حدیث نمبر: 14997
وَأُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَاةً وَأَرْغِفَةً ، فَجَعَلَ يَأْكُلُ وَيَأْكُلُونَ .
محمد محی الدین
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک بکری ( کا گوشت ) اور کچھ روٹیاں تحفے کے طور پر دی گئیں ، تو آپ نے انہیں کھانا شروع کیا اور لوگوں نے بھی انہیں کھانا شروع کیا ۔
حدیث نمبر: 14998
وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " عَلَيْكُمْ بِلَحْمِ الظَّهْرِ ; فَإِنَّهُ مِنْ أَطْيَبِهِ " .
محمد محی الدین
اور میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” تم پر ( جانور کی ) پشت کا گوشت کھانا لازم ہے ، کیونکہ وہ زیادہ پاکیزہ ہوتا ہے ۔ “
حدیث نمبر: 14999
وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ ، وَالرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ : قُلْ يَاأَيُّهَا الْكَافِرُونَ ، وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ .
محمد محی الدین
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر سے پہلے کی دو رکعت میں اور مغرب کے بعد والی دو رکعت میں سورت کافرون اور سورت اخلاص کی تلاوت کرتے تھے ۔
حدیث نمبر: 15000
وَكَانَ مَهْرُ فَاطِمَةَ بِدْنَ حَدِيدٍ .
محمد محی الدین
سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا مہر لوہے کی بنی ہوئی زرہ تھا ۔
حدیث نمبر: 15001
وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَتَاهُ الْعَبَّاسُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي انْتَهَيْتُ إِلَى قَوْمٍ يَتَحَدَّثُونَ ، فَلَمَّا رَأَوْنِي سَكَتُوا ; وَمَا ذَاكَ إِلَّا لِأَنَّهُمْ يُبْغِضُونَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَوَقَدْ فَعَلُوهَا ؟ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّكُمْ ، أَيَرْجُونَ أَنْ يَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِشَفَاعَتِي ، وَلَا يَرْجُوهَا بَنُو عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ! " . ¤ ، قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ مِنْهُ أَكْلُ الْقِثَّاءِ بِالرُّطَبِ ، وَرَوَى ابْنُ مَاجَهْ مِنْهُ : " أَطْيَبُ اللَّحْمِ لَحْمُ الظَّهْرِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَصْرَمُ بْنُ حَوْشَبٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ .
محمد محی الدین
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا سیدنا عباس بھی آپ کے پاس آئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں کچھ لوگوں کے پاس آیا وہ آپس میں بات چیت کر رہے تھے جب انہوں نے مجھے دیکھا ، تو وہ چپ ہو گئے ۔ انہوں نے یہ صرف اس وجہ سے کیا ہے ، کیونکہ وہ لوگ ہم سے بغض رکھتے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا ان لوگوں نے ایسا کیا ہے ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، ان میں سے کوئی ایک شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ آپ لوگوں سے محبت نہیں رکھتا ، کیا وہ لوگ یہ امید رکھتے ہیں کہ میری شفاعت کی وجہ سے وہ جنت میں داخل ہو جائیں گے ، اور کیا بنو عبدالمطلب کو اس کی امید نہیں ہو گی ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح“ میں اس میں سے صرف کھجور کے ساتھ ککڑی کھانے والا حصہ مذکور ہے ، اور امام ابن ماجہ نے اس میں سے پشت کے گوشت کے سب سے زیادہ پاکیزہ گوشت ہونے کا حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اصرم بن حوشب ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اصرم بن حوشب ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 15002
وَفِي رِوَايَةٍ : " لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّكُمْ بِحُبِّي " . ¤ رَوَاهَا فِي الصَّغِيرِ بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ .
