کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 15028
عَنْ سَوْدَةَ بِنْتِ مُسَرَّحٍ قَالَتْ : كُنْتُ فِيمَنْ حَضَرَ فَاطِمَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - حِينَ ضَرَبَهَا الْمَخَاضُ فِي نِسْوَةٍ ، فَأَتَانَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " كَيْفَ هِيَ ؟ " . قُلْتُ : إِنَّهَا لَمَجْهُودَةٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " إِذَا هِيَ وَضَعَتْ فَلَا تَسْبِقُنِّي فِيهِ بِشَيْءٌ " . قَالَ : فَوَضَعَتْ ، فَسَّرُوهُ وَلَفُّوهُ فِي خِرْقَةٍ صَفْرَاءَ ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَا فَعَلْتِ ؟ " . فَقُلْتُ : قَدْ وَضَعَتْ غُلَامًا ، وَسَرَرْتُهُ وَلَفَفْتُهُ فِي خِرْقَةٍ . فَقَالَ : " عَصَيْتِنِي ؟ " . قُلْتُ : أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ مَعْصِيَتِهِ ، وَمِنْ غَضَبِ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ! قَالَ : " فَائْتِنِي بِهِ " . فَأَتَيْتُهُ بِهِ ، فَأَلْقَى عَنْهُ الْخِرْقَةَ الصَّفْرَاءَ ، وَلَفَّهُ فِي خِرْقَةٍ بَيْضَاءَ ، وَتَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي فِيهِ ، وَأَلْبَأْهُ بِرِيقِهِ ، فَجَاءَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَقَالَ : " مَا سَمَّيْتَهُ يَا عَلِيُّ ؟ " . قَالَ : سَمَّيْتُهُ جَعْفَرًا . قَالَ : " لَا . وَلَكِنْ حَسَنٌ وَبَعْدَهُ حُسَيْنٌ ، وَأَنْتَ أَبُو حَسَنٍ " . ¤
محمد محی الدین
سیدہ سودہ بنت مسرح رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں ان خواتین میں شامل تھی جو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں بچے کی پیدائش کے وقت ان کے پاس موجود تھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، آپ نے دریافت کیا : اس کا کیا حال ہے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ا وہ تکلیف کے عالم میں ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب وہ بچے کو جنم دیدے تو تم نے مجھ سے پہلے اس بچے کے بارے میں کچھ نہیں کرنا راوی بیان کرتے ہیں : جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے بچے کو جنم دے دیا تو ان لوگوں نے اس کی نال کاٹ دی اور اسے ایک زرد کپڑے میں لپیٹ دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، آپ نے دریافت کیا : کیا بنا ، تو میں نے عرض کی : انہوں نے بچے کو جنم دیا ہے ، میں نے اس کی نال کاٹ دی ہے اور اسے ایک کپڑے میں لپیٹ دیا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم نے میری نافرمانی کی ہے ؟ میں نے عرض کی : میں اس نافرمانی سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں اور اس کے رسول کے غضب سے بھی پناہ مانگتی ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس بچے کو میرے پاس لے کے آؤ ، میں انہیں آپ کے پاس لے کے آئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زرد رنگ کا کپڑا اس سے ہٹا دیا اور ایک سفید کپڑے میں اسے لپیٹ دیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کے منہ میں لعاب دہن ڈالا اور اپنے لعاب کے ذریعے اسے گھٹی دی ، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے علی ! تم نے اس کا کیا نام رکھا ہے ؟ انہوں نے بتایا : میں نے اس کا نام جعفر رکھا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! بلکہ یہ حسن ہے ، اور اس کے بعد حسین ہو گا ، اور تم ابوحسن ہو ۔ “
حدیث نمبر: 15029
وَفِي رِوَايَةٍ : " وَأَنْتَ أَبُو حَسَنِ الْخَيْرِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، فِي أَحَدِهِمَا عُرْوَةُ بْنُ فَيْرُوزٍ ، وَعُمَرُ بْنُ عُمَيْرٍ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُمَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” تم ابوحسن خیر ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ان دونوں میں سے ایک میں ایک راوی عروہ بن فیروز اور ایک راوی عمر بن عمیر ہے ، میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ان دونوں میں سے ایک میں ایک راوی عروہ بن فیروز اور ایک راوی عمر بن عمیر ہے ، میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 15030
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ : خَطَبْتُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ابْنَتَهُ فَاطِمَةَ ، قَالَ : فَبَاعَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - دِرْعًا لَهُ ، وَبَعْضَ مَا بَاعَ مِنْ مَتَاعِهِ ، فَبَلَغَ أَرْبَعَمِائَةٍ وَثَمَانِينَ دِرْهَمًا ، وَأَمَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَجْعَلَ ثُلُثَيْهِ فِي الطِّيبِ ، وَثُلُثًا فِي الثِّيَابِ ، وَمَجَّ فِي جَرَّةٍ مِنْ مَاءٍ ، فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَغْتَسِلُوا بِهِ . قَالَ : وَأَمَرَهَا أَنْ لَا تَسْبِقَهُ بِرِضَاعِ وَلَدِهَا . قَالَ : فَسَبَقَتْهُ بِرِضَاعِ الْحُسَيْنِ ، وَأَمَّا الْحَسَنُ فَإِنَّهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَضَعَ فِي فِيهِ شَيْئًا لَا نَدْرِي مَا هُوَ ، فَكَانَ أَعْلَمَ الرَّجُلَيْنِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لئے شادی کا پیغام دیا ، راوی کہتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے پاس موجود زرہ کو فروخت کیا اور اپنے سامان میں سے کچھ سامان فروخت کیا ، تو انہیں چار سو اسی درہم ملے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ حکم دیا کہ وہ دو تہائی رقم خوشبو میں خرچ کریں اور ایک تہائی رقم کپڑوں کے لیے استعمال کریں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کے گھڑے میں کلی کی اور ان لوگوں کو یہ حکم دیا کہ وہ اس پانی کے ساتھ غسل کریں ، راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو یہ ہدایت کی کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے سے پہلے نے بچے کو دودھ نہیں پلانا ، راوی بیان کرتے ہیں : لیکن سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے سے پہلے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو دودھ پلا دیا تھا ۔ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایسا نہیں ہوا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے منہ میں کوئی چیز ڈالی تھی ، ہمیں نہیں معلوم کہ وہ کیا چیز تھی ؟ تو وہ ان دونوں حضرات میں زیادہ علم رکھنے والے تھے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 15031
