کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: حضرت علی رضی اللہ عنہ کی قدر و منزلت اور آپ کے بھائی چارے کا بیان
حدیث نمبر: 14655
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا آخَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ أَصْحَابِهِ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ ، فَلَمْ يُؤَاخِ بَيْنَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - وَبَيْنَ أَحَدٍ مِنْهُمْ ، خَرَجَ عَلِيٌّ مُغْضَبًا حَتَّى أَتَى جَدْوَلًا فَتَوَسَّدَ ذِرَاعَهُ ، فَسَفَّتْ عَلَيْهِ الرِّيحُ ، فَطَلَبَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى وَجَدَهُ فَوَكَزَهُ بِرِجْلِهِ ، فَقَالَ لَهُ : " قُمْ فَمَا صَلَحْتَ أَنْ تَكُونَ إِلَّا أَبَا تُرَابٍ ، أَغَضِبْتَ عَلَيَّ حِينِ آخَيْتُ بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَلَمْ أُؤَاخِ بَيْنَكَ وَبَيْنَ أَحَدٍ مِنْهُمْ ؟ ! أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى ؟ إِلَّا أَنَّهُ لَيْسَ بَعْدِي نَبِيٌّ . أَلَا مَنْ أَحَبَّكَ حُفَّ بِالْأَمْنِ وَالْإِيمَانِ ، وَمَنْ أَبْغَضَكَ أَمَاتَهُ اللَّهُ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً ، وَحُوسِبَ بِعَمَلِهِ فِي الْإِسْلَامِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حَامِدُ بْنُ آدَمَ الْمَرْوَزِيُّ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین اور انصار سے تعلق رکھنے والے اپنے اصحاب کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا ، تو آپ نے سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو کسی کا بھائی قرار نہیں دیا ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ غصے کے عالم میں نکلے ، یہاں تک کہ وہ ندی کے پاس آئے اور وہاں کلائی کو تکیہ بنا کر لیٹ گئے ، ہوا چلنے کی وجہ سے وہ گردوغبار میں اٹ گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں تلاش کرتے ہوئے آئے ، یہاں تک کہ آپ نے انہیں پایا اور آپ نے انہیں پاؤں مارا اور فرمایا : تم اٹھ جاؤ ! تمہارے لئے موزوں ( نام ) یہی ہے کہ تم ابوتراب ہو ، کیا تم اس بات پر غصے میں ہو کہ میں نے جب مہاجرین اور انصار کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا ، تو میں نے تمہارے اور کسی فرد کے درمیان بھائی چارہ قائم نہیں کیا ؟ کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تمہاری مجھ سے وہی نسبت ہو جو سیدنا ہارون علیہ السلام کی سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے تھی ، البتہ یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا ، جو شخص تم سے محبت رکھے گا ، وہ امن اور ایمان سے بھر دیا جائے گا ، اور جو شخص تم سے بغض رکھے گا اللہ تعالیٰ اسے زمانہ جاہلیت کی موت دے گا ، اور اسلام میں اس نے جو عمل کیا ہے اس سے حساب لیا جائے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حامد بن آدم مروزی ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حامد بن آدم مروزی ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔
حدیث نمبر: 14656
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَكْتُوبٌ عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ، عَلِيٌّ أَخُو رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَبْلَ أَنْ يُخْلَقَ الْخَلْقُ بِأَلْفَيْ سَنَةٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَشْعَثُ ابْنُ عَمِّ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَلَمْ أَعْرِفْهُ . ¤ وَيَأْتِي حَدِيثُ الْمُؤَاخَاةِ بَيْنَ الصَّحَابَةِ فِي مَنَاقِبِ جَمَاعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جنت کے دروازے پر یہ لکھا ہوا ہے ، اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، علی ، اللہ کے رسول کا بھائی ہے ، اور یہ بات آسمانوں اور زمین کی تخلیق سے دو ہزار سال پہلے ( طے ہو چکی تھی ) ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اشعث ہے ، جو حسن بن صالح کا چچازاد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، اور اس میں ایسا راوی بھی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔ آگے چل کر صحابہ کرام کے درمیان بھائی چارہ قائم کرنے سے متعلق حدیث آئے گی جو صحابہ کرام کی جماعت کے مناقب سے متعلق باب میں آئے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اشعث ہے ، جو حسن بن صالح کا چچازاد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، اور اس میں ایسا راوی بھی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔ آگے چل کر صحابہ کرام کے درمیان بھائی چارہ قائم کرنے سے متعلق حدیث آئے گی جو صحابہ کرام کی جماعت کے مناقب سے متعلق باب میں آئے گی ۔
حدیث نمبر: 14657