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ) ” تم میں سے کوئی ایک شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک میری محبت کی وجہ سے وہ آپ لوگوں کے ساتھ محبت نہیں رکھتا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 15003
وَعَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ قَالَ : أَقَامَ رِجَالٌ خُطَبَاءَ يَسُبُّونَ عَلِيًّا ، حَتَّى كَانَ آخِرُهُمْ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ : أُنَيْسٌ ، فَقَالَ : وَاللَّهِ لَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنِّي لَأَشْفَعُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِأَكْثَرَ مِمَّا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ شَجَرٍ وَحَجَرٍ " . ¤ وَايْمُ اللَّهِ ! مَا أَحَدٌ أَوْصَلُ لِرَحِمِهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَفَيَرْجُوهَا غَيْرَهُ وَيُقَصِّرُ عَنْ أَهْلِ بَيْتِهِ ؟ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
شہر بن حوشب بیان کرتے ہیں : کچھ خطیب لوگ کھڑے ہوئے اور خطبہ کے دوران انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو برا کہا: ، ان سب سے آخر میں انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب کھڑے ہوئے جن کا نام سیدنا انیس رضی اللہ عنہ تھا ، انہوں نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میں قیامت کے دن اس سے زیادہ تعداد کے لوگوں کی شفاعت کروں گا جتنے زمین پر درخت اور پتھر ہیں ۔ “ ( پھر سیدنا انیس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) اللہ کی قسم ! کوئی بھی شخص اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والا نہیں ہے ، تو کیا دوسرے لوگوں کو تو شفاعت کی امید ہو گی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کو وہ شفاعت نہیں ملے گی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 15004
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ عَلَى فَاطِمَةَ ذَاتَ يَوْمٍ ، وَعَلِيٌّ نَائِمٌ ، وَهِيَ مُضْطَجِعَةٌ ، وَابْنَاهُمَا إِلَى جَنْبِهِمَا ، فَاسْتَسْقَى الْحَسَنُ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى لِقْحَةٍ لَهُمْ ، فَحَلَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَتَى بِهِ ، فَاسْتَيْقَظَ الْحُسَيْنُ ، فَجَعَلَ يُعَالِجُ أَنْ يَشْرَبَ قَبْلَهُ حَتَّى بَكَى ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ أَخَاكَ اسْتَسْقَى قَبْلَكَ " . فَقَالَتْ فَاطِمَةُ : كَأَنَّ الْحَسَنَ آثَرُ عِنْدَكَ ؟ فَقَالَ : " مَا هُوَ بِآثَرَ عِنْدِي مِنْهُ ، وَإِنَّهُمَا عِنْدِي بِمَنْزِلَةٍ وَاحِدَةٍ ، وَإِنِّي وَإِيَّاكِ ، وَهَمَا ، وَهَذَا النَّائِمَ لَفِي مَكَانٍ وَاحِدٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ يَحْيَى ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس وقت سو رہے تھے ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا لیٹی ہوئی تھیں اور ان کے دونوں بیٹے ان کے پہلو میں لیٹے ہوئے تھے ۔ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے پینے کے لئے کچھ مانگا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک بکری کے پاس تشریف لے گئے جس کے ہاں بچہ ہونے والا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا دودھ دوہ لیا اور اسے لے کے آئے ، اسی دوران سیدنا حسین رضی اللہ عنہ بھی بیدار ہو گئے اور انہوں نے یہ ضد کرنا شروع کی کہ وہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے پہلے اسے پیئیں گے ، یہاں تک کہ وہ رونے لگے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارے بھائی نے تم سے پہلے یہ مانگا تھا ۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یوں لگتا ہے جیسے حسن کو آپ کے نزدیک ترجیح حاصل ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ میرے نزدیک اس سے زیادہ ترجیح والا نہیں ہے ، یہ دونوں میرے نزدیک ایک ہی مرتبے کے ہیں ، میں اور تم اور یہ دونوں اور یہ سویا ہوا شخص ( یعنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ ) قیامت کے دن ایک ہی جگہ پر ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن یحیی ہے اور وہ ضعیف ہے ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن یحیی ہے اور وہ ضعیف ہے ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 15005