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُصَلِّي ، فَإِذَا سَجَدَ وَثَبَ الْحَسَنُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - عَلَى ظَهْرِهِ وَعَلَى عُنُقِهِ ، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَفْعًا رَفِيقًا ; لِئَلَّا يُصْرَعَ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رَأَيْنَاكَ صَنَعْتَ بِالْحَسَنِ شَيْئًا مَا رَأَيْنَاكَ صَنْعَتَهُ بِأَحَدٍ ؟ قَالَ : " إِنَّهُ رَيْحَانَتِي مِنَ الدُّنْيَا ، وَإِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ ، وَعَسَى اللَّهُ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کر رہے تھے جب آپ سجدے میں گئے تو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ آپ کی گردن پر اور آپ کی پشت پر سوار ہو گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آرام سے اٹھے تاکہ بچہ گر نہ جائے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم نے آپ کو حسن کے حوالے سے ایسا کام کرتے ہوئے دیکھا ہے کہ ہم نے آپ کو کسی کے ساتھ ایسا کرتے ہوئے نہیں دیکھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ دنیا میں میرا پھول ہے ، میرا یہ بیٹا سردار ہو گا ، اور اللہ تعالیٰ عنقریب اس کے ذریعے دو بڑے گروہوں کے درمیان صلح کروا دے گا ۔ “
حدیث نمبر: 15032
وَفِي رِوَايَةٍ : يَثِبُ عَلَى ظَهْرِهِ يَفْعَلُ ذَلِكَ غَيْرَ مَرَّةٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُبَارَكِ بْنِ فَضَالَةَ وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت پر چڑھ گئے اور انہوں نے ایک سے زیادہ مرتبہ ایسا کیا ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف مبارک بن فضالہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف مبارک بن فضالہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 15033
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : جَاءَ حَسَنٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ سَاجِدٌ ، فَرَكِبَ عَلَى ظَهْرِهِ ، فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِيَدِهِ حَتَّى قَامَ ، ثُمَّ رَكَعَ ، فَقَامَ عَلَى ظَهْرِهِ ، فَلَمَّا قَامَ أَرْسَلَهُ ، فَذَهَبَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِي رِجَالِهِ خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سجدے کی حالت میں تھے ۔ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ ( جو بچے تھے ) وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت پر سوار ہو گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کے ذریعے انہیں پکڑا ، یہاں تک کہ وہ کھڑے ہو گئے ، جب آپ رکوع میں گئے ، تو پھر وہ آپ کی پشت پر سوار ہو گئے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو آپ نے انہیں چھوڑ دیا وہ چلے گئے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 15034
وَعَنِ الزُّبَيْرِ قَالَ : لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَاجِدًا حَتَّى جَاءَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، فَصَعِدَ عَلَى ظَهْرِهِ ، فَمَا أَنْزَلَهُ حَتَّى كَانَ هُوَ الَّذِي نَزَلَ ، وَإِنْ كَانَ لِيُفَرِّجُ لَهُ رِجْلَيْهِ ، فَيَدْخُلُ مِنْ ذَا الْجَانِبِ ، وَيَخْرُجُ مِنْ ذَا الْجَانِبِ الْآخَرِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ عَابِسٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدے کی حالت میں دیکھا ، اسی دوران سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما آئے اور آپ کی پشت پر چڑھ گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نہیں اتارا ، یہاں تک کہ وہ خود ہی نیچے اتر گئے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لئے اپنی دونوں ٹانگیں کشادہ کر دیتے تھے اور وہ ایک طرف سے داخل ہو کے دوسری طرف سے نکل آیا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن عابس ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن عابس ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 15035
وَعَنِ الْبَهِيِّ قَالَ : قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ : أَخْبِرْنِي بِأَقْرَبِ النَّاسِ شَبَهًا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . فَقَالَ : الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ كَانَ أَقْرَبَ النَّاسِ شَبَهًا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَحَبَّهُمْ إِلَيْهِ ، كَانَ يَجِيءُ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَاجِدٌ فَيَقَعُ عَلَى ظَهْرِهِ ، فَلَا يَقُومُ حَتَّى يَتَنَحَّى ، وَيَجِيءُ فَيَدْخُلُ تَحْتَ بَطْنِهِ ، فَيُفَرِّجُ لَهُ رِجْلَيْهِ حَتَّى يَخْرُجَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ عَابِسٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
بہی بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے کہا: آپ مجھے اس شخص کے بارے میں بتائیے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہت رکھتا ہو ، تو انہوں نے جواب دیا : سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہت رکھتے تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب تھے ، وہ آتے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدے کی حالت میں ہوتے تھے ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت پر چڑھ جاتے تھے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک کھڑے نہیں ہوتے تھے جب تک وہ ایک طرف نہیں ہٹ جاتے تھے ، ایک مرتبہ وہ آئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیٹ کے نیچے ( یعنی دونوں ٹانگوں کے درمیان ) داخل ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے اپنی دونوں ٹانگیں کشادہ کر دیں تو وہ دوسری طرف سے نکل آئے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن عابس ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن عابس ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 15036
وَعَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ : كَانَتْ فَاطِمَةُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - تَنْقُرُ الْحَسَنَ وَتَقُولُ : بُنَيَّ شَبِيهُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَيْسَ بِشَبِيهِ عَلِيٍّ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَهُوَ مُرْسَلٌ ، وَفِيهِ زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ ، وَهُوَ لَيِّنٌ . ¤
محمد محی الدین
ابن ابوملیکہ بیان کرتے ہیں : سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو اٹھا کر یہ کہہ رہی تھیں : ” یہ میرا بیٹا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے ، یہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ مشابہت نہیں رکھتا ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور
یہ روایت مرسل ہے ، اس کی سند میں ایک راوی زمعہ بن صالح ہے اور وہ کمزور ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور
یہ روایت مرسل ہے ، اس کی سند میں ایک راوی زمعہ بن صالح ہے اور وہ کمزور ہے ۔
حدیث نمبر: 15037
وَعَنْ كُلَيْبِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ : ذُكِرَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ : إِنَّهُ كَانَ يُشْبِهُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ كُلَيْبًا لَا أَعْرِفُ لَهُ سَمَاعًا مِنَ الصَّحَابَةِ . ¤
محمد محی الدین
کلیب بن شہاب بیان کرتے ہیں : سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما کا ذکر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس کیا گیا ، تو انہوں نے فرمایا : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مشابہت رکھتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں البتہ کلیب نامی راوی کے صحابہ کرام میں سے کسی سے سماع کے بارے میں مجھے علم نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں البتہ کلیب نامی راوی کے صحابہ کرام میں سے کسی سے سماع کے بارے میں مجھے علم نہیں ہے ۔
حدیث نمبر: 15038
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : أَشْبَهُ النَّاسِ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا بَيْنَ رَأْسِهِ إِلَى نَحْرِهِ : الْحَسَنُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : سر سے لے کے گردن تک میں ، لوگوں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہت ” حسن “ رکھتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
حدیث نمبر: 15039
وَعَنْ زُهَيْرِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ : بَيْنَمَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ يَخْطُبُ بَعْدَمَا قُتِلَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - إِذْ قَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَزَدِ آدَمُ طُوَالٌ ، فَقَالَ : لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاضِعَهُ فِي حَبْوَتِهِ يَقُولُ : " مَنْ أَحَبَّنِي فَلْيُحِبَّهُ ، فَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبُ " . وَلَوْلَا عَزِيمَةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا حَدَّثْتُكُمْ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زہیر بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما خطبہ دے رہے تھے ، یہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد کی بات ہے ، اسی دوران ازد قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص کھڑا ہوا جو گندمی رنگت کا طویل القامت شخص تھا ، اس نے بتایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صاحب کو اپنی گود میں رکھا اور پھر یہ فرمایا : ” جو شخص مجھ سے محبت رکھتا ہے وہ اس سے بھی محبت رکھے اور موجود شخص غیر موجود افراد تک تبلیغ کر دے ۔ “ ( پھر اس شخص نے کہا: ) اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ تاکید نہ ہوتی تو میں نے تمہیں یہ حدیث بیان نہیں کرنی تھی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 15040
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : سَمِعَتْ أُذُنَايَ هَاتَانِ ، وَأَبْصَرَتْ عَيْنَايَ هَاتَانِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ آخِذٌ بِكَفَّيْهِ جَمِيعًا حَسَنًا - أَوْ حُسَيْنًا - وَقَدَمَاهُ عَلَى قَدَمَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَقُولُ : " حُزُقَّةٌ حُزُقَّةْ تَرَقَّ عَيْنَ بَقَّةْ " . ¤ فَيَرْقَى الْغُلَامُ ، فَيَضَعُ قَدَمَيْهِ عَلَى صَدْرِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ قَالَ : " افْتَحْ فَاكَ " . ثُمَّ قَبَّلَهُ ، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ مَنْ أَحَبَّهُ فَإِنِّي أُحِبُّهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو مُزَرِّدٍ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ وَثَّقَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرے ان دو کانوں نے اسے سنا اور میری ان دونوں آنکھوں نے اس کو دیکھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھوں کے ذریعے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ یا شاید سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو پکڑا ہوا تھا اور اس بچے کے دونوں پاؤں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں پر تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما رہے تھے : ” اے ننھے میاں ، اے ننھے میاں ، اوپر چڑھ جاؤ اے چھوٹی آنکھوں والے ۔ “ تو وہ بچہ اوپر چڑھ گیا یہاں تک کہ اس نے اپنے پاؤں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے پر رکھے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اپنا منہ کھولو ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بوسہ دیا اور پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے اللہ ! جو اس سے محبت رکھتا ہو ، تو میں بھی اس سے محبت رکھوں گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابومزرد ہے ، اور میں نے کسی کو اس کی توثیق کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابومزرد ہے ، اور میں نے کسی کو اس کی توثیق کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15041
