حدیث نمبر: 15142
وَعَنْ عُمَارَةَ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَالِدِ بْنِ عَرْفَطَةَ قَالَ : كُنَّا عِنْدَ خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ يَوْمَ قَتْلِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - فَقَالَ لَنَا خَالِدٌ : هَذَا مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ يَقُولُ ] : " إِنَّكُمْ سَتُبْتَلَوْنَ فِي أَهْلِ بَيْتِي مِنْ بَعْدِي " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عُمَارَةَ ، وَعُمَارَةُ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
عمارہ بن یحیی بن خالد بن عرفطہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی شہادت کے دن خالد بن عرفطہ کے پاس موجود تھے ۔ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے ہم سے کہا: یہ وہ چیز ہے جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگ میرے بعد میرے اہل بیت کے حوالے سے آزمائش میں مبتلاء کیے جاؤ گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام بزار نے نقل کی ہے امام طبرانی کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف عمارہ بن یحیی کا معاملہ مختلف ہے اور عمارہ کو ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام بزار نے نقل کی ہے امام طبرانی کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف عمارہ بن یحیی کا معاملہ مختلف ہے اور عمارہ کو ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 15143
وَعَنْ حَبِيبِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ : لَمَّا أُصِيبَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَامَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ إِلَى بَابِ الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ : أَفَعَلْتُمُوهَا ؟ أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَوْدِعُكَهُمَا وَصَالَحَ الْمُؤْمِنِينَ " . فَقِيلَ لِعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ : إِنَّ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ قَالَ : كَذَا وَكَذَا . قَالَ : ذَاكَ شَيْخٌ قَدْ ذَهَبَ عَقْلُهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ بَزِيعٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
حبیب بن یسار بیان کرتے ہیں : جب سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو شہید کیا گیا ، تو سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ مسجد کے دروازے پر کھڑے ہوئے ، انہوں نے دریافت کیا : تم لوگوں نے ایسا کیا ہے ؟ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اے اللہ ! میں ان دونوں کو تیرے اور نیک مومنین کے سپرد کرتا ہوں ۔ “ عبیداللہ بن زیاد سے کہا: گیا کہ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے یہ یہ بات فرمائی ہے ، تو اس نے کہا: وہ ایک بوڑھے آدمی ہیں جن کی عقل رخصت ہو چکی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سلیمان بن بزیع ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سلیمان بن بزیع ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 15144
وَعَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ بَكَّارٍ قَالَ : وُلِدَ الْحُسَيْنُ لِخَمْسِ لَيَالٍ خَلَوْنَ مِنْ شَعْبَانَ ، سَنَةَ أَرْبَعٍ مِنَ الْهِجْرَةِ ، وَقُتِلَ يَوْمَ الْجُمْعَةِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ فِي الْمُحَرَّمِ سَنَةَ إِحْدَى وَسِتِّينَ ، قَتَلَهُ سِنَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ ، وَأَجْهَزَ عَلَيْهِ خَوْلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَصْبَحِيُّ مِنْ حِمْيَرَ ، وَحَزَّ رَأْسَهُ وَأَتَى بِهِ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ زِيَادٍ ، فَقَالَ سِنَانٌ : ¤ أَوْقِرْ رِكَابِي فِضَّةً وَذَهَبَا أَنَا قَتَلْتُ الْمَلِكَ الْمُحَجَّبَا قَتَلْتُ خَيْرَ النَّاسِ أُمًّا وَأَبَا ¤ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
