کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: اس چیز کا بیان ، جس میں حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ فضیلت کے حوالے سے شریک ہیں
حدیث نمبر: 15063
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَهُ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ - عَلَيْهِمَا السَّلَامُ - هَذَا عَلَى عَاتِقِهِ ، وَهَذَا عَلَى عَاتِقِهِ ، يَلْثِمُ هَذَا مَرَّةً وَهَذَا مَرَّةً ، حَتَّى انْتَهَى إِلَيْنَا ، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّكَ لَتُحِبُّهُمَا ؟ قَالَ : " مَنْ أَحَبَّهُمَا فَقَدْ أَحَبَّنِي ، وَمَنْ أَبْغَضَهُمَا فَقَدْ أَبْغَضَنِي " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے آپ کے ساتھ سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ بھی تھے ، آپ کے ایک کندھے پر ایک تھے اور دوسرے آپ کے دوسرے کندھے پر تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کبھی ان کا بوسہ لیتے تھے اور کبھی ان کا بوسہ لیتے تھے ، یہاں تک کہ آپ ہمارے پاس تشریف لے آئے ، ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ان دونوں سے محبت کرتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص ان دونوں سے محبت رکھے گا ، وہ مجھ سے محبت رکھے گا ، اور جو ان دونوں سے بغض رکھے گا ، وہ مجھ سے بغض رکھے گا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت امام ابن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ، یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ، یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 15064
وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ : أَنَّ رَجُلًا أَخْبَرَهُ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَضُمُّ إِلَيْهِ حَسَنًا وَحُسَيْنًا ، يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُمَا فَأَحِبَّهُمَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عطاء بن یسار بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے انہیں بتایا : ان صاحب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کو اپنے ساتھ لگایا اور پھر یہ فرمایا : ” اے اللہ ! میں ان دونوں سے محبت رکھتا ہوں تو بھی ان دونوں سے محبت رکھ ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15065
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي ، فَإِذَا سَجَدَ وَثَبَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ عَلَى ظَهْرِهِ ، فَإِذَا أَرَادُوا أَنْ يَمْنَعُوهُمَا أَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنْ دَعُوهُمَا ، فَإِذَا قَضَى الصَّلَاةَ وَضَعَهُمَا فِي حِجْرِهِ ، وَقَالَ : " مَنْ أَحَبَّنِي فَلْيُحِبَّ هَذَيْنِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَقَالَ : فَإِذَا قَضَى الصَّلَاةَ ضَمَّهُمَا إِلَيْهِ . وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى ثِقَاتٌ ، وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کر رہے تھے ، آپ سجدے میں جاتے تو سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ یا سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ آپ کی پشت پر سوار ہو گئے ۔ لوگوں نے ان دونوں کو روکنے کا ارادہ کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا کہ انہیں رہنے دو ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کر لی تو آپ نے انہیں گود میں بٹھایا اور فرمایا : ” جو شخص مجھ سے محبت رکھتا ہے اسے ان دونوں سے محبت رکھنی چاہیے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب نماز مکمل کی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے ساتھ چمٹا لیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے امام ابویعلیٰ کے رجال ثقہ ہیں اس کے بعض راویوں میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب نماز مکمل کی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے ساتھ چمٹا لیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے امام ابویعلیٰ کے رجال ثقہ ہیں اس کے بعض راویوں میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 15066
وَعَنْهُ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِلْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُمَا فَأَحِبَّهُمَا ، وَمَنْ أَحَبَّهُمَا فَقَدْ أَحَبَّنِي " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین
ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ فرمایا : ” اے اللہ ! میں ان دونوں سے محبت رکھتا ہوں ، تو بھی ان دونوں سے محبت رکھ ! اور جو شخص ان دونوں سے محبت رکھے گا ، وہ مجھ سے بھی محبت رکھے گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 15067
وَعَنْ قُرَّةَ بْنِ إِيَاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِلْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ : " إِنِّي أُحِبُّهُمَا فَأَحِبَّهُمَا - أَوْ : اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُمَا فَأَحِبَّهُمَا - " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ زِيَادُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ : يَهِمُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا قرہ بن ایاس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ فرمایا : ” میں ان دونوں سے محبت رکھتا ہوں تو بھی ان دونوں سے محبت رکھ ! راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : اے اللہ ! بے شک میں ان دونوں سے محبت رکھتا ہوں تو بھی ان دونوں سے محبت رکھ ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی زیاد بن ابوزیاد ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ وہم کا شکار ہو جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی زیاد بن ابوزیاد ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ وہم کا شکار ہو جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 15068
