کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: اس چیز کا بیان کہ نبی اکرم ﷺ نے ان کے بارے میں وصیت کی تھی
حدیث نمبر: 14663
عَنْ ذُؤَيْبٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا حُضِرَ قَالَتْ صَفِيَّةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لِكُلِّ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِكَ أَهْلٌ تَلْجَأُ إِلَيْهِمْ وَإِنَّكَ أَجْلَبْتَ أَهْلِي ، فَإِنْ حَدَثَ حَدَثٌ فَإِلَى مَنْ ؟ قَالَ : " إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ذؤیب بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری وقت قریب آیا تو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کی ازواج میں سے ہر ایک خاتون کے اہل خانہ موجود ہیں ۔ وہ خاتون ان کی پناہ حاصل کر لے گی اور میرے اہل خانہ نہیں ہیں ، تو اگر کوئی ضرورت پیش آ گئی ، تو میں کس کی طرف رجوع کروں ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : علی بن ابوطالب کی طرف ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 14664
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَهِدَ إِلَى عَلِيٍّ سَبْعِينَ عَهْدًا لَمْ يَعْهَدْهَا إِلَى غَيْرِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ہم لوگ یہ بات چیت کیا کرتے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ بطور خاص ستر ایسے عہد کیے تھے جو آپ نے ان کے علاوہ کسی اور کے ساتھ نہیں کیے ۔ ( یہاں عہد کرنے سے مراد مخصوص قسم کی تلقین کرنا بھی ہو سکتا ہے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 14665
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ قَالَ : جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ ، فَاجْتَمَعَ لَهُ ثَلَاثُونَ رَجُلًا فَأَكَلُوا وَشَرِبُوا . قَالَ : فَقَالَ لَهُمْ : " مَنْ يَضْمَنُ عَنِّي دَيْنِي وَمَوَاعِيدِي ، وَيَكُونُ مَعِي فِي الْجَنَّةِ ، وَيَكُونُ خَلِيفَتِي فِي أَهْلِي ؟ " . فَقَالَ رَجُلٌ لَمْ يُسِمِّهِ شَرِيكٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنْتَ كُنْتَ بَحْرًا مَنْ يَقُومُ بِهَذَا ؟ قَالَ : ثُمَّ قَالَ لِآخَرَ : فَعَرَضَ ذَلِكَ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ ، فَقَالَ عَلِيٌّ : أَنَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . وَقَدْ تَقَدَّمَتْ لِهَذَا الْحَدِيثِ طُرُقٌ فِي عَلَامَةِ النُّبُوَّةِ فِي آيَتِهِ فِي الطَّعَامِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی : ” اور تم اپنے قریبی رشتے داروں کو ڈراؤ“ ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل خانہ کو جمع کیا ، تیس افراد آپ کے پاس جمع ہوئے ، ان لوگوں نے کھایا پیا ، راوی کہتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں سے فرمایا : کون شخص میرے قرض اور میرے وعدوں کے حوالے سے میرا ساتھ دے گا ، اور وہ جنت میں میرے ساتھ ہو گا ، اور میرے اہل خانہ کے بارے میں میرا خلیفہ ہو گا ، تو ایک شخص نے کہا: شریک نامی راوی نے اس کا نام بیان نہیں کیا ، یا رسول اللہ ! آپ تو سمندر ہیں ، کون ایسا کر سکتا ہے ؟ پھر انہوں نے دوسری مرتبہ یہ کہا: ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل بیت کے سامنے یہ پیش کش رکھی تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میں ایسا کروں گا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند عمدہ ہے ۔ اس سے پہلے اس حدیث کے مختلف طرق نبوت کی علامات سے متعلق باب میں کھانے کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات سے متعلق باب میں گزر چکے ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند عمدہ ہے ۔ اس سے پہلے اس حدیث کے مختلف طرق نبوت کی علامات سے متعلق باب میں کھانے کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات سے متعلق باب میں گزر چکے ہیں ۔
حدیث نمبر: 14666