زبیر بن بکار بیان کرتے ہیں : سیدنا حسین رضی اللہ عنہ پانچ شعبان سن چار ہجری میں پیدا ہوئے تھے اور وہ جمعہ کے دن عاشورہ کے دن محرم کے مہینے میں اکسٹھ ہجری میں شہید ہوئے ، سنان بن ابوانس نے انہیں قتل کیا تھا اور خولی بن یزید اصبحی جس کا تعلق حمیر سے تھا ، اس نے ان کا سر اتارا تھا اور وہ اسے لے کے عبیداللہ بن زیاد کے پاس آیا تھا ، تو سنان نے یہ کہا: ” میری سواری کو سونے اور چاندی سے لاد دو ! کیونکہ میں نے ایک صاحب حیثیت بادشاہ کو قتل کیا ہے ، میں نے ان کو قتل کیا ہے جو ماں اور باپ کے حوالے سے سب سے بہتر تھے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 15145
وَعَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ قَالَ : سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ حِينَ جَاءَ نَعْيُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ لَعَنَتْ أَهْلَ الْعِرَاقِ ، وَقَالَتْ : قَتَلُوهُ قَتَلَهُمُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - غَرُّوهُ وَذَلُّوهُ ; لَعَنَهُمُ اللَّهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
شہر بن حوشب بیان کرتے ہیں : میں نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو سنا جب ان کے پاس سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی شہادت کی اطلاع آئی تو انہوں نے اہل عراق پر لعنت کی اور یہ فرمایا : ان لوگوں نے انہیں شہید کر دیا ہے اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو قتل کر دے ان لوگوں نے انہیں دھوکہ دیا اور انہیں پسپائی کا شکار کیا اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر لعنت کرے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 15146
وَعَنْ أَسْلَمَ الْمِنْقَرِيِّ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى الْحَجَّاجِ ، فَدَخَلَ سِنَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ - قَاتِلُ الْحُسَيْنِ - فَإِذَا شَيْخٌ آدَمُ فِيهِ حِنَّاءُ ، طَوِيلُ الْأَنْفِ ، فِي وَجْهِهِ بَرَشٌ ، فَأُوقِفَ بِحِيَالِ الْحَجَّاجِ ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ الْحَجَّاجُ فَقَالَ : أَنْتَ قَتَلْتَ الْحُسَيْنَ ؟ قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : وَكَيْفَ صَنَعْتَ بِهِ ؟ قَالَ : دَعَمْتُهُ بِالرُّمْحِ ، وَهَبَرْتُهُ بِالسَّيْفِ هَبْرًا . فَقَالَ لَهُ الْحَجَّاجُ : أَمَا إِنَّكُمَا لَنْ تَجْتَمِعَا فِي دَارٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
اسلم منقری بیان کرتے ہیں : میں حجاج کے پاس آیا اسی دوران امام حسین رضی اللہ عنہ کا قاتل سنان بن ابوانس بھی وہاں آیا وہ گندمی رنگت کا بوڑھا شخص تھا ، جو کچھ خمیدہ کمر تھا ، اس کی ناک لمبی تھی اور اس کے چہرے پر داغ تھے ، وہ حجاج کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا حجاج نے اس کی طرف دیکھا اور دریافت کیا : کیا تم نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کیا ہے ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ، حجاج نے دریافت کیا : تم نے ان کے ساتھ کیا کیا ؟ اس نے کہا: میں نے ان پر نیزے کا وار کیا اور تلوار کے ذریعے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ، تو حجاج نے کہا: تم دونوں ( یعنی تم اور امام حسین رضی اللہ عنہ ) ایک جگہ پر ( یعنی جنت میں ) کبھی اکٹھے نہیں ہو گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 15147
وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ - يَعْنِي النَّخَعِيَّ - قَالَ : لَوْ كُنْتُ فِيمَنْ قَتَلَ الْحُسَيْنَ ، ثُمَّ غُفِرَ لِي ، ثُمَّ أُدْخِلْتُ الْجَنَّةَ - اسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَمُرَّ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيَنْظُرَ فِي وَجْهِي . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابراہیم نخعی بیان کرتے ہیں : اگر میں ان لوگوں میں شامل ہوتا جنہوں نے امام حسین کو شہید کیا تھا اور پھر میری مغفرت بھی ہو جاتی اور پھر مجھے جنت میں بھی داخل کر دیا جاتا تو مجھے اس بات سے حیاء آنی تھی کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے گزروں اور آپ میرا چہرہ دیکھ لیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 15148
وَعَنِ اللَّيْثِ - يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ - قَالَ : أَبَى الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ أَنْ يَسْتَأْسِرَ ، فَقَاتَلُوهُ فَقَتَلُوهُ ، وَقَتَلُوا بَنِيهِ وَأَصْحَابَهُ الَّذِينَ قَاتَلُوا مَعَهُ بِمَكَانٍ يُقَالُ لَهُ : الطَّفُّ ، وَانْطَلَقَ بِعَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، وَفَاطِمَةَ بِنْتِ حُسَيْنٍ ، وَسُكَيْنَةَ بِنْتِ حُسَيْنٍ إِلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ ، وَعَلِيٌّ يَوْمَئِذٍ غُلَامٌ قَدْ بَلَغَ ، فَبَعَثَ بِهِمْ إِلَى يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، فَأَمَرَ بِسُكَيْنَةَ ، فَجَعَلَهَا خَلْفَ سَرِيرِهِ لِئَلَّا تَرَى رَأْسَ أَبِيهَا وَذَوِي قَرَابَتِهَا ، وَعَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ فِي غُلٍّ ، فَوَضَعَ رَأْسَهُ فَضَرَبَ عَلَى ثَنْيَتَيِ الْحُسَيْنِ ، فَقَالَ : ¤ نُفَلِّقُ هَامًا مِنْ رِجَالٍ أَحِبَّةٍ إِلَيْنَا وَهُمْ كَانُوا أَعَقَّ وَأَظْلَمَا . ¤ فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ : ( مَا أَصَابَ مِنْ مُصِيبَةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي أَنْفُسِكُمْ إِلَّا فِي كِتَابٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ نَبْرَأَهَا إِنَّ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ ) . فَثَقُلَ عَلَى يَزِيدَ أَنْ يَتَمَثَّلَ بِبَيْتِ شِعْرٍ ، وَتَلَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ آيَةً مِنْ كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ . فَقَالَ يَزِيدُ : بَلْ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ ، وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ . فَقَالَ عَلِيٌّ : أَمَا وَاللَّهِ لَوْ رَآنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَغْلُولِينَ لَأَحَبَّ أَنْ يُخَلِّيَنَا مِنَ الْغُلِّ . فَقَالَ : صَدَقْتَ ، فَخَلُّوهُمْ مِنَ الْغُلِّ . فَقَالَ : وَلَوْ وَقَفْنَا بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى بُعْدٍ لَأَحَبَّ أَنْ يُقَرِّبَنَا . قَالَ : صَدَقْتَ ، فَقَرِّبُوهُمْ . فَجَعَلَتْ فَاطِمَةُ وَسُكَيْنَةُ يَتَطَاوَلَانِ لِتَرَيَا رَأْسَ أَبِيهِمَا ، وَجَعَلَ يَزِيدُ يَتَطَاوَلُ فِي مَجْلِسِهِ لِيَسْتُرَ رَأْسَ الْحُسَيْنِ ، ثُمَّ أَمَرَ بِهِمْ فَجُهِّزُوا ، وَأَصْلَحَ إِلَيْهِمْ ، وَأُخْرِجُوا إِلَى الْمَدِينَةِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
لیث بن سعد بیان کرتے ہیں : سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما نے قیدی بننے سے انکار کر دیا تھا ، لوگوں نے ان کے ساتھ جنگ کر کے انہیں شہید کر دیا ، ان کے بیٹوں اور ان کے ساتھیوں کو بھی شہید کر دیا ، جنہوں نے ان کے ساتھ لڑائی میں حصہ لیا تھا ۔ یہ واقعہ اس جگہ پر پیش آیا جس کا نام طف ہے وہ لوگ علی بن حسین ( یعنی زین العابدین ) کو ساتھ لے گئے ، فاطمہ بنت حسین سکینہ بنت حسین کو لے کے عبیداللہ بن زیاد کے پاس چلے گئے ، علی بن حسین ( یعنی امام زین العابدین ) ان دنوں قریب البلوغ لڑکے تھے ، پھر عبیداللہ بن زیاد نے ان لوگوں کو یزید بن معاویہ کے پاس بھیجوا دیا ، اس نے سیدہ سکینہ بنت حسین رضی اللہ عنہما کے بارے میں حکم دیا ، انہیں پیچھے کر دیا جائے تاکہ وہ اپنے والد کا سر نہ دیکھ سکیں اور ان کے رشتہ داروں کے بارے میں بھی یہی حکم دیا ، سیدنا علی بن حسین رضی اللہ عنہ اس وقت بیڑیوں میں جکڑے ہوئے تھے ، امام حسین رضی اللہ عنہ کا سر رکھا گیا تو یزید نے ان کے دانتوں پر چھڑی ماری اور یہ شعر پڑھا : ” ہم کچھ محبوب افراد کی خاطر سر کٹوا لیتے ہیں ، حالانکہ وہ لوگ زیادہ نافرمان اور زیادہ ظالم ہوتے ہیں ۔ “ تو امام زین العابدین رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی : ” زمین میں ، یا تمہارے وجودوں میں جو مصیبت لاحق ہوتی ہے ، تو وہ ایک تحریر میں ہے ، اس سے پہلے کہ ہم اس کو پیدا کریں ، اور یہ ( سب پہلے سے تحریر کر دینا ) اللہ تعالیٰ کے لئے آسان ہے ۔ “ یہ بات یزید کو بہت گراں گزری کہ اس نے صورت حال پر تبصرہ کرنے کے لئے شعر پڑھا تھا اور امام زین العابدین نے اللہ کی کتاب کی آیت پڑھ دی ہے ، تو یزید نے کہا: جی نہیں بلکہ یہ اس وجہ سے ہے ، جو تمہارے ہاتھوں نے کمائی کی ہے ، اور اس نے بہت سی چیزوں سے درگزر کیا ہے ( یعنی اس نے بھی آیت پڑھ دی ) تو امام زین العابدین نے فرمایا : اللہ کی قسم ! اگر اللہ کے رسول ہمیں ایسی حالت میں دیکھتے کہ ہم بیڑیوں میں جکڑے ہوئے ہیں ، تو آپ اس بات کو پسند کرتے کہ آپ ہماری بیڑیاں کھول دیں ، یزید نے کہا: آپ نے ٹھیک کہا: ہے تم لوگ ان کی بیڑیاں کھول دو ، امام زین العابدین نے کہا: اگر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس طرح دور کھڑے کیے جاتے تو آپ کی یہ خواہش ہونی تھی کہ آپ ہمیں قریب کھڑا کرتے ، یزید نے کہا: آپ نے ٹھیک کہا: ہے تم انہیں قریب کر دو ، پھر سیدہ فاطمہ بنت حسین رضی اللہ عنہا اور سیدہ سکینہ بنت حسین رضی اللہ عنہا اونچی ہو کر اپنے والد کا سر دیکھنے کی کوشش کرنے لگیں تو یزید اپنی جگہ سے اونچا ہو گیا تاکہ امام حسین رضی اللہ عنہ کے سر کے لئے رکاوٹ بن جائے ( اور وہ خواتین اسے نہ دیکھ پائیں ) پھر اس نے ان لوگوں کے بارے میں حکم دیا انہیں ساز و سامان فراہم کیا گیا اس نے ان لوگوں کی تیاری کروائی اور انہیں مدینہ منورہ بھجوا دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 15149
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ : لَمَّا أُتِيَ ابْنُ زِيَادٍ بِرَأْسِ الْحُسَيْنِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَجَعَلَ يَنْقُرُ بِقَضِيبٍ فِي يَدِهِ فِي عَيْنِهِ وَأَنْفِهِ ، فَقَالَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ : ارْفَعِ الْقَضِيبَ قَالَ ، لَهُ : لِمَ ؟ فَقَالَ : رَأَيْتُ فَمَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَوْضِعِهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ حَرَامُ بْنُ عُثْمَانَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کا سر ابن زیاد کے پاس لایا گیا تو اس نے اپنے ہاتھ میں موجود چھڑی کے ذریعے امام حسین کی آنکھوں اور ناک پر لگانا شروع کیا ، تو سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے کہا: تم اپنی چھڑی اٹھا لو ، اس نے دریافت کیا : وہ کیوں ؟ تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا منہ اس جگہ پر دیکھا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حرام بن عثمان ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حرام بن عثمان ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 15150