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِلْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُمَا فَأَحِبَّهُمَا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ فرمایا : ” اے اللہ ! بے شک میں ان دونوں سے محبت رکھتا ہوں تو بھی ان دونوں سے محبت رکھ ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 15069
وَعَنْهُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ لِلْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ : " مَنْ أَحَبَّنِي فَلْيُحِبَّهُمَا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا ، وَفِيهِمْ خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین
ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے وہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص مجھ سے محبت رکھتا ہے اسے ان دونوں سے محبت رکھنی چاہیے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اور ان رجال کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اور ان رجال کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 15070
وَعَنْهُ قَالَ : وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى بَيْتِ فَاطِمَةَ ، فَسَلَّمَ ، فَخَرَجَ إِلَيْهِ الْحَسَنُ أَوِ الْحُسَيْنُ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ارْقَ بِأَبِيكَ عَيْنَ بَقَّةٍ " . وَأَخَذَ بِإِصْبَعَيْهِ فَرَقَى عَلَى عَاتِقِهِ ، ثُمَّ خَرَجَ الْآخَرُ مِنْ بُقْعَةٍ أُخْرَى ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ارْقَ بِأَبِيكَ أَنْتَ عَيْنُ الْبَقَّةِ " . وَأَخَذَ بِإِصْبَعَيْهِ ، فَاسْتَوَى عَلَى عَاتِقِهِ الْآخَرِ . وَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِأَقْفِيَتِهِمَا ، حَتَّى وَضَعَ أَفْوَاهَهُمَا عَلَى فِيهِ ، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُمَا ، فَأَحِبَّهُمَا ، وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُمَا " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر کے پاس ٹھہرے ، آپ نے سلام کیا ، تو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ یا شاید سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نکل کر آپ کے پاس آئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : اپنے ( نانا ) ابوپر چڑھ جاؤ ، اے چھوٹی آنکھوں والے ! پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی انگلیاں پکڑیں اور انہیں اپنی گردن پر بٹھا لیا پھر دوسرے صاحبزادے دوسرے گوشے سے نکل کر آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : اپنے ابوپر چڑھ جاؤ اے چھوٹی آنکھوں والے ! پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی انگلیاں پکڑیں اور انہیں گردن کے دوسرے حصے پر بٹھا لیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی گردن پکڑ کر ان کا منہ اپنے منہ پر رکھا اور پھر یہ فرمایا : ” اے اللہ ! بے شک میں ان دونوں سے محبت رکھتا ہوں ، تو بھی ان دونوں سے محبت رکھ اور اس شخص سے بھی محبت رکھنا جو ان دونوں سے محبت رکھے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں اس کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 15071
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَيْضًا : أَنَّ مَرْوَانَ أَتَاهُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ ، فَقَالَ مَرْوَانُ لِأَبِي هُرَيْرَةَ : مَا وَجَدْتُ عَلَيْكَ فِي شَيْءٍ مُنْذُ اصْطَحَبْنَا إِلَّا فِي حُبِّكَ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ ، قَالَ : فَتَحَفَّزَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَجَلَسَ ، فَقَالَ : أَشْهَدُ لَخَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى إِذَا كُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ ، سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ وَهُمَا يَبْكِيَانِ ، وَهَمَا مَعَ أُمِّهِمَا ، فَأَسْرَعَ السَّيْرَ حَتَّى أَتَاهُمَا ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " مَا شَأْنُ ابْنَيَّ ؟ " . فَقَالَتْ : الْعَطَشُ ، قَالَ : فَأَخْلَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى شَنَّةٍ يَبْتَغِي فِيهَا مَاءً ، وَكَانَ الْمَاءُ يَوْمَئِذٍ أَغْدَارًا ، وَالنَّاسُ يُرِيدُونَ الْمَاءَ ، فَنَادَى : " هَلْ أَحَدٌ مِنْكُمْ مَعَهُ مَاءٌ ؟ " . فَلَمْ يُبْقِ أَحَدٌ إِلَّا أَخْلَفَ بِيَدِهِ إِلَى كَلَامِهِ يَبْتَغِي الْمَاءَ فِي شَنَّةٍ ، فَلَمْ يَجِدْ أَحَدٌ مِنْهُمْ قَطْرَةً ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " نَاوِلِينِي أَحَدَهُمَا " . فَنَاوَلَتْهُ إِيَّاهُ مِنْ تَحْتِ الْخِدْرِ ، فَرَأَيْتُ بَيَاضَ ذِرَاعَيْهَا حِينَ نَاوَلَتْهُ ، فَأَخَذَهُ ، فَضَمَّهُ إِلَى صَدْرِهِ وَهُوَ يَضْغُو مَا يَسْكُتُ ، فَأَدْلَعَ لِسَانَهُ ، فَجَعَلَ يَمُصُّهُ حَتَّى هَدَأَ أَوْ سَكَنَ ، فَلَمْ أَسْمَعْ لَهُ بُكَاءً ، وَالْآخَرُ يَبْكِي كَمَا هُوَ مَا يَسْكُتُ ، ثُمَّ قَالَ : " نَاوِلِينِي الْآخَرَ " . فَنَاوَلَتْهُ إِيَّاهُ ، فَفَعَلَ بِهِ كَذَلِكَ ، فَسَكَتَا فَلَمْ أَسْمَعْ لَهُمَا صَوْتًا ، ثُمَّ قَالَ : " سِيرُوا " . فَصَدَعْنَا يَمِينًا وَشِمَالًا عَنِ الظَّعَائِنِ ، حَتَّى لَقِينَاهُ عَلَى قَارِعَةِ الطَّرِيقِ ، فَأَنَا لَا أُحِبُّ هَذَيْنِ وَقَدْ رَأَيْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ ان کی اس بیماری کے دوران ، جس میں ان کا انتقال ہوا ، مروان ان کے پاس آیا ، مروان نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: مجھے آپ پر کسی چیز کے حوالے سے بھی غصہ نہیں ہے ، جب سے ہم ساتھ رہے ہیں ، صرف اس وجہ سے ہے کہ آپ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے محبت رکھتے ہیں ۔ راوی کہتے ہیں : تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور انہوں نے کہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ، ہم راستے میں کسی جگہ تھے ، اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی آواز سنی ، وہ دونوں رو رہے تھے وہ دونوں اپنی والدہ کے ساتھ تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تیزی سے چلتے ہوئے ان دونوں کے پاس تشریف لائے ، میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : میرے بچوں کا کیا معاملہ ہے ؟ تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا : پیاس لگی ہوئی ہے ، راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مشکیزے کی طرف بڑھے تاکہ اس میں سے پانی حاصل کریں ، پانی اس وقت موجود نہیں تھا ، لوگ پانی کی تلاش میں تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز میں پکار کر کہا: کیا تم میں سے کسی کے پاس پانی ہے ، تو ہر شخص نے اپنا ہاتھ اپنے مشکیزے کی طرف بڑھایا تاکہ اس میں پانی تلاش کرے ، لیکن کسی شخص کو ایک قطرہ نہیں ملا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ) فرمایا : ان دونوں میں سے ایک کو مجھے پکڑا دو ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے پردے کے پیچھے سے ایک صاحبزادے کو پکڑایا ، میں نے ان کی کلائی کی سفیدی دیکھی ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ان صاحبزادے کو پکڑا دیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صاحبزادے کو پکڑ کر اپنے سینے کے ساتھ لگایا ، وہ صاحبزادے رو رہے تھے اور خاموش نہیں ہو رہے تھے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان باہر نکالی اور ان صاحبزادے نے اسے چوسنا شروع کیا ، یہاں تک کہ وہ پرسکون ہو گئے ، پھر میں نے ان کے رونے کی آواز نہیں سنی ، دوسرے صاحبزادے پہلے کی طرح ہی رو رہے تھے اور خاموش نہیں ہو رہے تھے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : دوسرے کو مجھے پکڑاؤ ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے دوسرے صاحبزادے آپ کو پکڑائے تو آپ نے ان کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا ، یہاں تک کہ وہ دونوں خاموش ہو گئے اور مجھے ان دونوں کی آواز سنائی نہیں دی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ روانہ ہو جاؤ ! تو ہم خواتین سے دائیں بائیں پیچھے ہٹ گئے ، یہاں تک کہ بعد میں راستے میں ہماری ملاقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی ، تو جب میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے ، تو کیا میں ان دونوں سے محبت نہ رکھوں ؟
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 15072
وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ مَنْ أَحَبَّهُمَا أَحْبَبْتُهُ ، وَمَنْ أَحْبَبْتُهُ أَحَبَّهُ اللَّهُ ، وَمَنْ أَحَبَّهُ اللَّهُ أَدْخَلَهُ جَنَّاتِ نَعِيمٍ ، وَمَنْ أَبْغَضَهُمَا أَوْ بَغَى عَلَيْهِمَا أَبْغَضْتُهُ ، وَمَنْ أَبْغَضْتُهُ أَبْغَضَهُ اللَّهُ ، وَمَنْ أَبْغَضَهُ اللَّهُ أَدْخَلَهُ جَهَنَّمَ ، وَلَهُ عَذَابٌ مُقِيمٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” حسن اور حسین سے جو محبت رکھے گا میں اس سے محبت رکھوں گا ، اور جس سے میں محبت رکھوں گا اللہ تعالیٰ بھی اس سے محبت رکھے گا ، اور جس سے اللہ تعالیٰ محبت رکھے گا ، اللہ تعالیٰ اسے نعمتوں والی جنتوں میں داخل کرے گا ، اور جو شخص ان دونوں سے بغض رکھے گا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) ان کے خلاف سرکشی کرے گا ، میں اس سے بغض رکھوں گا ، جس سے میں بغض رکھوں گا ، اللہ تعالیٰ بھی اس سے بغض رکھے گا ، اور جس سے اللہ تعالیٰ بغض رکھے گا اللہ تعالیٰ اسے جہنم میں داخل کر دے گا ، اس شخص کے لیے ہمیشہ رہنے والا عذاب ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 15073
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - يَلْعَبَانِ بَيْنَ يَدَيْهِ - أَوْ فِي حِجْرِهِ - فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتُحِبُّهُمَا ؟ فَقَالَ : " وَكَيْفَ لَا أُحِبُّهُمَا وَهُمَا رَيْحَانَتَايَ مِنَ الدُّنْيَا أَشُمُّهُمَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ عَنْبَسَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ ( جو بچے تھے ) وہ آپ کے آگے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) آپ کی گود میں کھیل رہے تھے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ ان دونوں سے محبت رکھتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں ان دونوں سے کیوں نہ محبت رکھوں ؟ جبکہ یہ دنیا میں میرے پھول ہیں جنہیں میں سونگھتا ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسن بن عنبسہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسن بن عنبسہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 15074
وَعَنْ سَعْدٍ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي وَقَّاصٍ - قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ يَلْعَبَانِ عَلَى بَطْنِهِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتُحِبُّهُمَا ؟ فَقَالَ : " وَمَا لِي لَا أُحِبُّهُمَا وَهُمَا رَيْحَانَتَايَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ ( جو بچے تھے ) وہ آپ کے پیٹ پر کھیل رہے تھے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ ان دونوں سے محبت رکھتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں ان دونوں سے محبت کیوں نہ رکھوں ؟ جبکہ یہ دونوں میرے پھول ہیں ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15075
وَعَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " حُسَيْنٌ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ ، أَحَبَّ اللَّهُ مَنْ أَحَبَّهُ ، الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سِبْطَانِ مِنَ الْأَسْبَاطِ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِاخْتِصَارِ ذِكْرِ الْحَسَنِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا یعلیٰ بن مرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” حسین مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں ، اللہ تعالیٰ اس شخص سے محبت رکھے جو اس سے محبت رکھتا ، ہو حسن اور حسین ، اسباط میں سے ” سبط “ ( یعنی زبردست نواسے ) ہیں ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ترمذی نے اختصار کے ساتھ صرف سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے ذکر کے حوالے سے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام ترمذی نے اختصار کے ساتھ صرف سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے ذکر کے حوالے سے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 15076