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَأْخُذُ حَسَنًا فَيَضُمُّهُ إِلَيْهِ ، فَيَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنَّ هَذَا ابْنِي ; فَأَحِبَّهُ ، وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْكَنَّاتِ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو پکڑ کر اپنے ساتھ لگایا اور پھر یہ فرمایا : ” اے اللہ ! بے شک یہ میرا بیٹا ہے ، تو اس سے محبت رکھ اور جو اس سے محبت رکھے ، اس سے بھی محبت رکھ ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن ابوکنات ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن ابوکنات ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 15042
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ نُفَيْلٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - احْتَضَنَ حَسَنًا ، وَقَالَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ ; فَأَحِبَّهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ يَزِيدَ بْنِ يُحَنَّسَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعید بن زید بن نفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو اپنے ساتھ لگایا اور فرمایا : ” اے اللہ ! میں اس سے محبت رکھتا ہوں تو بھی اس سے محبت رکھ ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف یزید بن یحنس کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف یزید بن یحنس کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 15043
وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ ; فَأَحِبَّهُ ، وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ غَيْرَ قَوْلِهِ : وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَالْبَزَّارُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُ الْكَبِيرِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ فرمایا : ” اے اللہ ! میں اس سے محبت رکھتا ہوں اور تو اس سے محبت رکھ ، اور جو اس سے محبت رکھے ، اس سے بھی محبت رکھ ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت صحیح میں مذکور ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” تو اس سے بھی محبت رکھ جو اس سے محبت رکھے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام بزار اور امام ابویعلیٰ نے بھی نقل کی ہے ، اور کبیر کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت صحیح میں مذکور ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” تو اس سے بھی محبت رکھ جو اس سے محبت رکھے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام بزار اور امام ابویعلیٰ نے بھی نقل کی ہے ، اور کبیر کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15044
وَعَنْ رَجَاءِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا بِالْمَدِينَةِ فِي مَسْجِدِ الرَّسُولِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي حَلْقَةٍ فِيهَا أَبُو سَعِيدٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، فَمَرَّ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ فَسَلَّمَ ، فَرَدَّ عَلَيْهِ الْقَوْمُ ، وَسَكَتَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، ثُمَّ اتَّبَعَهُ ، فَقَالَ : وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ ، ثُمَّ قَالَ : هَذَا أَحَبُّ أَهْلِ الْأَرْضِ إِلَى أَهْلِ السَّمَاءِ ، وَاللَّهِ مَا كَلَّمْتُهُ مُنْذُ لَيَالِ صِفِّينَ . فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ : أَلَا تَنْطَلِقُ إِلَيْهِ فَتَعْتَذِرَ إِلَيْهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَقَامَ فَدَخَلَ أَبُو سَعِيدٍ ، فَاسْتَأْذَنَ فَأَذِنَ لَهُ ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَدَخَلَ ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو : حَدِّثْنَا بِالَّذِي حَدَّثْتَنَا بِهِ حَيْثُ مَرَّ الْحَسَنُ ، فَقَالَ : نَعَمْ ، أَنَا أُحَدِّثُكُمْ : إِنَّهُ أَحَبُّ أَهْلِ الْأَرْضِ إِلَى أَهْلِ السَّمَاءِ ، قَالَ : فَقَالَ لَهُ الْحَسَنُ : إِذْ عَلِمْتَ أَنِّي أَحَبُّ أَهْلِ الْأَرْضِ إِلَى أَهْلِ السَّمَاءِ فَلِمَ قَاتَلْتَنَا ، أَوْ كَثَّرْتَ يَوْمَ صِفِّينَ ؟ ! قَالَ : أَمَا إِنِّي وَاللَّهِ مَا كَثَّرْتُ سَوَادًا ، وَلَا ضَرَبْتُ مَعَهُمْ بِسَيْفٍ ، وَلَكِنِّي حَضَرْتُ مَعَ أَبِي أَوْ كَلِمَةٍ نَحْوِهَا . قَالَ : أَمَا عَلِمْتَ أَنَّهُ لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ ؟ قَالَ : بَلَى . وَلَكِنِّي كُنْتُ أَسْرُدُ الصَّوْمَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَشَكَانِي أَبِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يَصُومُ النَّهَارَ ، وَيَقُومُ اللَّيْلَ . قَالَ : " صُمْ وَأَفْطِرْ ، وَصَلِّ وَنَمْ ; فَإِنِّي أَنَا أُصَلِّي وَأَنَامُ ، وَأَصُومُ وَأُفْطِرُ " . قَالَ لِي : " يَا عَبْدَ اللَّهِ ، أَطِعْ أَبَاكَ " . فَخَرَجَ يَوْمَ صِفِّينَ وَخَرَجْتُ مَعَهُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ هَاشِمِ بْنِ الْبَرِيدِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي لَهُ طَرِيقٌ فِي فَضْلِ الْحُسَيْنِ أَيْضًا . ¤