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : لَمَّا أُتِيَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ بِرَأْسِ الْحُسَيْنِ ، جَعَلَ يَنْكُتُ بِالْقَضِيبِ ثَنَايَاهُ يَقُولُ : لَقَدْ كَانَ - أَحْسَبُهُ قَالَ - جَمِيلًا ، فَقُلْتُ : وَاللَّهِ لَأُسَوِّءَنَّكَ ، إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَلْثِمُ حَيْثُ يَقَعُ قَضِيبُكَ . قَالَ : فَانْقَبَضَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب امام حسین رضی اللہ عنہ کا سر عبیداللہ بن زیاد کے پاس لایا گیا ، تو اس نے ان کے دانتوں پر چھڑی لگانا شروع کی اور یہ کہنا شروع کیا یہ بہت خوبصورت ہیں ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے کہا: اللہ کی قسم ! میں تمہارے عمل کو غلط قرار دوں گا کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس جگہ کو بوسہ دیتے ہوئے دیکھا ہے ، جہاں تم چھڑی لگا رہے ہو ۔ راوی کہتے ہیں : تو اس نے ہاتھ کھینچ لیا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 15151
وَعَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ : رَأَيْتُ فِي النَّوْمِ كَأَنَّ رِجَالًا مِنَ السَّمَاءِ نَزَلُوا ، مَعَهُمْ حِرَابٌ يَتَتَبَّعُونَ قَتَلَةَ الْحُسَيْنِ ، فَمَا لَبِثْتُ أَنْ نَزَلَ الْمُخْتَارُ فَقَتَلَهُمْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
امام شعبی بیان کرتے ہیں : میں نے خواب میں دیکھا کہ آسمان سے کچھ لوگ نازل ہوئے جن کے ساتھ نیزے بھی تھے اور وہ امام حسین رضی اللہ عنہ کے قاتلوں کو تلاش کر رہے تھے ۔ راوی کہتے ہیں : تھوڑے ہی دن گزرنے کے بعد مختار آ گیا ، اور اس نے ان سب قاتلوں کو قتل کروا دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 15152
وَعَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ : رَأَيْتُ الْحُسَيْنَ أَوَّلَ رَأْسٍ حُمِلَ فِي الْإِسْلَامِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْوَاقِدِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
امام شعبی بیان کرتے ہیں : امام حسین رضی اللہ عنہ کا سر اسلام میں پہلا سر ہے ، جسے اٹھا کر لایا گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی واقدی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی واقدی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 15153
وَعَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ ، وَإِذَا رَأَسُ الْحُسَيْنِ قُدَّامَهُ عَلَى تُرْسٍ ، فَوَاللَّهِ مَا لَبِثْتُ إِلَّا قَلِيلًا حَتَّى دَخَلْتُ عَلَى الْمُخْتَارِ ، فَإِذَا بِرَأْسِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ عَلَى تُرْسٍ ، فَوَاللَّهِ مَا لَبِثْتُ إِلَّا قَلِيلًا حَتَّى دَخَلْتُ عَلَى مُصْعَبِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، وَإِذَا رَأَسُ الْمُخْتَارِ عَلَى تُرْسٍ ، فَوَاللَّهِ مَا لَبِثْتُ إِلَّا قَلِيلًا حَتَّى دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ ، وَإِذَا رَأَسُ مُصْعَبِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَلَى تُرْسٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ ، وَقَالَ : مَا كَانَ لِهَؤُلَاءِ عَمَلٌ إِلَّا الرُّءُوسُ . وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عبدالملک بن عمیر بیان کرتے ہیں : میں عبیداللہ بن زیاد کے پاس آیا امام حسین رضی اللہ عنہ کا سر اس کے سامنے ایک ڈھال میں رکھا ہوا تھا ۔ اللہ کی قسم ! کچھ عرصہ گزرنے کے بعد میں مختار کے پاس آیا تو عبیداللہ بن زیاد کا سر مختار کے سامنے ایک ڈھال میں رکھا ہوا تھا ، اللہ کی قسم ! کچھ عرصہ گزرنے کے بعد میں مصعب بن زبیر کے پاس آیا تو مختار کا سر ایک ڈھال میں رکھا ہوا تھا ، اللہ کی قسم ! کچھ عرصہ گزرنے کے بعد میں عبدالملک کے پاس آیا تو مصعب بن زبیر کا سر ایک ڈھال میں رکھا ہوا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے وہ یہ کہتے ہیں : یہ سلوک صرف ان بڑوں کے ساتھ ہی کیا گیا تھا ، امام طبرانی کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے وہ یہ کہتے ہیں : یہ سلوک صرف ان بڑوں کے ساتھ ہی کیا گیا تھا ، امام طبرانی کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 15154
