حدیث نمبر: 14642
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِعَلِيٍّ : " أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى ، إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِعَلِيٍّ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ : " خَلَّفْتُكَ فِي أَهْلِي " . قَالَ عَلِيٌّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَكْرَهُ أَنْ تَقُولَ الْعَرَبُ : خَذَلَ ابْنَ عَمِّهِ وَتَخَلَّفَ عَنْهُ . قَالَ : " أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي " . ¤ وَفِيهِ عَطِيَّةُ الْعَوْفِيُّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَجَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا : ” تمہاری مجھ سے وہی نسبت ہے ، جو سیدنا ہارون علیہ السلام کی سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے تھی ، البتہ یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کے موقع پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا : میں تمہیں اپنے اہلخانہ میں اپنا نائب چھوڑ رہا ہوں ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اس بات کو ناپسند کرتا ہوں کہ عرب یہ کہیں کہ اس شخص نے اپنے چچا زاد کو رسوائی کا شکار کر دیا اور ان سے پیچھے رہ گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تمہاری مجھ سے وہی نسبت ہو ، جو سیدنا ہارون علیہ السلام کی سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے تھی ، البتہ یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا ۔ “ اس روایت کی سند میں ایک راوی عطیہ عوفی ہے ، جسے یحیی بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے ، امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ، امام أحمد کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کے موقع پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا : میں تمہیں اپنے اہلخانہ میں اپنا نائب چھوڑ رہا ہوں ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اس بات کو ناپسند کرتا ہوں کہ عرب یہ کہیں کہ اس شخص نے اپنے چچا زاد کو رسوائی کا شکار کر دیا اور ان سے پیچھے رہ گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تمہاری مجھ سے وہی نسبت ہو ، جو سیدنا ہارون علیہ السلام کی سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے تھی ، البتہ یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا ۔ “ اس روایت کی سند میں ایک راوی عطیہ عوفی ہے ، جسے یحیی بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے ، امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ، امام أحمد کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 14643
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِعَلِيٍّ : " أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلَّا أَنَّهُ لَيْسَ بَعْدِي نَبِيٌّ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ فَاطِمَةَ بِنْتِ عَلِيٍّ ، وَهِيَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا : ” تمہاری مجھ سے وہی نسبت ہے ، جو سیدنا ہارون علیہ السلام کی سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے تھی ، البتہ یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف فاطمہ بنت علی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ خاتون ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف فاطمہ بنت علی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ خاتون ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 14644
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِعَلِيٍّ : " أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى ؟ غَيْرَ أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِي إِسْنَادِ أَبِي يَعْلَى مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَقَالَ : عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ . وَقَالَ الطَّبَرَانِيُّ : عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ . فَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا : ” کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تمہاری مجھ سے وہی نسبت ہو ، جو سیدنا ہارون علیہ السلام کی سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے تھی ، البتہ یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ کی سند میں ایک راوی محمد بن یحیی بن سلمہ بن کہیل ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اور دیگر لوگوں نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔ وہ یہ کہتے ہیں عامر بن سعد کے حوالے سے ان کے والد کے حوالے سے اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے یہ روایت منقول ہے ۔ امام طبرانی نے یہ بات کہی ہے کہ یہ روایت عامر بن سعد کے حوالے سے ان کے والد کے حوالے سے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ کی سند میں ایک راوی محمد بن یحیی بن سلمہ بن کہیل ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اور دیگر لوگوں نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔ وہ یہ کہتے ہیں عامر بن سعد کے حوالے سے ان کے والد کے حوالے سے اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے یہ روایت منقول ہے ۔ امام طبرانی نے یہ بات کہی ہے کہ یہ روایت عامر بن سعد کے حوالے سے ان کے والد کے حوالے سے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حدیث نمبر: 14645