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ ، فَإِذَا سَجَدَ وَثَبَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ عَلَى ظَهْرِهِ ، فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ أَخَذَهُمَا مِنْ خَلْفِهِ أَخْذًا رَفِيقًا ، وَيَضَعُهُمَا عَلَى ظَهْرِهِ ، فَإِذَا عَادَ عَادَا ، حَتَّى قَضَى صَلَاتَهُ أَقْعَدَهُمَا عَلَى فَخِذَيْهِ . قَالَ : فَقُمْتُ إِلَيْهِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرُدُّهُمَا ؟ فَبَرَقَتْ بَرْقَةٌ ، فَقَالَ لَهُمَا : " الْحَقَا بِأُمِّكُمَا " . قَالَ : فَمَكَثَ ضَوْؤُهَا حَتَّى دَخَلَا عَلَى أُمِّهِمَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ ، وَقَالَ : فِي لَيْلَةٍ مُظْلِمَةٍ . وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عشاء کی نماز ادا کی ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے ، تو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ آپ کی پشت پر چڑھ گئے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا تو آپ نے ان دونوں کو پیچھے سے پکڑا ، آپ نے انہیں نرمی سے پکڑا اور انہیں اپنی پشت سے ہٹا دیا ، جب آپ دوبارہ سجدے میں گئے ، تو ان دونوں صاحبزادوں نے دوبارہ یہی حرکت کی ، یہاں تک کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی ، تو آپ نے ان دونوں کو اپنی گود میں بٹھا لیا ، راوی کہتے ہیں : میں اٹھ کر آپ کے پاس آیا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں ان دونوں کو واپس چھوڑ آؤں ، راوی کہتے ہیں : اسی دوران بجلی چمکی ( یا روشنی سی ہوئی ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے فرمایا : تم دونوں اپنی ماں کے پاس چلے جاؤ ! راوی کہتے ہیں : تو وہ روشنی اس وقت تک رہی ، جب تک وہ دونوں اپنی والدہ کے پاس نہیں پہنچ گئے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ انہوں نے اس میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” ایک تاریک رات میں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ انہوں نے اس میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” ایک تاریک رات میں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 15077
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْجُدُ ، فَيَجِيءُ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ فَيَرْكَبُ ظَهْرَهُ ، فَيُطِيلُ السُّجُودَ ، فَيُقَالُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، أَطَلْتَ السُّجُودَ ! فَيَقُولُ : " ارْتَحَلَنِيَ ابْنِي ; فَكَرِهْتُ أَنْ أُعَجِّلَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ ذَكْوَانَ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں جاتے تو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ یا سیدنا حسین رضی اللہ عنہ آتے اور آپ کی پشت پر سوار ہو جاتے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدے کو طول دیدیتے تھے ۔ عرض کی گئی : اے اللہ کے نبی ! آپ نے سجدے کو طول دے دیا تھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرا بیٹا مجھ پر سوار ہو گیا تھا ، تو مجھے اچھا نہیں لگا کہ میں اسے جلدی ( اتار دوں ) ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ذکوان ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ذکوان ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15078
وَعَنْ عُمَرَ - يَعْنِي ابْنَ الْخَطَّابِ - قَالَ : رَأَيْتُ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ عَلَى عَاتِقِي النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : نِعْمَ الْفَرَسُ تَحْتَكُمَا . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَنِعْمَ الْفَارِسَانِ هُمَا " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ” میں نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ ( جو بچے تھے ) انہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھوں پر دیکھا ، تو میں نے کہا: تمہارے نیچے گھوڑا بہت اچھا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ دونوں سوار بھی بہت اچھے ہیں ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے ضعیف سند کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے ضعیف سند کے ساتھ نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 15079
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَمْشِي عَلَى أَرْبَعَةٍ ، وَعَلَى ظَهْرِهِ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - وَهُوَ يَقُولُ : " نِعْمَ الْجَمَلُ جَمَلُكُمَا ، وَنِعْمَ الْعِدْلَانِ أَنْتُمَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَسْرُوحٌ أَبُو شِهَابٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ دونوں ہاتھوں اور دونوں پاؤں کے بل چل رہے تھے ، آپ کی پشت پر سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سوار تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے : ” تمہارا اونٹ بہت اچھا ہے ، اور تم دونوں بہت اچھے سوار ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مسروح ابوشہاب ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مسروح ابوشہاب ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 15080
وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي ، فَجَاءَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ - أَوْ أَحَدُهُمَا - فَرَكِبَ عَلَى ظَهْرِهِ ، فَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ قَالَ بِيَدِهِ فَأَمْسَكَهُ أَوْ أَمْسَكَهُمَا ، قَالَ : " نِعْمَ الْمَطِيَّةُ مَطِيَّتُكُمَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کر رہے تھے ، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ یا ان دونوں میں سے کوئی ایک آئے اور آپ کی پشت پر سوار ہو گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سر اٹھایا تو آپ نے اپنے ہاتھ سے اس طرح انہیں ، یا ان دونوں کو پکڑا اور فرمایا : ” تمہاری سواری بہت اچھی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 15081
وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ : كُنَّا حَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَتْ أُمُّ أَيْمَنَ فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَقَدْ ضَلَّ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ قَالَ : وَذَاكَ رَأْدُ النَّهَارِ - يَقُولُ : ارْتِفَاعُ النَّهَارِ - فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قُومُوا فَاطْلُبُوا ابْنِي " . وَأَخَذَ كُلُّ رَجُلٍ تُجَاهَ وَجْهِهِ ، وَأَخَذْتُ نَحْوَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمْ يَزَلْ حَتَّى أَتَى سَفْحَ جَبَلٍ ، وَإِذَا الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - مُلْتَزِقٌ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ ، وَإِذَا شُجَاعٌ قَائِمٌ عَلَى ذَنَبِهِ ، يَخْرُجُ مِنْ فِيهِ شَرَرُ النَّارِ ، فَأَسْرَعَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَالْتَفَتَ مُخَاطِبًا لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ انْسَابَ فَدَخَلَ بَعْضَ الْأَحْجَارِ ، ثُمَّ أَتَاهُمَا فَأَفْرَقَ بَيْنَهُمَا ، ثُمَّ مَسَحَ وُجُوهَهُمَا ، وَقَالَ : " بِأَبِي وَأُمِّي أَنْتُمَا ، مَا أَكْرَمَكُمَا عَلَى اللَّهِ ! " . ثُمَّ حَمَلَ أَحَدَهُمَا عَلَى عَاتِقِهِ الْأَيْمَنِ ، وَالْآخِرَ عَلَى عَاتِقِهِ الْأَيْسَرِ ، فَقُلْتُ : طُوبَاكُمَا ! نِعْمَ الْمَطِيَّةُ مَطِيَّتُكُمَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَنِعْمَ الرَّاكِبَانِ هُمَا ، وَأَبُوهُمَا خَيْرٌ مِنْهُمَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ رُشْدٍ الْهِلَالِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد موجود تھے ، اسی دوران سیدہ ام ایمن آئیں اور بولیں : یا رسول اللہ ! حسن اور حسین گم ہو گئے ہیں ۔ راوی کہتے ہیں : یہ دن چڑھے کی بات ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ اٹھو اور میرے دونوں بیٹوں کو تلاش کرو اور ہر شخص اپنے سامنے کی سمت میں چل پڑے ، راوی کہتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم والی سمت میں چل پڑا ، تھوڑی دیر گزرنے کے بعد ایک پہاڑ کے دامن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پہنچے تو وہاں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ موجود تھے ، وہ ایک دوسرے کے ساتھ لپٹے ہوئے تھے اور وہاں ایک سانپ اپنی دم پر کھڑا ہوا تھا اور اس کے منہ سے آگ کے شراروں کی طرح کی کوئی چیز نکل رہی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تیزی سے اس کی طرف گئے اس نے مڑ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھ کر کچھ کہا: اور پھر مڑ گیا ، اور اپنی بل میں داخل ہو گیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں صاحبزادوں کے پاس آئے اور ان دونوں کو ایک دوسرے سے جدا کیا ، آپ نے ان کے چہروں پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا : میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں ، تم دونوں اللہ تعالیٰ کے نزدیک کتنے عزت والے ہو ، پھر آپ نے ان میں سے ایک کو دائیں کندھے پر اور دوسرے کو بائیں کندھے پر بٹھا لیا ، تو میں نے کہا: تم دونوں کو مبارک باد ہو ! تم دونوں کی سواری کتنی اچھی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ دونوں سوار بھی کتنے اچھے ہیں اور ان دونوں کا باپ ان دونوں سے بہتر ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی أحمد بن رشد ہلالی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی أحمد بن رشد ہلالی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 15082
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَفِيهَا الْحَارِثُ الْأَعْوَرُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” حسن اور حسین ، اہل جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حارث اعور ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حارث اعور ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 15083
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِفَاطِمَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - : " وَاللَّهِ مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَلَدَ الْأَنْبِيَاءِ غَيْرِي ، وَإِنَّ ابْنَيْكِ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، إِلَّا ابْنَيِ الْخَالَةِ : يَحْيَى ، وَعِيسَى " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَفِي بَعْضِهِمْ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : ” اللہ کی قسم ! ہر نبی نے انبیاء کو جنم دیا ہے ، صرف میرا معاملہ مختلف ہے ، اور تمہارے دونوں بیٹے اہل جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں ، البتہ دو خالہ زاد بھائیوں سیدنا یحیی علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام کا معاملہ مختلف ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض راویوں میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اس کے بعض راویوں میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 15084
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ حَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ أَبُو سُمَيْرٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” حسن اور حسین اہل جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حکیم بن حزام ابوسمیر ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حکیم بن حزام ابوسمیر ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 15085
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ مَلَكًا مِنَ السَّمَاءِ لَمْ يَكُنْ زَارَنِي ، فَاسْتَأْذَنَ اللَّهَ فِي زِيَارَتِي ، فَبَشَّرَنِي أَنَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَرْوَانُ الذُّهْلِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” آسمان میں سے ایک فرشتہ مجھ سے کبھی ملنے کے لئے نہیں آیا تھا اس نے اللہ تعالیٰ سے یہ اجازت مانگی کہ وہ مجھے ملنے کے لئے آئے ( جب وہ میرے پاس آیا ) تو اس نے مجھے یہ خوشخبری سنائی کہ حسن اور حسین ، اہل جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مروان ذہلی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مروان ذہلی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15086
وَعَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ قَالَ : بِتُّ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَأَيْتُ عِنْدَهُ شَخْصًا ، فَقَالَ لِي : " يَا حُذَيْفَةُ هَلْ رَأَيْتَ ؟ " . قُلْتُ : نَعَمْ . قَالَ : " هَذَا مَلَكٌ لَمْ يَهْبِطْ مُنْذُ بُعِثْتُ ، أَتَانِي اللَّيْلَةَ يُبَشِّرُنِي أَنَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو عُمَرَ الْأَشْجَعِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ - أَوْ أَبُو عَمْرَةَ - وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک رات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں ٹھہر گیا ۔ میں نے آپ کے پاس کسی شخص کو دیکھا ، آپ نے مجھ سے دریافت کیا : کیا تم نے اسے دیکھا ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ فرشتہ ہے جب سے مجھے معبوث کیا گیا ہے یہ کبھی زمین پر نازل نہیں ہوا یہ گزشتہ رات میرے پاس آیا اور اس نے مجھے یہ خوشخبری سنائی کہ حسن اور حسین ، اہل جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت امام ترمذی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوعمرو اشجعی یا شاید ابوعمرہ ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ترمذی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوعمرو اشجعی یا شاید ابوعمرہ ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 15087
وَعَنْ حَذِيقَةَ أَيْضًا قَالَ : رَأَيْنَا فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - السُّرُورَ يَوْمًا مِنَ الْأَيَّامِ ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَقَدْ رَأَيْنَا فِي وَجْهِكَ تَبَاشِيرَ السُّرُورِ ، فَقَالَ : " كَيْفَ لَا أُسَرُّ وَقَدْ أَتَانِي جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَبَشَّرَنِي أَنَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، وَأَبُوهُمَا أَفْضَلُ مِنْهُمَا ؟ ! " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرٍ أَبُو الْأَسْوَدِ الْهَاشِمِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . وَفِي عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے
یہ روایت منقول ہے وہ بیان کرتے ہیں : ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر ایک دن خوشی کے آثار دیکھے تو ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمیں آپ کے چہرے پر خوشی کے آثار نظر آ رہے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں کیوں خوش نہ ہوؤں ، جبکہ جبرائیل میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھے یہ خوشخبری سنائی کہ حسن اور حسین ، اہل جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں ، اور ان دونوں کا باپ ان دونوں سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عامر ابواسود ہاشمی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے اور عاصم بن بہدلہ نامی راوی کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت منقول ہے وہ بیان کرتے ہیں : ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر ایک دن خوشی کے آثار دیکھے تو ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمیں آپ کے چہرے پر خوشی کے آثار نظر آ رہے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں کیوں خوش نہ ہوؤں ، جبکہ جبرائیل میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھے یہ خوشخبری سنائی کہ حسن اور حسین ، اہل جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں ، اور ان دونوں کا باپ ان دونوں سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عامر ابواسود ہاشمی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے اور عاصم بن بہدلہ نامی راوی کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 15088
وَعَنْ قُرَّةَ بْنِ إِيَاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، وَأَبُوهُمَا خَيْرٌ مِنْهُمَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمَ ، وَفِيهِ خِلَافٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا قرہ بن ایاس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” حسن اور حسین ، اہل جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں اور ان دونوں کا باپ ان دونوں سے زیادہ بہتر ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زیاد بن انعم ہے ، اور اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زیاد بن انعم ہے ، اور اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15089
وَعَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، وَأَبُوهُمَا خَيْرٌ مِنْهُمَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عِمْرَانُ بْنُ أَبَانٍ وَمَالِكُ بْنُ الْحَسَنِ ، وَهُمَا ضَعِيفَانِ وَقَدْ وُثِّقَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” حسن اور حسین ، اہل جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں ، اور ان دونوں کا باپ ان دونوں سے بہتر ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمران بن ابان اور ایک مالک بن حسن ہے ، اور یہ دونوں ضعیف ہیں ، ویسے ان دونوں کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمران بن ابان اور ایک مالک بن حسن ہے ، اور یہ دونوں ضعیف ہیں ، ویسے ان دونوں کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 15090
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " حَسَنٌ وَحُسَيْنٌ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” حسن اور حسین ، اہل جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 15091
وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ زِيَادٌ الْجَصَّاصُ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَقَالَ : رُبَّمَا يَهِمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” حسن اور حسین ، اہل جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی زیاد جصاص ہے اور وہ متروک ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، وہ کہتے ہیں ۔ یہ بعض اوقات وہم کا شکار ہو جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی زیاد جصاص ہے اور وہ متروک ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، وہ کہتے ہیں ۔ یہ بعض اوقات وہم کا شکار ہو جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 15092
وَعَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” حسن اور حسین ، اہل جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 15093
وَعَنِ الْبَرَاءِ - يَعْنِي ابْنَ عَازِبٍ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” حسن اور حسین ، اہل جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 15094
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فَخَرَتِ الْجَنَّةُ عَلَى النَّارِ ; فَقَالَتْ : أَنَا خَيْرٌ مِنْكِ ، فَقَالَتِ النَّارُ : بَلْ أَنَا خَيْرٌ مِنْكِ ، فَقَالَتْ لَهَا الْجَنَّةُ اسْتِفْهَامًا : وَمِمَّهْ ؟ قَالَتْ : لِأَنَّ فِيَّ الْجَبَابِرَةُ ، وَنَمْرُوذُ ، وَفِرْعَوْنُ ، فَأُسْكِتَتْ . فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهَا : لَا تَخْضَعِينَ ، لَأُزَيِّنَنَّ رُكْنَيْكِ بِالْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ ، فَمَاسَتْ كَمَا تَمِيسُ الْعَرُوسُ فِي خِدْرِهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ صُهَيْبٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جہنم کے سامنے جنت نے فخر کا اظہار کرتے ہوئے یہ کہا: میں تم سے بہتر ہوں ، تو جہنم نے کہا: بلکہ میں تم سے بہتر ہوں ، جنت نے جہنم سے استفہام کے طور پر دریافت کیا : کس وجہ سے ؟ تو جہنم نے جواب دیا : کیونکہ میرے اندر حکمران نمرود فرعون ہیں ، تو جنت خاموش ہو گئی ، تو اللہ تعالیٰ نے جنت کی طرف یہ وحی کی کہ تم خود کو کمتر محسوس نہ کرو ! میں تمہارے دورکنوں کو حسن اور حسین کے ذریعے آراستہ کروں گا ، تو وہ یوں جھومی ، جس طرح دلہن اپنے خیمے میں جھومتی ( خوش ہوتی یا شرم سے دہری ہوتی ) ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عباد بن صہیب ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عباد بن صہیب ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 15095
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ شَنْفَا الْعَرْشِ ، وَلَيْسَا بِمُعَلَّقَيْنِ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” حسن اور حسین ، عرش کا زیور ہیں ، لیکن یہ دونوں معلق ( یعنی لٹکے ہوئے نہیں ) ہیں ۔ “
حدیث نمبر: 15096
وَإِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا اسْتَقَرَّ أَهْلُ الْجَنَّةِ فِي الْجَنَّةِ قَالَتِ الْجَنَّةُ : يَا رَبِّ ، وَعَدْتَنِي أَنْ تُزَيِّنَنِي بِرُكْنَيْنِ مِنْ أَرْكَانِكَ ، قَالَ : أَلَمْ أُزَيِّنْكِ بِالْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ ؟ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حُمَيْدُ بْنُ عَلِيٍّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا : ” جب اہل جنت ، جنت میں رہائشی جگہ اختیار کر لیں گے ، تو جنت کہے گی : اے میرے پروردگار ! تو نے مجھ سے یہ وعدہ کیا تھا کہ تو اپنے ارکان کے ذریعے میرے دو رکنوں کو آراستہ کرے گا ، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : کیا میں نے تمہیں حسن اور حسین کے ذریعے آراستہ نہیں کیا ہے ؟ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حمید بن علی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حمید بن علی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 15097
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَاةَ الْعَصْرِ ، فَلَمَّا كَانَ فِي الرَّابِعَةِ ، أَقْبَلَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ حَتَّى رَكِبَا عَلَى ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا سَلَّمَ وَضَعَهُمَا بَيْنَ يَدَيْهِ ، وَأَقْبَلَ الْحَسَنُ ، فَحَمَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْحَسَنَ عَلَى عَاتِقِهِ الْأَيْمَنِ ، وَالْحُسَيْنَ عَلَى عَاتِقِهِ الْأَيْسَرِ ، ثُمَّ قَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ جَدًّا وَجِدَّةً ؟ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ عَمًّا وَعَمَّةً ؟ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ خَالًا وَخَالَةً ؟ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ أَبًا وَأُمًّا ؟ [ هُمَا ] الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ . ¤ جَدُّهُمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَجَدَّتُهُمَا خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ ، وَأُمُّهُمَا فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبُوهُمَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - وَعَمُّهُمَا جَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - وَعَمَّتُهُمَا أُمُّ هَانِئٍ بِنْتُ أَبِي طَالِبٍ ، وَخَالُهُمَا الْقَاسِمُ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَخَالَاتُهُمَا زَيْنَبُ ، وَرُقَيَّةُ ، وَأُمُّ كُلْثُومٍ بَنَاتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . جَدُّهُمَا فِي الْجَنَّةِ ، وَأَبُوهُمَا فِي الْجَنَّةِ ، وَأُمُّهُمَا فِي الْجَنَّةِ ، وَعَمُّهُمَا فِي الْجَنَّةِ ، وَعَمَّتُهُمَا فِي الْجَنَّةِ ، وَخَالَاتُهُمَا فِي الْجَنَّةِ ، وَهُمَا فِي الْجَنَّةِ ، وَمَنْ أَحَبَّهُمَا فِي الْجَنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِمَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ يُونُسَ الْيَمَامِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز ادا کی جب آپ چوتھی رکعت میں تھے ، تو حسن اور حسین آئے ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت پر سوار ہو گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سلام پھیرا تو آپ نے ان دونوں کو اپنے سامنے کھڑا کیا ، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ آگے بڑھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنی گود میں اٹھایا ، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں کندھے پر بیٹھ گئے اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ آپ کے بائیں کندھے پر بیٹھ گئے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! کیا میں تمہیں لوگوں میں نانا اور نانی کے حوالے سے سب سے بہتر شخص کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ کیا میں تمہیں سب سے بہتر کے بارے میں نہ بتاؤں جو چچا اور پھوپھی کے حوالے سے سب سے بہتر ہے ، کیا میں تمہیں اس شخص کے بارے میں نہ بتاؤں جو لوگوں میں ماموں اور خالہ کے حوالے سے سب سے بہتر ہے ، کیا میں تمہیں اس شخص کے بارے میں نہ بتاؤں جو لوگوں میں ماں اور باپ کے حوالے سے سب سے بہتر ہے ، وہ دو افراد حسن اور حسین ہیں ، ان دونوں کے نانا اللہ کے رسول ہیں ، ان دونوں کی نانی خدیجہ بنت خویلد ہیں ، ان دونوں کی ماں فاطمہ بنت رسول اللہ ہے ، ان دونوں کا باپ علی بن ابوطالب ہے ، ان دونوں کا چچا جعفر بن ابوطالب ہے ، ان دونوں کی پھوپھی اُم ہانی بنت ابوطالب ہے ، ان دونوں کے ماموں قاسم ہیں جو اللہ کے رسول کے صاحبزادے ہیں ، اور ان کی دونوں کی خالائیں زینب ، رقیہ اور ام کلثوم ہیں ، جو اللہ کے رسول کی صاحبزادیاں ہیں ، ان دونوں کے نانا جنت میں ہوں گے ، ان دونوں کا باپ جنت میں ہو گا ۔ ان دونوں کی ماں جنت میں ہو گی ، ان دونوں کے چچا جنت میں ہوں گے ، ان دونوں کی پھوپھی جنت میں ہو گی ، ان دونوں کی خالائیں جنت میں ہوں گی ، یہ دونوں جنت میں ہوں گے ، اور جو شخص ان سے محبت رکھے گا ، وہ بھی جنت میں ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ان دونوں میں سے ایک میں ایک راوی أحمد بن محمد بن عمر بن یونس یمامی ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ان دونوں میں سے ایک میں ایک راوی أحمد بن محمد بن عمر بن یونس یمامی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 15098
وَعَنْ فَاطِمَةَ ابْنَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهَا أَتَتْ بِالْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي شَكْوَاهُ الَّتِي تُوُفِّيَ فِيهَا ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَانِ ابْنَاكَ ; فَوَرِّثْهُمَا شَيْئًا . فَقَالَ : " أَمَّا حَسَنٌ فَلَهُ هَيْبَتِي وَسُؤْدُدِي ، وَأَمَّا حُسَيْنٌ فَلَهُ جَرَاءَتِي وُجُودِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ فاطمہ بنت رسول اللہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو لے کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں ، یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بیماری کی بات ہے ، جس میں آپ کا وصال ہو گیا تھا ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ دونوں آپ کے بیٹے ہیں ، آپ انہیں وراثت میں کوئی چیز دیجئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جہاں تک حسن کا تعلق ہے ، تو اسے میری ہیبت اور میری سرداری ملے گی ، اور جہاں تک حسین کا تعلق ہے ، تو اسے میری جرأت اور میری سخاوت ملے گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 15099
وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ : جَاءَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِحَسَنٍ وَحُسَيْنٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ فِي مَرَضِهِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ ، فَقَالَتْ : هَذَانِ ابْنَاكَ ; فَوَرِّثْهُمَا شَيْئًا . فَقَالَ لَهَا : " أَمَّا حَسَنٌ فَلَهُ ثَبَاتِي وَسُؤْدُدِي ، وَأَمَّا حُسَيْنٌ فَإِنَّ لَهُ حَزَامَتَيْ وُجُودِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں ، یہ اس بیماری کی بات ہے ، جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا تھا ۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یہ دونوں آپ کے دو بیٹے ہیں ، آپ انہیں وراثت میں کوئی چیز دے دیجئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : جہاں تک حسن کا تعلق ہے ، تو اسے میری ثابت قدمی اور میری سرداری ملے گی اور جہاں تک حسین کا تعلق ہے ، تو اسے میری مضبوطی اور میری سخاوت ملے گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 15100
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا أَتَاهُ رَجُلٌ يَقُولُ : عَلَيَّ رَقَبَةٌ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ ، يَقُولُ : " عَلَيْكَ بِحَسَنٍ وَحُسَيْنٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی شخص آتا تھا اور یہ کہتا تھا کہ مجھ پر اولاد اسماعیل کے حوالے سے نذر لازم ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے : ” تم حسن اور حسین کے پاس جاؤ“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 15101
عَنْ أَبِي شَدَّادٍ قَالَ : كُنْتُ أُلَاعِبُ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ بِالْمَدَاحِي ، فَإِذَا مَادَحَّانِي رَكِبَانِي ، وَإِذَا مَا دَحْتُهُمَا قَالَا : تَرْكَبُ بَضْعَةً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ ! . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَأَبُو شَدَّادٍ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَفِي أَحَدِ الْإِسْنَادَيْنِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ ، وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوشداد بیان کرتے ہیں : میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ مداحی کھیلتا تھا ، جب وہ دونوں صاحبان مجھ سے جیت جاتے تھے تو وہ دونوں مجھ پر سوار ہو جاتے تھے اور جب میں ان دونوں سے جیت جاتا تھا تو وہ دونوں کہتے تھے : تم اللہ کے رسول کے ٹکڑے پر سوار ہو جاؤ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ابوشداد نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ، دو میں سے ایک سند میں ایک راوی اسماعیل بن عمرو بجلی ہے ، ایک سے زیادہ افراد نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ابوشداد نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ، دو میں سے ایک سند میں ایک راوی اسماعیل بن عمرو بجلی ہے ، ایک سے زیادہ افراد نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