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ : أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، فَحَدَّثَتْهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ عِنْدَ أُمِّ سَلَمَةَ ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا الْحَسَنُ ، وَالْحُسَيْنُ ، وَفَاطِمَةُ ، فَجَعَلَ الْحَسَنَ مِنْ شِقٍّ وَالْحُسَيْنَ مِنْ شِقٍّ ، وَفَاطِمَةُ فِي حِجْرِهِ ، وَقَالَ : " رَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ ، إِنَّهُ حَمِيدٌ مَجِيدٌ " . وَأَنَا وَأُمُّ سَلَمَةَ جَالِسَتَيْنِ ، فَبَكَتْ أُمُّ سَلَمَةَ ، فَنَظَرَ إِلَيْهَا فَقَالَ : " مَا يُبْكِيكِ ؟ " . فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، خَصَصْتَ هَؤُلَاءِ ، وَتَرَكْتَنِي أَنَا وَابْنَتِي . فَقَالَ : " أَنْتِ وَابْنَتُكِ مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَهُوَ لَيِّنٌ . ¤
محمد محی الدین
عمرو بن شعیب بیان کرتے ہیں : وہ سیدہ زینت بنت ابوسلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے اس خاتون نے انہیں بتایا : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں موجود تھے اسی دوران سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں آئے ، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ ایک طرف تھے ۔ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ دوسری طرف تھے اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا درمیان میں تھیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کی برکتیں اور اس کی رحمتیں تم پر نازل ہوں ۔ اے اہل بیت ! بے شک وہ لائق حمد ہے اور وہ بزرگی کا مالک ہے ۔ “ سیدہ زینب بنت ابوسلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا وہاں بیٹھی ہوئی تھیں ، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا رونے لگیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیکھا اور دریافت کیا : تم کیوں رو رہی ہو ؟ انہوں نے جواب دیا : یا رسول اللہ ! آپ نے ان لوگوں کو مخصوص کر لیا اور مجھے اور میری بیٹی کو چھوڑ دیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اور تمہاری بیٹی بھی اہل بیت میں سے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ کمزور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ کمزور ہے ۔
حدیث نمبر: 15006
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، إِنِّي سَأَلْتُ اللَّهَ لَكُمْ ثَلَاثًا : أَنْ يُثَبِّتَ قَائِمَكُمْ ، وَيُعَلِّمَ جَاهِلَكُمْ ، وَيَهْدِيَ ضَالَّكُمْ ، وَسَأَلْتُهُ أَنْ يَجْعَلَكُمْ نُجَدَاءَ نَجْدَاءَ رُحَمَاءَ ، فَلَوْ أَنَّ رَجُلًا صَفَنَ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ ، وَصَلَّى وَصَامَ ، ثُمَّ مَاتَ وَهُوَ مُبْغِضٌ لِآلِ بَيْتِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ النَّارَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ مُحَمَّدِ بْنِ زَكَرِيَّا الْغَلَّابِيِّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَذَكَرَهَ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ ، وَقَالَ : يُعْتَبَرُ حَدِيثُهُ إِذَا رَوَى عَنِ الثِّقَاتِ ، فَإِنَّ فِي رِوَايَتِهِ عَنِ الْمَجَاهِيلِ بَعْضَ الْمَنَاكِيرِ . قُلْتُ : رَوَى هَذَا عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ فِي هَذَا الْبَابِ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے اولاد عبدالمطلب ! میں نے اللہ تعالیٰ سے آپ لوگوں کے لئے تین چیزیں مانگی ہیں ۔ یہ کہ آپ کے کھڑے ہوئے شخص کو وہ ثابت قدم رکھے اور آپ کے ناواقف شخص کو علم عطا کرے اور آپ کے گمراہ شخص کو ہدایت نصیب کرے اور میں نے اس سے یہ بھی دعا مانگی ہے کہ وہ آپ لوگوں کو بہادر اور رحم کرنے والا بنائے ، اگر کوئی شخص رکن یمانی اور مقام ابراہیم کے درمیان کھڑا ہو کے نماز ادا کرے اور وہ روزہ رکھتا ہو اور پھر وہ ایسی حالت میں مرے کہ وہ سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے اہل بیت سے بغض رکھتا ہو تو وہ شخص جہنم میں جائے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد محمد بن زکریا غلابی کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، ابن حبان نے اس کا ذکر کتاب الثقات میں کیا ہے وہ کہتے ہیں اس کی نقل کردہ حدیث کا اعتبار کیا جائے گا جبکہ اس نے ثقہ راویوں سے روایت نقل کی ہو کیونکہ مجہول راویوں سے اس کی نقل کردہ روایات میں کچھ منکر ہونا پایا جاتا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ۔ اس نے یہ روایت سفیان ثوری کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔ اس سے پہلے اس باب میں ایک طویل حدیث گزر چکی ہے جو سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد محمد بن زکریا غلابی کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، ابن حبان نے اس کا ذکر کتاب الثقات میں کیا ہے وہ کہتے ہیں اس کی نقل کردہ حدیث کا اعتبار کیا جائے گا جبکہ اس نے ثقہ راویوں سے روایت نقل کی ہو کیونکہ مجہول راویوں سے اس کی نقل کردہ روایات میں کچھ منکر ہونا پایا جاتا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ۔ اس نے یہ روایت سفیان ثوری کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔ اس سے پہلے اس باب میں ایک طویل حدیث گزر چکی ہے جو سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ۔
حدیث نمبر: 15007
وَعَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْزَمُوا مَوَدَّتَنَا أَهْلَ الْبَيْتِ ; فَإِنَّهُ مَنْ لَقِيَ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - وَهُوَ يَوَدُّنَا دَخَلَ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَتِنَا ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَنْفَعُ عَبْدًا عَمَلُهُ إِلَّا بِمَعْرِفَةِ حَقِّنَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَغَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ہماری یعنی اہل بیت کی محبت کو لازم پکڑو کیونکہ جو شخص ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو کہ وہ ہم سے محبت رکھتا ہو ، تو وہ شخص ہماری شفاعت کی وجہ جنت میں داخل ہو گا ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ! بندے کا عمل اسے اس وقت تک نفع نہیں دے گا جب تک وہ ہمارے حق کی معرفت حاصل نہیں کر لیتا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور دوسرے لوگ بھی ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور دوسرے لوگ بھی ہیں ۔
حدیث نمبر: 15008
وَعَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ أَنَّهُ قَالَ : يَا مُعَاوِيَةَ بْنِ خَدِيجٍ ، إِيَّاكَ وَبُغْضَنَا ; فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا يُبْغِضُنَا وَلَا يَحْسُدُنَا أَحَدٌ إِلَّا ذِيدَ عَنِ الْحَوْضِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِسِيَاطٍ مِنْ نَارٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الْوَاقِفِيُّ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا : اے معاویہ بن خدیج تم ہم سے بغض رکھنے سے بچنا کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ” جو بھی شخص ہم سے بغض رکھے گا یا ہم سے حسد کرے گا اسے قیامت کے دن آگ سے بنے ہوئے کوڑوں کے ذریعے حوض سے پرے کر دیا جائے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عمرو واقفی ہے اور وہ کذاب ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عمرو واقفی ہے اور وہ کذاب ہے ۔
حدیث نمبر: 15009
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَمِعْتُهُ وَهُوَ يَقُولُ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، مَنْ أَبْغَضَنَا - أَهْلَ الْبَيْتِ - حَشَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَهُودِيًّا " . فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَإِنْ صَامَ وَصَلَّى ؟ قَالَ : " وَإِنْ صَامَ وَصَلَّى ، وَزَعَمَ أَنَّهُ مُسْلِمٌ ، احْتَجَرَ بِذَلِكَ مِنْ سَفْكِ دَمِهِ ، وَأَنْ يُؤَدِّيَ الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ . مُثِّلَ لِي أُمَّتِي فِي الطِّينِ ، فَمَرَّ بِي أَصْحَابُ الرَّايَاتِ فَاسْتَغْفَرْتُ لَعَلِيٍّ وَشِيعَتِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا : میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” اے لوگو ! جو شخص ہمارے ساتھ یعنی اہل بیت کے ساتھ بغض رکھے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کا حشر یہودی ہونے کے طور پر کرے گا ۔ “ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگرچہ وہ شخص روزہ رکھتا ہو اور نماز پڑھتا ہو ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگرچہ وہ شخص روزہ رکھتا ہو اور نماز پڑھتا ہو اور یہ سجھتا ہو کہ وہ مسلمان ہے ، وہ اس حوالے سے خون بہانے کی وجہ تلاش کرے ، تو وہ کمتر ہو کر مجبوری کے عالم میں جزیہ ادا کرے گا ، میرے سامنے مٹی میں میری امت کی مثالی صورت پیش کی گئی ، تو جھنڈوں والے لوگ میرے پاس سے گزرے تو میں نے علی اور اس کے ساتھیوں کے لئے دعائے مغفرت کی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 15010
