیٹے کو قتل کر دیا گیا ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے وہ مٹی ایک شیشی میں رکھ لی تھی اور وہ روزانہ اس کا جائزہ لیا کرتی تھیں اور یہ فرماتی تھیں : جس دن تم خون میں تبدیل ہو گئی وہ بڑا دن ہو گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن ثابت نکری ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15118
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2817)»
حدیث نمبر: 15119
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِنِسَائِهِ : " لَا تُبَكُّوا هَذَا الصَّبِيَّ " . يَعْنِي حُسَيْنًا قَالَ : وَكَانَ يَوْمَ أُمِّ سَلَمَةَ ، فَنَزَلَ جِبْرِيلُ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الدَّاخِلَ ، وَقَالَ لِأُمِّ سَلَمَةَ : " لَا تَدَعِي أَحَدًا أَنْ يَدْخُلَ عَلَيَّ " . فَجَاءَ الْحُسَيْنُ ، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْبَيْتِ أَرَادَ أَنْ يَدْخُلَ ، فَأَخَذَتْهُ أُمُّ سَلَمَةَ فَاحْتَضَنَتْهُ ، وَجَعَلَتْ تُنَاغِيهِ وَتُسَكِّتُهُ ، فَلَمَّا اشْتَدَّ فِي الْبُكَاءِ خَلَّتْ عَنْهُ ، فَدَخَلَ حَتَّى جَلَسَ فِي حِجْرِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ جِبْرِيلُ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : إِنَّ أَمَّتَكَ سَتَقْتُلُ ابْنَكَ هَذَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَقْتُلُونَهُ وَهُمْ مُؤْمِنُونَ بِي ؟ " . قَالَ : نَعَمْ يَقْتُلُونَهُ ، فَتَنَاوَلَ جِبْرِيلُ تُرْبَةً فَقَالَ : بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدِ احْتَضَنَ حُسَيْنًا ، كَاسِفَ الْبَالِ مَغْمُومًا ، فَظَنَّتْ أُمُّ سَلَمَةَ أَنَّهُ غَضِبَ مِنْ دُخُولِ الصَّبِيِّ عَلَيْهِ ، فَقَالَتْ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، جُعِلْتُ لَكَ الْفِدَاءَ ، إِنَّكَ قُلْتَ لَنَا : " لَا تُبَكُّوا هَذَا الصَّبِيَّ " . وَأَمَرْتَنِي أَنْ لَا أَدَعَ أَحَدًا يَدْخُلُ عَلَيْكَ ، فَجَاءَ فَخَلَّيْتُ عَنْهُ . فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهَا ، فَخَرَجَ إِلَى أَصْحَابِهِ وَهُمْ جُلُوسٌ ، فَقَالَ : " إِنَّ أُمَّتِي يَقْتُلُونَ هَذَا " . وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ وَكَانَا أَجْرَأَ الْقَوْمِ عَلَيْهِ ، فَقَالَا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، وَهُمْ مُؤْمِنُونَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، وَهَذِهِ تُرْبَتُهُ " . وَأَرَاهُمْ إِيَّاهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ ، وَفِي بَعْضِهِمْ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج سے فرمایا : اس بچے کو رونے نہ دینا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد سیدنا حسین رضی اللہ عنہ تھے ۔ راوی کہتے ہیں : یہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی مخصوص باری کا وقت تھا ۔ سیدنا جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اندر داخل ہوئے اور آپ نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : تم کسی کو میرے پاس اندر نہ آنے دینا ، اسی دوران حسین رضی اللہ عنہ آ گئے ، جب انہوں نے گھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، تو اندر داخل ہونے کا ارادہ کیا ۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے انہیں پکڑ لیا اور گود میں اٹھا لیا وہ انہیں چپ کروانے لگیں ، لیکن جب ان کا رونا زیادہ ہو گیا تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے انہیں چھوڑ دیا ، وہ اندر داخل ہوئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں جا کے بیٹھ گئے ، سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: آپ کی امت آپ کے اس بیٹے کو قتل کر دے گی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا وہ لوگ مجھ پر ایمان رکھنے کے باوجود اسے قتل کر دیں گے ؟ سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا : جی ہاں وہ لوگ اسے قتل کر دیں گے ، پھر سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے مٹی لی اور بتایا : فلاں فلاں جگہ پر ایسا ہو گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو آپ نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو گود میں اٹھایا ہوا تھا اور آپ پریشان تھے ، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سمجھیں کہ شاید وہ بچے کے اپنے پاس آنے کی وجہ سے غصے میں ہیں ، تو انہوں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! میں آپ پر فدا ہو جاؤں ، آپ نے ہم سے یہ کہا: تھا کہ تم اس بچے کو رونے نہ دینا ، اور پھر آپ نے مجھے یہ بھی حکم دیا تھا کہ میں کسی کو آپ کے پاس نہ آنے دوں ، یہ آیا تو میں نے اسے چھوڑ دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو کوئی جواب نہیں دیا ، آپ اپنے اصحاب کے پاس تشریف لے گئے ، وہ لوگ بیٹھے ہوئے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میری امت اس کو قتل کر دے گی ، حاضرین میں سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما بھی موجود تھے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سب لوگوں کی بہ نسبت زیادہ بے تکلف تھے ۔ انہوں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! کیا وہ مومن ہوں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! اور یہ اس کی تربت ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو وہ مٹی دکھائی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اس کے بعض راویوں میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15119
