حدیث نمبر: 14775
عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ : كُنْتُ أَنَا وَعَلِيٌّ رَفِيقَيْنِ فِي غَزْوَةِ [ ذَاتِ ] الْعَشِيرَةِ ، فَلَمَّا نَزَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَقَامَ بِهَا ، رَأَيْنَا بِهَا نَاسًا مَنْ بَنِي مُدْلِجٍ يَعْمَلُونَ فِي عَيْنٍ لَهُمْ [ فِي نَخْلٍ ] ، فَقَالَ [ لِي ] عَلِيٌّ : يَا أَبَا الْيَقْظَانِ ، هَلْ لَكَ أَنْ أَتِيَ هَؤُلَاءِ فَنَنْظُرَ كَيْفَ يَعْمَلُونَ ؟ فَجِئْنَاهُمْ فَنَظَرْنَا إِلَى عَمَلِهِمْ سَاعَةً ، ثُمَّ غَشِيَنَا النَّوْمُ ، فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَعَلِيٌّ فَاضْطَجَعْنَا فِي صُورٍ مِنْ نَخْلٍ فِي دَقْعَاءَ مِنَ التُّرَابِ فَنِمْنَا ، وَاللَّهِ مَا أَهَبَّنَا إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُحَرِّكُنَا بِرِجْلِهِ ، وَقَدْ تَتَرَّبْنَا مِنْ تِلْكَ الدَّقْعَاءِ ، فَيَوْمَئِذٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِعَلِيٍّ : " أَبَا تُرَابٍ " . لِمَا يَرَى عَلَيْهِ مِنَ التُّرَابِ . ثُمَّ قَالَ : " أَلَّا أُحَدِّثُكُمَا بِأَشْقَى النَّاسِ رَجُلَيْنِ ؟ " . قُلْنَا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " أُحَيْمِرُ ثَمُودَ الَّذِي عَقَرَ النَّاقَةَ ، وَالَّذِي يَضْرِبُكَ يَا عَلِيُّ هَذِهِ - يَعْنِي قَرْنَهُ - حَتَّى يَبُلَّ مِنْهُ هَذِهِ - يَعْنِي لِحْيَتَهُ - " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُ الْجَمِيعِ مُوَثَّقُونَ إِلَّا أَنَّ التَّابِعِيَّ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَمَّارٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ غزوہ ذات العشیرہ کے موقع پر ایک دوسرے کے ساتھی تھے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں پڑاؤ کیا اور آپ وہاں مقیم ہوئے تو وہاں ہم نے بنو مدلج سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد کو دیکھا جو کھجوروں کے باغ میں اپنے چشمے میں کام کر رہے تھے ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: اے ابوالیقظان کیا تم اس بات میں دلچسپی رکھتے ہو کہ ہم ان لوگوں کے پاس جائیں اور یہ دیکھیں یہ کیسے کام کر رہے ہیں ، تو ہم ان لوگوں کے پاس آئے ہم کچھ دیر ان لوگوں کا کام دیکھتے رہے پھر ہمیں نیند آنے لگی تو میں اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ گئے اور ہم کھجوروں کے درختوں کے درمیان میں موجود مٹی پر لیٹ کر سو گئے ، اللہ کی قسم ! ہم اس وقت بیدار ہوئے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اپنے پاؤں کے ذریعے حرکت دے رہے تھے ہم اس مٹی میں خاک آلود ہو چکے ہوئے تھے اس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : اے ابوتراب ! کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر مٹی دیکھی تھی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا میں تم دونوں کو ان دو افراد کے بارے میں نہ بتاؤں جو لوگوں میں سب سے زیادہ بدبخت ہیں ؟ ہم نے عرض کی : جی ہاں یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قوم ثمود کا وہ نالائق شخص جس نے اونٹنی کے پاؤں کاٹے تھے اور وہ شخص اے علی جو تمہاری اس جگہ پر ضرب لگائے گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد پیشانی تھی ، یہاں تک کہ اس کی وجہ سے یہ جگہ گیلی ہو جائے گی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد ان کی داڑھی تھی ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ان تمام روایات کے رجال کی توثیق کی گئی ہے البتہ جو اس کا تابعی ہے اس نے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ان تمام روایات کے رجال کی توثیق کی گئی ہے البتہ جو اس کا تابعی ہے اس نے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 14776