وَعَنْ أَبِي جَمِيلَةَ ، أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ حِينَ قُتِلَ عَلِيٌّ اسْتُخْلِفَ ، فَبَيْنَا هُوَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ إِذْ وَثَبَ إِلَيْهِ رَجُلٌ ، فَطَعَنَهُ بِخِنْجَرٍ فِي وَرِكِهِ ، فَتَمَرَّضَ مِنْهَا أَشْهُرًا ، ثُمَّ قَامَ فَخَطَبَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَقَالَ : يَا أَهْلَ الْعِرَاقِ ، اتَّقُوا اللَّهَ فِينَا ; فَإِنَّا أُمَرَاؤُكُمْ وَضِيفَانُكُمْ ، وَنَحْنُ أَهْلُ الْبَيْتِ الَّذِينَ قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا . فَمَا زَالَ يَوْمَئِذٍ يَتَكَلَّمُ حَتَّى مَا تَرَى فِي الْمَسْجِدِ إِلَّا بَاكِيًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوجمیلہ بیان کرتے ہیں : جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا اور سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو خلیفہ منتخب کیا گیا ۔ تو ایک دن وہ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے ، تو اسی دوران ایک شخص نے ان پر حملہ کر کے ان کے پہلو پر خنجر مار دیا جس کی وجہ سے وہ کئی مہینے تک بیمار رہے ، پھر وہ کھڑے ہوئے انہوں نے منبر پر لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا : ” اے اہل عراق ! ہمارے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو کیونکہ ہم تمہارے امیر بھی ہیں ، اور تمہارے مہمان بھی ہیں ، اور ہم اہل بیت وہ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ” اے اہل بیت ! اللہ تعالیٰ یہ ارادہ کرتا ہے کہ تم سے گندگی کو دور کر دے اور تمہیں اچھی طرح سے پاک کر دے ۔ “ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) اس دن سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ مسلسل گفتگو کرتے رہے یہاں تک کہ مسجد میں ہر شخص روتا ہوا نظر آیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 15011
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " بُغْضُ بَنِي هَاشِمٍ وَالْأَنْصَارِ كُفْرٌ ، وَبُغْضُ الْعَرَبِ نِفَاقٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بنو ہاشم اور انصار سے بغض رکھنا کفر ہے اور عربوں سے بغض رکھنا منافقت ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 15012
وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ : أَنْزِلُوا آلَ مُحَمَّدٍ بِمَنْزِلَةِ الرَّأْسِ مِنَ الْجَسَدِ ، وَبِمَنْزِلَةِ الْعَيْنَيْنِ مِنَ الرَّأْسِ ; فَإِنَّ الْجَسَدَ لَا يَهْتَدِي إِلَّا بِالرَّأْسِ ، وَإِنَّ الرَّأْسَ لَا يَهْتَدِي إِلَّا بِالْعَيْنَيْنِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ زِيَادُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آل کو اس جگہ پر رکھو جو جسم میں سر کی حیثیت ہوتی ہے ، جو سر میں آنکھوں کی حیثیت ہوتی ہے ، کیونکہ جسم صرف سر کے ذریعے رہنمائی حاصل کرتا ہے ، اور سر صرف آنکھوں کے ذریعے رہنمائی حاصل کرتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی زیاد بن منذر ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی زیاد بن منذر ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 15013
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - جَعَلَ ذُرِّيَّةَ كُلِّ نَبِيٍّ فِي صُلْبِهِ ، وَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى جَعَلَ ذَرِّيَّتِي فِي صُلْبِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ الْعَلَاءِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کی ذریت کو اس کی پشت میں رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ نے میری ذریت کو علی بن ابوطالب کی پشت میں رکھا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن علاء ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن علاء ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 15014
وَعَنْ فَاطِمَةَ الْكُبْرَى قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كُلُّ بَنِي أُمٍّ يَنْتَمُونَ إِلَى عُصْبَةٍ إِلَّا وَلَدَ فَاطِمَةَ ; فَأَنَا وَلِيُّهُمْ ، وَأَنَا عُصْبَتُهُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ شَيْبَةُ بْنُ نَعَامَةَ وَلَا يَجُوزُ الِاحْتِجَاجُ بِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ فاطمہ کبریٰ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر ماں کے بچے اپنے عصبہ رشتے داروں کی طرف منسوب ہوتے ہیں صرف فاطمہ کی اولاد کا معاملہ مختلف ہے میں ان کا ولی ہوں اور میں ان کا عصبہ ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی شیبہ بن نعامہ ہے جس سے استدلال کرنا جائز نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی شیبہ بن نعامہ ہے جس سے استدلال کرنا جائز نہیں ہے ۔