محمد محی الدین
رجاء بن ربیعہ بیان کرتے ہیں : میں مدینہ منورہ میں مسجد نبوی میں ایک حلقے میں بیٹھا ہوا تھا جس میں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ موجود تھے ، اسی دوران وہاں سے سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ گزرے ، انہوں نے سلام کیا ، لوگوں نے ان کو جواب دیا ، سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ خاموش رہے ، جب وہ چلے گئے تو سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: و علیک السلام و رحمتہ اللہ ، پھر انہوں نے فرمایا : یہ صاحب اہل آسمان کے نزدیک ، اہل زمین میں سے سب سے زیادہ محبوب ہیں ، جنگ صفین کے بعد اللہ کی قسم ! میں نے کبھی ان کے ساتھ بات نہیں کی ، تو سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا : آپ ان کے پاس جا کر ان کے سامنے معذرت کیوں نہیں پیش کرتے ؟ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ٹھیک ہے ، راوی کہتے ہیں : پھر وہ اٹھے ، سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ ، سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کے گھر میں داخل ہوئے ، انہوں نے اجازت مانگی ، سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے انہیں اجازت دے دی ، پھر انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے لئے اجازت مانگی ، وہ بھی اندر آ گئے ، سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے کہا: ، آپ وہ بات بیان کیجئے جو آپ نے ہمیں اس وقت بیان کی تھی جب حسن گزرے تھے ، تو انہوں نے فرمایا : ٹھیک ہے ، میں آپ لوگوں کو بتاتا ہوں کہ یہ اہل آسمان کے نزدیک ، اہل زمین میں سے سب سے زیادہ محبوب ہیں ، تو سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا : جب آپ یہ بات جانتے ہیں کہ میں اہل آسمان کے نزدیک ، اہل زمین میں سب سے زیادہ محبوب ہوں تو پھر آپ نے جنگ صفین کے موقع پر ہمارے ساتھ لڑائی کیوں کی ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) اس میں شامل ہو کر ( ہمارے مخالفین کی تعداد کو ) زیادہ کیوں کیا ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم ! نہ تو میں نے لوگوں کی تعداد کو زیادہ کیا اور نہ ہی میں نے ان کے ساتھ تلوار سے ضرب لگائی ، میں صرف اپنے والد کے ساتھ موجود رہا تھا ، تو سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا آپ یہ بات نہیں جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی معصیت کے بارے میں مخلوق کی اطاعت نہیں کی جا سکتی ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ، میں مسلسل نفلی روزے رکھا کرتا تھا ، میرے والد نے میری شکایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! عبداللہ بن عمرو دن کے وقت روزہ رکھتا ہے اور رات کو نفل پڑھتا رہتا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم نفلی روزہ رکھ بھی لیا کرو اور چھوڑ بھی دیا کرو ( رات کے وقت ) سو بھی جایا کرو اور نفل بھی پڑھ لیا کرو کیونکہ میں نفل بھی پڑھتا ہوں اور سو بھی جاتا ہوں ، نفلی روزہ رکھتا بھی ہوں اور چھوڑ بھی دیتا ہوں ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے عبداللہ ! تم اپنے باپ کی اطاعت کرو ۔ تو میرے والد جنگ صفین کے موقع پر نکلے تھے ، تو میں بھی ان کے ساتھ نکل آیا تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ، صرف ہاشم بن برید کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ۔ اس روایت کا ایک طریق سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کے فضائل سے متعلق باب میں بھی آئے گا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ، صرف ہاشم بن برید کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ۔ اس روایت کا ایک طریق سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کے فضائل سے متعلق باب میں بھی آئے گا ۔
حدیث نمبر: 15045
وَعَنْ عُمَيْرِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ : رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ لَقِيَ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ ، فَقَالَ لَهُ : اكْشِفْ عَنْ بَطْنِكَ حَيْثُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُقَبِّلُ مِنْهُ ، فَكَشَفَ عَنْ بَطْنِهِ فَقَبَّلَهُ . ¤
محمد محی الدین
عمیر بن اسحاق بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا ، ان کی ملاقات سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے ہوئی ، تو انہوں نے سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ اپنے پیٹ سے اس جگہ سے کپڑا ہٹائیے ، جس کے بارے میں ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں بوسہ لیا تھا ، امام حسن رضی اللہ عنہ نے اپنے پیٹ سے کپڑا ہٹایا تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بھی وہاں بوسہ دیا ۔
حدیث نمبر: 15046
وَفِي رِوَايَةٍ : فَقَبَّلَ سُرَّتَهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : فَكَشَفَ عَنْ بَطْنِهِ ، وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى سُرَّتِهِ . ¤ وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عُمَيْرِ بْنِ إِسْحَاقَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان کی ناف پر بوسہ دیا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے اپنے پیٹ سے کپڑا ہٹایا تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ ان کی ناف پر رکھا ۔ ان دونوں روایات کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف عمیر بن اسحاق کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے اپنے پیٹ سے کپڑا ہٹایا تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ ان کی ناف پر رکھا ۔ ان دونوں روایات کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف عمیر بن اسحاق کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 15047