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8096)»
حدیث نمبر: 15120
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُتَغَيِّرَ اللَّوْنِ ، فَقَالَ : " أَنَا مُحَمَّدٌ ، أُوتِيتُ فَوَاتِحَ الْكَلَامِ وَخَوَاتِمَهُ ، فَأَطِيعُونِي مَا دُمْتُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ ، فَإِذَا ذُهِبَ بِي فَعَلَيْكُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ ، أَحِلُّوا حَلَالَهُ ، وَحَرِّمُوا حَرَامَهُ ، أَتَتْكُمُ الْمَوْتَةُ ، أَتَتْكُمْ بِالرُّوحِ وَالرَّاحَةِ ، كِتَابٌ مِنَ اللَّهِ سَبَقَ . أَتَتْكُمْ فِتَنٌ كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ ، كُلَّمَا ذَهَبَ رَسْلٌ جَاءَ رَسْلٌ ، تَنَاسَخَتِ النُّبُوَّةُ ; فَصَارَتْ مُلْكًا رَحِمَ اللَّهُ مَنْ أَخَذَهَا بِحَقِّهَا ، وَخَرَجَ مِنْهَا كَمَا دَخَلَهَا ، أَمْسِكْ يَا مُعَاذُ وَأَحْصِ " . قَالَ : فَلَمَّا بَلَغْتُ خَمْسًا قَالَ : " يَزِيدُ ، لَا بَارَكَ اللَّهُ فِي يَزِيدَ " . ثُمَّ ذَرَفَتْ عَيْنَاهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ثُمَّ قَالَ : " نُعِيَ إِلَيَّ حُسَيْنٌ ، وَأُتِيتُ بِتُرْبَتِهِ ، وَأُخْبِرْتُ بِقَاتِلِهِ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَقْتُلُوهُ بَيْنَ ظَهَرَانَيْ قَوْمٍ لَا يَمْنَعُوهُ إِلَّا خَالَفَ اللَّهُ بَيْنَ صُدُورِهِمْ وَقُلُوبِهِمْ ، وَسَلَّطَ عَلَيْهِمْ شِرَارَهُمْ ، وَأَلْبَسَهُمْ شِيَعًا " . قَالَ : " وَاهًا لِفِرَاخِ آلِ مُحَمَّدٍ مِنْ خَلِيفَةٍ يُسْتَخْلَفُ مُتْرَفًا ، يَقْتُلُ خَلَفِي وَخَلَفَ الْخَلَفِ ، أَمْسِكْ يَا مُعَاذُ " . فَلَمَّا بَلَغْتُ عَشْرَةً قَالَ : " الْوَلِيدُ اسْمُ فِرْعَوْنَ ، هَادِمُ شَرَائِعِ الْإِسْلَامِ ، بَيْنَ يَدَيْهِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ يُسِلُّ اللَّهُ سَيْفَهُ ، فَلَا غِمَادَ لَهُ ، وَاخْتَلَفَ فَكَانُوا هَكَذَا " . فَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " بَعْدَ الْعِشْرِينَ وَمِائَةٍ يَكُونُ مَوْقَتٌ سَرِيعٌ - وَقَتْلٌ ذَرِيعٌ - فَفِيهِ هَلَاكُهُمْ ، وَيَلِي عَلَيْهِمْ رَجُلٌ مِنْ وَلَدِ الْعَبَّاسِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُجَاشِعُ بْنُ عَمْرٍو وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے آپ کی رنگت تبدیل تھی ، آپ نے فرمایا : ” میں محمد ہوں ، مجھے کام کے فواتح اور اس کے خواتم عطا کیے گئے ہیں ، تو جب تک میں تمہارے درمیان موجود ہوں تم لوگ میری اطاعت کرو اور جب میری رخصتی ہو جائے تو تم پر اللہ کی کتاب کو اختیار کرنا لازم ہے ، تم اس کے حلال کو حلال قرار دو ، اس کے حرام کو حرام قرار دو ۔ تمہارے پاس آرام آئے گا ، تمہارے پاس راحت آئے گی ، یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہلے سے طے شدہ ہے ، تمہارے پاس فتنے آئیں گے جو تاریک رات کے ٹکڑوں کی مانند ہوں گے جب ایک قسم کا فتنہ چلا جائے گا ، تو دوسرا آ جائے گا ، نبوت ختم ہو چکی ہے ، بادشاہی آ جائے گی ، اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو اس کے حق کے ہمراہ اسے لیتا ہے ، اور اس سے اسی طرح نکلتا ہے جس طرح اس میں داخل ہوا تھا : اے معاذ ! تم پکڑو اور گنتی کرو ( پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نام گنوانے شروع کیے : ) ۔ راوی بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پانچویں فرد پر پہنچے تو آپ نے فرمایا : یزید ، اللہ تعالیٰ یزید میں برکت نہ رکھے ، پھر آپ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے ، پھر آپ نے فرمایا : مجھے حسین کے قتل ہونے کی اطلاع دی گئی اور وہاں کی مٹی میرے پاس لائی گئی اور اس کے قاتل کے بارے میں مجھے بتایا گیا ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے جن لوگوں کے درمیان اسے قتل کیا جائے گا اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے دلوں اور سینوں کے درمیان اختلاف پیدا کر دے گا ، اور ان کے بدترین لوگوں کو ان پر مسلط کر دے گا ، اور انہیں مختلف گروہوں میں تقسیم کر دے گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : آل محمد کے بچوں کے لیے اس خلیفہ کے حوالے سے افسوس ہے ، جسے زیادتی کرنے والے کے طور پر خلیفہ بنایا جائے گا ، وہ میری اولاد کو اور میری اولاد کی اولاد کو قتل کرے گا ، اے معاذ ! تم گنتی کرو ! پھر جب آپ بارہ پر پہنچے تو آپ نے فرمایا : ولید ہو گا ، یہ فرعون کا نام ہے ، وہ شخص اسلام کے شرعی احکام کو منہدم کرنے والا ہو گا اس کے سامنے اس کے اہل بیت کا ایک فرد ہو گا تاکہ اللہ تعالیٰ اپنی تلوار کو میان سے نکال لے گا ، تو پھر وہ میان میں نہیں جائے گی ، وہ لوگ اسی طرح رہیں گے ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں پیوست کیں اور پھر ارشاد فرمایا : ایک سو بیس کے بعد ایسا وقت ایسا آئے گا کہ جس میں وقت تیزی سے گزرے اور قتل و غارت گری بہت زیادہ ہو گی اس زمانے میں ان لوگوں کی ہلاکت ہو جائے گی اور اس وقت ان لوگوں پر سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کی اولاد سے تعلق رکھنے والا ایک شخص حکمران بن جائے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مجاشع بن عمرو ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15120