وَعَنْ ذُوَيْدٍ الْجُعْفِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : لَمَّا قُتِلَ الْحُسَيْنُ انْتُهِبَتْ جَزُورٌ مِنْ عَسْكَرِهِ ، فَلَمَّا طُبِخَتْ إِذَا هِيَ دَمٌ ، فَأَكْفَئُوهَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
زوید جعفی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ” جب سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا ، تو میں نے ان کے لشکر کا ایک اونٹ لوٹ لیا جب اس کا گوشت پکایا گیا ، تو وہ خون بن گیا ، تو میں نے اسے پھینک دیا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 15155
وَعَنْ حُمَيْدٍ الطَّحَّانِ قَالَ : كُنْتُ فِي خُزَاعَةَ ، فَجَاءُوا بِشَيْءٍ مِنْ تَرِكَةِ الْحُسَيْنِ ، فَقِيلَ لَهُمْ : نَنْحَرُ أَوْ نَبِيعُ فَنُقَسِّمُ . قَالَ : انْحَرُوا ، فَجَلَسْتُ عَلَى جَفْنَةٍ ، فَلَمَّا جَلَسْتُ فَارَتْ نَارًا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
حمید ملحان بیان کرتے ہیں : میں خزاعہ قبیلے میں موجود تھا وہ امام حسین رضی اللہ عنہ کے چھوڑے گئے سامان میں سے کچھ چیزیں لے کے آئے ، ان سے کہا: گیا ہمیں ان کو قربان کر دینا چاہیے یا انہیں فروخت کر کے مال تقسیم کر لینا چاہیے ، انہوں نے کہا: ان کو قربان کر دو ، میں ہنڈیا کے پاس بیٹھ گیا ، جب میں نے اسے رکھا تو اس میں آگ بھڑک اٹھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 15156
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ بَعْجَةَ قَالَ : أَوَّلُ ذُلٍّ دَخَلَ عَلَى الْعَرَبِ قَتْلُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ، وَادِّعَاءَ زِيَادٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عمرو بن بعجہ بیان کرتے ہیں : عربوں میں جو سب سے پہلی ذلت داخل ہوئی وہ امام حسین رضی اللہ عنہ کا قتل ہے ، جس کا ارتکاب زیاد نے کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 15157
وَعَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ قَالَ : لَا تَسُبُّوا عَلِيًّا وَلَا أَحَدًا مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ ; فَإِنَّ جَارًا لَنَا مِنْ بَلْهُجَيْمٍ قَالَ : أَلَمْ تَرَوْا إِلَى هَذَا الْفَاسِقِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ قَتَلَهُ اللَّهُ ؟ فَرَمَاهُ اللَّهُ بِكَوْكَبَيْنِ فِي عَيْنَيْهِ ; فَطَمَسَ اللَّهُ بَصَرَهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
اہورجاء عطاردی بیان کرتے ہیں : تم لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یا ان کے اہل بیت میں سے کسی کو برا نہ کہو کیونکہ ہمارا ایک پڑوسی تھا ، جو بلہجیم میں تھا اس نے کہا: کیا تم لوگوں نے اس فاسق حسین بن علی کو نہیں دیکھا اللہ تعالیٰ اسے قتل کر دے ۔ راوی کہتے ہیں : تو اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی آنکھوں میں دو ستارے ( یعنی ان کی روشنی ) ماری اور اس شخص کی بینائی ختم ہو گئی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15158
وَعَنْ حَاجِبِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ قَالَ : دَخَلْتُ الْقَصْرَ خَلْفَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ حِينَ قُتِلَ الْحُسَيْنُ ، فَاضْطَرَمَ فِي وَجْهِهِ نَارًا ، فَقَالَ هَكَذَا بِكُمِّهِ عَلَى وَجْهِهِ ، فَقَالَ : هَلْ رَأَيْتَ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَكْتُمَ ذَلِكَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَحَاجِبُ عُبَيْدِ اللَّهِ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عبیداللہ بن زیاد کا دربان کہتا ہے : میں محل میں عبیداللہ بن زیاد کے پیچھے داخل ہوا جب امام حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا تھا ، تو عبیداللہ بن زیاد کے سامنے کی طرف سے آگ آئی اور اس نے اپنی آستین کے ذریعے اپنے چہرے کو اس طرح چھپانے کی کوشش کی ، پھر اس نے دریافت کیا : کیا تم نے یہ دیکھا ؟ میں نے کہا: جی ہاں ، تو اس نے مجھ سے کہا: تم نے اس بات کو چھپا کے رکھنا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، عبیداللہ کے دربان سے میں واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، عبیداللہ کے دربان سے میں واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 15159
وَعَنِ الزَّهْرِيِّ قَالَ : قَالَ لِي عَبْدُ الْمَلِكِ : أَيُّ وَاحِدٍ أَنْتَ إِنْ أَعْلَمْتَنِي ، أَيُّ عَلَامَةٍ كَانَتْ يَوْمَ قَتْلِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ . فَقَالَ : قُلْتُ : لَمْ تُرْفَعْ حَصَاةٌ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ إِلَّا وُجِدَ تَحْتَهَا دَمٌ عَبِيطٍ ، فَقَالَ لِي عَبْدُ الْمَلِكِ : إِنِّي وَإِيَّاكَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ لَقَرِينَانِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
زہری بیان کرتے ہیں : عبدالملک نے مجھ سے کہا: تم وہ واحد شخص ہو جو مجھے بتا سکتے ہو کہ امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی شہادت کے دن کی مخصوص نشانی کیا ہو گی ؟ راوی کہتے ہیں : تو میں نے بتایا : اس دن بیت المقدس کی جو بھی کنکری اٹھائی جائے گی اس کے نیچے سے تازہ خون نکلے گا ، تو عبدالملک نے مجھ سے کہا: میں اس بات کے حوالے سے میں اور تم ساتھی کی حیثیت رکھتے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 15160
وَعَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ : مَا رُفِعَ بِالشَّامِ حَجَرٌ يَوْمَ قَتْلِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ إِلَّا عَنْ دَمٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
زہری بیان کرتے ہیں : امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی شہادت کی شام میں جو بھی پتھر اٹھایا جاتا تھا اس پر خون لگا ہوتا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15161
وَعَنْ أُمِّ حَكِيمٍ قَالَتْ : قُتِلَ الْحُسَيْنُ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ جُوَيْرِيَّةٌ ، فَمَكَثَتِ السَّمَاءُ أَيَّامًا مِثْلَ الْعَلَقَةِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ إِلَى أُمِّ حَكِيمٍ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام حکیم رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا ، میں ان دنوں لڑکی تھی ، تو چند دن تک آسمان سرخ رہا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور ام حکیم تک اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور ام حکیم تک اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15162
وَعَنْ جَمِيلِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ : لَمَّا قُتِلَ الْحُسَيْنُ احْمَرَّتِ السَّمَاءُ ، قُلْتُ : أَيُّ شَيْءٍ تَقُولُ ؟ قَالَ : إِنَّ الْكَذَّابَ مُنَافِقٌ ، إِنَّ السَّمَاءَ احْمَرَّتْ حِينَ قُتِلَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
جمیل بن زید بیان کرتے ہیں : جب امام حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا ، تو آسمان سرخ ہو گیا ۔ میں نے کہا: آپ کس بنیاد پر یہ کہہ رہے ہیں ؟ تو انہوں نے کہا: جھوٹ بولنے والا شخص منافق ہوتا ہے ، امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے وقت آسمان سرخ ہو گیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 15163