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَمُصُّ لِسَانَهُ ، أَوْ قَالَ : شَفَتَهُ - يَعْنِي الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ - وَإِنَّهُ لَنْ يُعَذَّبَ لِسَانٌ أَوْ شَفَتَانِ مَصَّهُمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَوْفٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی زبان ۔ راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ان کے ہونٹ چوستے ہوئے دیکھا ہے ، راوی کہتے ہیں : اس سے مراد سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ تھے ( سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) ایسی کسی ہونٹ یا زبان کو عذاب نہیں دیا جائے گا جنہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چوسا ہو ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور عبدالرحمن بن ابوعوف نامی راوی کے علاوہ اس روایت کے تمام رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، اور وہ راوی بھی ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور عبدالرحمن بن ابوعوف نامی راوی کے علاوہ اس روایت کے تمام رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، اور وہ راوی بھی ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 15048
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَوْفٍ قَالَ : قَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ وَأَبُو الْأَعْوَرِ السُّلَمِيُّ لِمُعَاوِيَةَ : إِنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ عَيِيٌّ ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : لَا تَقُولَا ذَلِكَ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ تَفَلَ فِي فِيهِ ، وَمَنْ تَفَلَ فِي فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَيْسَ بِعَيِّيٍّ . فَقَالَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ : أَمَّا أَنْتَ يَا عَمْرُو فَتَنَازَعَ فِيكَ رَجُلَانِ ، فَانْظُرْ أَيُّهُمَا أَبَاكَ ؟ وَأَمَّا أَنْتَ يَا أَبَا الْأَعْوَرِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ رِعْلًا ، وَذَكْوَانَ ، وَعَمْرَو بْنَ سُفْيَانَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ مُحَمَّدِ بْنِ عَوْنٍ السِّيرَافِيِّ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن ابوعوف بیان کرتے ہیں : سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ اور ابواعور سلمی نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ تہ سے کہا: حسن بن علی ایک کمزور شخص ہیں ، تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تم دونوں یہ بات نہ کہو ، کیونکہ اللہ کے رسول نے ان کے منہ میں لعاب دہن ڈالا ہے ، اور جس کے منہ میں اللہ کے رسول نے لعاب دہن ڈالا ہو وہ بولنے میں کمزور نہیں ہو سکتا ، سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے فرمایا : اے عمرو ! جہاں تک تمہارا تعلق ہے ، تو تمہارے بارے میں دو آدمیوں نے جھگڑا کیا تھا ، تو تم اس بات کا جائزہ لو کہ تمہارا باپ کون ہے ؟ اور اے ابواعور ! جہاں تک تمہارا تعلق ہے ، تو اللہ کے رسول نے رعل اور ذکوان قبیلے اور عمرو بن سفیان پر لعنت کی ہوئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد محمد بن عون سیرافی سے نقل کی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد محمد بن عون سیرافی سے نقل کی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 15049
عَنِ الْمَقْبُرِيِّ قَالَ : كُنَّا مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ فَجَاءَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - فَسَلَّمَ ، فَرَدَّ عَلَيْهِ الْقَوْمُ وَمَضَى ، وَمَعَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ لَا يَعْلَمُ ، فَقِيلَ لَهُ : هَذَا حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ يُسَلِّمُ ، فَلَحِقَهُ فَقَالَ : وَعَلَيْكَ يَا سَيِّدِي ، فَقِيلَ لَهُ : تَقُولُ يَا سَيِّدِي ؟ فَقَالَ : أَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّهُ سَيِّدٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
مقبری بیان کرتے ہیں : ہم لوگ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے اسی دوران سیدنا امام حسن بن على رضی اللہ عنہما تشریف لے آئے ، انہوں نے سلام کیا ، حاضرین نے انہیں سلام کا جواب دیا اور وہ تشریف لے گئے ، ہمارے ساتھ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی تھے ۔ انہیں پتہ نہیں چلا ، انہیں بتایا گیا کہ امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے سلام کیا ہے ، تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پیچھے ان کے پاس گئے اور بولے : اے میرے سردار ! آپ پر بھی سلام ہو ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: گیا ، آپ یہ کہہ رہے تھے اے میرے سردار ! تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ” یہ ( یعنی سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ فرمایا ہے ، یہ ) سردار ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 15050
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ : " إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ ، وَلَيُصْلِحَنَّ اللَّهُ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَظِيمَتَيْنِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَغْرَاءَ وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ فرمایا : ” میرا یہ بیٹا سردار ہے ، اور اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں کے درمیان صلح کروائے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ع اور امام بزار نے بھی نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن مغراء ہے ، جسے ایک سے زیادہ افراد نے ثقہ قرار دیا ہے ، اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، ہزار کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ع اور امام بزار نے بھی نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن مغراء ہے ، جسے ایک سے زیادہ افراد نے ثقہ قرار دیا ہے ، اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، ہزار کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15051
