کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اہل بیت کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 14957
عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنِّي تَارِكٌ فِيكُمْ خَلِيفَتَيْنِ : كِتَابَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - حَبْلٌ مَمْدُودٌ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ - أَوْ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ - وَعِتْرَتِي أَهْلُ بَيْتِي ، وَإِنَّهُمَا لَنْ يَتَفَرَّقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں تمہارے درمیان دو چیزیں نائب کے طور پر چھوڑے جا رہا ہوں ، اللہ کی کتاب جو زمین اور آسمان کے درمیان لٹکی ہوئی ایک رسی ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) آسمان سے زمین تک لٹکی ہوئی رسی ہے ، اور میری عترت جو میرے اہل بیت ہیں ، یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے ، یہاں تک کہ یہ دونوں حوض پر میرے پاس آ جائیں گے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14957
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ جید۔
حدیث نمبر: 14958
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنِّي خَلَّفْتُ فِيكُمُ اثْنَيْنِ لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُمَا أَبَدًا : كِتَابَ اللَّهِ وَنَسَبِي ، وَلَنْ يَتَفَرَّقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ مُوسَى الطِّلْحِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں اپنے پیچھے تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑ کے جا رہا ہوں تم ان کے بعد کبھی گمراہ نہیں ہو گے ، اللہ کی کتاب اور میرا نسب ( یعنی میری اولاد ) یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے ، یہاں تک کہ یہ دونوں حوض پر میرے پاس آ جائیں گے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی صالح بن موسیٰ طلحی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14958
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 14959
عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنِّي مَقْبُوضٌ ، وَإِنِّي قَدْ تَرَكْتُ فِيكُمُ الثَّقَلَيْنِ - يَعْنِي كِتَابَ اللَّهِ وَأَهْلَ بَيْتِي - وَإِنَّكُمْ لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُمَا ، وَإِنَّهُ لَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ حَتَّى يُبْتَغَى أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَمَا تُبْتَغَى الضَّالَّةُ فَلَا تُوجَدُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ الْحَارِثُ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میرا انتقال ہو جائے گا ، اور میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑ کے جا رہا ہوں ، یعنی اللہ کی کتاب اور میرے اہل بیت ، اور ان دونوں کے بعد تم گمراہ نہیں ہو گے ، اور قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک اللہ کے رسول کے اصحاب کو یوں تلاش نہیں کیا جائے گا ، جس طرح کسی گمشدہ چیز کو تلاش کیا جاتا ہے ، اور وہ نہیں ملتی ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حارث ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14959
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 14960
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ : لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَكَّةَ ، انْصَرَفَ إِلَى الطَّائِفِ ، حَاصَرَهَا سَبْعَ عَشْرَةَ - أَوْ تِسْعَ عَشْرَةَ - ثُمَّ قَامَ خَطِيبًا ، فَحَمِدَ اللَّهَ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " أُوصِيكُمْ بِعِتْرَتِي خَيْرًا ، وَإِنَّ مَوْعِدَكُمُ الْحَوْضُ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتُقِيمُنَّ الصَّلَاةَ ، وَلَتُؤْتُنَّ الزَّكَاةَ ، أَوْ لَأَبْعَثَنَّ إِلَيْكُمْ رَجُلًا مِنِّي - أَوْ كَنَفْسِي - يَضْرِبُ أَعْنَاقَكُمْ " . ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِ عَلِيٍّ ، فَقَالَ : " هَذَا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ طَلْحَةُ بْنُ جَبْرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم طائف کی طرف تشریف لے گئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سترہ یا شاید انیس دن تک اس کا محاصرہ کیے رکھا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور پھر یہ ارشاد فرمایا : ” میں تمہیں اپنی عترت کے بارے میں بھلائی کی تلقین کرتا ہوں ، تم سے ملنے کی جگہ حوض ہے ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، تم لوگ نماز ضرور قائم کرو گے ، اور زکوۃ ضرور ادا کرو گے ، ورنہ میں تمہاری طرف اپنے میں سے ایک شخص کو بھیجوں گا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) تمہاری طرف اس شخص کو بھیجوں گا جو میری طرح ہو گا ، اور وہ تمہاری گردنیں اڑائے گا ۔ “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر ارشاد فرمایا : اور وہ یہ ہو گا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی طلحہ بن جبر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14960
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 14961
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : آخِرُ مَا تَكَلَّمَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اخْلُفُونِي فِي أَهْلِ بَيْتِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو آخری بات ارشاد فرمائی وہ یہ تھی : ” میرے بعد میرے اہل بیت کا خیال رکھنا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن عبیداللہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14961
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 14962
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنِّي تَارِكٌ فِيكُمُ الثَّقَلَيْنِ ، أَحَدُهُمَا أَكْبَرُ مِنَ الْآخَرِ : كِتَابُ اللَّهِ ، حَبْلٌ مَمْدُودٌ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ ، وَعِتْرَتِي أَهْلُ بَيْتِي ، وَإِنَّهُمَا لَنْ يَتَفَرَّقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِي إِسْنَادِهِ رِجَالٌ مُخْتَلَفٌ فِيهِمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑ کے جا رہا ہوں ، ان میں سے ایک دوسری سے بڑی ہے اللہ کی کتاب جو آسمان سے زمین تک لٹکی ہوں ایک رسی ہے ، اور میری عترت میرے اہل بیت ، یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے ، یہاں تک کہ حوض پر یہ دونوں میرے پاس آ جائیں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے رجال ہیں جن کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14962
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 14963
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ : نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْجُحْفَةَ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ ، فَحَمِدَ اللَّهَ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنِّي لَا أَجِدُ لِنَبِيٍّ إِلَّا نِصْفَ عُمُرِ الَّذِي قَبْلَهُ ، وَإِنِّي أُوشِكُ أَنْ أُدْعَى فَأُجِيبَ ، فَمَا أَنْتُمْ قَائِلُونَ ؟ " . قَالُوا : نَصَحْتَ قَالَ : " أَلَيْسَ تَشْهَدُونَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، وَأَنَّ الْجَنَّةَ حَقٌّ ، وَأَنَّ النَّارَ حَقٌّ ؟ " . قَالُوا : نَشْهَدُ ، قَالَ : فَرَفَعَ يَدَهُ فَوَضَعَهَا عَلَى صَدْرِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " أَنَا أَشْهَدُ مَعَكُمْ " . ثُمَّ قَالَ : " أَلَا تَسْمَعُونَ ؟ " . قَالُوا : نَعَمْ . قَالَ : " فَإِنِّي فَرَطٌ عَلَى الْحَوْضِ ، وَأَنْتُمْ وَارِدُونَ عَلَى الْحَوْضِ ، وَإِنَّ عَرْضَهُ مَا بَيْنَ صَنْعَاءَ وَبُصْرَى ، فِيهِ أَقْدَاحٌ عَدَدَ النُّجُومِ مِنْ فِضَّةٍ ، فَانْظُرُوا كَيْفَ تَخْلُفُونِي فِي الثَّقَلَيْنِ " . فَنَادَى مُنَادٍ : وَمَا الثَّقَلَانِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " كِتَابُ اللَّهِ ، طَرَفٌ بِيَدِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَطَرَفٌ بِأَيْدِيكُمْ ، فَتَمَسَّكُوا بِهِ لَا تَضِلُّوا ، وَالْآخَرُ عَشِيرَتِي ، وَإِنَّ اللَّطِيفَ الْخَبِيرَ نَبَّأَنِي أَنَّهُمَا لَنْ يَتَفَرَّقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ ، فَسَأَلْتُ ذَلِكَ لَهُمَا رَبِّي ، فَلَا تَقَدَّمُوهُمَا فَتَهْلَكُوا ، وَلَا تَقْصِرُوا عَنْهُمَا فَتَهْلَكُوا ، وَلَا تَعْلَمُوهُمَا فَهُمْ أَعْلَمُ مِنْكُمْ " . ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَقَالَ : " مَنْ كُنْتُ أَوْلَى بِهِ مِنْ نَفْسِهِ فَعَلِيٌّ وَلِيُّهُ ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ” جحفہ “ کے مقام پر پڑاؤ کیا ، پھر آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا : ” میں نے جس بھی نبی کو پایا اس کی عمر اس سے پہلے والے نبی سے نصف ہوتی تھی اور عنقریب مجھے بلا لیا جائے گا ، تو مجھے جانا ہو گا ، تو تم لوگ کیا کہتے ہو ؟ لوگوں نے عرض کی : آپ نے خیرخواہی کر دی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم لوگ اس بات کی گواہی نہیں دیتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، جنت حق ہے اور جہنم حق ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک بلند کیا اور اسے اپنے سینے پر رکھا اور ارشاد فرمایا : میں تمہارے ساتھ گواہی دیتا ہوں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم لوگ سنتے نہیں ہو ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں حوض پر تمہارا پیشرو ہوؤں گا اور تم حوض پر میرے پاس آؤ گے اس حوض کی چوڑائی اتنی ہے جتنا صنعاء اور بصریٰ کے درمیان فاصلہ ہے ، اس کے پاس آسمان کے ستاروں کی تعداد میں چاندی کے بنے ہوئے پیالے ہیں ، تو تم اس بات کا جائزہ لینا کہ تم میرے بعد دو چیزوں کے بارے میں کیا کرو گے ؟ ایک منادی نے پکار کر یہ کہا: یا رسول اللہ ! دو چیزوں سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ کی کتاب ، جس کا ایک کنارہ اللہ کے ہاتھ میں ہے اور ایک کنارہ تمہارے ہاتھوں میں ہے ، تم اسے مضبوطی سے تھام کے رکھنا ، تم گمراہ نہیں ہو گے اور دوسرا میری عشیرت ، لطیف اور خبیر ذات نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے سے اس وقت تک جدا نہیں ہوں گی یہاں تک کہ یہ دونوں حوض پر میرے پاس آ جائیں گی ، تو میں نے ان دونوں کے لئے اپنے پروردگار سے دعا مانگی ہے ، تو تم ان دونوں سے آگے نکلنے کی کوشش نہ کرنا ورنہ تم ہلاکت کا شکار ہو جاؤ گے ، اور تم ان دونوں کے بارے میں کوتاہی بھی نہ کرنا ورنہ تم ہلاکت کا شکار ہو جاؤ گے ، اور تم ان دونوں کو تعلیم دینے کی کوشش بھی نہ کرنا کیونکہ یہ تم سے زیادہ علم رکھتے ہیں ۔ “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور ارشاد فرمایا : ” میں جس کے نزدیک اس کی جان سے زیادہ قریب ہوں ، تو علی بھی اس کا ولی ہے ، اے اللہ ! جو اس سے محبت رکھتا ہو ، تو بھی اس سے محبت رکھنا اور جو اس سے دشمنی رکھتا ہو ، تو اس سے دشمنی رکھنا ۔ “
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14963
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف ولکن عند الشواھد حدیث صحیح ولہ شاہد
حدیث نمبر: 14964
وَفِي رِوَايَةٍ أَخْصَرَ مِنْ هَذِهِ : " فِيهِ عَدَدُ الْكَوَاكِبِ مِنْ قِدْحَانِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ " . ¤ وَقَالَ فِيهَا أَيْضًا : " الْأَكْبَرُ : كِتَابُ اللَّهِ ، وَالْأَصْغَرُ : عِتْرَتِي " . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت اس سے زیادہ مختصر ہے ، جس میں یہ الفاظ ہیں : ” اس حوض کے پاس ستاروں کی تعداد میں سونے اور چاندی کے بنے ہوئے پیالے ہوں گے ۔ “ اس روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : ” بڑی چیز اللہ کی کتاب ہے ، اور چھوٹی چیز میری عترت ہے ۔ “
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14964
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 14965
وَفِي رِوَايَةٍ : لَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ حَجَّةِ الْوَدَاعِ ، وَنَزَلَ غَدِيرَ خُمٍّ ، أَمَرَ بِدَوْحَاتٍ فَقُمِّمْنَ ، ثُمَّ قَامَ فَقَالَ : " كَأَنِّي قَدْ دُعِيتُ فَأَجَبْتُ " . ¤ وَقَالَ فِي آخِرِهِ : فَقُلْتُ لِزَيْدٍ : أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَقَالَ : مَا كَانَ فِي الدَّوْحَاتِ أَحَدٌ إِلَّا رَآهُ بِعَيْنَيْهِ ، وَسَمِعَهُ بِأُذُنَيْهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ ، وَفِي التِّرْمِذِيِّ مِنْهُ : " مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ " . ¤ وَفِي سَنَدِ الْأَوَّلِ وَالثَّانِي : حَكِيمُ بْنُ جُبَيْرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حجتہ الوداع سے واپس تشریف لے گئے تو آپ نے غدیر خم کے مقام پر پڑاؤ کیا ، وہاں آپ کے حکم کے تحت درختوں کے نیچے جھاڑو دی گئی ، پھر آپ کھڑے ہوئے آپ نے ارشاد فرمایا : یوں لگتا ہے جیسے مجھے بلا لیا جائے گا ، اور مجھے جانا ہو گا ۔ اس روایت کے آخر میں یہ الفاظ ہیں : میں نے سیدنا زید رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا ، کیا آپ نے خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات سنی ہے ، تو انہوں نے فرمایا : اس وقت اس مقام پر جو بھی فرد موجود تھا وہ اپنی دونوں آنکھوں کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا تھا اور اپنے دونوں کانوں کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو سن رہا تھا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں اس روایت کا ایک حصہ مذکور ہے اور ترمذی میں اس میں سے
یہ روایت مذکور ہے : ” جس کا میں مولیٰ ہوں تو علی بھی اس کا مولیٰ ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نقل کی ہے پہلی اور دوسری سند میں ایک راوی حکیم بن جبیر ہے اور ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14965
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 14966
عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ الْغِفَارِيِّ قَالَ : لَمَّا صَدَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ حَجَّةِ الْوَدَاعِ ، نَهَى أَصْحَابَهُ عَنْ سَمُرَاتٍ مُتَفَرِّقَاتٍ بِالْبَطْحَاءِ أَنْ يَنْزِلُوا تَحْتَهُنَّ ، ثُمَّ بَعَثَ إِلَيْهِنَّ ، فَقُمَّ مَا تَحْتَهُنَّ مِنَ الشَّوْكِ ، وَعَمَدَ إِلَيْهِنَّ فَصَلَّى عِنْدَهُنَّ ، ثُمَّ قَامَ فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّهُ قَدْ نَبَّأَنِي اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ أَنَّهُ لَمْ يُعَمَّرْ نَبِيٌّ إِلَّا نِصْفَ عُمُرِ الَّذِي يَلِيهِ مِنْ قَبْلِهِ ، وَإِنِّي لَأَظُنُّ يُوشِكُ أَنْ أُدْعَى فَأُجِيبَ ، وَإِنِّي مَسْئُولٌ وَأَنْتُمْ مَسْئُولُونَ ، فَمَاذَا أَنْتُمْ قَائِلُونَ ؟ " . قَالُوا : نَشْهَدُ أَنَّكَ قَدْ بَلَّغْتَ ، وَجَهَدْتَ ، وَنَصَحْتَ ، فَجَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا . قَالَ : " أَلَيْسَ تَشْهَدُونَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، وَأَنَّ جَنَّتَهُ حَقٌّ ، وَنَارَهُ حَقٌّ ، وَأَنَّ الْمَوْتَ حَقٌّ ، وَأَنَّ الْبَعْثَ حَقٌّ بَعْدَ الْمَوْتِ ، وَأَنَّ السَّاعَةَ آتِيَةٌ لَا رَيْبَ فِيهَا ، وَأَنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُورِ ؟ " . قَالُوا : بَلَى ، نَشْهَدُ بِذَلِكَ . قَالَ : " اللَّهُمَّ اشْهَدْ " . ثُمَّ قَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ اللَّهَ مَوْلَايَ ، وَأَنَا مَوْلَى الْمُؤْمِنِينَ ، وَأَنَا أَوْلَى بِهِمْ مِنْ أَنْفُسِهِمْ ، فَمَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَهَذَا مَوْلَاهُ " . - يَعْنِي عَلِيًّا - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - " اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ " . ثُمَّ قَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنِّي فَرَطٌ وَأَنْتُمْ وَارِدُونَ عَلَى الْحَوْضِ ، حَوْضٌ أَعْرَضُ مَا بَيْنَ بُصْرَى إِلَى صَنْعَاءَ ، فِيهِ عَدَدُ النُّجُومِ قِدْحَانُ مِنْ فِضَّةٍ ، وَإِنِّي سَائِلُكُمْ حِينَ تَرِدُونَ عَلَيَّ عَنِ الثَّقَلَيْنِ ، فَانْظُرُوا كَيْفَ تَخْلُفُونِي فِيهِمَا الثَّقَلُ الْأَكْبَرُ : كِتَابُ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - سَبَبٌ طَرَفُهُ بِيَدِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَطَرَفُهُ بِأَيْدِيكُمْ ، فَاسْتَمْسِكُوا بِهِ ، لَا تَضِلُّوا وَلَا تُبَدِّلُوا . وَعِتْرَتِي أَهْلُ بَيْتِي ، فَإِنَّهُ قَدْ نَبَّأَنِي اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ أَنَّهُمَا لَنْ يَتَفَرَّقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ زَيْدُ بْنُ الْحَسَنِ الْأَنْمَاطِيُّ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : مُنْكَرُ الْحَدِيثِ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحَدِ الْإِسْنَادَيْنِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع سے واپس تشریف لے گئے تو آپ نے اپنے اصحاب کو حکم دیا کہ وہ متفرق درختوں کے نیچے نہ جائیں اور ان کے نیچے جا کے پڑاؤ نہ کریں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو پیغام بھیجا اور حکم دیا کہ تم لوگ اٹھو اور ان درختوں کے نیچے صفائی کرو ، پھر بی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان درختوں کی طرف گئے ، آپ نے وہاں نماز ادا کی پھر آپ کھڑے ہوئے اور آپ نے ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! لطیف اور خبیر ذات نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ اس نے جس بھی نبی کو دنیا میں بھیجا تو اس کی عمر اس سے پہلے والے نبی کی عمر سے نصف ہوتی تھی ، میرا یہ خیال ہے کہ عنقریب میرا بلاوا آ جائے گا ، اور مجھے جانا ہو گا مجھ سے بھی حساب لیا جائے گا اور تم لوگوں سے بھی حساب لیا جائے گا ، تو تم لوگ کیا کہو گے ؟ لوگوں نے کہا: ہم اس بات کی گواہی دیں گے کہ آپ نے تبلیغ کر دی ، بھرپور کوشش کی ، خیرخواہی کی ، اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا کرے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم لوگ اس بات کی گواہی نہیں دیتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، اور جنت حق ہے ، اور جہنم حق ہے ، اور موت حق ہے ، اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جانا حق ہے ، اور قیامت آنے والی ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے ، اور اللہ تعالیٰ قبروں میں موجود لوگوں کو دوبارہ زندہ کر دے گا ؟ لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: اے اللہ ! تو گواہ ہو جاؤ ! پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے لوگو ! بے شک اللہ تعالیٰ میرا مولیٰ ہے اور میں مومنین کا مولیٰ ہوں اور میں ان کے نزدیک ان کی جانوں سے زیادہ قریب ہوں ، تو جس کا میں مولیٰ ہوں یہ بھی اس کا مولیٰ ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی : ) ” اے اللہ ! جو اس سے محبت رکھتا ہو ، تو اس سے محبت رکھنا اور جو اس سے دشمنی رکھتا ہو ، تو اس سے دشمنی رکھنا ۔ “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے لوگو ! میں تمہارا پیشرو ہوؤں گا ، اور تم حوض پر میرے پاس آؤ گے ، وہ ایسا حوض ہے جو بصریٰ سے لے کر صنعاء تک کے درمیان فاصلے سے زیادہ چوڑا ہے ، اور اس کے پاس ستاروں کی تعداد میں چاندی سے بنے ہوئے پیالے ہیں ، اور جب تم لوگ حوض پر میرے پاس آؤ گے ، تو میں تم سے دو چیزوں کے بارے میں دریافت کروں گا ، تو تم لوگ اس بات کا جائزہ لو گے کہ تم میرے بعد ان دو چیزوں کے بارے میں کیا کرتے ہو ؟ ان میں بڑی چیز اللہ کی کتاب ہے ، جس کا ایک کنارہ اللہ کے ہاتھ میں ہے اور ایک کنارہ تم لوگوں کے ہاتھ میں ہے ، تم اسے مضبوطی سے تھام کے رکھو ، تم گمراہ نہیں ہو گے ، اور تم تبدیلی نہ کرنا ( اور دوسری چیز ) میری عترت میرے اہل بیت ہیں ، لطیف اور خبیر ذات نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے ، یہاں تک کہ یہ دونوں حوض پر میرے پاس آ جائیں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی زید بن حسن انماطی ہے ابوحاتم کہتے ہیں : یہ منکر الحدیث ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اس کی دو اسناد میں سے ایک کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14966
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 14967
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ عَلِيٍّ الْهِلَالِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي شَكَاتِهِ الَّتِي قُبِضَ فِيهَا ، فَإِذَا فَاطِمَةُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - عِنْدَ رَأْسِهِ . قَالَ : فَبَكَتْ حَتَّى ارْتَفَعَ صَوْتُهَا ، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - طَرْفَهُ إِلَيْهَا ، فَقَالَ : " حَبِيبَتِي فَاطِمَةُ ، مَا الَّذِي يُبْكِيكِ ؟ " . فَقَالَتْ : أَخْشَى الضَّيْعَةَ بَعْدَكَ ، فَقَالَ : " يَا حَبِيبَتِي ، أَمَا عَلِمْتِ أَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - اطَّلَعَ إِلَى الْأَرْضِ اطِّلَاعَةً ، فَاخْتَارَ مِنْهَا أَبَاكِ ، فَبَعَثَهُ بِرِسَالَتِهِ ، ثُمَّ اطَّلَعَ اطِّلَاعَةً ، فَاخْتَارَ مِنْهَا بَعْلَكِ ، وَأَوْحَى إِلَيَّ أَنْ أُنْكِحَكِ إِيَّاهُ يَا فَاطِمَةُ ، وَنَحْنُ أَهْلُ بَيْتٍ قَدْ أَعْطَانَا اللَّهُ سَبْعَ خِصَالٍ لَمْ تُعْطَ لِأَحَدٍ قَبْلَنَا ، وَلَا تُعْطَى أَحَدًا بَعْدَنَا : أَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ ، وَأَكْرَمُ النَّبِيِّينَ عَلَى اللَّهِ ، وَأَحَبُّ الْمَخْلُوقِينَ إِلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَأَنَا أَبُوكِ ، وَوَصِيِّي خَيْرُ الْأَوْصِيَاءِ وَأَحَبُّهُمْ إِلَى اللَّهِ ، وَهُوَ بَعْلُكِ ، وَشَهِيدُنَا خَيْرُ الشُّهَدَاءِ وَأَحَبُّهُمْ إِلَى اللَّهِ ، وَهُوَ عَمُّكِ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَعَمُّ بَعْلِكِ ، وَمِنَّا مَنْ لَهُ جَنَاحَانِ أَخْضَرَانِ يَطِيرُ مَعَ الْمَلَائِكَةِ فِي الْجَنَّةِ حَيْثُ شَاءَ ، وَهُوَ ابْنُ عَمِّ أَبِيكِ وَأَخُو بَعْلِكِ ، وَمِنَّا سِبْطَا هَذِهِ الْأُمَّةِ وَهُمَا ابْنَاكِ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ ، وَهُمَا سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، وَأَبُوهُمَا وَالَّذِي بَعَثَنِي بِالْحَقِّ خَيْرٌ مِنْهُمَا . يَا فَاطِمَةُ ، وَالَّذِي بَعَثَنِي بِالْحَقِّ إِنَّ مِنْهُمَا مَهْدِيُّ هَذِهِ الْأُمَّةِ ، إِذَا صَارَتِ الدُّنْيَا هَرْجًا وَمَرَجًا ، وَتَظَاهَرَتِ الْفِتَنُ ، وَتَقَطَّعَتِ السُّبُلُ ، وَأَغَارَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ ، فَلَا كَبِيرَ يَرْحَمُ صَغِيرًا ، وَلَا صَغِيرَ يُوَقِّرُ كَبِيرًا ، فَيَبْعَثُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - عِنْدَ ذَلِكَ مِنْهُمَا مَنْ يَفْتَحُ حُصُونَ الضَّلَالَةِ ، وَقُلُوبًا غُلْفًا ، يَقُومُ بِالدِّينِ آخِرَ الزَّمَانِ كَمَا قُمْتُ بِهِ فِي أَوَّلِ الزَّمَانِ ، وَيَمْلَأُ الدُّنْيَا عَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ جَوْرًا . يَا فَاطِمَةُ ، لَا تَحْزَنِي وَلَا تَبْكِي ; فَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَرْحَمُ بِكِ ، وَأَرْأَفُ عَلَيْكِ مِنِّي ، وَذَلِكَ لِمَكَانِكِ مِنْ قَلْبِي ، وَزَوَّجَكِ اللَّهُ زَوْجًا وَهُوَ أَشْرَفُ أَهْلِ بَيْتِكِ حَسَبًا ، وَأَكْرَمُهُمْ مَنْصِبًا ، وَأَرْحَمُهُمْ بِالرَّعِيَّةِ ، وَأَعْدَلُهُمْ بِالسَّوِيَّةِ ، وَأَبْصَرُهُمْ بِالْقَضِيَّةِ ، وَقَدْ سَأَلْتُ رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - أَنْ تَكُونِي أَوَّلَ مَنْ يَلْحَقُنِي مِنْ أَهْلِ بَيْتِي " . ¤ قَالَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - : فَلَمَّا قُبِضَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ تَبْقَ فَاطِمَةُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - بَعْدَهُ إِلَّا خَمْسَةً وَسَبْعِينَ يَوْمًا ، حَتَّى أَلْحَقَهَا اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - بِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْهَيْثَمُ بْنُ حَبِيبٍ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : مُنْكَرُ الْحَدِيثِ ، وَهُوَ مُتَّهَمٌ بِهَذَا الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
علی بن علی ہلالی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ” میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بیماری کے دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جس بیماری کے آخرت میں آپ کا وصال ہو گیا تھا ۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سرہانے موجود تھیں ۔ راوی کہتے ہیں : وہ رونے لگیں ، یہاں تک کہ ان کی آواز بلند ہوئی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نگاہ اٹھا کر ان کی طرف دیکھا اور فرمایا : میری محبوب فاطمہ ! تم کیوں رو رہی ہو ؟ انہوں نے عرض کی : مجھے آپ کے بعد ضائع ہو جانے کا اندیشہ ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے میری محبوب شخصیت ! کیا تم یہ بات نہیں جانتی ہو کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کی طرف جھانک کر دیکھا اور ان میں سے تمہارے باپ کو منتخب کر کے اسے اپنی رسالت کے ہمراہ مبعوث کیا پھر اس نے ایک مرتبہ جھانک کر دیکھا اور اہل زمین میں سے تمہارے شوہر کو منتخب کیا اور اس نے میری طرف یہ وحی کی کہ میں تمہاری شادی اس کے ساتھ کروا دوں ۔ اے فاطمہ ! ہم اہل بیت وہ لوگ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں سات خصوصیات عطا کی ہیں جو ہم سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں ، اور ہمارے بعد بھی کسی کو نہیں دی جائیں گی ، میں انبیاء کے سلسلے کو ختم کرنے والا ہوں اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک انبیاء میں سب سے زیادہ معزز ہوں اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب ہوں ، میں تمہارا باپ ہوں اور میرا وصی تمام اوصیاء سے بہتر ہے ، اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان میں سب سے زیادہ محبوب ہے ، اور وہ تمہارا شوہر ہے ، اور ہمارا شہید تمام شہداء سے بہتر ہے ، اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمام شہداء سے زیادہ محبوب ہے ، اور وہ تمہارا چچا سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ ہے جو تمہارے شوہر کا بھی چچا ہے ، اور ہم میں سے ایک شخص وہ ہے جس کے دو سبز پر ہیں ۔ وہ جنت میں فرشتوں کے ہمراہ جہاں چاہے اڑ کے چلا جاتا ہے ، اور وہ تمہارے باپ کا چچا زاد ہے ، اور تمہارے شوہر کا بھائی ہے ، اور ہم میں سے اس امت کے دو ” سبط “ ( نواسے ) ہیں ، اور وہ دونوں تمہارے بیٹے حسن اور حسین ہیں ۔ وہ دونوں اہل جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں ، اور ان دونوں کا باپ ان دونوں سے زیادہ بہتر ہے ، اس ذات کی قسم ! جس نے مجھے حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے : اے فاطمہ ! اس ذات کی قسم ! جس نے مجھے حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ان دونوں کی اولاد میں سے اس امت میں مہدی آئے گا ، جس وقت دنیا میں قتل و غارت گری عام ہو چکی ہو گی ، فتنے ظاہر ہو چکے ہوں گے ، راستے بند ہو چکے ہوں گے ، لوگ ایک دوسرے پر حملہ آور ہو رہے ہوں گے ، اس وقت کوئی بڑا کسی چھوٹے پر رحم نہیں کرے گا ، اور کوئی چھوٹا کسی بڑے کی تعظیم نہیں کرے گا ، اس وقت اللہ تعالیٰ ان کی اولاد میں سے مہدی کو بھیجے گا جو گمراہی کے قلعوں کو فتح کر دے گا ، بند دلوں کو کھول دے گا ، اور آخری زمانے میں دین کو یوں قائم کرے گا ، جس طرح میں نے ابتدائی زمانے میں اس کو قائم کیا تھا ، وہ دنیا کو عدل سے بھر دے گا ، جس طرح وہ پہلے ظلم سے بھری ہوئی تھی ، اے فاطمہ ! تم غمگین نہ ہو اور تم روؤ نہیں ، بے شک اللہ تعالیٰ مجھ سے زیادہ تمہارے بارے میں مہربان اور زیادہ رحم کرنے والا ہے ، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ میرے دل میں جو تمہاری جگہ ہے ، اور اللہ تعالیٰ نے تمہاری شادی ایسے شخص کے ساتھ کی ہے ، جو تمہارے گھرانے میں حسب کے اعتبار سے سب سے زیادہ معزز ہے ، اور منصب کے اعتبار سے سب سے زیادہ عزت والا ہے ، رعایا کے لئے سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے ، سب سے بہترین طریقے سے انصاف کرنے والا ہے ، عدالتی فیصلوں کے بارے میں سب سے زیادہ بصیرت رکھتا ہے ، میں نے اپنے پروردگار سے یہ دعا مانگی ہے کہ میرے اہل بیت میں سب سے پہلے تم مجھ سے آ ملو “ ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا ، تو اس کے بعد سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا صرف پچھتر دن زندہ رہی تھیں ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ملا دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ہیثم بن حبیب ہے ابوحاتم کہتے ہیں ۔ یہ منکر الحدیث ہے اور اس حدیث کے حوالے سے اس پر تہمت عائد کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14967
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 14968
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِفَاطِمَةَ : " نَبِيُّنَا خَيْرُ الْأَنْبِيَاءِ ، وَهُوَ أَبُوكِ ، وَشَهِيدُنَا خَيْرُ الشُّهَدَاءِ ، وَهُوَ عَمُّ أَبِيكِ حَمْزَةُ ، وَمِنَّا مَنْ لَهُ جَنَاحَانِ يَطِيرُ بِهِمَا فِي الْجَنَّةِ حَيْثُ شَاءَ ، وَهُوَ ابْنُ عَمِّ أَبِيكِ جَعْفَرٌ ، وَمِنَّا سِبْطَا هَذِهِ الْأُمَّةِ : الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنِ ، وَهُمَا ابْنَاكِ ، وَمِنَّا الْمَهْدِيُّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : ” ہمارا ( یعنی ہمارے خاندان کا ) نبی تمام انبیاء سے بہتر ہے ، اور وہ تمہارا باپ ہے اور ہمارا شہید تمام شہداء سے بہتر ہے ، اور وہ تمہارے باپ کا چچا حمزہ ہے ، ہم میں سے ایک فرد وہ ہے جس کے دو پر ہیں ۔ وہ ان کے ذریعے جنت میں جہاں چاہے ، وہ اڑ کے چلا جاتا ہے اور وہ تمہارے باپ کا چچا زاد جعفر ہے ، اور ہم میں سے اس امت کے دو ” سبط “ ( یعنی نواسے ) ہیں ، یعنی حسن اور حسین ، وہ دونوں تمہارے بیٹے ہیں ، اور ہم میں سے مہدی ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14968
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 14969
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَيْتِي يَوْمًا ، إِذْ قَالَتِ الْخَادِمُ : إِنَّ عَلِيًّا وَفَاطِمَةَ بِالسُّدَّةِ . ¤ قَالَتْ : فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قُومِي ، فَتَنَحَّيْ لِي عَنْ أَهْلِ بَيْتِي " . قَالَتْ : فَقُمْتُ فَتَنَحَّيْتُ فِي الْبَيْتِ قَرِيبًا ، فَدَخَلَ عَلِيٌّ وَفَاطِمَةُ وَمَعَهُمَا ابْنَاهُمَا الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ ، وَهُمَا صَبِيَّانِ صَغِيرَانِ ، فَأَخَذَ الصَّبِيَّيْنِ ، فَوَضَعَهُمَا فِي حِجْرِهِ فَقَبَّلَهُمَا ، وَاعْتَنَقَ عَلِيًّا بِإِحْدَى يَدَيْهِ وَفَاطِمَةَ بِالْيَدِ الْأُخْرَى ، فَقَبَّلَ فَاطِمَةَ وَقَبَّلَ عَلِيًّا ، فَأَغْدَقَ عَلَيْهِمْ خَمِيصَةً سَوْدَاءَ ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ إِلَيْكَ لَا إِلَى النَّارِ ، أَنَا وَأَهْلُ بَيْتِي " . قَالَتْ : فَقُلْتُ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " وَأَنْتِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں موجود تھے اسی دوران خادم نے بتایا : سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا دروازے پر موجود ہیں ( یا آ رہے ہیں ) سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اٹھ جاؤ ، اور میرے اہل بیت سے ذرا ہٹ جاؤ ! سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں بٹ گئی اور گھر میں ایک طرف ہو کے بیٹھ گئی ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اندر آئے ، ان دونوں کے ساتھ ان کے بچے حسن اور حسین تھے ، یہ دونوں کمسن بچے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں بچوں کو پکڑ کر اپنی گود میں بٹھایا اور ان دونوں کو بوسہ دیا ، آپ نے ایک طرف سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ساتھ لگایا دوسرے ہاتھ سے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو ساتھ لگا کے انہیں بوسہ دیا ، آپ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھی بوسہ دیا ، پھر آپ نے ان پر ایک سیاہ رنگ کی چادر ڈالی اور پھر یہ کہا: ” اے اللہ ! تیری طرف آئیں گے ، جہنم کی طرف نہیں جائیں گے ، میں اور میرے اہل بیت ۔ “ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں بھی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم بھی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14969
درجۂ حدیث محدثین: «إسناده ضعيف لجهالة والدِ عطيه الطفاوي ولكن حديث صحيح »
حدیث نمبر: 14970
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِفَاطِمَةَ : " ائْتِنِي بِزَوْجِكِ وَابْنَيْكِ " . فَجَاءَتْ بِهِمْ ، فَأَلْقَى عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كِسَاءً كَانَ تَحْتِي خَيْبَرِيًّا أَصَبْنَاهُ مِنْ خَيْبَرَ ، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ آلُ مُحَمَّدٍ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَاجْعَلْ صَلَوَاتِكَ وَبَرَكَاتِكَ عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا جَعَلْتَهَا عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِاخْتِصَارِ الصَّلَاةِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ عُقْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرِّفَاعِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : تم اپنے شوہر اور اپنے دونوں بیٹوں کو لے کے میرے پاس آؤ ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا انہیں ساتھ لے کے آئیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر چادر ڈالی جو میرے نیچے موجود تھی ، وہ خیبر سے بنی ہوئی چادر تھی جو ہمیں خیبر سے ملی تھی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ ! یہ آل محمد ہیں ، تو اپنی رحمتیں اور برکتیں محمد کی آل پر نازل فرما ، جس طرح تو نے انہیں سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی آل پر نازل کیا تھا ، بے شک تو لائق حمد اور بزرگی کا مالک ہے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمذی نے نقل کی ہے ، جس میں اختصار کے ساتھ صرف نماز کا ذکر ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عقبہ بن عبداللہ رفاعی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14970
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 14971