وَعَنْ صُهَيْبٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ يَوْمًا لِعَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - : " مَنْ أَشْقَى الْأَوَّلِينَ ؟ " . قَالَ : الَّذِي عَقَرَ النَّاقَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ : " صَدَقْتَ " . قَالَ : " فَمَنْ أَشْقَى الْآخِرِينَ ؟ " . قَالَ : لَا عِلْمَ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ : " الَّذِي يَضْرِبُكَ عَلَى هَذِهِ " . وَأَشَارَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى يَافُوخِهِ ، فَكَانَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - يَقُولُ لِأَهْلِ الْعِرَاقِ : وَدِدْتُ أَنَّهُ قَدِ انْبَعَثَ أَشْقَاكُمْ يُخَضِّبُ هَذِهِ - يَعْنِي لِحْيَتَهُ - مِنْ هَذِهِ ، وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى مُقَدَّمِ رَأْسِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ وَقَدْ وُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بیان نقل کرتے ہیں : ایک دن انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پاؤں کاٹے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نے ٹھیک کہا: ہے پھر آپ نے دریافت کیا : بعد والوں میں سب سے زیادہ بدنصیب کون ہو گا ؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی : مجھے اس کا علم نہیں ہے یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ شخص جو تمہیں اس جگہ پر ضرب لگائے گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پیشانی کی طرف اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ اہل عراق سے یہ کہا: کرتے تھے : میری یہ خواہش ہے کہ تم میں سے سب سے زیادہ بدنصیب شخص آئے اور اس جگہ کو رنگین کر دے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی مراد ان کی داڑھی تھی ، یہاں سے لے کر ، انہوں نے اپنا ہاتھ اپنے سر کے آگے والے حصے پر رکھ کر یہ بات ارشاد فرمائی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے ، جس کی توثیق کی گئی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے ، جس کی توثیق کی گئی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 14777
وَعَنْ جَابِرٍ - يَعْنِي ابْنَ سَمُرَةَ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِعَلِيٍّ : " مَنْ أَشْقَى ثَمُودَ ؟ " . قَالَ : مَنْ عَقَرَ النَّاقَةَ قَالَ : " فَمَنْ أَشْقَى هَذِهِ الْأُمَّةِ ؟ " . قَالَ : اللَّهُ أَعْلَمُ قَالَ : " قَاتِلُكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ نَاصِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : قوم ثمود کا سب سے زیادہ بدنصیب شخص کون تھا ؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جس نے اونٹنی کے پاؤں کاٹے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اس امت میں سب سے زیادہ بدنصیب شخص کون ہو گا ؟ انہوں نے عرض کی : اللہ تعالیٰ زیادہ بہتر جانتا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارا قاتل ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ناصح بن عبداللہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ناصح بن عبداللہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 14778
وَعَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِعَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - : " إِنَّكَ امْرُؤٌ مُسْتَخْلَفٌ ، وَإِنَّكَ مَقْتُولٌ ، وَهَذِهِ مَخْضُوبَةٌ مِنْ هَذِهِ " . - يَعْنِي لِحْيَتَهُ مِنْ رَأْسِهِ - . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ نَاصِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ” تم ایک ایسے شخص ہو جو بعد میں رہ جاؤ گے ، اور تم قتل کر دیے جاؤ گے اور یہ اس سے رنگین ہو جائے گی ۔ “ یعنی ان کی داڑھی ان کے سر ( کے خون کے ذریعے رنگین ہو جائے گی ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ناصح بن عبداللہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ناصح بن عبداللہ ہے اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 14779