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2861)»
حدیث نمبر: 15121
وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ : اسْتَأْذَنَ مَلَكُ الْقَطْرِ أَنْ يُسَلِّمَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، فَقَالَ : " لَا يَدْخُلْ عَلَيْنَا أَحَدٌ " . فَجَاءَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - فَدَخَلَ ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ : هُوَ الْحُسَيْنُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " دَعِيهِ " . فَجَعَلَ يَعْلُو رَقَبَةَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَيَعْبَثُ بِهِ ، وَالْمَلَكُ يَنْظُرُ ، فَقَالَ الْمَلَكُ : أَتُحِبُّهُ يَا مُحَمَّدُ ؟ قَالَ : " إِي وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّهُ " . قَالَ : أَمَا إِنَّ أَمَّتَكَ سَتَقْتُلُهُ ، وَإِنْ شِئْتَ أَرَيْتُكَ الْمَكَانَ . فَقَالَ بِيَدِهِ فَتَنَاوَلَ كَفًّا مِنْ تُرَابٍ ، فَأَخَذَتْ أُمُّ سَلَمَةَ التُّرَابَ فَصَرَّتْهُ فِي خِمَارِهَا ، فَكَانُوا يَرَوْنَ أَنَّ ذَلِكَ التُّرَابَ مِنْ كَرْبَلَاءَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوطفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : بارش کے فرشتے نے یہ اجازت مانگی کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرے ، اس نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی تھی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے ) فرمایا : تم کسی کو ہمارے پاس نہ آنے دینا ، اسی دوران سیدنا حسین رضی اللہ عنہ آ گئے اور اندر داخل ہو گئے ، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یہ حسین ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے رہنے دو ! وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن پر چڑھ گئے اور آپ کے ساتھ کھیلنے لگے ، فرشتہ یہ چیز دیکھ رہا تھا ، فرشتے نے دریافت کیا : اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! کیا آپ اس سے محبت رکھتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ۔ اللہ کی قسم ! میں اس سے محبت رکھتا ہوں ، فرشتے نے کہا: لیکن آپ کی امت اسے عنقریب قتل کر دے گی ، اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو اس کی جگہ دکھا دیتا ہوں ، پھر اس نے ہاتھ بڑھایا اور مٹھی میں کچھ مٹی لی ، وہ مٹی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے لے لی تھی اور اسے اپنی چادر میں باندھ لیا تھا ، لوگ یہ سمجھتے تھے وہ مٹی کربلا کی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15121
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2807)»
حدیث نمبر: 15122
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يُقْتَلُ حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَلَى رَأْسِ سِتِّينَ مِنْ مُهَاجَرِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ طَرِيفٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” حسین بن علی کو میری ہجرت کے ساٹھ سال بعد قتل کر دیا جائے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سعد بن طریف ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15122
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 15123
قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يُقْتَلُ الْحُسَيْنُ حِينَ يَعْلُوهُ الْقَتِيرُ " . ¤ قَالَ الطَّبَرَانِيُّ : الْقَتِيرُ : الشَّيْبُ . ¤
محمد محی الدین
اسی سند کے ساتھ یہ بات منقول ہے : سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” حسین کو اس وقت قتل کر دیا جائے گا جب اس کے بال سفید ہونے لگیں گے ۔ “ طبرانی کہتے ہیں : لفظ قتیر سے مراد سفید بال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15123
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2808)»
حدیث نمبر: 15124
عَنْ عَلِيٍّ قَالَ : لَيُقْتَلَنَّ الْحُسَيْنُ ، [ قَتْلًا ] وَإِنِّي لَأَعْرِفُ التُّرْبَةَ الَّتِي يُقْتَلُ فِيهَا ، قَرِيبًا مِنَ النَّهْرَيْنِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حسین کو قتل کر دیا جائے گا ، میں اس مٹی سے واقف ہوں جہاں اسے قتل کر دیا جائے گا ، وہ نہرین کے قریب ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15124
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2824)»
حدیث نمبر: 15125
وَعَنْ شَيْبَانَ بْنِ مُخَرَّمٍ - وَكَانَ عُثْمَانِيًّا - قَالَ : إِنِّي لَمَعَ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - إِذْ أَتَى كَرْبَلَاءَ ، فَقَالَ : يُقْتَلُ بِهَذَا الْمَوْضِعِ شَهِيدٌ لَيْسَ مِثْلُهُ شُهَدَاءُ إِلَّا شُهَدَاءَ بَدْرٍ ، فَقُلْتُ : بَعْضُ كِذْبَاتِهِ ، وَثَمَّ رِجْلُ حِمَارٍ مَيِّتٍ ، فَقُلْتُ لِغُلَامِي : خُذْ رِجْلَ هَذَا الْحِمَارِ ، فَأَوْتِدْهَا فِي مَقْعَدِهِ ، وَغَيِّبْهَا ، فَضَرَبَ الظَّهْرَ ضَرْبَةً ، فَلَمَّا قُتِلَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ انْطَلَقْتُ وَمَعِي أَصْحَابِي ، فَإِذَا جُثَّةُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ عَلَى رِجْلِ ذَلِكَ الْحِمَارِ ، وَإِذَا أَصْحَابُهُ رُبَضَةٌ حَوْلَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