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : جَاءَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُتَوَرِّكَةً الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ ، فِي يَدِهَا بُرْمَةٌ لِلْحَسَنِ فِيهَا سَخِينٌ ، حَتَّى أَتَتْ بِهَا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا وَضَعَتْهَا قُدَّامَهُ قَالَ لَهَا : " أَيْنَ أَبُو حَسَنٍ ؟ " . قَالَتْ : فِي الْبَيْتِ ، فَدَعَاهُ ، فَجَلَسَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلِيٌّ وَفَاطِمَةُ ، وَالْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ يَأْكُلُونَ . قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ : وَمَا سَامَنِي النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَا أَكَلَ طَعَامًا قَطُّ إِلَّا وَأَنَا عِنْدَهُ إِلَّا سَامَنِيهِ قَبْلَ ذَلِكَ الْيَوْمِ - تَعْنِي سَامَنِي : دَعَانِي إِلَيْهِ - فَلَمَّا فَرَغَ ، الْتَفَّ عَلَيْهِمْ بِثَوْبِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ عَادِ مَنْ عَادَاهُمْ ، وَوَالِ مَنْ وَالَاهُمْ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں ، انہوں نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو اٹھایا ہوا تھا ، ان کے ایک ہاتھ میں ہنڈیا بھی تھی جس میں گرم کھانا موجود تھا ، وہ اسے لے کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی تھیں اور انہوں نے وہ ہنڈیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا : ابوالحسن کہاں ہے ۔ انہوں نے جواب دیا : وہ گھر میں ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلوایا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ، حسن و حسین بیٹھے اور کھانے لگے ۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت مجھے کھانے کی دعوت نہیں دی حالانکہ اس سے پہلے آپ جب بھی کوئی کھانا کھاتے تھے اور میں آپ کے پاس موجود ہوتی تھی ، تو آپ مجھے کھانے کی دعوت دے دیتے تھے ، لیکن اس دن ایسا نہیں ہوا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو آپ نے ان لوگوں پر اپنا کپڑا ڈالا اور پھر یہ فرمایا : ” اے اللہ ! جو ان سے دشمنی رکھے ، تو اس سے دشمنی رکھنا اور جو ان سے محبت رکھے ، تو اس سے محبت رکھنا“ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14971
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ جید۔
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (6951)»
حدیث نمبر: 14972
وَعَنْ شَدَّادٍ أَبِي عَمَّارٍ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ وَعِنْدَهُ قَوْمٌ ، فَذَكَرُوا عَلِيًّا - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَلَمَّا قَامُوا قَالَ : أَلَا أُخْبِرُكَ بِمَا رَأَيْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قُلْتُ : بَلَى . قَالَ : أَتَيْتُ فَاطِمَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - أَسْأَلُهَا عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَتْ : تَوَجَّهَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَهُ حَسَنٌ وَحُسَيْنٌ ، فَجَلَسْتُ أَنْتَظِرُهُ ، حَتَّى جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَهُ حَسَنٌ وَحُسَيْنٌ ، أَخَذَ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِيَدٍ ، حَتَّى دَخَلَ فَأَدْنَى عَلِيًّا وَفَاطِمَةَ ، وَأَجْلَسَ حَسَنًا وَحُسَيْنًا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى فَخِذٍ ، ثُمَّ لَفَّ عَلَيْهِمْ ثَوْبَهُ أَوْ كِسَاءَهُ ، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ : إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا ، وَقَالَ : " اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي ، وَأَهْلُ بَيْتِي أَحَقُّ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى بِاخْتِصَارٍ ، وَزَادَ : " إِلَيْكَ لَا إِلَى النَّارِ " . وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، وَهُوَ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ ، سَيِّئُ الْحِفْظِ ، رَجُلٌ صَالِحٌ فِي نَفْسِهِ . ¤
محمد محی الدین
شداد ابوعمار بیان کرتے ہیں : میں سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ، ان کے پاس کچھ لوگ موجود تھے ۔ ان لوگوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا ( اور ان پر تنقید کی ) جب وہ لوگ اٹھ کر چلے گئے تو انہوں نے کہا: کیا میں تمہیں وہ بات بتاؤں جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دیکھی ہے ، میں نے جواب دیا : جی ہاں ، تو انہوں نے بتایا میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا میں نے ان سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے بتایا : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گئے ہیں ، اور ان کے ساتھ حسن اور حسین ہیں ، میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا انتظار کرنے لگا یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ، آپ کے ساتھ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ تھے ، آپ نے ان دونوں میں سے ہر ایک کو ایک ہاتھ سے پکڑا ہوا تھا ، آپ گھر کے اندر تشریف لے آئے ، آپ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے قریب آئے ، آپ نے حسن رضی اللہ عنہ اور حسین رضی اللہ عنہ کو ، ان دونوں میں سے ہر ایک کو زانوں پر بٹھایا ، پھر آپ نے ان پر اپنا کپڑا ڈالا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) اپنی چادر ڈالی پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی : ” اے اہل بیت ! اللہ تعالیٰ یہ ارادہ کرتا ہے کہ تم سے گندگی کو دور کر دے اور تمہیں اچھی طرح سے پاک کر دے ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا : اے اللہ ! یہ میرے اہل بیت ہیں اور میرے اہل بیت زیادہ حق رکھتے ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” تیری طرف ! جہنم کی طرف نہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے بھی نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن مصعب ہے اور وہ ضعیف الحدیث ہے ، اور خراب حافظے کا مالک ہے ، اپنی ذات کے اعتبار سے وہ ایک نیک شخص ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14972
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (7486) اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (/4107)»
حدیث نمبر: 14973
وَعَنْ أَبِي عَمَّارٍ أَيْضًا قَالَ : إِنِّي لَجَالِسٌ عِنْدَ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ ، إِذْ ذَكَرُوا عَلِيًّا فَشَتَمُوهُ ، فَلَمَّا قَامُوا قَالَ : اجْلِسْ أُخْبِرْكَ عَنِ الَّذِي شَتَمُوا ؛ إِنِّي عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمٍ إِذْ جَاءَ عَلِيٌّ وَفَاطِمَةُ وَحَسَنٌ وَحُسَيْنٌ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ - فَأَلْقَى عَلَيْهِمْ كِسَاءً لَهُ ، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ أَهْلُ بَيْتِي ، فَأَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ ، وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا " . فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَأَنَا ؟ قَالَ : " وَأَنْتَ " . قَالَ : وَاللَّهِ إِنَّهَا لَأَوْثَقُ عَمَلِي فِي نَفْسِي . ¤
محمد محی الدین
ابوعمار ہی سے منقول ہے وہ بیان کرتے ہیں : میں سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، اسی دوران کچھ لوگوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ذکر کرتے ہوئے انہیں برا کہا: ، جب وہ لوگ اٹھ کر چلے گئے ، تو سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تمہیں اس شخصیت کے بارے میں بتاتا ہوں ، جسے یہ لوگ برا کہہ رہے تھے ، ایک دن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا ، اسی دوران سیدنا علی رضی اللہ عنہ ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ تشریف لائے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر اپنی چادر ڈالی اور پھر یہ فرمایا : ” اے اللہ ! یہ میرے اہل بیت ہیں ، تو ان سے گندگی کو دور کر دے اور انہیں اچھی طرح سے پاک کر دے ۔ “ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں بھی ان میں شامل ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم بھی ہو ۔ راوی کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! میرے نزدیک میرا سب سے زیادہ قابل وثوق عمل یہی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14973
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2669)»
حدیث نمبر: 14974