حدیث نمبر: 15015
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : جَاءَ الْعَبَّاسُ يَعُودُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَرَضِهِ ، فَرَفَعَهُ فَأَجْلَسَهُ عَلَى سَرِيرِهِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " رَفَعَكَ اللَّهُ يَا عَمِّ " . فَقَالَ لَهُ الْعَبَّاسُ : هَذَا عَلِيٌّ يَسْتَأْذِنُ ، فَقَالَ : " يَدْخُلُ " . فَدَخَلَ وَمَعَهُ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ ، فَقَالَ لَهُ الْعَبَّاسُ : هَؤُلَاءِ وَلَدُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " وَهُمْ وَلَدُكَ يَا عَمِّ " . قَالَ : أَتُحِبُّهُمَا ؟ قَالَ : " أَحَبَّكَ اللَّهُ كَمَا أَحْبَبْتُهُمَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْحَجَرِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عیادت کرنے کے لئے آئے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اٹھایا اور آپ کو پلنگ پر بٹھا دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : اے چچا ! اللہ تعالیٰ آپ کو سربلندی عطا کرے ، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے آپ کی خدمت میں عرض کی : علی اندر آنے کی اجازت مانگ رہا ہے ، راوی کہتے ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ اندر آئے ، وہ اندر آئے اور ان کے ساتھ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ بھی تھے ۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا : یا رسول اللہ ! یہ آپ کی اولاد ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے چچا جان یہ آپ کی بھی اوالاد ہیں ، انہوں نے دریافت کیا : کیا آپ ان دونوں سے محبت رکھتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ آپ سے بھی اسی طرح محبت رکھے جس طرح ان دونوں سے محبت رکھتا ہوں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن یحیی حجری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن یحیی حجری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 15016
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّمَا أَحَبُّ إِلَيْكَ ، أَنَا أَمْ فَاطِمَةُ ؟ قَالَ : " فَاطِمَةُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْكَ ، وَأَنْتَ أَعَزُّ مِنْهَا ، وَكَأَنِّي بِكَ وَأَنْتَ عَلَى حَوْضِي تَذُودُ عَنْهُ النَّاسَ ، وَإِنَّ عَلَيْهِ الْأَبَارِيقَ مِثْلُ عَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ ، وَإِنِّي وَأَنْتَ ، وَالْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ ، وَفَاطِمَةَ ، وَعَقِيلًا ، وَجَعْفَرًا ، فِي الْجَنَّةِ إِخْوَانًا عَلَى سُرُرٍ مُتَقَابِلِينَ ، أَنْتَ مَعِي وَشِيعَتُكَ فِي الْجَنَّةِ " . ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ( إِخْوَانًا عَلَى سُرُرٍ مُتَقَابِلِينَ ) لَا يَنْظُرُ أَحَدٌ فِي قَفَا صَاحِبِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سَلْمَى بْنُ عُقْبَةَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کے نزدیک کون زیادہ محبوب ہے ، میں یا فاطمہ ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : فاطمہ میرے نزدیک تم سے زیادہ محبوب ہے اور تم میرے نزدیک اس سے زیادہ معزز ہو ، یوں ہے کہ جیسے تم میرے حوض پر ہو گے ، اور اس سے لوگوں کو پرے کر رہے ہو گے حالانکہ اس حوض پر آسمان کے ستاروں کی تعداد میں کوزے ہوں گے ، اور میں اور تم اور حسن اور حسین اور فاطمہ اور عقیل اور جعفر جنت میں ہوں گے ۔ ہم بھائی بھائی بن کے پلنگوں پر ایک دوسرے کے مدمقابل بیٹھے ہوئے ہوں گے ، جنت میں تم میرے ساتھ ہو گے ، اور تمہارے ساتھی بھی ہوں گے ۔ “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی : ” وہ بھائی بھائی ہوں گے جو پلنگوں پر ایک دوسرے کے مدمقابل بیٹھے ہوئے ہوں گے ۔ “ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ) ” کوئی شخص اپنے ساتھی کی گدی کی طرف نہیں دیکھے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلمیٰ بن عقبہ ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلمیٰ بن عقبہ ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 15017