وَعَنْ فَضَالَةَ بْنِ أَبِي فَضَالَةَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ أَبِي عَائِدًا لِعَلِيٍّ وَكَانَ مَرِيضًا ، فَقَالَ لَهُ أَبِي : مَا يُقِيمُكَ بِهَذَا الْمَنْزِلِ لَوْ هَلَكْتَ بِهِ لَمْ يَلِكَ إِلَّا أَعْرَابُ جُهَيْنَةَ ، فَلَوْ دَخَلْتَ الْمَدِينَةَ كُنْتَ بَيْنَ أَصْحَابِكَ ، فَإِنْ أَصَابَكَ مَا تَخَافُ أَوْ نَخَافُ عَلَيْكَ وَلِيَكَ أَصْحَابُكَ . وَكَانَ أَبُو فَضَالَةَ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ . فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ : إِنِّي لَسْتُ مَيِّتًا مِنْ مَرَضِي هَذَا - أَوْ مِنْ وَجَعِي هَذَا - إِنَّهُ عَهِدَ إِلَيَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِنِّي لَا أَمُوتُ حَتَّى - أَحْسَبَهُ - قَالَ : أُضْرَبُ أَوْ تُخَضَّبُ هَذِهِ مِنْ هَذِهِ - يَعْنِي ضَارِبَهُ - فَقُتِلَ أَبُو فَضَالَةَ مَعَهُ بِصِفِّينَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَأَحْمَدُ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
فضالہ بن ابوفضالہ انصاری بیان کرتے ہیں : میں اپنے والد کے ساتھ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی عیادت کرنے کے لئے گیا ، وہ بیمار تھے ، میرے والد نے ان سے فرمایا : آپ اس جگہ پر کیوں ٹھہرے ہوئے ہیں ، اگر آپ یہاں ہلاکت کا شکار ہو گئے تو صرف جہینہ قبیلے کے دیہاتی لوگ ہی آپ کے کفن دفن کا انتظام کر سکیں گے ، اور اگر آپ شہر میں داخل ہو جائیں گے تو آپ اپنے ساتھیوں کے درمیان موجود رہیں گے ، اگر آپ کو کوئی چیز لاحق ہوئی ، جس کا آپ کو اندیشہ ہے ، یا ہمیں آپ کے حوالے سے کسی چیز کا اندیشہ ہوا تو آپ کے ساتھی آپ کی دیکھ بھال کریں گے ، راوی کہتے ہیں : سیدنا ابوفضالہ انصاری رضی اللہ عنہ اہل بدر میں سے ایک تھے ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: میں اپنی اس بیماری کی وجہ سے نہیں مروں گا ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) میں اپنی اس تکلیف کی وجہ سے نہیں مروں گا ، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ بتایا تھا کہ میں اس وقت تک نہیں مروں گا ۔ راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ ہیں : جب تک مجھے ضرب نہیں لگائی جائے گی اور یہ اس کے ذریعے رنگین نہیں ہو جائے گی ۔ راوی کہتے ہیں : سیدنا ابوفضالہ رضی اللہ عنہ جنگ صفین میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ شرکت کرتے ہوئے شہید ہوئے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور امام أحمد نے اس کی مانند نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور امام أحمد نے اس کی مانند نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 14780
وَعَنْ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيِّ : أَنَّهُ عَادَ عَلِيًّا فِي شَكْوَى اشْتَكَاهَا ، فَقَالَ لَهُ : لَقَدْ تَخَوَّفْنَا عَلَيْكَ فِي شَكْوَاكَ هَذِهِ . فَقَالَ : وَلَكِنِّي وَاللَّهِ مَا تَخَوَّفْتُ عَلَى نَفْسِي مِنْهُ ؛ لِأَنِّي سَمِعْتُ الصَّادِقَ الْمَصْدُوقَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّكَ سَتُضْرَبُ ضَرْبَةً هُنَا ، وَضَرْبَةً هَاهُنَا - وَأَشَارَ إِلَى صُدْغِهِ - فَيَسِيلُ دَمُهَا حَتَّى يُخَضِّبَ لِحْيَتَكَ ، وَيَكُونَ صَاحِبُهَا أَشْقَاهَا كَمَا كَانَ عَاقِرُ النَّاقَةِ أَشْقَى ثَمُودَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوسنان دؤلی بیان کرتے ہیں : وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیماری کے دوران ان کی عیادت کرنے کے لئے گئے ، تو انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا: ہمیں آپ کی اس بیماری کے حوالے سے آپ کے بارے میں اندیشہ ہے ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : لیکن اللہ کی قسم ! مجھے اس بیماری کے حوالے سے اپنی ذات کے بارے میں کوئی خوف نہیں ہے ، کیونکہ میں نے سیدنا صادق و مصدوق صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” تم پر یہاں ضرب لگائی جائے گی اور یہاں ضرب لگائی جائے گی ۔ “ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنی کنپٹی کی طرف اشارہ کیا کہ یہاں سے خون بہے گا اور تمہاری داڑھی کو رنگین کر دے گا ۔ ” اور ایسا کرنے والا شخص سب سے زیادہ بدنصیب ہو گا ، جس طرح اونٹنی کے پاؤں کاٹنے والا شخص قوم ثمود کا سب سے زیادہ بدنصیب شخص تھا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 14781