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - آخَى بَيْنَ النَّاسِ ، وَآخَى بَيْنَهُ وَبَيْنَ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقِ بِشْرِ بْنِ عَوْنٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا ، تو آپ نے اپنے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے بشر بن عون کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے بشر بن عون کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 14658
عَنْ شَرَاحِيلَ بْنِ مُرَّةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ لِعَلِيٍّ : " أَبْشِرْ يَا عَلِيُّ ; حَيَاتُكَ مَعِي ، وَمَوْتُكَ مَعِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا شراحیل بن مرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” اے علی ! تم یہ خوشخبری حاصل کرو کہ تمہاری زندگی میرے ساتھ ہو گی اور تمہاری موت میرے ساتھ ہو گی ( یعنی تم مرنے کے بعد بھی میرے ساتھ رہو گے ) ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 14659
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا زَوَّجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلِيًّا فَاطِمَةَ قَالَتْ فَاطِمَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، زَوَّجَتْنِي مِنْ رَجُلٍ فَقِيرٍ لَيْسَ لَهُ شَيْءٌ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَمَا تَرْضَيْنَ يَا فَاطِمَةُ أَنَّ اللَّهَ اخْتَارَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ رَجُلَيْنِ ، أَحَدُهُمَا أَبَاكِ وَالْآخَرُ زَوْجَكِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ رِوَايَةِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَجَّاجِ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ . قَالَ الذَّهَبِيُّ : إِبْرَاهِيمُ هَذَا لَا يُعْرَفُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . وَرَوَاهُ بِإِسْنَادٍ آخَرَ ضَعِيفٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کی ، تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے ایک ایسے شخص سے میری شادی کی ہے ، جو غریب ہے ، اور اس کے پاس کوئی چیز نہیں ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے فاطمہ ! کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ اللہ تعالیٰ نے اہل زمین میں سے دو افراد کو منتخب کیا ، ان میں سے ایک تمہارا باپ ہے اور دوسرا تمہارا شوہر ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے ابراہیم بن حجاج کے حوالے سے امام عبدالرزاق سے نقل کی ہے ، امام ذہبی کہتے ہیں : ابراہیم نامی یہ راوی معروف نہیں ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔ انہوں نے اسے ایک اور ضعیف سند کے ساتھ بھی نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ابراہیم بن حجاج کے حوالے سے امام عبدالرزاق سے نقل کی ہے ، امام ذہبی کہتے ہیں : ابراہیم نامی یہ راوی معروف نہیں ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔ انہوں نے اسے ایک اور ضعیف سند کے ساتھ بھی نقل کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 14660
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : مَا أَنْزَلَ اللَّهُ : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِلَّا عَلَى أَمِيرِهَا وَشَرِيفِهَا ، وَلَقَدْ عَاتَبَ اللَّهُ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَيْرِ مَكَانٍ ، وَمَا ذَكَرَ عَلِيًّا إِلَّا بِخَيْرٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ رَاشِدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب بھی اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” اے ایمان والو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ اہل ایمان کے امیر اور ان کے معزز ترین فرد تھے ، اللہ تعالیٰ نے ایک سے زیادہ جگہ پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب پر عتاب کیا لیکن سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ذکر صرف بھلائی کے حوالے سے ہی کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن راشد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن راشد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 14661
وَعَنْ جُمَيْعِ بْنِ عُمَيْرٍ : أَنَّ أُمَّهُ وَخَالَتَهُ دَخَلَتَا عَلَى عَائِشَةَ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ : قَالَتَا : فَأَخْبِرِينَا عَنْ عَلِيٍّ قَالَتْ : عَنْ أَيٍّ شَيْءٍ تَسْأَلَنَّ ؟ عَنْ رَجُلٍ وُضِعَ [ يَدَهُ ] مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَوْضِعًا ، فَسَالَتْ نَفْسُهُ فِي يَدِهِ فَمَسَحَ بِهَا وَجْهَهُ ؟ وَاخْتَلَفُوا فِي دَفْنِهِ ، فَقَالَ : إِنَّ أَحَبَّ الْبِقَاعِ إِلَى اللَّهِ مَكَانٌ قَبَضَ فِيهِ نَبِيَّهُ . قَالَتَا : فَلِمَ خَرَجْتِ عَلَيْهِ ؟ قَالَتْ : أَمْرٌ قُضِيَ ، وَوَدِدْتُ أَنْ أَفْدِيَهُ مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ مُخْتَلَفٌ فِيهِمْ ، وَأُمُّ جُمَيْعٍ وَخَالَتُهُ لَمْ أَعْرِفْهُمَا . ¤