وَعَنْ عُثْمَانَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ صَنَعَ إِلَى أَحَدٍ مِنْ وَلَدِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَدًا فَلَمْ يُكَافِئْهُ بِهَا فِي الدُّنْيَا فَعَلَيَّ مُكَافَأَتُهُ غَدًا إِذَا لَقِيَنِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص جناب عبدالمطلب کی اولاد میں سے کسی کے ساتھ کوئی بھلائی کرے اور وہ اس شخص کو دنیا میں اس کا بدلہ نہ دے سکے تو کل جب اس کی مجھ سے ملاقات ہو گی تو اس کو بدلہ دینا میرے ذمہ ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوزناد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوزناد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 15018
وَعَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَعَا لِأَهْلِهِ ، فَذَكَرَ عَلِيًّا وَفَاطِمَةَ وَغَيْرَهُمَا ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنَا مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، مَا لَمْ تَقُمْ عَلَى بَابِ سُدَّةٍ ، أَوْ تَأْتِ أَمِيرًا تَسْأَلُهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل خانہ کو بلایا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر راوی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور دیگر لوگوں کا ذکر کیا ، راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں بھی اہل بیت میں سے ہوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! جب تک تم کسی سردار کے دروازے پر کھڑے نہیں ہوتے یا کسی امیر کے پاس جا کے کچھ مانگتے نہیں ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 15019
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ لِلنَّاسِ حِينَ تَزَوَّجَ بِنْتَ عَلِيٍّ : أَلَا تُهَنِّئُونِي ! سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " يَنْقَطِعُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كُلُّ سَبَبٍ وَنَسَبٍ إِلَّا سَبَبِي وَنَسَبِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرَ الْحَسَنِ بْنِ سَهْلٍ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو لوگوں سے یہ کہتے ہوئے سنا : جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کے ساتھ شادی کی تھی کہ تم لوگ مجھے مبارک باد نہیں دو گے ؟ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” قیامت کے دن ہر سبب اور نسب منقطع ہو جائے گا البتہ میرے سبب اور میرے نسب کا معاملہ مختلف ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے اور ان دونوں روایات کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف حسن بن سہل کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے اور ان دونوں روایات کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف حسن بن سہل کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 15020
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " كُلُّ سَبَبٍ وَنَسَبٍ مُنْقَطِعٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، إِلَّا سَبَبِي وَنَسَبِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” قیامت کے دن ہر سبب اور نسب منقطع ہو جائے گا ، البتہ میرے سبب اور میرے نسب کا معاملہ مختلف ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 15021
وَعَنْ أُمِّ بَكْرٍ بِنْتِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ خَطَبَ إِلَى الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ابْنَتَهُ فَزَوَّجَهُ ، وَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " كُلُّ سَبَبٍ وَنَسَبٍ مُنْقَطِعٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا سَبَبِي وَنَسَبِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ زَكَرِيَّا الْعَبْدَسِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیده ام بکر بنت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کو ان کی صاحبزادی کے لئے شادی کا پیغام دیا ، تو سیدنا مسور رضی اللہ عنہ نے ان کی شادی کروا دی اور یہ بات بیان کی : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” قیامت کے دن ہر سبب اور نسب منقطع ہو جائے گا البتہ میرے سبب اور میرے نسب کا معاملہ مختلف ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن زکریا عبدسی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن زکریا عبدسی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 15022
وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَنَا وَعَلِيٌّ ، وَفَاطِمَةُ ، وَالْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي قُبَّةٍ تَحْتَ الْعَرْشِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ حَيَّانُ الطَّائِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں اور علی اور فاطمہ اور حسن اور حسین ، قیامت کے دن عرش کے نیچے ایک قبہ ( یعنی خیمے میں ہوں گے ) ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حیان طائی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حیان طائی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 15023
وَعَنْ عَلِيٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَنَا وَعَلِيٌّ ، وَفَاطِمَةُ ، وَحَسَنٌ وَحُسَيْنٌ مُجْتَمِعُونَ ، وَمَنْ أَحَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ نَأْكُلُ وَنَشْرَبُ حَتَّى يُفَرَّقَ بَيْنَ الْعِبَادِ " . ¤ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَجُلًا مِنَ النَّاسِ ، فَسَأَلَ عَنْهُ فَأَخْبَرَهُ بِهِ ، فَقَالَ : كَيْفَ بِالْعَرْضِ وَالْحِسَابِ ؟ فَقُلْتُ لَهُ : كَيْفَ كَانَ لِصَاحِبِ يَاسِينَ بِذَلِكَ حِينَ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ مِنْ سَاعَتِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میں ، علی ، فاطمہ ، حسن اور حسین اکٹھے ہوں گے اور جو شخص ہم سے محبت رکھے گا ، ہم قیامت کے دن ہم کھائیں گے اور پیئں گے ، اس وقت تک جب تک بندوں کے درمیان فرق ( یعنی حساب ) نہیں ہو جاتا ۔ “ لوگوں میں سے ایک شخص کو اس بات کی اطلاع ملی انہوں نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں اس کو اس بارے میں بتایا ، اس شخص نے کہا: پھر پیش کیا جانا اور حساب لیا جانا کہاں جائے گا ؟ تو میں نے ان سے کہا: اس کے حوالے سے یٰسین کے ساتھی کا کیا معاملہ ہو گا کہ جب اسے اسی وقت جنت میں داخل کر دیا جائے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 15024
وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لَعَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - : " إِنَّ أَوَّلَ أَرْبَعَةٍ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ : أَنَا ، وَأَنْتَ ، وَالْحَسَنُ ، وَالْحُسَيْنُ ، وَذَرَارِيُّنَا خَلْفَ ظُهُورِنَا ، وَأَزْوَاجُنَا خَلْفَ ذَرَارِيِّنَا ، وَشِيعَتُنَا عَنْ أَيْمَانِنَا وَعَنْ شَمَائِلِنَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ يَعْلَى الْأَسْلَمِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا : ” جنت میں سب سے پہلے داخل ہونے والے چار افراد یہ ہیں : میں ، تم ، حسن اور حسین ، ہماری ذریت ہماری پشت کے پیچھے ہو گی اور ہماری بیویاں ہماری ذریت سے پیچھے ہوں گی اور ہمارے ساتھی ہمارے دائیں طرف اور ہمارے بائیں طرف ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن یعلیٰ اسلمی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن یعلیٰ اسلمی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 15025
وَعَنْ سَلَمَةَ بْنَ الْأَكْوَعِ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " النُّجُومُ جُعِلَتْ أَمَانًا لِأَهْلِ السَّمَاءِ ، وَإِنَّ أَهْلَ بَيْتِي أَمَانٌ لِأُمَّتِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ستارے اہل آسمان کے لئے امان ہیں اور میرے اہل بیت میری امت کے لئے امان ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 15026
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ( سَلَامٌ عَلَى إِلْ يَاسِينَ ) قَالَ : نَحْنُ آلُ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُمَيْرٍ الْقُرَشِيُّ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” آل یٰسین پر سلام ہو ۔ “ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : ( اس سے مراد ) ہم آل محمد ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عمیر قرشی ہے اور وہ کذاب ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عمیر قرشی ہے اور وہ کذاب ہے ۔
حدیث نمبر: 15027
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِي مِنْ بَعْدِي " . ¤ قَالَ أَبُو خَيْثَمَةَ : النَّاسُ يَقُولُونَ : " لِأَهْلِهِ " . وَقَالَ هَذَا : " لِأَهْلِي " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم میں زیادہ بہتر وہ ہے جو میرے بعد میرے اہل خانہ کے لئے زیادہ بہتر ہو ۔ “ ابوخیثمہ بیان کرتے ہیں : لوگ یہ کہتے ہیں ” جو اپنے اہل خانہ کے لئے زیادہ بہتر ہو ۔ “ اور یہاں یہ کہا: گیا ہے : ” میرے اہل خانہ کے لئے زیادہ بہتر ہو ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