وَعَنْ أَبِي سِنَانٍ يَزِيدَ بْنِ مُرَّةَ الدِّيلِيِّ قَالَ : مَرِضَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ مَرَضًا شَدِيدًا حَتَّى أَدْنَفَ ، وَخِفْنَا عَلَيْهِ ، ثُمَّ إِنَّهُ بَرَأَ وَنَقِهَ ، فَقُلْنَا : هَنِيئًا لَكَ أَبَا الْحَسَنِ ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي عَافَاكَ ، قَدْ كُنَّا تَخَوَّفْنَا عَلَيْكَ . قَالَ : لَكِنِّي لَمْ أَخَفْ عَلَى نَفْسِي ، أَخْبَرَنِي الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنِّي لَا أَمُوتُ حَتَّى أُضْرَبَ عَلَى هَذِهِ - وَأَشَارَ إِلَى مُقَدَّمِ رَأْسِهِ الْأَيْسَرِ - فَتُخَضَّبَ هَذِهِ مِنْهَا بِدَمٍ ، وَأَخَذَ بِلِحْيَتِهِ وَقَالَ : " يَقْتُلُكَ أَشْقَى هَذِهِ الْأُمَّةِ ، كَمَا عَقَرَ نَاقَةَ اللَّهِ أَشْقَى بَنِي فُلَانٍ مِنْ ثَمُودَ " . قَالَ : فَنَسَبَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى فَخِذِهِ الدُّنْيَا دُونَ ثَمُودَ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ وَالِدُ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوسنان یزید بن مرہ دیلی بیان کرتے ہیں : سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ شدید بیمار ہو گئے ، یہاں تک کہ وہ مستقل بیمار رہے ، تو ہمیں ان کے حوالے سے اندیشہ ہوا پھر وہ تندرست اور صحت یاب ہو گئے ، تو ہم نے کہا: اے ابوالحسن ! آپ کو مبارک باد ہو ، ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، جس نے آپ کو عافیت عطا کی ہے ، ہمیں تو آپ کے بارے میں اندیشہ ہو چلا تھا ، تو انہوں نے فرمایا : لیکن مجھے اپنی ذات کے بارے میں اندیشہ نہیں تھا ، سیدنا صادق و مصدوق صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ میں اس وقت تک نہیں مروں گا جب تک میرے یہاں ضرب نہیں لگائی جائے گی ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے سر کے آگے والے بائیں حصے کی طرف اشارہ کر کے یہ بات بیان کی اور خون کے ذریعے یہ جگہ رنگین نہیں ہو گی ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنی داڑھی پکڑ کر یہ بات بیان کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : تمہیں وہ شخص قتل کرے گا جو اس امت کا سب سے زیادہ بدنصیب ہو گا ، جس طرح اللہ کی بھیجی ہوئی اونٹنی کے پاؤں کاٹنے والا شخص قوم ثمود میں سے بنو فلاں کا سب سے زیادہ بدنصیب شخص تھا ، راوی بیان کرتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نسبت قوم ثمود کی ذیلی شاخ کی طرف کر کے بیان کی ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں علی بن مدینی کا والد موجود ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں علی بن مدینی کا والد موجود ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 14782
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُبَيْعٍ قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا - عَلَيْهِ السَّلَامُ - يَقُولُ : لَتُخَضَّبَنَّ هَذِهِ مِنْ هَذِهِ ، فَمَا يَنْتَظِرُ بِيَ الْأَشْقَى ؟ قَالُوا : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، فَأَخْبِرْنَا بِهِ نُبِيرُ عِتْرَتَهُ قَالَ : إِذًا تَقْتُلُونَ بِي غَيْرَ قَاتِلِي . قَالُوا : فَاسْتَخْلِفْ عَلَيْنَا قَالَ : لَا وَلَكِنْ أَتْرُكُكُمْ إِلَى مَا تَرَكَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالُوا : فَمَاذَا تَقُولُ لِرَبِّكَ إِذَا أَتَيْتَهُ ؟ قَالَ : أَقُولُ : اللَّهُمَّ تَرَكْتَنِي فِيهِمْ مَا بَدَا لَكَ ، ثُمَّ قَبَضْتَنِي إِلَيْكَ وَأَنْتَ فِيهِمْ ؛ فَإِنْ شِئْتَ أَصْلَحْتَهُمْ ، وَإِنْ شِئْتَ أَفْسَدْتَهُمْ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُبَيْعٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادٍ حَسَنٍ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن سبیع بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : یہ اس کے ذریعے رنگین ہو جائے گی اور میرا انتظار صرف بدنصیب ترین شخص کرے گا ، لوگوں نے کہا: اے امیر المؤمنین ! آپ ہمیں اس کے بارے میں بتائیے ، ہم اس کی نسل ہی فنا کر دیں گے ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ایسی صورت میں تم میرے قاتل کے علاوہ کسی اور کو قتل کرو گے ، لوگوں نے کہا: آپ ہم پر کسی کو اپنا نائب مقرر کر دیں ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جی نہیں بلکہ میں تمہیں اسی طرح چھوڑ دوں گا ، جس طرح کی صورت حال میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تم لوگوں کو چھوڑا تھا ، لوگوں نے دریافت کیا : جب آپ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں جائیں گے ، تو آپ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں کیا کہیں گے ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں یہ کہوں گا کہ اے اللہ ! تو نے مجھے ان کے درمیان اس وقت تک رہنے دیا جب تک تو نے مناسب سمجھا ، پھر تو نے مجھے اپنی طرف قبض کر لیا ، لیکن تو ان کے درمیان موجود ہے ، اگر تو چاہے ، تو ان کو ٹھیک رکھ اور اگر تو چاہے تو انہیں خراب کر دے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں البتہ عبداللہ بن سبیع کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے حسن سند کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں البتہ عبداللہ بن سبیع کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے حسن سند کے ساتھ نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 14783
وَعَنْ ثَعْلَبَةَ : أَنَّهُ قَالَ عَلَى الْمِنْبَرِ : وَاللَّهِ إِنَّهُ لَعَهْدُ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَيَّ أَنَّ الْأُمَّةَ سَتَغْدِرُ بِي . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ قَادِمٍ وَقَدْ وُثِّقَ وَضُعِّفَ . ¤
محمد محی الدین
ثعلبہ بیان کرتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے منبر پر ارشاد فرمایا : اُمی نبی نے مجھے یہ بات بتائی تھی کہ ایک گروہ عنقریب میرے ساتھ غداری کرے گا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن قادم ہے ، جس کی توثیق کی گئی ہے اور اسے ضعیف بھی قرار دیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن قادم ہے ، جس کی توثیق کی گئی ہے اور اسے ضعیف بھی قرار دیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 14784
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْتَزَمَ عَلِيًّا وَقَبَّلَهُ وَيَقُولُ : " بِأَبِي الْوَحِيدُ الشَّهِيدُ ! ! بِأَبِي الْوَحِيدُ الشَّهِيدُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اپنے ساتھ لپٹا لیا ، ان کا بوسہ لیا اور یہ ارشاد فرمایا : میرے باپ کی قسم ! یہ اکیلا ہو گا ، اور شہید ہو گا ، میرے باپ کی قسم ! ایہ اکیلا ہو گا اور شہید ہو گا ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 14785
وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِعَلِيٍّ قَبْلَ مَوْتِهِ : " تُبَرِّئُ ذِمَّتِي وَتُقْتَلُ عَلَى سُنَّتِي " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ ضُعَفَاءُ وَقَدْ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وصال سے پہلے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا : ” تم میرے ذمہ کو پورا کرو گے ، اور تمہیں میری سنت پر قتل کیا جائے گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ضعیف راویوں کی ایک جماعت ہے جن کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ضعیف راویوں کی ایک جماعت ہے جن کی توثیق کی گئی ہے ۔