کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: نبی اکرم ﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 14951
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كَانَتْ سُرِّيَّةُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُمُّ إِبْرَاهِيمَ فِي مَشْرُبَةٍ لَهَا ، وَكَانَ قِبْطِيٌّ يَأْوِي إِلَيْهَا ، وَيَأْتِيهَا بِالْمَاءِ وَالْحَطَبِ ، فَقَالَ النَّاسُ فِي ذَلِكَ : عِلْجٌ يَأْوِي إِلَى عِلْجَةٍ . فَبَلَغَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَرْسَلَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَأَمَرَهُ بِقَتْلِهِ ، فَانْطَلَقَ فَوَجَدَهُ عَلَى نَخْلَةٍ ، فَلَمَّا رَأَى الْقِبْطِيُّ السَّيْفَ مَعَ عَلِيٍّ وَقَعَ ، فَأَلْقَى الْكِسَاءَ الَّذِي عَلَيْهِ ، فَاقْتَحَمَ فَإِذَا هُوَ مَجْبُوبٌ ، فَرَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ إِذَا أَمَرْتَ أَحَدَنَا بِأَمْرٍ ثُمَّ رَأَيْتَ غَيْرَ ذَلِكَ ، أَيُرَاجِعُكَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . فَأَخْبَرَهُ بِمَا رَأَى مِنْ أَمْرِ الْقِبْطِيِّ . قَالَ : فَوَلَدَتْ أُمُّ إِبْرَاهِيمَ إِبْرَاهِيمَ ، فَكَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْهُ فِي شَكٍّ حَتَّى جَاءَهُ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا إِبْرَاهِيمَ ، فَاطْمَأَنَّ إِلَى ذَلِكَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک کنیز تھیں ، جو سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کی والدہ ہیں ، اس خاتون کا ایک بالاخانہ تھا ، ایک قبطی شخص اس خاتون کے پاس آیا کرتا تھا ، وہ ان کے پاس پانی اور لکڑیاں لایا کرتا تھا ، لوگوں نے اس بارے میں بات چیت کی کہ ایک شخص ، ایک عورت کے پاس آتا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع ملی تو آپ نے سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو بلایا اور انہیں یہ حکم دیا کہ وہ اس شخص کو قتل کر دیں ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ گئے ۔ انہوں نے اس شخص کو کھجور کے ایک درخت پر پایا ، جب قبطی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تلوار دیکھی تو وہ اوپر سے نیچے گرا ، اس کے جسم پر موجود چادر ہٹ گئی تو اس شخص کی شرمگاہ نہیں تھی ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آئے ، انہوں نے عرض کی : اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کہ اگر آپ ہم میں سے کسی ایک کو کوئی حکم دیتے ہیں ، اور پھر وہ شخص مختلف صورت حال پاتا ہے ، تو کیا آپ کی طرف رجوع کر لے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے قبطی کا جو معاملہ دیکھا تھا اس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کی والدہ نے جب سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کو جنم دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حوالے سے کچھ شک تھا ، یہاں تک کہ سیدنا جبرائیل علیہ السلام آئے اور بولے : اے ابوابراہیم ! آپ کو سلام ہو ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حوالے سے اطمینان ہوا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 14952
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ عَلَى أُمِّ إِبْرَاهِيمَ مَارِيَةَ الْقِبْطِيَّةِ أُمِّ وَلَدِهِ وَهِيَ حَامِلٌ مِنْهُ بِإِبْرَاهِيمَ ، فَوَجَدَ عِنْدَهَا نَسِيبًا لَهَا كَانَ قَدِمَ مَعَهَا مِنْ مِصْرَ ، فَأَسْلَمَ وَحَسُنَ إِسْلَامُهُ ، وَكَانَ يَدْخُلُ عَلَى أُمِّ إِبْرَاهِيمَ مَارِيَةَ الْقِبْطِيَّةِ ، وَإِنَّهُ رَضِيَ لِمَكَانِهِ مِنْ أُمِّ وَلَدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَجُبَّ نَفْسَهُ ، فَقَطَعَ مَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ حَتَّى لَمْ يُبْقِ لِنَفْسِهِ شَيْئًا قَلِيلًا وَلَا كَثِيرًا ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى إِبْرَاهِيمَ ، فَوَجَدَ قَرِيبَهَا عِنْدَهَا ، فَوَقَعَ فِي نَفْسِهِ مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ كَمَا يَقَعُ فِي أَنْفُسِ النَّاسِ ، فَرَجَعَ مُتَغَيِّرَ اللَّوْنِ ، فَلَقِيَ عُمَرَ ، فَأَخْبَرَهُ بِمَا وَقَعَ فِي نَفْسِهِ مِنْ قَرِيبِ أُمِّ إِبْرَاهِيمَ ، فَأَخَذَ السَّيْفَ ، وَأَقْبَلَ يَسْعَى حَتَّى دَخَلَ عَلَى مَارِيَةَ ، فَوَجَدَ قَرِيبَهَا ذَلِكَ عِنْدَهَا ، فَأَهْوَى إِلَيْهِ بِالسَّيْفِ لِيَقْتُلَهُ ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ مِنْهُ كَشَفَ عَنْ نَفْسِهِ ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ عُمَرُ رَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا أُخْبِرُكَ يَا عُمَرُ ، إِنَّ جِبْرِيلَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَانِي ، فَأَخْبَرَنِي أَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - قَدْ بَرَّأَهَا وَقَرِيبَهَا مِمَّا وَقَعَ فِي نَفْسِي ، وَبَشَّرَنِي أَنَّ فِي بَطْنِهَا غُلَامًا مِنِّي ، وَأَنَّهُ أَشْبَهُ الْخَلْقِ بِي ، وَأَمَرَنِي أَنْ أُسَمِّيَهُ إِبْرَاهِيمَ ، وَكَنَّانِي بِأَبِي إِبْرَاهِيمَ ، وَلَوْلَا أَنِّي