شیبان بن مخرم ، جو عثمانی تھے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ موجود تھا وہ کربلا آئے تو انہوں نے فرمایا : اس مقام پر ایک شخص شہید کیا جائے گا ، اس طرح کا شہید اور کوئی نہیں ہو گا البتہ شہداء بدر کا معاملہ مختلف ہے ، میں نے سوچا شاید یہ کوئی غلط بیانی ہے ، وہاں ایک مردہ گدھے کی ٹانگ پڑی ہوئی تھی ، میں نے اپنے غلام کو کہا: تم اس گدھے کی ٹانگ کو لو اور اسے اس کے مقعد میں گاڑ دو اور اس میں چھپا دو اور پھر اس کی پشت پر ضرب لگانا ، راوی کہتے ہیں : جب سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو شہید کیا گیا ، تو میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ جا رہا تھا ، وہاں سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی لاش اس گدھے کی ٹانگ کے پاس پڑی ہوئی تھی اور ان کے ساتھیوں کی لاشیں ارگرد پڑی ہوئی تھیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15125
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2826)»
حدیث نمبر: 15126
وَعَنْ أَبِي هَرْثَمَةَ قَالَ : كُنْتُ مَعَ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - بِنَهْرِ كَرْبَلَاءَ ، فَمَرَّ بِشَجَرَةٍ تَحْتَهَا بَعْرُ غِزْلَانٍ ، فَأَخَذَ مِنْهُ قَبْضَةً فَشَمَّهَا ، ثُمَّ قَالَ : يُحْشَرُ مِنْ هَذَا الظَّهْرِ سَبْعُونَ أَلْفًا ، يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوہرثمہ بیان کرتے ہیں : میں کربلا کی نہر کے پاس سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ موجود تھا وہ ایک درخت کے پاس سے گزرے جس کے نیچے ہرن کی مینگنیاں پڑی ہوئی تھیں انہوں نے اس مٹی میں سے مٹھی بھر مٹی لے کر اسے سونگھا اور پھر فرمایا : یہاں سے ستر ہزار ایسے لوگوں کو حشر کے دن اٹھایا جائے گا جو کسی حساب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15126
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2825)»
حدیث نمبر: 15127
وَعَنْ أَبِي هُبَيْرَةَ قَالَ : صَحِبْتُ عَلِيًّا - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - حَتَّى أَتَى الْكُوفَةَ ، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا نَزَلَ بِذُرِّيَّةِ نَبِيِّكُمْ بَيْنَ ظَهْرَانِيكُمْ ؟ قَالُوا : إِذًا نُبْلِي اللَّهَ فِيهِمْ بَلَاءً حَسَنًا ، فَقَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ! لَيَنْزِلَنَّ بَيْنَ ظَهْرَانِيكُمْ وَلَتَخْرُجُنَّ إِلَيْهِمْ فَلْتَقْتُلُنَّهُمْ ، ثُمَّ أَقْبَلُ يَقُولُ : ¤ هُمْ أَوْرَدُوهُ بِالْغُرُورِ وَعَرَّدُوا أَحَبُّوا نَجَاهُ لَا نَجَاةَ وَلَا عُذْرَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ سَعْدُ بْنُ وَهْبٍ مُتَأَخِّرٌ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوہبیرہ بیان کرتے ہیں : میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ موجود تھا وہ کوفہ آئے وہ منبر پر چڑھے انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد یہ ارشاد فرمایا : اس وقت تمہارا کیا عالم ہو گا جب تمہارے نبی کی اولاد تمہارے درمیان آئے گی ؟ لوگوں نے کہا: ایسی صورت میں ہم ان کے ساتھ اچھا سلوک کریں گے ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے وہ تمہارے درمیان آئے گا ، تو تم لوگ نکل کر ان کی طرف جاؤ گے ، اور انہیں قتل کر دو گے پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یہ شعر پڑھنا شروع کیا : ” وہ اس کو دھوکے کے مقام پر لے آئے اور وہ لوگ اپنا مقصد حاصل نہیں کر سکے تو انہوں نے یہ خواہش کی کہ اس کو نجات دلوا دیں ، لیکن نجات یا معذرت کی کوئی صورت نہیں رہی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سعد بن وہب ہے ، جو بعد کے زمانے کا ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15127
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2823)»
حدیث نمبر: 15128
وَعَنِ الْمُسَيِّبِ بْنِ نَجِيَّةَ قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - : أَلَا أُحَدِّثُكُمْ عَنْ خَاصَّةِ نَفْسِي وَأَهْلِ بَيْتِي ؟ قُلْنَا : بَلَى . قَالَ : أَمَّا حَسَنٌ ، فَصَاحِبُ جَفْنَةٍ وَخِوَانٍ ، وَفَتًى مِنَ الْفِتْيَانِ ، وَلَوْ قَدِ الْتَقَتْ حَلْقَتَا الْبِطَانِ لَمْ يُغْنِ عَنْكُمْ فِي الْحَرْبِ حِبَالَةُ عُصْفُورٍ . وَأَمَّا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، فَصَاحِبُ لَهْوٍ ، وَظِلٍّ ، وَبَاطِلٍ ، وَلَا يَغُرَنَّكُمُ ابْنَا عَبَّاسٍ . وَأَمَّا أَنَا وَحُسَيْنٌ ، فَأَنَا مِنْكُمْ وَأَنْتُمْ مِنَّا ، وَاللَّهِ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ يُدَالَ هَؤُلَاءِ الْقَوْمُ بِصَلَاحِهِمْ فِي أَرْضِهِمْ ، وَفَسَادِكُمْ فِي أَرْضِكُمْ ، وَبِأَدَائِهِمُ الْأَمَانَةَ وَخِيَانَتِكُمْ ، وَبِطَوَاعِيَّتِهِمْ إِمَامَهُمْ ، وَمَعْصِيَتِكُمْ لَهُ ، وَاجْتِمَاعِهِمْ عَلَى بَاطِلِهِمْ ، وَتَفَرُّقِكُمْ عَنْ حَقِّكُمْ ، تَطُولُ دَوْلَتُهُمْ حَتَّى لَا يَدَعُونَ لِلَّهِ مُحَرَّمًا إِلَّا اسْتَحَلُّوهُ ، وَلَا يَبْقَى بَيْتُ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ إِلَّا دَخَلَهُ ظُلْمُهُمْ ، وَحَتَّى يَكُونَ أَحَدُكُمْ تَابِعًا لَهُمْ ، وَحَتَّى تَكُونَ نُصْرَةُ أَحَدِكُمْ مِنْهُمْ كَنُصْرَةِ الْعَبْدِ مِنْ سَيِّدِهِ ; إِذَا شَهِدَ أَطَاعَهُ ، وَإِذَا غَابَ سَبَّهُ ، وَحَتَّى يَكُونَ أَعْظَمُكُمْ فِيهَا غَنَاءً أَحْسَنَكُمْ بِاللَّهِ ظَنًّا ، فَإِنْ أَتَاكُمُ اللَّهُ بِالْعَافِيَةِ فَاقْبَلُوا ، فَإِنِ ابْتُلِيتُمْ فَاصْبِرُوا ; فَإِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِينَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