وَعَنِ الْحَسَنِ قَالَ : وَأَظُنُّهُ عَنْ أَنَسٍ رَفَعَهُ قَالَ : " ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ " . - يَعْنِي الْحَسَنَ - قَالَ : وَكَانَ يُشْبِهُهُ . أَوْ نَحْوَ هَذَا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
حسن بیان کرتے ہیں : راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے ، انہوں نے اسے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مرفوع روایت کے طور پر نقل کیا ہے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ) ” میرا یہ بیٹا سردار ہے “ یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات ارشاد فرمائی ۔ راوی بیان کرتے ہیں : وہ ( یعنی سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مشابہت رکھتے تھے ، یہ یا اس کی مانند کوئی اور کلمہ انہوں نے ارشاد فرمایا :
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15052
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْحَسَنُ سَيِّدُ شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” حسن ، اہل جنت کے نوجوانوں کا سردار ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 15053
وَعَنْ رَقَبَةَ بْنِ مَصْقَلَةَ قَالَ : لَمَّا حَضَرَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : أَخْرِجُونِي إِلَى الصَّحْرَاءِ ; لَعَلِّي أَتَفَكَّرُ أَنْظُرُ فِي مَلَكُوتِ السَّمَاوَاتِ - يَعْنِي الْآيَاتِ - فَلَمَّا أُخْرِجَ بِهِ قَالَ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَحْتَسِبُ نَفْسِي عِنْدَكَ ; فَإِنَّهَا أَعَزُّ الْأَنْفُسِ عَلَيَّ ، وَكَانَ مِمَّا صَنَعَ اللَّهُ لَهُ أَنَّهُ احْتَسَبَ نَفْسَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ رَقَبَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ الْحَسَنِ فِيمَا أَعْلَمُ ، وَقَدْ سَمِعَ مِنْ أَنْسٍ فِيمَا قِيلَ . ¤
محمد محی الدین
رقبہ بن مصقلہ بیان کرتے ہیں : جب سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما کا آخری وقت آیا تو انہوں نے فرمایا : مجھے نکال کر صحراء کی طرف لے جاؤ تاکہ میں غور و فکر کروں اور آسمانوں میں موجود نشانیوں کا جائزہ لوں ، جب انہیں لے جایا گیا تو انہوں نے یہ کہا: ” اے اللہ ! میں اپنی ذات کے بارے میں تیری بارگاہ سے ثواب کی امید رکھتا ہوں کیونکہ یہ میرے نزدیک سب سے زیادہ معزز ذات ہے “ تو وہ چیز جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے کی وہ یہ تھی کہ انہوں نے اپنی ذات کا احتساب کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، البتہ رقبہ نامی راوی نے سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، جو میرے علم کے مطابق ہے ، ایک قول کے مطابق انہوں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سماع کیا ہوا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، البتہ رقبہ نامی راوی نے سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، جو میرے علم کے مطابق ہے ، ایک قول کے مطابق انہوں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سماع کیا ہوا ہے ۔
حدیث نمبر: 15054
وَعَنْ شُرَحْبِيلَ قَالَ : كُنْتُ مَعَ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ، وَأُخْرِجَ بِسَرِيرِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ، فَأَرَادَ أَنْ يَدْفِنَهُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَخَافَ أَنْ يَمْنَعَهُ بَنُو أُمَيَّةَ ، فَلَمَّا انْتَهَوْا بِهِ إِلَى الْمَسْجِدِ قَامَتْ بَنُو أُمَيَّةَ ، فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، فَقَالَ : إِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ : إِنْ مَنَعُونِي فَادْفِنُونِي مَعَ أُمِّي . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ شُرَحْبِيلُ بْنُ سَعْدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
شرحبیل بیان کرتے ہیں : میں سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا ، انہوں نے سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی چارپائی ( یعنی میت کی چارپائی ) کو باہر نکالا ، ان کا یہ ارادہ تھا کہ ان کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دفن کروائیں ، لیکن انہیں یہ بھی اندیشہ تھا کہ بنوامیہ انہیں ایسا نہیں کرنے دیں گے ، جب وہ ان کی میت لے کے مسجد تک آئے ، تو بنوامیہ کھڑے ہو گئے ، تو سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے بتایا : میں نے ان صاحب کو ( یعنی سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کو ) یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : اگر لوگ منع کریں تو تم مجھے میری والدہ کے ساتھ دفن کر دینا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی شرحبیل بن سعد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی شرحبیل بن سعد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 15055
وَعَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ قَالَ : كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - لَمَّا كُفَّ بَصَرُهُ يَقُولُ لِقَائِدِهِ : إِذَا أَدْخَلْتَنِي عَلَى مُعَاوِيَةَ فَسَدِّدْنِي لِفِرَاشِهِ ، ثُمَّ أَرْسِلْ يَدِي ؛ لَا يَشْمَتُ بِي مُعَاوِيَةُ ، فَفَعَلَ ذَلِكَ يَوْمًا ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ لِبَعْضِ جُلَسَائِهِ : لَيَغْتَمَّنَّ ، فَلَمَّا جَلَسَ مَعَهُ عَلَى فِرَاشِهِ قَالَ : يَا أَبَا عَبَّاسٍ ، آجَرَكَ اللَّهُ فِي الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ؟ ! قَالَ : أَمَاتَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَقَالَ : رَحْمَةُ اللَّهِ وَرِضْوَانُهُ عَلَيْهِ ، وَأَلْحَقَهُ بِصَالِحِ سَلَفِهِ ، أَمَا وَاللَّهِ يَا مُعَاوِيَةُ لَا تَسُدُّ حُفْرَتَهُ ، وَلَا تَأْكُلُ رِزْقَهُ ، وَلَا تَخْلُدُ بَعْدَهُ ، وَلَقَدْ رُزِئْنَا بِأَعْظَمَ فَقْدًا مِنْهُ ؛ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَا خَذَلَنَا اللَّهُ بَعْدَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ ، وَقَدْ وُثِّقَ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