وَفِي رِوَايَةٍ : إِنَّهَا لَأَرْجَى مَا أَرْجُو . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَرِجَالُ السِّيَاقِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ كُلْثُومِ بْنِ زِيَادٍ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : مجھے جس چیز کے حوالے سے سب سے زیادہ امید ہے وہ یہی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے سیاق کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ، صرف کلثوم بن زیاد کا معاملہ مختلف ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14974
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (66/22)»
حدیث نمبر: 14975
وَعَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ : خَرَجْتُ وَأَنَا أُرِيدُ عَلِيًّا ، فَقِيلَ لِي : هُوَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَمَّمْتُ إِلَيْهِمْ ، فَأَجِدُهُمْ فِي حَظِيرَةٍ مِنْ قَصَبِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلِيٌّ وَفَاطِمَةُ وَحَسَنٌ وَحُسَيْنٌ قَدْ جَمَعَهُمْ تَحْتَ ثَوْبٍ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ إِنَّكَ جَعَلْتَ صَلَوَاتِكَ ، وَرَحْمَتَكَ ، وَمَغْفِرَتَكَ ، وَرِضْوَانَكَ ، عَلَيَّ وَعَلَيْهِمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ الرَّحَبِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نکلا ، میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ملنا چاہ رہا تھا ، مجھے بتایا گیا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود ہیں ، میں ان لوگوں کی طرف چلا گیا ۔ میں نے ان حضرات کو کانے کے بنے ہوئے ایک چھپر میں پایا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تھے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا تھیں ، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ تھے ، سیدنا حسین رضی اللہ عنہ تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کپڑے کے نیچے رکھا اور پھر یہ دعا کی : ” اے اللہ ! تو اپنی برکتیں رحمتیں مغفرت اور رضامندی مجھ پر اور ان لوگوں پر نازل فرما ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ربیعہ رحبی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14975
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (95/22)»
حدیث نمبر: 14976
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي خَمْسَةٍ : إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا : فِيَّ ، وَفِي عَلِيٍّ ، وَفَاطِمَةَ ، وَحَسَنٍ ، وَحُسَيْنٍ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ بَكْرُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زَبَّانٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہ آیت ان پانچ لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ یہ ارادہ کرتا ہے اے اہل بیت ! کہ وہ تم سے گندگی کو دور کر دے اور تمہیں اچھی طرح سے پاک کر دے ۔ “ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ ان پانچ افراد کے بارے میں نازل ہوئی ہے ) میرے بارے میں ، علی فاطمہ حسن اور حسین کے بارے میں ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بکر بن یحیی بن زبان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14976
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2622)»
حدیث نمبر: 14977
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ : أَهْلُ الْبَيْتِ الَّذِينَ أَذْهَبَ اللَّهُ عَنْهُمُ الرِّجْسَ ، وَطَهَّرَهُمْ تَطْهِيرًا ، فَعَدَّهُمْ فِي يَدِهِ ، فَقَالَ : خَمْسَةٌ : رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلِيٌّ ، وَفَاطِمَةُ ، وَالْحَسَنُ ، وَالْحُسَيْنُ . ¤ وَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ : فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَطِيَّةُ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ اہل بیت جن سے اللہ تعالیٰ نے گندگی کو دور کر دیا ہے ، اور انہیں اچھی طرح پاک کر دیا ہے ، تو انہوں نے ان کو ہاتھ پر شمار کرتے ہوئے بتایا : وہ پانچ ہیں ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ ۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : یہ آیت سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں نازل ہوئی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطیہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14977
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الأوسط (1847)»
حدیث نمبر: 14978
عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَثَلُ أَهْلِ بَيْتِي كَمَثَلِ سَفِينَةِ نُوحٍ ، مَنْ رَكِبَ فِيهَا نَجَا وَمَنْ تَخَلَّفَ عَنْهَا غَرِقَ ، وَمَنْ قَاتَلَنَا فِي آخِرِ الزَّمَانِ كَمَنْ قَاتَلَ مَعَ الدَّجَّالِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ ، وَفِي إِسْنَادِ الْبَزَّارِ : الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ الْجَفْرِيُّ ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاهِرٍ ، وَهُمَا مَتْرُوكَانِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میرے اہل بیت کی مثال سیدنا نوح علیہ السلام کی کشتی کی مانند ہے ، جو شخص اس میں سوار ہو گیا وہ نجات پا گیا ، اور جو شخص اس سے رہ گیا وہ ڈوب گیا ، جو شخص آخری زمانے میں ہمارے ساتھ جنگ کرے گا ، وہ اس شخص کی مانند ہو گا جو دجال کے ساتھ مل کر جنگ کرے گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ، امام بزار کی سند میں ایک راوی حسن بن ابوجعفر جفری ہے ، اور امام طبرانی کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن داہر ہے ، اور یہ دونوں متروک ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14978
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 14979
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَثَلُ أَهْلِ بَيْتِي مَثَلُ سَفِينَةِ نُوحٍ ; مَنْ رَكِبَ فِيهَا نَجَا ، وَمَنْ تَخَلَّفَ عَنْهَا غَرِقَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میرے اہل بیت کی مثال سیدنا نوح علیہ السلام کی کشتی کی مانند ہے ، جو شخص اس میں سوار ہو گیا وہ نجات پا گیا ، اور جو اس سے پیچھے رہ گیا وہ ڈوب گیا ۔ “
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسن بن ابوجعفر ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14979
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 14980
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَثَلُ أَهْلِ بَيْتِي مَثَلُ سَفِينَةِ نُوحٍ ; مَنْ رَكِبَهَا سَلِمَ ، وَمَنْ تَرَكَهَا غَرِقَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَهُوَ لَيِّنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میرے اہل بیت کی مثال سیدنا نوح علیہ السلام کی کشتی کی مانند ہے ، جو شخص اس پر سوار ہو گیا وہ سلامت رہا اور جس نے اسے چھوڑ دیا وہ ڈوب گیا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ کمزور ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14980
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 14981
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّمَا مَثَلُ أَهْلِ بَيْتِي فِيكُمْ كَمَثَلِ سَفِينَةِ نُوحٍ ; مَنْ رَكِبَهَا نَجَا ، وَمَنْ تَخَلَّفَ عَنْهَا غَرِقَ ، وَإِنَّمَا مَثَلُ أَهْلِ بَيْتِي فِيكُمْ مَثَلُ بَابِ حِطَّةٍ فِي إِسْرَائِيلَ ; مَنْ دَخْلَهُ غُفِرَ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” تمہارے درمیان میرے اہل بیت کی مثال سیدنا نوح علیہ السلام کی کشتی کی مانند ہے ، جو شخص اس پر سوار ہو گیا وہ نجات پا گیا ، اور جو شخص اس سے پیچھے رہ گیا وہ ڈوب گیا ، اور تمہارے درمیان میرے اہل بیت کی مثال بنی اسرائیل میں باب حطہ کی مانند ہے ، جو شخص اس میں داخل ہو گیا اس کی مغفرت ہو جائے گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14981
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2641)»
حدیث نمبر: 14982
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ : قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَنْ قَرَابَتُكَ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ وَجَبَتْ عَلَيْنَا مَوَدَّتُهُمْ ؟ قَالَ : عَلِيٌّ ، وَفَاطِمَةُ ، وَابْنَاهُمَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ ضُعَفَاءُ ، وَقَدْ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی : ” تم یہ فرما دو کہ میں اس کے حوالے سے تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتا البتہ رشتے داری کی محبت کا معاملہ مختلف ہے ۔ “ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کے رشتے دار کون ہیں ؟ جن کے ساتھ محبت رکھنا ہم پر واجب ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : علی ، فاطمہ اور ان دونوں کے دونوں بیٹے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ضعیف راویوں کی ایک ایسی جماعت ہے جن کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14982