مسیب بن نجیہ بیان کرتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ” کیا میں تمہیں بطور خاص اپنے اور اپنے گھر والوں کے بارے میں نہ بتاؤں ، ہم نے کہا: جی ہاں ، انہوں نے فرمایا : جہاں تک حسن کا تعلق ہے ، تو وہ پیالوں اور خوان والا شخص ہے ، وہ مرد آدمی ہے ، لیکن وہ جنگ میں تمہارے کام نہیں آ سکتا ، جہاں تک عبداللہ بن جعفر کا تعلق ہے ، تو وہ لہو کی طرف متوجہ ہونے والا ، صائم رہنے والا ، باطل والا شخص ہے ، اور عباس کے دو بیٹے تمہیں غلط فہمی کا شکار نہ کریں ، جہاں تک میرا اور حسین کا تعلق ہے تو ہم تم لوگوں سے ہیں ، اور تم ہم لوگوں سے ہو ، اللہ کی قسم ! مجھے یہ اندیشہ ہے کہ وہ لوگ اپنی سرزمین پر بھلائی کو گھمائیں گے اور تمہاری سرزمین پر فساد ڈالیں گے ، یوں کہ وہ امانت ادا کریں گے اور تم خیانت کرو گے ، وہ اپنے حکمران کے فرمانبردار ہوں گے اور تم اپنے حکمران کی نافرمانی کرو گے ، وہ اپنے باطل پر اکٹھے ہوں گے اور تم اپنے حق پر اختلاف کا شکار ہو گے ، ان کی حکومت طویل ہو جائے گی ، یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کی حرام قرار دی ہوئی ہر چیز کو حلال قرار دیں گے ، ہر کچے اور پکے گھر میں ان کا ظلم داخل ہو جائے گا ، یہاں تک کہ تم میں سے کوئی ان کا تابع ہو جائے گا ، جس طرح کوئی غلام اپنے آقا کی مدد کرتا ہے ، جب وہ سامنے موجود ہو گا تو اس کی اطاعت کرے گا اور جب وہ سامنے موجود نہیں ہو گا تو اس کو برا کہے گا ، یہاں تک کہ اس صورتحال میں تم میں سے سب سے زیادہ لاتعلق وہ شخص ہو گا جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں سب سے زیادہ اچھا گمان رکھتا ہو ، اگر اللہ تعالیٰ تمہیں عافیت نصیب کرے تو تم قبول کر لینا اور اگر تم آزمائش کا شکار ہو جاؤ ، تو تم صبر سے کام لینا ، کیونکہ اچھا انجام پرہیزگاروں کے لیے ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15128
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2801)»
حدیث نمبر: 15129
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ الْحُسَيْنُ جَالِسًا فِي حِجْرِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَتُحِبُّهُ ؟ فَقَالَ : " وَكَيْفَ لَا أُحِبُّهُ وَهُوَ ثَمَرَةُ فُؤَادِي ؟ " . فَقَالَ : أَمَّا إِنَّ أَمَّتَكَ سَتَقْتُلُهُ ، أَلَا أُرِيكَ مِنْ مَوْضِعِ قَبْرِهِ ؟ فَقَبَضَ قَبْضَةً ، فَإِذَا تُرْبَةٌ حَمْرَاءُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں بیٹھے ہوئے تھے ۔ سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے دریافت کیا : کیا آپ اس سے محبت کرتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں اس سے کیوں محبت نہ کروں ؟ جبکہ یہ میرے دل کا پھل ہے ( یعنی میرے جگر کا ٹکڑا ہے ) تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے بتایا : آپ کی امت اسے قتل کر دے گی ، کیا میں آپ کو اس کی قبر کی جگہ نہ دکھاؤں ؟ پھر انہوں نے مٹھی بھر مٹی لی تو وہ سرخ رنگ کی مٹی تھی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15129
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2640)»
حدیث نمبر: 15130
وَعَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ : لَمَّا أَرَادَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ أَنْ يَخْرُجَ إِلَى أَرْضِ [ الْعِرَاقِ ] ، أَرَادَ أَنْ يَلْقَى ابْنَ عُمَرَ فَسَأَلَ عَنْهُ ، فَقِيلَ لَهُ : إِنَّهُ فِي أَرْضٍ لَهُ ، فَأَتَاهُ لِيُوَدِّعَهُ ، فَقَالَ لَهُ : إِنِّي أُرِيدُ الْعِرَاقَ ، فَقَالَ : لَا تَفْعَلْ ; فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " خُيِّرْتُ بَيْنَ أَنْ أَكُونَ مَلِكًا نَبِيًّا أَوْ نَبِيًّا عَبْدًا ، فَقِيلَ لِي : تَوَاضَعْ ، فَاخْتَرْتُ أَنْ أَكُونَ نَبِيًّا عَبْدًا " . ¤ وَإِنَّكَ بَضْعَةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَا نَخْرُجُ . قَالَ : فَأَبَى ، فَوَدَّعَهُ وَقَالَ : أَسَتَوْدِعُكَ اللَّهَ مِنْ مَقْتُولٍ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
امام شعبی بیان کرتے ہیں : جب سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما نے عراق کی سرزمین کی طرف جانے کا ارادہ کیا ، تو انہوں نے یہ ارادہ کیا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مل لیں اور ان سے مشورہ لے لیں ، انہیں بتایا گیا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تو اپنی زمین پر موجود ہیں ۔ وہ ان سے رخصت ہونے کے لئے ان کے پاس گئے اور انہیں بتایا : میں عراق جانا چاہتا ہوں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: آپ ایسا نہ کریں کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ” مجھے اس بارے میں اختیار دیا گیا کہ میں ایک بادشاہ نبی بنوں یا ایک بندہ نبی بنوں تو مجھ سے کہا: گیا کہ آپ تواضع اختیار کریں تو میں نے اس چیز کو اختیار کیا کہ میں ایک بندہ نبی بنوں ۔ “ اور آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جان کے ٹکڑے ہیں ، تو آپ نہ جائیں ، راوی کہتے ہیں : لیکن سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے ان کی بات نہیں مانی تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں رخصت کرتے ہوئے یہ کہا: مقتول ہونے کے حوالے سے میں آپ کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور امام بزار کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15130