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِعَلِيٍّ : " أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى ؟ إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ " . ¤ وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي بَلْجٍ الْكَبِيرِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا : ” کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تمہاری مجھ سے وہی نسبت ہو جو سیدنا ہارون علیہ السلام کی سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے تھی البتہ یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے بھی نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” تمہاری مجھ سے وہی نسبت ہے ، جو سیدنا ہارون کی تھی ۔ “ امام بزار کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف ابوبلج کبیر کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے بھی نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” تمہاری مجھ سے وہی نسبت ہے ، جو سیدنا ہارون کی تھی ۔ “ امام بزار کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف ابوبلج کبیر کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 14646
وَعَنْ حَبَشِيِّ بْنِ جُنَادَةَ السَّلُولِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِعَلِيٍّ : " أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ الْقَاسِمِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حبشی بن جنادہ سلولی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ” تمہاری مجھ سے وہی نسبت ہے ، جو سیدنا ہارون علیہ السلام کی سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے تھی البتہ یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالغفار بن قاسم ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالغفار بن قاسم ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 14647
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِعَلِيٍّ : " أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى ؟ إِلَّا أَنَّهُ لَا نُبُوَّةَ بَعْدِي وَلَا وِرَاثَةَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِي إِسْنَادِ الْكَبِيرِ يَحْيَى بْنُ يَعْلَى الْأَسْلَمِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَفِي الْأَوْسَطِ عَبْدُ الْغَفُورِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا : ” کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تمہاری مجھ سے وہی نسبت ہو جو سیدنا ہارون علیہ السلام کی سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے تھی البتہ یہ ہے کہ میرے بعد نبوت نہیں ہے ، اور وراثت نہیں ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے معجم کبیر کی سند میں ایک راوی یحیی بن یعلیٰ اسلمی ہے اور وہ ضعیف ہے ، اور معجم اوسط کی سند میں ایک راوی عبدالغفور ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے معجم کبیر کی سند میں ایک راوی یحیی بن یعلیٰ اسلمی ہے اور وہ ضعیف ہے ، اور معجم اوسط کی سند میں ایک راوی عبدالغفور ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 14648
وَعَنْ عَلِيٍّ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَرَادَ غَزْوًا ، فَدَعَا جَعْفَرًا فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَخَلَّفَ عَلَى الْمَدِينَةِ ، فَقَالَ : لَا أَتَخَلَّفُ بَعْدَكَ أَبَدًا ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَعَانِي ، فَعَزَمَ عَلَيَّ لَمَا تَخَلَّفْتُ قَبْلَ أَنْ أَتَكَلَّمَ فَبَكَيْتُ قَالَ : " مَا يُبْكِيكَ ؟ " . قُلْتُ : يُبْكِينِي خِصَالٌ غَيْرَ وَاحِدَةٍ ، تَقُولُ قُرَيْشٌ غَدًا : مَا أَسْرَعَ مَا تَخَلَّفَ عَنِ ابْنِ عَمِّهِ وَخَذَلَهُ . ¤ وَتُبْكِينِي خَصْلَةٌ أُخْرَى : كُنْتُ أُرِيدُ أَنْ أَتَعَرَّضَ لِلْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ; لِأَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَقُولُ : ( وَلَا يَطَئُونَ مَوْطِئًا يَغِيظُ الْكُفَّارَ وَلَا يَنَالُونَ مِنْ عَدُوٍّ نَيْلًا إِلَّا كُتِبَ لَهُمْ بِهِ عَمَلٌ صَالِحٌ إِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ ) فَكُنْتُ أُرِيدُ أَنْ أَتَعَرَّضَ لِلْأَجْرِ . وَتُبْكِينِي خَصْلَةٌ أُخْرَى : كُنْتُ أُرِيدُ أَنْ أَتَعَرَّضَ لِفَضْلِ اللَّهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَمَّا قَوْلُكَ : تَقُولُ قُرَيْشٌ : مَا أَسْرَعَ مَا تَخَلَّفَ عَنِ ابْنِ عَمِّهِ وَخَذَلَهُ ; فَإِنَّ لَكَ بِي أُسْوَةً ، قَدْ قَالُوا : سَاحِرٌ وَكَاهِنٌ وَكَذَّابٌ . وَأَمَّا قَوْلُكَ : أَتَعَرَّضُ لِلْأَجْرِ مِنَ اللَّهِ ; أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى ؟ إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي ، وَأَمَّا قَوْلُكَ : أَتَعَرَّضُ لِفَضْلِ اللَّهِ ; فَهَذَانِ بَهَارَانِ مِنْ فُلْفُلٍ جَاءَنَا مِنَ الْيَمَنِ ، فَبِعْهُ وَاسْتَمْتِعْ بِهِ أَنْتَ وَفَاطِمَةُ حَتَّى يَأْتِيَكُمَا اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ حَكِيمُ بْنُ جُبَيْرٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ میں شرکت کا ارادہ کیا ، تو آپ نے سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کو بلایا اور انہیں یہ حکم دیا کہ وہ مدینہ منورہ میں آپ کے نائب کے طور پر رہیں ، تو انہوں نے عرض کی : میں آپ سے پیچھے کبھی نہیں رہوں گا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیغام بھیج کر مجھے بلایا اور میرے ساتھ کوئی بات کرنے سے پہلے تاکید کی کہ میں آپ کی جگہ پیچھے رہوں ، تو میں رو پڑا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم کیوں رو رہے ہو ؟ میں نے عرض کی : مجھے ایک سے زیادہ باتوں کی وجہ سے رونا آ رہا ہے ، کل کو قریش یہ کہیں گے کہ اس نے اپنے چچازاد کو کتنی جلدی چھوڑ دیا اور خود پیچھے رہ گیا ، اور انہیں رسوائی کا شکار کر دیا ، ایک اور بات مجھے رونے پر مجبور کر رہی ہے کہ میں یہ چاہتا تھا کہ خود کو اللہ کی راہ میں جہاد کے لئے پیش کروں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ” انہوں نے جس بھی ایسی جگہ پر قدم رکھا کہ جس کے ذریعے وہ کفار کو غیظ و غضب کا شکار کریں ، اور انہوں نے دشمن کو جو بھی نقصان پہنچایا ، تو اس کے بدلے میں ان کے لیے نیک عمل نوٹ کیا جاتا ہے ، بیشک اللہ تعالیٰ نیکی کرنے والوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا ہے ۔ “ تو میں یہ چاہتا تھا کہ خود کو اجر کے لئے پیش کروں اور ایک اور بات بھی مجھے رلا رہی ہے کہ میں یہ چاہتا تھا کہ میں اللہ تعالیٰ کا فضل حاصل کرنے کی کوشش کروں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جہاں تک تمہاری اس بات کا تعلق ہے کہ قریش یہ کہیں گے کہ یہ اپنے چچازاد سے کتنی جلدی پیچھے رہ گیا ، اور اس نے انہیں رسوا کر دیا ، تو تمہارے لئے میری ذات میں نمونہ ہے ۔ انہوں نے ( مجھے بھی تو ) یہ کہا: ہے کہ یہ جادوگر ہیں ۔ یہ کاہن ہیں ۔ یہ کذاب ہیں ، جہاں تک تمہاری اس بات کا تعلق ہے کہ میں اللہ کی طرف سے ملنے والا اجر حاصل کرنا چاہتا ہوں تو کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تمہاری مجھ سے وہ نسبت ہو جو سیدنا ہارون علیہ السلام کی سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے تھی ، البتہ یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا ، جہاں تک تمہاری اس بات کا تعلق ہے کہ میں اللہ کا فضل حاصل کرنا چاہتا ہوں ، تو یہ اناج کے دو اونٹوں کے وزن جتنا سامان ہے ، جو یمن سے ہمارے پاس آیا ہے ، تم اسے فروخت کر کے اس سے نفع حاصل کرو ، تم اور فاطمہ اسے استعمال کرو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ تم دونوں کے پاس اپنے فضل میں سے مزید کوئی چیز لے آئے گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حکیم بن جبیر ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حکیم بن جبیر ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 14649
عَنْ عَلِيٍّ قَالَ : وَجِعْتُ وَجَعًا ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَقَامَنِي فِي مَكَانِهِ ، وَقَامَ يُصَلِّي وَأَلْقَى عَلَيَّ طَرَفَ ثَوْبِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " قَدْ بَرِئْتَ يَا ابْنَ أَبِي طَالِبٍ ، لَا بَأْسَ عَلَيْكَ . مَا سَأَلْتُ اللَّهَ شَيْئًا إِلَّا سَأَلْتُ لَكَ مِثْلَهُ ، وَلَا سَأَلْتُ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - شَيْئًا إِلَّا أَعْطَانِيهِ غَيْرَ أَنَّهُ قِيلَ لِي : لَا نَبِيَّ بَعْدَكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنِ اخْتُلِفَ فِيهِمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مجھے تکلیف لاحق ہوئی ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے پاس کھڑا کیا اور پھر آپ کھڑے ہو کر نماز ادا کرنے لگے ، آپ نے اپنے کپڑے کا ایک حصہ مجھ پر ڈال دیا ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ” اے ابن ابوطالب تم ٹھیک ہو گئے ہو تم پر کوئی حرج نہیں ہے ، میں نے اللہ تعالیٰ سے جو بھی چیز مانگی ، تمہارے لئے بھی اس کی مانند چیز مانگی اور میں نے اللہ تعالیٰ سے جو بھی چیز مانگی وہ اس نے مجھے عطا کر دی ، البتہ مجھے یہ کہا: گیا کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 14650