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 14983
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ لِلَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - حُرُمَاتٍ ثَلَاثًا ، مَنْ حَفِظَهُنَّ حَفِظَ اللَّهُ لَهُ أَمْرَ دِينِهِ وَدُنْيَاهُ ، وَمَنْ لَمْ يَحْفَظْهُنَّ لَمْ يَحْفَظِ اللَّهُ لَهُ شَيْئًا : حُرْمَةُ الْإِسْلَامِ ، وَحُرْمَتِي ، وَحُرْمَةُ رَحِمِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ کی تین حرمتیں ہیں جو شخص ان کی حفاظت کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس شخص کے دین اور دنیا کے معاملات کی حفاظت کرتا ہے ، اور جو شخص ان کی حفاظت نہیں کرتا اللہ تعالیٰ اس کی کسی چیز کی حفاظت نہیں کرتا ، اسلام کی حرمت ، میری حرمت اور میری رشتے داری کی حرمت ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن حماد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14983
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (205) أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2881)»
حدیث نمبر: 14984
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، فَحَدَّثَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ عِنْدَ أُمِّ سَلَمَةَ ، فَحَمَلَ حَسَنًا مِنْ شِقٍّ ، وَحُسَيْنًا مِنْ شِقٍّ ، وَفَاطِمَةُ فِي حِجْرِهِ ، فَقَالَ : " رَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ ، إِنَّهُ حَمِيدٌ مَجِيدٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب بیان کرتے ہیں : وہ سیدہ زینب بنت ابوسلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے تو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں موجود تھے آپ نے ایک طرف سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو اٹھایا ہوا تھا اور دوسری طرف سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو اٹھایا ہوا تھا اور آپ کے ساتھ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا تھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے اہل بیت ! اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں تم پر نازل ہوں ، بے شک وہ لائق حمد اور بزرگی کا مالک ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14984
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 14985
وَعَنْ أَبِي الْحَمْرَاءِ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْتِي بَابَ فَاطِمَةَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ ، فَيَقُولُ : " إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو دَاوُدَ الْأَعْمَى ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوالحمراء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ چھ ماہ تک سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے دروازے پر آتے رہے اور یہ پڑھتے رہے : ” اے اہل بیت ! اللہ تعالیٰ یہ ارادہ کرتا ہے کہ تم سے گندگی کو دور کر دے ، اور تمہیں اچھی طرح سے پاک کر دے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوداؤد نابینا ہے اور ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14985
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2672)»
حدیث نمبر: 14986
وَعَنْ أَبِي بَرْزَةَ قَالَ : صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا ، فَإِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ أَتَى بَابَ فَاطِمَةَ ، فَقَالَ : " الصَّلَاةُ عَلَيْكُمْ ، إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ " . الْآيَةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ شَبِيبٍ الْمُسَلِّيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں سترہ ماہ تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کرتا رہا ، آپ اپنے گھر سے نکلتے تھے ، تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے دروازے پر آتے تھے اور یہ فرماتے تھے ، نماز کا وقت ہو گیا ہے ، اللہ تعالیٰ تم لوگوں پر رحمت نازل کرے ، اللہ تعالیٰ یہ ارادہ کرتا ہے کہ تم سے گندگی کو دور کر دے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن شعیب مسلی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14986
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 14987
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَاءَ إِلَى بَابِ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَرْبَعِينَ صَبَاحًا بَعْدَمَا دَخَلَ عَلَى فَاطِمَةَ ، فَقَالَ : " السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی کے بعد چالیس دن تک سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے دروازے پر تشریف لاتے رہے ، اور یہ فرماتے رہے : ” تم پر سلام ہو اے اہل بیت ! اور اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں ۔ اے اہل بیت ! اللہ تعالیٰ یہ ارادہ کرتا ہے کہ تم سے گندگی کو دور کر دے اور تمہیں اچھی طرح سے پاک کر دے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14987
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2673)»
حدیث نمبر: 14988
وَعَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ بَسَطَ شَمْلَةً ، فَجَلَسَ عَلَيْهَا هُوَ وَعَلِيٌّ ، وَفَاطِمَةُ ، وَالْحَسَنُ ، وَالْحُسَيْنُ ، ثُمَّ أَخَذَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمَجَامِعِهِ فَعَقَدَ عَلَيْهِمْ ، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ ارْضَ عَنْهُمْ كَمَا أَنَا عَنْهُمْ رَاضٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عُبَيْدِ بْنِ طُفَيْلٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، كُنْيَتُهُ : أَبُو سِيدَانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر بچھائی ہوئی تھی ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس پر بیٹھ گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ ، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ ، اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اس پر موجود تھے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے کناروں کو پکڑا اور وہ چادر ان پر ڈال کر ارشاد فرمایا : ” اے اللہ ! ان سے راضی ہو جا جس طرح میں ان سے راضی ہوں“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف عبید بن طفیل کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، اس کی کنیت ابوسیّدان ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14988
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 14989
وَعَنْ صُبَيْحٍ قَالَ : كُنْتُ بِبَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَ عَلِيٌّ ، وَفَاطِمَةُ ، وَالْحَسَنُ ، وَالْحُسَيْنُ ، فَجَلَسُوا نَاحِيَةً ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَيْنَا ، فَقَالَ : " إِنَّكُمْ عَلَى خَيْرٍ " . وَعَلَيْهِ كِسَاءٌ خَيْبَرِيٌّ ، فَجَلَّلَهُمْ بِهِ ، وَقَالَ : " أَنَا حَرْبٌ لِمَنْ حَارَبَكُمْ ، سِلْمٌ لِمَنْ سَالَمَكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا صبیح رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر موجود تھا اسی دوران سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ آئے ، یہ لوگ ایک کونے میں بیٹھ گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، آپ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ بھلائی پر ہو ۔ راوی کہتے ہیں : اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم پر خیبر کی چادر موجود تھی ، آپ نے وہ چادر ان پر ڈال دی اور یہ فرمایا : ” میں اس شخص سے جنگ کروں گا جو تم سے جنگ کرے گا ، اور اس شخص کے ساتھ سلامتی والا رہوں گا جو تمہارے ساتھ سلامتی والا رہے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14989
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 14990