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2644 و 2643) اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (601)»
حدیث نمبر: 15131
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : اسْتَأْذَنَنِي حُسَيْنٌ فِي الْخُرُوجِ ، فَقَالَ : لَوْلَا أَنْ يُزْرِيَ ذَلِكَ بِي أَوْ بِكَ لَشَبَّكْتُ بِيَدَيَّ فِي رَأْسِكَ ، فَكَانَ الَّذِي رَدَّ عَلَيَّ أَنْ قَالَ : لَأَنْ أُقْتَلَ بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يُسْتَحَلَّ بِي حَرَمُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ . قَالَ : فَذَلِكَ الَّذِي سَلَّى بِنَفْسِي عَنْهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے مجھ سے روانگی کے بارے میں اجازت مانگی تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اگر اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ یہ عمل میرے یا آپ کے لیے اعتراض کا نشانہ بننے کا باعث بن جائے گا ، تو میں نے اپنی انگلیاں آپ کے سر میں پیوست کر دینی تھیں ، تو انہوں نے مجھے جواب دیتے ہوئے یہ کہا: اگر میں فلاں فلاں جگہ پر شہید ہو جاؤں تو یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہو گا کہ میری وجہ سے اللہ اور اس کے رسول کے حرم کی بے حرمتی کی جائے ، راوی کہتے ہیں : تو اس طرح انہوں نے اپنے طرز عمل کی توجیہ پیش کی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15131
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2859)»
حدیث نمبر: 15132
وَعَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْحُرِّ ، أَنَّهُ سَأَلَ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - : أَعَهِدَ إِلَيْكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَسِيرِكَ هَذَا شَيْئًا ؟ قَالَ : لَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
عبیداللہ بن حر بیان کرتے ہیں : انہوں نے سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا : کیا آپ کی اس روانگی کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو کوئی تلقین کی تھی ؟ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15132
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2901)»
حدیث نمبر: 15133
وَعَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ قَالَ : لَمَّا أُحِيطَ بِالْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ : مَا اسْمُ هَذِهِ الْأَرْضِ ؟ قِيلَ : كَرْبَلَاءُ . قَالَ : صَدَقَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّهَا أَرْضُ كَرْبٍ وَبَلَاءٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
مطلب بن عبداللہ بن حنطب بیان کرتے ہیں : جب سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو گھیر لیا گیا ، تو انہوں نے دریافت کیا : اس جگہ کا نام کیا ہے ؟ بتایا گیا کہ کربلا ، تو انہوں نے فرمایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا ہے : یہ کرب اور بلا کی جگہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن حمید بن کاسب ہے ، اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15133
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2812)»
حدیث نمبر: 15134
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ قَالَ : قَالَ لِيَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ قَبْلَ قَتْلِهِ بِيَوْمٍ : إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَ لَهُمْ مَلِكٌ . قَالَ : وَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین
امام زین العابدین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے اپنی شہادت سے ایک دن پہلے مجھ سے فرمایا : بنی اسرائیل کے لئے بادشاہی تھی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15134
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ جید۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2816)»
حدیث نمبر: 15135
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ قَالَ : لَمَّا نَزَلَ عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ بِالْحُسَيْنِ ، وَأَيْقَنَ أَنَّهُمْ قَاتِلُوهُ ، وَقَامَ فِي أَصْحَابِهِ خَطِيبًا ، فَحَمِدَ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : قَدْ نَزَلَ مَا تَرَوْنَ مِنَ الْأَمْرِ ، وَإِنَّ الدُّنْيَا تَغَيَّرَتْ وَتَنَكَّرَتْ ، وَأَدْبَرَ مَعْرُوفُهَا وَانْشَمَرَ ، حَتَّى لَمْ يَبْقَ مِنْهَا إِلَّا صَبَابَةُ الْإِنَاءِ إِلَّا خَسِيسُ عَيْشٍ كَالْمَرْعَى الْوَبِيلِ ، أَلَا تَرَوْنَ الْحَقَّ لَا يُعْمَلُ بِهِ ، وَالْبَاطِلَ لَا يُتَنَاهَى عَنْهُ ؟ لِيَرْغَبِ الْمُؤْمِنُ فِي لِقَاءِ اللَّهِ ; فَإِنِّي لَا أَرَى الْمَوْتَ إِلَّا سَعَادَةً ، وَالْحَيَاةَ مَعَ الظَّالِمِينَ إِلَّا بَرَمًا . وَقُتِلَ الْحُسَيْنُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ سَنَةَ إِحْدَى وَسِتِّينَ ، بِالطَّفِّ بِكَرْبَلَاءَ ، وَعَلَيْهِ جُبَّةُ خَزٍّ دَكْنَاءُ ، وَهُوَ صَابِغٌ بِالسَّوَادِ ، وَهُوَ ابْنُ سِتٍّ وَخَمْسِينَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ هَذَا هُوَ ابْنُ زُبَالَةَ ، مَتْرُوكٌ وَلَمْ يُدْرِكِ الْقِصَّةَ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن حسن بیان کرتے ہیں : جب عمر بن سعد نے امام حسین رضی اللہ عنہ کے مقابلے میں پڑاؤ کیا اور انہیں یہ یقین ہو گیا کہ وہ لوگ انہیں شہید کر دیں گے ، تو وہ اپنے ساتھیوں کے درمیان خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا : ” جس طرح کی صورت حال سامنے آئی ہے وہ تم دیکھ رہے ہو ، دنیا تبدیل ہو گئی ہے ، اور ناشناسا ہو گئی ہے اس کی بھلائی رخصت ہو گئی ہے ، اور اس نے تیزی سے منہ موڑ لیا ، یہاں تک کہ اس میں سے صرف وہ ( گدلا پن ) باقی رہ گیا ہے ، جو برتن میں تلچھٹ ہوتی ہے ، کیا تم لوگ حق کے بارے میں یہ نہیں سمجھتے ہو کہ اس پر عمل نہیں کیا جائے گا ، اور باطل سے نہیں روکا جائے گا تاکہ مومن کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کی رغبت دلائی جائے ، میں تو موت کو سعادت سمجھتا ہوں اور ظالموں کے ساتھ رہنے کو بربادی سمجھتا ہوں ۔ “ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) امام حسین رضی اللہ عنہ کو عاشورہ کے دن ” طف “ کے مقام پر شہید کیا گیا ، ان کے جسم پر اون کا بنا ہوا جبہ تھا ، انہوں نے سیاہ رنگ کا خضاب لگایا ہوا تھا ، اس وقت ان کی عمر چھپن برس تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے محمد بن حسن نامی اس راوی سے مراد ابن زبالہ ہے اور وہ متروک ہے ، اس نے اس واقعہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15135
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2842)»
حدیث نمبر: 15136
وَعَنِ الْكَلْبِيِّ قَالَ : رَمَى رَجُلٌ الْحُسَيْنَ وَهُوَ يَشْرَبُ ، فَشَلَّ شِدْقَيْهِ ، فَقَالَ : لَا أَرْوَاكَ اللَّهُ ، فَشَرِبَ حَتَّى تَفَطَّرَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ إِلَى قَائِلِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
کلبی بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو تیر مارا ، وہ اس وقت پی رہے تھے ، تو ان کی باچھیں شل ہو گئیں ، اس نے کہا: اللہ تعالیٰ تمہیں میر نہ کرے ، انہوں نے پیا ، یہاں تک کہ ان کا منہ چر گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے قائل تک اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15136
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2841)»
حدیث نمبر: 15137
وَعَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ قَالَ : خَرَجَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ إِلَى الْكُوفَةِ سَاخِطًا لِوِلَايَةِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، فَكَتَبَ يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ إِلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ - وَهُوَ وَالِيهِ عَلَى الْعِرَاقِ - أَنَّهُ قَدْ بَلَغَنِي أَنَّ حُسَيْنًا قَدْ سَارَ إِلَى الْكُوفَةِ ، وَقَدِ ابْتُلِيَ بِهِ زَمَانُكَ مِنْ بَيْنِ الْأَزْمَانِ ، وَبَلَدُكَ مِنْ بَيْنِ الْبِلَادِ ، وَابْتُلِيتَ بِهِ مِنْ بَيْنِ الْعُمَّالِ ، وَعِنْدَهَا تُعْتَقُ أَوْ تَعُودُ عَبْدًا كَمَا يُعْتَبَدُ الْعَبِيدُ . فَقَتَلَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ ، وَبَعَثَ بِرَأْسِهِ إِلَيْهِ ، فَلَمَّا وُضِعَ بَيْنَ يَدَيْهِ تَمَثَّلَ بِقَوْلِ الْحُصَيْنِ بْنِ حِمَامٍ الْمُرِّيِّ : ¤ نُفَلِّقُ هَامًا مِنْ رِجَالٍ أَحِبَّةٍ إِلَيْنَا وَهُمْ كَانُوا أَعَقَّ وَأَظْلَمَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ الضَّحَّاكَ لَمْ يُدْرِكِ الْقِصَّةَ . ¤
محمد محی الدین
ضحاک بن عثمان بیان کرتے ہیں : سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما کوفہ کی طرف جانے کے لئے نکلے وہ یزید بن معاویہ کی حکومت سے اختلاف رکھتے تھے ، یزید بن معاویہ نے عبیداللہ بن زیاد کو خط لکھا ، جو عراق پر اس کا مقرر کردہ گورنر تھا کہ مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کوفہ کی طرف روانہ ہوئے ہیں ۔ یہ آزمائش باقی تمام زمانوں کے مقابلے میں تمہارے زمانے میں سامنے آئی ہے ، اور باقی تمام شہروں کے مقابلے میں تمہارے شہر میں سامنے آئی ہے ، اور باقی تمام اہلکاروں کے مقابلے میں تمہیں اس حوالے سے آزمایا گیا ہے ، تو اس آزمائش کے نتیجے میں یا تو تم آزاد ہو جاؤ گے یا پھر پہلے کی طرح بندے بن جاؤ گے جس طرح کسی غلام کو بندہ بنایا جاتا ہے ، تو عبیداللہ بن زیاد نے امام حسین کو شہید کروا دیا ، اس نے امام حسین کا سر یزید کو بھجوایا ، جب امام حسین کا سر اس کے آگے رکھا گیا تو اس نے حصین بن حمام مری کے یہ اشعار مثال کے طور پر پڑھے : ” ہم کچھ محبوب افراد کی خاطر سر کٹوا لیتے ہیں حالانکہ وہ لوگ زیادہ نافرمان اور زیادہ ظالم ہوتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ ضحاک نامی راوی نے اس معاملے کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15137
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2846)»
حدیث نمبر: 15138
وَعَنِ ابْنِ وَائِلٍ - أَوْ وَائِلِ بْنِ عَلْقَمَةَ - أَنَّهُ شَهِدَ مَا هُنَاكَ قَالَ : قَامَ رَجُلٌ فَقَالَ : أَفَيَكِمُ حُسَيْنٌ ؟ قَالُوا : نَعَمْ . قَالَ : أَبْشِرْ بِالنَّارِ . قَالَ : أَبْشِرْ بِرَبٍّ رَحِيمٍ ، وَشَفِيعٍ مُطَاعٍ . قَالُوا : مَنْ أَنْتَ ؟ قَالَ : أَنَا ابْنُ جُوَيْرَةَ - أَوْ حُوَيْزَةَ - . قَالَ : اللَّهُمَّ حُزَّهُ إِلَى النَّارِ ، فَنَفَرَتْ بِهِ الدَّابَّةُ فَتَعَلَّقَتْ رِجْلُهُ فِي الرِّكَابِ ، قَالَ : فَوَاللَّهِ مَا بَقِيَ عَلَيْهَا مِنْهُ إِلَّا رَجْلُهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین
ابن وائل ، شاید وائل بن علقمہ بیان کرتے ہیں : وہ اس وقت وہاں موجود تھے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ایک شخص کھڑا ہوا اس نے دریافت کیا : کیا تمہارے درمیان حسین ہے ، لوگوں نے بتایا جی ہاں ، اس نے کہا: تم جہنم کی اطلاع حاصل کرو ، تو انہوں نے کہا: تم رحم کرنے والے پروردگار کی اطلاع حاصل کرو اور شفاعت کرنے والی ایسی ہستی کی جن کی اطاعت کی جاتی ہے ، لوگوں نے کہا: تم کون ہو ؟ اس نے کہا: میں این جویرہ ہوں ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) ابن حویزہ ہوں ، انہوں نے کہا: اے اللہ ! اسے جہنم کی طرف لے جا ، تو اس کے جانور نے اسے گرا دیا ، اس کا پاؤں رکاب میں پھنس گیا ، راوی کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! اس کے جسم میں سے صرف وہ پاؤں ہی بچا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ و اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15138
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2849)»
حدیث نمبر: 15139
وَعَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ : قَالَ حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ حِينَ أَحَسَّ بِالْقَتْلِ : ائْتُونِي ثَوْبًا لَا يَرْغَبُ فِيهِ أَحَدٌ أَجْعَلْهُ تَحْتَ ثِيَابِي لَا أُجَرَّدُ . فَقِيلَ لَهُ : تُبَّانٌ . فَقَالَ : لَا ، ذَاكَ لِبَاسُ مَنْ ضُرِبَتْ عَلَيْهِ الذِّلَّةُ ، فَأَخَذَ ثَوْبًا فَحَرَقَهُ ، فَجَعَلَهُ تَحْتَ ثِيَابِهِ ، فَلَمَّا أَنْ قُتِلَ جَرَّدُوهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ إِلَى قَائِلِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابن ابولیلیٰ بیان کرتے ہیں : سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو یہ اندازہ ہو گیا کہ انہیں شہید کر دیا جائے گا ، تو انہوں نے فرمایا : میرے پاس ایسا کپڑا لے کے آؤ ، جس میں کسی کو دلچسپی نہ ہو ( یعنی جو غیر ضروری ہو ) تاکہ میں اسے اپنے کپڑوں کے نیچے رکھ لوں ، تاکہ مجھے برہنہ نہ کیا جائے ۔ ان سے کہا: گیا ایک لنگوٹ ہے ۔ انہوں نے فرمایا : جی نہیں ۔ یہ تو اس شخص کا لباس ہوتا ہے ، جس پر ذلت مسلط کر دی گئی ہو ، پھر انہوں نے ایک کپڑا لیا اور اسے اپنے کپڑے کے نیچے باندھ لیا ، جب انہیں شہید کر دیا گیا ، تو لوگوں نے ان کے کپڑے اتار لئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے قائل تک اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15139
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2850)»
حدیث نمبر: 15140
وَعَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ قَالَ : مَرَّ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَلَى كَعْبِ الْأَحْبَارِ ، فَقَالَ : يُقْتَلُ مِنْ وَلَدِ هَذَا الرَّجُلِ رَجُلٌ فِي عِصَابَةٍ ، لَا يَجِفُّ عَرَقُ خُيُولِهِمْ حَتَّى يَرِدُوا عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . فَمَرَّ حَسَنٌ ، فَقَالُوا : هَذَا يَا أَبَا إِسْحَاقَ ؟ قَالَ : لَا . فَمَرَّ حُسَيْنٌ ، فَقَالُوا : هَذَا ؟ قَالَ : نَعَمْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ عَمَّارًا لَمْ يُدْرِكِ الْقِصَّةَ . ¤
محمد محی الدین
عمار دہنی بیان کرتے ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا گزر کعب احبار کے پاس سے ہوا تو انہوں نے کہا: ان صاحب کی اولاد میں سے ایک شخص کو ساتھیوں سمیت قتل کیا جائے گا ، اور ان کے گھوڑوں کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے وہ لوگ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ جائیں گے ، اس دوران سیدنا حسن رضی اللہ عنہ وہاں سے گزرے تو لوگوں نے کہا: اے ابواسحاق وہ صاحب یہ ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ! پھر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ گزرے ، لوگوں نے دریافت کیا : یہ ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں البتہ عمار دہنی نامی راوی نے اس واقعہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15140
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2851)»
حدیث نمبر: 15141
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْمَنَامِ بِنِصْفِ النَّهَارِ أَشْعَثَ أَغْبَرَ ، مَعَهُ قَارُورَةٌ فِيهَا دَمٌ يَلْتَقِطُهُ ، أَوْ يَتَتَبَّعُ فِيهَا شَيْئًا ، فَقُلْتُ : مَا هَذَا ؟ قَالَ : دَمُ الْحُسَيْنِ وَأَصْحَابِهِ ، فَلَمْ أَزَلْ أَتَتَبَّعُهُ مُنْذُ الْيَوْمِ [ قَالَ عَمَّارٌ : فَحَفِظْنَا وَذَلِكَ الْيَوْمَ ، فَوَجَدْنَاهُ قُتِلَ ذَلِكَ الْيَوْمَ ] . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے دوپہر کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا ، آپ کے بال بکھرے ہوئے تھے اور غبار آلود تھے آپ کے پاس ایک شیشی تھی جس میں خون موجود تھا اور آپ اس میں سے کچھ تلاش کر رہے تھے ، میں نے دریافت کیا : یہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : یہ حسین اور اس کے ساتھیوں کا خون ہے ، آج میں مسلسل اس کا سامنا کر رہا ہوں ۔ عمار کہتے ہیں ۔ ہم نے وہ دن یاد رکھا تو ہمیں یہ بات پتہ چلی کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اسی دن شہید ہوئے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے امام أحمد کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15141
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2842) أخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (2265 و 553)»