میمون بن مہران بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی جب بینائی رخصت ہو گئی ، تو وہ اپنے ساتھ لے کر چلنے والے فرد سے یہ کہتے تھے کہ جب تم مجھے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچاؤ تو مجھے ان کے بچھونے تک پہنچانا اور پھر تم میرا ہاتھ چھوڑ دینا تاکہ میرے حوالے سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو اعتراض نہ ہو ، ایک دن انہوں نے ایسا ہی کیا ، تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے کسی سے کہا: یہ ابھی غمگین ہو جائیں گے ، جب سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اُن کے ساتھ ان کے بچھونے پر بیٹھ گئے تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابوعباس ! سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے اللہ تعالیٰ آپ کو اجر نصیب کرے ! سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے دریافت کیا : کیا ان کا انتقال ہو گیا ہے ؟ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں ! تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی رضامندی اُن پر نازل ہو اور اللہ تعالیٰ انہیں ان کے نیک اسلاف کے ساتھ ملا دے ، اللہ کی قسم ! اے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نہ تو آپ نے ان کا گڑھا بند کیا اور نہ ہی ان کا رزق کھایا اور نہ ہی آپ نے ان کے بعد ہمیشہ رہنا ہے ، اور ہمیں تو اس سے بھی زیادہ بڑی مصیبت کا سامنا کرنا پڑا تھا اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال تھا ، لیکن اس کے بعد بھی اللہ تعالیٰ نے ہمیں رسوائی کا شکار نہیں کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن محمد زہری ہے ، جس کی توثیق کی گئی ہے ، ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن محمد زہری ہے ، جس کی توثیق کی گئی ہے ، ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 15056
وَعَنِ الْهَيْثَمِ بْنِ عَدِيٍّ قَالَ : هَلَكَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - سَنَةَ أَرْبَعٍ وَأَرْبَعِينَ . قَالَ : هَكَذَا قَالَ الْهَيْثَمُ بْنُ عَدِيٍّ وَخُولِفَ . ¤
محمد محی الدین
ہیثم بن عدی بیان کرتے ہیں : سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما کا انتقال سن چوالیس ہجری میں ہوا تھا ۔ راوی کہتے ہیں : ہیثم بن عدی نے اسی طرح بیان کیا ہے لیکن اس کے برخلاف بھی نقل کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 15057
وَعَنْ أَبِي نُعَيْمٍ قَالَ : وَفِيهَا مَاتَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ ، سَنَةَ ثَمَانٍ وَخَمْسِينَ . ¤
محمد محی الدین
ابونعیم بیان کرتے ہیں : اس سال یعنی اٹھاون ہجری میں سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما اور سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا ۔
حدیث نمبر: 15058
وَعَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ قَالَ : تُوُفِّيَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ سَنَةَ ثَمَانٍ وَأَرْبَعِينَ . ¤
محمد محی الدین
ابوبکر بن حفص بیان کرتے ہیں : سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ کا انتقال اڑتالیس ہجری میں ہوا ۔
حدیث نمبر: 15059
وَعَنْهُ قَالَ : تُوُفِّيَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ بَعْدَمَا مَضَى مِنْ إِمْرَةِ مُعَاوِيَةَ عَشْرُ سِنِينَ . ¤
محمد محی الدین
ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما اور سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا انتقال سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی حکومت کے دس سال گزرنے کے بعد ہوا ۔
حدیث نمبر: 15060
وَعَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ : مَاتَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ سَنَةَ ثَمَانٍ وَأَرْبَعِينَ . . ¤
محمد محی الدین
ابوبکر بن ابوشیبہ بیان کرتے ہیں : سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما کا انتقال اڑتالیس ہجری میں ہوا ۔
حدیث نمبر: 15061
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ قَالَ : تُوُفِّيَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ سَنَةَ تِسْعٍ وَأَرْبَعِينَ ، وَصَلَّى عَلَيْهِ سَعِيدُ بْنُ الْعَاصِ ، وَكَانَ مَوْتُهُ بِالْمَدِينَةِ ، وَسِنُّهُ سِتٌّ أَوْ سَبْعٌ وَأَرْبَعُونَ ، وَيُكَنَّى : أَبَا مُحَمَّدٍ . ¤
محمد محی الدین
یحیی بن بکیر بیان کرتے ہیں : سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما کا انتقال انچاس ہجری میں ہوا اور سیدنا سعید بن العاص رضی اللہ عنہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی ، ان کا انتقال مدینہ منورہ میں ہوا تھا اور ان کی عمر چھیالیس یا سینتالیس سال تھی ان کی کنیت ابومحمد تھی ۔
حدیث نمبر: 15062
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالَ : مَاتَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - وَهُوَ ابْنُ سَبْعٍ وَأَرْبَعِينَ ، وَيُكَنَّى : أَبَا مُحَمَّدٍ . ¤ قُلْتُ : وَأَسَانِيدُ وَفَاتِهِ كُلُّهَا صَحِيحَةٌ إِلَى قَائِلِهَا . ¤
محمد محی الدین
محمد بن عبداللہ بن نمیر بیان کرتے ہیں : سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما سینتالیس سال کی عمر میں انتقال کر گئے تھے ۔ ان کی کنیت ابومحمد تھی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ان کی وفات کے بارے میں منقول تمام روایات کی اسانید ان کے قائلین تک مستند ہیں ۔