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : دَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، فَقَالَ : " اضْمَنْ عَنِّي دَيْنِي وَمَوَاعِيدِي " . قَالَ : لَا أُطِيقُ ذَلِكَ ، فَوَقَعَ بِهِ ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ : فَعَلَ اللَّهُ بِكَ مِنْ شَيْخٍ ، بِدْعُوكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِتَقْضِيَ عَنْهُ دَيْنَهُ وَمَوَاعِيدَهُ . فَقَالَ : دَعْنِي عَنْكَ فَإِنَّ ابْنَ أَخِي يُبَارِي الرِّيحَ . فَدَعَا عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ : " اضْمَنْ عَنِّي دَيْنِي وَمَوَاعِيدِي " . فَقَالَ : نَعَمْ ، هِيَ عَلَيَّ . فَضَمِنَهَا عَنْهُ . فَلَمَّا قَدِمَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ مَالٌ قَالَ : هَذَا مَالُ اللَّهِ وَمَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ فَحَقُّ مَا قَضَى عَنْ نَبِيِّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . فَدَعَا النَّاسَ ، فَقَالَ : مَنْ كَانَ لَهُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَيْنٌ أَوْ مَوْعُودٌ فَلْيَأْخُذْ ، وَكَانَ فِيمَنْ جَاءَ جَابِرٌ ، فَقَالَ : قَدْ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا جَاءَنَا مَالٌ حَثْوَنَا لَكَ هَكَذَا وَهَكَذَا " . فَقَالَ لَهُ : خُذْ كَمَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخَذَ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ كَمَا أَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ مِنْهُ عِدَةُ جَابِرٍ بِنَحْوِهَا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَلَمَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا : آپ مجھے اس بات کی ضمانت دیں گے کہ میرے قرض کو ادا کر دیں اور میرے کیے ہوئے وعدوں کو پورا کریں ، تو انہوں نے کہا: میں اس کی طاقت نہیں رکھتا ، اُن کے صاحبزادے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ان پر تنقید کی اور یہ کہا: اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ یہ کرے ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو یہ کہا: ہے کہ آپ ان کی طرف سے قرض کو ادا کر دیں اور ان کے کیے ہوئے وعدوں کو پورا کریں ، تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: تم مجھے چھوڑ دو ! کیونکہ تمہارے چچا زاد ( سخاوت اور نفع رسانی کے حوالے سے ) ہوا کو مات دیتے ہیں ( یعنی ان کی سخاوت کی وجہ سے ان کے وعدے بہت زیادہ ہوں گے ) پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا : تم مجھے ضمانت دو کہ قرض کو ادا کر دو گے اور میرے کیے ہوئے وعدوں کو پورا کر دو گے ، انہوں نے عرض کی : ٹھیک ہے ! یہ میرے ذمہ ہوا ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنی طرف سے اس چیز کی ضمانت دی ۔ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ( کے عہد خلافت میں ) ان کے پاس مال آیا تو انہوں نے فرمایا : یہ اللہ کا مال ہے ، اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو مال فئے کے طور پر عطا کیا ہے ، اور یہ بات ضروری ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ادائیگیاں کر دی جائیں ، انہوں نے لوگوں کو بلایا اور فرمایا : جس شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی قرض واپس لینا ہو یا جس کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وعدہ کیا ہو ، وہ وصولی کر لے تو آنے والے لوگوں میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے ۔ انہوں نے یہ بات بتائی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے یہ فرمایا تھا کہ جب ہمارے پاس کوئی مال آئے گا ، تو ہم تمہیں دونوں ہاتھ بھر کے دیں گے ، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے جس طرح ارشاد فرمایا تھا : تم اس طرح وصولی کر لو ، تو انہوں نے تین مرتبہ دونوں ہاتھ بھر کے مال لیا ، جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا تھا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں اس روایت میں سے صرف یہ حصہ منقول ہے کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جو وعدہ تھا ( اور جس طرح سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسے پورا کیا ) ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن یحیی بن سلمہ بن کہیل ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن یحیی بن سلمہ بن کہیل ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 14667
وَعَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " عَلِيٌّ يَقْضِي دَيْنِي " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ ضِرَارُ بْنُ صُرَدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” علی میرا قرض ادا کرے گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ضرار بن صرد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ضرار بن صرد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 14668
وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ وَصِيًّا فَمَنْ وَصِيُّكَ ؟ فَسَكَتَ عَنِّي ، فَلَمَّا كَانَ بَعْدُ رَآنِي فَقَالَ : " يَا سَلْمَانُ " . فَأَسْرَعْتُ إِلَيْهِ قُلْتُ : لَبَّيْكَ . قَالَ : " تَعْلَمُ مَنْ وَصِيُّ مُوسَى ؟ " . قَالَ : نَعَمْ ، يُوشَعُ بْنُ نُونٍ . قَالَ : " لِمَ ؟ " . قُلْتُ : لِأَنَّهُ كَانَ أَعْلَمَهُمْ يَوْمَئِذٍ قَالَ : " فَإِنَّ وَصِيِّي ، وَمَوْضِعَ سِرِّي ، وَخَيْرَ مَنْ أَتْرُكُ بَعْدِي ، وَيُنْجِزُ عِدَتِي ، وَيَقْضِي دَيْنِي : عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَقَالَ : [ قَوْلُهُ ] : " وَصِيِّي " [ يَعْنِي ] أَنَّهُ أَوْصَاهُ بِأَهْلِهِ لَا بِالْخِلَافَةِ . وَقَوْلُهُ : " وَخَيْرُ مَنْ أَتْرُكُ بَعْدِي [ يَعْنِي ] مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . وَفِي إِسْنَادِهِ نَاصِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہر نبی کا ایک وصی ہوتا ہے ، تو آپ کا وصی کون ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے ، اس کے بعد جب آپ نے مجھے دیکھا ، تو آپ نے فرمایا : اے سلمان ! میں جلدی سے آپ کے پاس آیا ، میں نے عرض کی : میں حاضر ہوں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو کہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کا وصی کون تھا ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! سیدنا یوشع بن نون علیہ السلام تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : وہ کیوں تھے ؟ میں نے عرض کی : کیونکہ اس وقت وہ ان لوگوں میں سب سے زیادہ علم رکھتے تھے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میرا وصی اور میرے راز کا رازدان اور اپنے بعد میں جن لوگوں کو چھوڑ دوں گا ، ان میں سے سب سے زیادہ بہتر شخص وہ ہے ، جو میرے وعدے کو پورا کرے گا ، میرے قرض کو ادا کرے گا ، اور وہ علی بن ابوطالب ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، وہ یہ کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان : ” میرا وصی ۔ “ اس سے مراد یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے اہلخانہ کے بارے میں وصی مقرر کیا تھا ، یہ مراد نہیں ہے کہ خلافت کے بارے میں وصی مقرر کیا تھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان : ” جسے میں اپنے بعد چھوڑوں گا ان میں سب سے بہتر ۔ “ اس سے مراد یہ ہے کہ آپ کے اہل بیت میں سے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ناصح بن عبداللہ ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، وہ یہ کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان : ” میرا وصی ۔ “ اس سے مراد یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے اہلخانہ کے بارے میں وصی مقرر کیا تھا ، یہ مراد نہیں ہے کہ خلافت کے بارے میں وصی مقرر کیا تھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان : ” جسے میں اپنے بعد چھوڑوں گا ان میں سب سے بہتر ۔ “ اس سے مراد یہ ہے کہ آپ کے اہل بیت میں سے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ناصح بن عبداللہ ہے ، اور وہ متروک ہے ۔