وَعَنْ أَبِي قَبِيلٍ قَالَ : لَمَّا قُتِلَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ كَسْفَةً حَتَّى بَدَتِ الْكَوَاكِبُ نِصْفَ النَّهَارِ ، حَتَّى ظَنَّنَا أَنَّهَا هِيَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوقبیل بیان کرتے ہیں : جب امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو شہید کیا گیا ، تو سورج گرہن ہو گیا یہاں تک کہ دوپہر کے وقت ستارے نظر آنے لگے ، اور ہم نے یہ گمان کیا کہ وہ یہی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 15164
وَعَنْ عِيسَى بْنِ الْحَارِثِ الْكِنْدِيِّ قَالَ : لَمَّا قُتِلَ الْحُسَيْنُ ، مَكَثْنَا سَبْعَةَ أَيَّامٍ إِذَا صَلَّيْنَا الْعَصْرَ نَظَرْنَا إِلَى السَّمَاءِ عَلَى أَطْرَافِ الْحِيطَانِ كَأَنَّهَا الْمَلَاحِفُ الْمُعَصْفَرَةُ . وَنَظَرْنَا إِلَى الْكَوَاكِبِ يَضْرِبُ بَعْضُهَا بَعْضًا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
عیسیٰ بن حارث کندی بیان کرتے ہیں : جب امام حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا ، تو سات دن تک ہمارا یہ عالم رہا کہ جب ہم عصر کی نماز ادا کر لیتے تھے ، تو آسمان کی طرف دیکھتے تھے ، تو یوں لگتا تھا جیسے وہ سرخ رنگ کا لحاف اوڑھے ہوئے ہے ، اور ہمیں ستارے نظر آتے تھے کہ وہ ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 15165
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ : لَمْ تَكُنْ فِي السَّمَاءِ حُمْرَةٌ حَتَّى قُتِلَ الْحُسَيْنُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں : آسمان میں سرخی نہیں آئی ، یہاں تک کہ امام حسین رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی حمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی حمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 15166
وَعَنْ سُفْيَانَ قَالَ : حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي أُمُّ أَبِي قَالَتْ : شَهِدَ رَجُلَانِ مِنَ الْجُعْفِيِّينَ قَتْلَ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ، فَأَمَّا أَحَدُهُمَا فَطَالَ ذَكَرُهُ حَتَّى كَانَ يَلُفُّهُ . وَأَمَّا الْآخَرُ فَكَانَ يَسْتَقْبِلُ الرَّاوِيَةَ بِفِيهِ حَتَّى يَأْتِيَ عَلَى آخِرِهَا . قَالَ سُفْيَانُ : رَأَيْتُ وَلَدَ أَحَدِهِمَا كَانَ بِهِ خَبَلٌ ، وَكَأَنَّهُ مَجْنُونٌ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ إِلَى جَدِّهِ سُفْيَانَ ثِقَاتٌ
محمد محی الدین
سفیان بیان کرتے ہیں : میری دادی یعنی میرے والد کی والدہ نے یہ بات بیان کی ہے : جعفیوں میں سے دو افراد امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے قتل کے وقت موجود تھے ، ان دونوں کا انجام برا ہوا ۔ سفیان کہتے ہیں : میں نے ان دونوں میں سے ایک کی اولاد کو دیکھا کہ اسے پاگل پن لاحق ہو گیا تھا اور وہ پاگل ہی رہا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور سفیان کی دادی تک اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور سفیان کی دادی تک اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 15167
وَبِسَنَدِهِ قَالَ : رَأَيْتُ الْوَرْسَ الَّذِي أُخِذَ مِنْ عَسْكَرِ الْحُسَيْنِ صَارَ مِثْلَ الرَّمَادِ .
محمد محی الدین
اسی سند کے ساتھ یہ بات منقول ہے وہ بیان کرتے ہیں : ” امام حسین رضی اللہ عنہ کے لشکر میں سے جو سامان لیا گیا تھا میں نے دیکھا کہ اس میں سے ورس ، راکھ کی مانند تھا ۔ “
حدیث نمبر: 15168
وَعَنِ الْأَعْمَشِ قَالَ : خَرَى رَجُلٌ [ مِنْ بَنِي أَسَدٍ ] عَلَى قَبْرِ الْحُسَيْنِ ، فَأَصَابَ أَهْلَ ذَلِكَ الْبَيْتِ خَبَلٌ ، وَجُنُونٌ ، وَجُذَامٌ ، وَبَرَصٌ ، وَفَقْرٌ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
اعمش بیان کرتے ہیں : بنو اسد سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے امام حسین رضی اللہ عنہ کی قبر پر پاخانہ کر دیا ، تو اس کے گھر کے افراد کو پاگل پن جنون جذام برص اور غربت لاحق ہو گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