محمد محی الدین
جمیع بن عمیر بیان کرتے ہیں : ان کی والدہ اور ان کی خالہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جس میں آگے چل کر وہ یہ الفاظ نقل کرتے ہیں : ان دونوں خواتین نے کہا: آپ ہمیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں بتائیں ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : تم کس حوالے سے سوال کر رہی ہو ؟ ایک ایسے شخص کے بارے میں جس نے اپنا ہاتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر یوں رکھا تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ان کے ہاتھوں میں ہوا ، لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دفن کرنے کے بارے میں اختلاف کیا ، تو ان صاحب نے یہ کہا: اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ جگہ وہ ہوتی ہے ، جس میں اس کے نبی کی روح کو قبض کیا گیا ہو ۔ ان دونوں خواتین نے کہا: پھر آپ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلاف جنگ کیوں کی تھی ؟ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : یہ تقدیر کا ایک فیصلہ تھا ، میری یہ خواہش ہے کہ میں اس کے فدیے کے طور پر روئے زمین پر موجود ہر چیز دے دوں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ، ام جمیع اور جمیع کی خالہ ، میں ان دونوں خواتین سے واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ، ام جمیع اور جمیع کی خالہ ، میں ان دونوں خواتین سے واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 14662
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : وَالَّذِي أَحْلِفُ بِهِ أَنْ كَانَ عَلِيٌّ لَأَقْرَبَ النَّاسِ عَهْدًا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . قَالَتْ : عُدْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غَدَاةً بَعْدِ غَدَاةٍ يَقُولُ : " جَاءَ عَلِيٌّ ؟ " . مِرَارًا . قَالَتْ : وَأَظُنُّهُ كَانَ بَعَثَهُ فِي حَاجَةٍ . قَالَتْ : فَجَاءَ بَعْدُ ، فَظَنَنْتُ أَنَّ لَهُ إِلَيْهِ حَاجَّةً ، فَخَرَجْنَا مِنَ الْبَيْتِ ، فَقَعَدْنَا عِنْدَ الْبَيْتِ وَكُنْتُ مِنْ أَدْنَاهُمْ إِلَى الْبَابِ ، فَأَكَبَّ عَلَيْهِ عَلِيٌّ فَجَعَلَ يُسَارُّهُ وَيُنَاجِيهِ ، ثُمَّ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ يَوْمِهِ ذَلِكَ ، وَكَانَ أَقْرَبَ النَّاسِ بِهِ عَهْدًا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِيهِ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ قُبِضَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ . وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُهُمْ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أُمِّ مُوسَى ، وَهِيَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : اس ذات کی قسم ! جس کے نام کا میں حلف اٹھاتی ہوں ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے زیادہ قریب رہے ۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ہم روزانہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عیادت کے لئے جایا کرتی تھیں ، آپ نے فرمایا : علی آ گیا ؟ آپ نے چند مرتبہ یہ بات دریافت کی : سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں مجھے اندازہ ہو گیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کسی کام کے سلسلے میں بھیجا ہوا ہے ۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : بعد میں جب وہ آئے تو مجھے اندازہ ہو گیا کہ شاید نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سے کوئی خاص کام ہے ، تو ہم خواتین گھر سے نکل آئیں اور گھر سے باہر بیٹھ گئیں ( یا کمرے سے باہر بیٹھ گئیں ) تو میں ان خواتین میں دروازے کے سب سے زیادہ قریب تھی ، میں نے دیکھا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جھک گئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سرگوشی میں ان کے ساتھ کوئی بات چیت کی ، پھر اسی دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے زیادہ قریب تھے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے اس میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : جس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا ، اس دن آپ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف اُم موسیٰ نامی خاتون کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ خاتون ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے اس میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : جس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا ، اس دن آپ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف اُم موسیٰ نامی خاتون کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ خاتون ثقہ ہے ۔