أَكْرَهُ أَنْ أُحَوِّلَ كُنْيَتِيَ الَّتِي عُرِفْتُ بِهَا لَتَكَنَّيْتُ بِأَبِي إِبْرَاهِيمَ ، كَمَا كَنَّانِي جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ هَانِئُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کی والدہ سیدہ ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے جو ان کی اُم ولد تھیں اور وہ خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کے حوالے سے حاملہ تھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کے پاس ان کے ایک رشتے دار کو پایا جو مصر سے اس خاتون کے ساتھ آیا تھا ، اس شخص نے اسلام قبول کر لیا تھا ، اس کا اسلام اچھا تھا ، وہ سیدہ ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کے پاس جو سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کی والدہ ہیں ، اس لئے آیا کرتا تھا کیونکہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اُم ولد تھیں ، اس نے اپنے آپ کو مجبوب کر لیا ( یعنی اپنی شرمگاہ کو کاٹ دیا ) اس نے اپنی دونوں ٹانگوں کے درمیان موجود پوری چیز کو کاٹ دیا اور اپنے لئے تھوڑا یا زیادہ کچھ نہیں رہنے دیا ، ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو آپ نے اس شخص کو اس خاتون کے پاس پایا ، آپ کے ذہن میں اس حوالے سے کچھ الجھن پیدا ہوئی ، جس طرح لوگوں کے من میں آ جاتی ہے ، آپ واپس تشریف لے گئے ، آپ کی رنگت تبدیل تھی ( یعنی آپ غصے میں تھے ) آپ کی ملاقات سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، آپ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اس چیز کے بارے میں بتایا جو ام ابراہیم کے پاس اس شخص کے ہونے کی وجہ سے آپ کے من میں تھی ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تلوار پکڑی اور دوڑتے ہوئے آئے ، یہاں تک کہ سیدہ ماریہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے ، انہوں نے سیدہ ماریہ رضی اللہ عنہا کے پاس اس شخص کو پایا ۔ انہوں نے اس کو قتل کرنے کے لئے اس کی طرف تلوار بڑھائی ، جب اس شخص نے یہ صورت حال دیکھی تو اس نے اپنی شرمگاہ سے کپڑا ہٹایا ، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ صورت حال دیکھی تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس گئے اور آپ کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے عمر ! کیا میں نے تمہیں نہیں بتایا تھا کہ جبرائیل میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھے بتایا : اللہ تعالیٰ نے اس خاتون کو اور اس کے رشتے دار کو اس چیز کے حوالے سے بری قرار دیا ہے ، جو میرے من میں آئی تھی اور اس نے مجھے یہ خوشخبری دی ہے کہ اس عورت کے پیٹ میں میرا ایک بیٹا ہے ، جو ظاہری تخلیق کے اعتبار سے مجھ سے سب سے زیادہ مشابہت رکھتا ہے ، اور اس نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں اس کا نام ابراہیم رکھوں اور اس نے میری کنیت ابوابراہیم تجویز کی ہے ، اگر میں اس بات کو ناپسند نہ کرتا ہوتا کہ میں جس کنیت کے حوالے سے معروف ہوں ۔ اسے تبدیل کر دوں تو میں نے ابوابراہیم کنیت اختیار کرنی تھی ، جس کنیت سے جبریل نے مجھے مخاطب کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ہانی بن متوکل ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ہانی بن متوکل ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 14953
وَعَنِ السُّدِّيِّ قَالَ : سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قُلْتُ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى ابْنِهِ إِبْرَاهِيمَ ؟ قَالَ : لَا أَدْرِي ، رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى إِبْرَاهِيمَ ، لَوْ عَاشَ لَكَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سدی بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صاحبزادے سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ پڑھائی تھی ؟ انہوں نے جواب دیا : مجھے نہیں معلوم ، اللہ تعالیٰ سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ پر رحمت نازل کرے ، اگر وہ زندہ رہتے تو وہ صدیق نبی ہوتے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 14954
وَعَنِ الْبَرَاءِ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ فِي ابْنِهِ إِبْرَاهِيمَ : " إِنَّ لَهُ مُرْضِعًا فِي الْجَنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَلَكِنَّهُ مِنْ رِوَايَةِ شُعْبَةَ عَنْهُ ، وَلَا يَرْوِي عَنْهُ شُعْبَةُ كَذِبًا ، وَقَدْ صَحَّ مِنْ غَيْرِ حَدِيثِ الْبَرَاءِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا براء رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صاحبزادے سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ فرمایا : ” جنت میں اس کے لئے ایک دودھ پلانے والی عورت ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ، تاہم شعبہ نے اس سے روایت نقل کی ہے اور شعبہ اس کے حوالے سے جھوٹی روایت نقل نہیں کرتا ، سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث کے علاوہ ہونے کے طور پر
یہ روایت مستند طور پر ثابت ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ، تاہم شعبہ نے اس سے روایت نقل کی ہے اور شعبہ اس کے حوالے سے جھوٹی روایت نقل نہیں کرتا ، سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث کے علاوہ ہونے کے طور پر