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : نَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى عَلِيٍّ ، وَالْحَسَنِ ، وَالْحُسَيْنِ ، وَفَاطِمَةَ - صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ - فَقَالَ : " أَنَا حَرْبٌ لِمَنْ حَارَبَكُمْ ، سِلْمٌ لِمَنْ سَالَمَكُمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ تَلِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَفِيهِ خِلَافٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ ، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ ، سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اور سیده فاطمہ رضی اللہ عنہا کی طرف دیکھا اور ارشاد فرمایا : ” میں اس کے ساتھ جنگ کروں گا جو تمہارے ساتھ جنگ رکھے گا ، اور اس کے ساتھ سلامت رہوں گا جو تمہارے ساتھ سلامت رہے گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی تلید بن سلیمان ہے اور اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14990
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «خرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2621) اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (442/2)»
حدیث نمبر: 14991
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا نَائِمٌ عَلَى الْمَنَامَةِ ، فَاسْتَسْقَى الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى شَاةٍ لَنَا بَكِيءٌ ، فَحَلَبَهَا فَدَرَّتْ ، فَجَاءَ الْحَسَنُ فَنَحَّاهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ فَاطِمَةُ : كَأَنَّهُ أَحَبُّهُمَا إِلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " لَا ، وَلَكِنَّهُ اسْتَسْقَى قَبْلَهُ " . ثُمَّ قَالَ : " إِنِّي وَإِيَّاكِ وَهَذَيْنِ وَهَذَا الرَّاقِدَ فِي مَكَانٍ وَاحِدٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا ، وَالْحَسَنُ ، وَالْحُسَيْنُ ، نِيَامٌ فِي لِحَافٍ - أَوْ فِي شِعَارٍ - فَاسْتَسْقَى الْحَسَنُ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى إِنَاءٍ لَنَا ، فَصَبَّ فِي الْقَدَحِ ، فَجَاءَ بِهِ ، فَوَثَبَ الْحُسَيْنُ ، فَقَالَ بِيَدِهِ ، فَقَالَتْ فَاطِمَةُ : كَأَنَّهُ أَحَبُّهُمَا إِلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " إِنَّهُ اسْتَسْقَى قَبْلَهُ ، وَإِنِّي وَإِيَّاكِ ، وَهَذَيْنِ ، وَهَذَا الرَّاقِدَ ، فِي مَكَانٍ وَاحِدٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : فَقَامَ إِلَى قِرْبَةٍ لَنَا ، فَجَعَلَ يُمَصِّرُهَا فِي الْقَدَحِ ، وَقَالَ : " إِنَّهُمَا عِنْدِي بِمَنْزِلَةٍ وَاحِدَةٍ " . ¤ وَأَبُو يَعْلَى بِاخْتِصَارٍ ، وَفِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ ، وَهُوَ مُخْتَلَفٌ فِيهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے ، میں اس وقت سویا ہوا تھا ، حسن اور حسین نے پینے کے لئے کچھ مانگا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری بکری کی طرف اٹھ کے گئے ، جس کا دودھ کم آتا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا دودھ دوہ لیا تو وہ زیادہ نکل آیا ، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ آئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک طرف کیا ، تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یوں لگتا ہے جیسے ان دونوں میں سے یہ آپ کے نزدیک زیادہ محبوب ہے ۔ یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ، بلکہ اس نے اس سے پہلے پینے کے لیے مانگا تھا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں اور تم اور یہ دونوں ( بچے ) اور یہ سویا ہوا شخص ( یعنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ ) قیامت کے دن ایک ہی جگہ پر ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے ، میں ، حسن اور حسین ایک لحاف میں سو رہے تھے ، حسن نے پینے کے لئے کچھ مانگا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر ہمارے برتن کی طرف گئے ، آپ نے اس میں سے پیالے میں پانی انڈیلا اور اسے لے کے آئے ، اسی دوران حسین بھی اٹھ گیا ، اس نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کیا ( یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کیا کہ ابھی ٹھہر جاؤ ) سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یوں لگتا ہے جیسے یہ ان دونوں میں سے آپ کے نزدیک زیادہ محبوب ہے ، یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس نے پہلے مانگا تھا ، بے شک میں اور تم اور یہ دونوں ( بچے ) اور یہ سویا ہوا شخص ، قیامت کے دن ایک ہی جگہ پر ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر ہمارے مشکیزے کی طرف گئے ، آپ نے اسے پیالے میں نچوڑنا شروع کیا اور فرمایا : یہ دونوں میرے نزدیک ایک ہی مرتبے کے ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، امام أحمد کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ، جس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ، امام أحمد کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14991
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (510) أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2622) اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (792)»
حدیث نمبر: 14992
وَعَنْ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ : قُلْنَا لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ : حَدِّثْنَا بِمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَرَأَيْتَ مِنْهُ ، وَلَا تُحَدِّثْنَا عَنْ غَيْرِكَ وَإِنْ كَانَ ثِقَةً . قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَا بَيْنَ السُّرَّةِ إِلَى الرُّكْبَةِ عَوْرَةٌ "
محمد محی الدین
امام ابوجعفر محمد بن علی ( یعنی امام باقر رحمہ اللہ ) بیان کرتے ہیں : ہم نے سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ ہمیں ایسی حدیث بیان کیجئے جو آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہو یا جو آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دیکھی ہو ، آپ ہمیں اپنے علاوہ کسی اور کے حوالے سے کوئی حدیث بیان نہ کیجئے گا ، اگرچہ وہ دوسرا شخص ثقہ ہی کیوں نہ ہو ، تو سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ نے بتایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ناف سے لے کر گھٹنے تک کے درمیان والا حصہ ستر ہوتا ہے ۔ “
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14992
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (1033)»
حدیث نمبر: 14993
وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " الصَّدَقَةُ تُطْفِئُ غَضَبَ الرَّبِّ " .
محمد محی الدین
اور میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” صدقہ پروردگار کے غضب کو بجھا دیتا ہے ۔ “
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14993
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (1034)»
حدیث نمبر: 14994
وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " شِرَارُ أُمَّتِيَ الَّذِينَ وُلِدُوا فِي النَّعِيمِ وَغُذُّوا بِهِ ; يَأْكُلُونَ مِنَ الطَّعَامِ أَلْوَانًا ، يَتَشَدَّقُونَ فِي الْكَلَامِ " .
محمد محی الدین
اور میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میری امت کے بدترین لوگ وہ ہوں گے جو نعمتوں میں پیدا ہوں گے ، نعمتوں میں ان کی پرورش ہو گی ، انواع و اقسام کے وہ کھانے کھائیں گے ، اور چبا چبا کر باتیں کریں گے ۔ “
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14994
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 14995
وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " يَا بَنِي هَاشِمٍ ، إِنِّي قَدْ سَأَلْتُ اللَّهَ لَكُمْ أَنْ يَجْعَلَكُمْ نُجَبَاءَ رُحَمَاءَ ، وَسَأَلْتُهُ أَنْ يَهْدِيَ ضَالَّكُمْ ، وَيُؤَمِّنَ خَائِفَكُمْ ، وَيُشْبِعَ جَائِعَكُمْ " .
محمد محی الدین
اور میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اے بنو ہاشم میں نے تمہارے لئے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا مانگی ہے کہ وہ تمہیں نجباء اور رحم کرنے والے بنائے اور میں نے اس سے یہ بھی دعا مانگی ہے کہ وہ تمہارے گمراہ فرد کو ہدایت نصیب کرے تمہارے خوف زدہ شخص کو امان عطا کرے اور تمہارے بھوکے شخص کو سیر کر دے ۔ “
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14995
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 14996
وَرَأَيْتُ فِي يَمِينِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قِثَّاءً ، وَفِي شِمَالِهِ رَطَبَاتٍ ، وَهُوَ يَأْكُلُ مِنْ ذَا مَرَّةٍ ، وَمِنْ ذَا مَرَّةٍ .
محمد محی الدین
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں ہاتھ میں ککڑی اور بائیں ہاتھ میں کھجوریں دیکھیں ، آپ کبھی یہ کھا رہے تھے اور کبھی وہ کھا رہے تھے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14996
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (1036)»