یہ روایت مستند طور پر ثابت ہے ۔
حدیث نمبر: 14955
وَعَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى ، وَقِيلَ لَهُ : هَلْ رَأَيْتَ إِبْرَاهِيمَ ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَقَالَ : نَعَمْ ، مَاتَ وَهُوَ صَغِيرٌ أَشْبَهُ النَّاسِ بِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ ذِكْرِ الشَّبَهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرَ عُبَيْدِ بْنِ جُنَادٍ الْحَلَبِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابن ابواوفیٰ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ان سے دریافت کیا گیا : آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کو دیکھا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! ان کا کمسنی میں انتقال ہو گیا تھا اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہت رکھتے تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت صحیح میں مذکور ہے تاہم اس میں مشابہت کا ذکر نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف عبید بن جناد حلبی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت صحیح میں مذکور ہے تاہم اس میں مشابہت کا ذکر نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف عبید بن جناد حلبی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 14956
وَعَنْ سِيرِينَ قَالَتْ : حَضَرْتُ مَوْتَ إِبْرَاهِيمَ ابْنِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكُنْتُ كُلَّمَا صِحْتُ وَأُخْتِي صَاحَ النِّسَاءُ وَلَا يَنْهَانَا ، فَلَمَّا مَاتَ نَهَانَا عَنِ الصِّيَاحِ ، وَحَمَلَهُ إِلَى شَفِيرِ الْقَبْرِ ، وَالْعَبَّاسُ إِلَى جَنْبِهِ ، وَنَزَلَ فِي الْقَبْرِ الْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، وَأَنَا أَبْكِي عِنْدَ قَبْرِهِ ، فَمَا نَهَانِي ، وَكَسَفَتِ الشَّمْسُ ، فَقَالَ النَّاسُ : هَذَا لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّهَا لَا تَنْكَسِفُ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ " . وَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فُرْجَةً فِي الْقَبْرِ ، فَأَمَرَ بِهَا أَنْ تُسَدَّ ، فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تَنْفَعُهُ ؟ فَقَالَ : " أَمَا إِنَّهَا لَا تَنْفَعُهُ وَلَا تَضُرُّهُ ، وَلَكِنْ يَقَرُّ بِعَيْنِ الْحَيِّ " . وَمَاتَ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ لِعَشْرٍ خَلَوْنَ مِنْ رَبِيعٍ الْأَوَّلِ سَنَةَ عَشْرٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، فِي أَحَدِهِمَا الْوَاقِدِيُّ ، وَفِي الْآخَرِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زُبَالَةَ ، وَكِلَاهُمَا مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیرین نامی خاتون بیان کرتی ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کے انتقال کے قریب ان کے پاس موجود تھی ، میں چیخ رہی تھی اور میری بہن بھی چیخ کے رو رہی تھی ، خواتین بھی چیخ کے رو رہی تھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منع نہیں کیا لیکن جب ان کا انتقال ہو گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں چیخنے سے منع کر دیا ، بی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں گود میں اٹھا کر قبر کے کنارے پر آئے ، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ آپ کے پہلو میں تھے ، قبر میں سیدنا فضل بن عباس اور سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم اترے میں ان کی قبر کے پاس بیٹھ کر رونے لگی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے منع نہیں کیا ، اسی دوران سورج گرہن ہو گیا تو کچھ لوگوں نے کہا: یہ سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کے انتقال کی وجہ سے ہوا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہ کسی کے مرنے یا جینے کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتا ہے ۔ “ راوی خاتون بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبر میں کشادگی دیکھی تو حکم دیا کہ اسے بند کر دیا جائے ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! کیا اس کا اسے فائدہ ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کا اسے تو فائدہ نہیں ہو گا ، یا نقصان نہیں ہو گا ، لیکن یہ چیز زندہ شخص کی آنکھوں کو ٹھنڈا کر دیتی ہے ۔ “ ان صاحبزادے کا انتقال منگل کے دن دس ربیع الاول دس ہجری میں ہوا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو استاد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک سند میں ایک راوی واقدی ہے اور دوسری روایت کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن زبالہ ہے اور یہ دونوں متروک ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو استاد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک سند میں ایک راوی واقدی ہے اور دوسری روایت کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن زبالہ ہے اور یہ دونوں متروک ہیں ۔