وَعَنْ عَلِيٍّ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " خَلَّفْتُكَ أَنْ تَكُونَ خَلِيفَتِي " . قَالَ : أَتَخَلَّفُ عَنْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى ؟ إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں تمہیں اس لئے پیچھے چھوڑ رہا ہوں تاکہ تم میرے نائب بن جاؤ ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں آپ سے پیچھے رہ جاؤں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تمہاری مجھ سے وہی نسبت ہو جو سیدنا ہارون علیہ السلام کی سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے تھی البتہ یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 14651
وَعَنْ جَابِرٍ - يَعْنِي ابْنِ سَمُرَةَ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِعَلِيٍّ : " أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي " . . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ نَاصِحٌ الْحَائِكُ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا : ” تمہاری مجھ سے وہی نسبت ہے جو سیدنا ہارون علیہ السلام کی سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے تھی البتہ یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ناصح حائک ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ناصح حائک ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 14652
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِعَلِيٍّ : " أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ضِرَارُ بْنُ صُرَدَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا : ” تمہاری مجھ سے وہی نسبت ہے ، جو سیدنا ہارون علیہ السلام کی سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے تھی ، البتہ یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ضرار بن صرد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ضرار بن صرد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 14653
وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِعَلِيٍّ حِينَ أَرَادَ أَنْ يَغْزُوَ : " إِنَّهُ لَا بُدَّ مِنْ أَنْ أُقِيمَ أَوْ تُقِيمَ " . فَخَلَّفَهُ . فَقَالَ نَاسٌ : مَا خَلَّفَهُ إِلَّا شَيْءٌ كَرِهَهُ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ عَلِيًّا ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ ، فَتَضَاحَكَ ثُمَّ قَالَ : " يَا عَلِيُّ ، أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى ؟ إِلَّا أَنَّهُ لَيْسَ نَبِيٌّ بَعْدِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، فِي أَحَدِهِمَا : مَيْمُونٌ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْبَصْرِيُّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ اور سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب جنگ میں حصہ لینے کا ارادہ کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا : ” یہ بات ضروری ہے کہ یا میں مقیم ہو جاؤں یا تم مقیم رہو ۔ “ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے چھوڑ دیا ، کچھ لوگوں نے یہ کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس لئے پیچھے چھوڑا ہے کہ کوئی ایسی بات ہوئی ہو گی جو آپ کو ناپسند ہو گی ، جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اس بات کی اطلاع ملی تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور اس بارے میں اطلاع دی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ” اے علی ! کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تمہاری مجھ سے وہی نسبت ہو جو سیدنا ہارون علیہ السلام کی سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے تھی ، البتہ یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک سند میں ایک راوی میمون ابوعبداللہ بصری ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک سند میں ایک راوی میمون ابوعبداللہ بصری ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 14654
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأُمِّ سَلَمَةَ : " هَذَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ لَحْمُهُ لَحْمِي وَدَمُهُ دَمِي ، فَهُوَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعُرَنِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے ارشاد فرمایا : ” یہ علی بن ابوطالب ہے اس کا گوشت میرا گوشت ہے ، اور یہ مجھ سے وہی نسبت رکھتا ہے جو سیدنا ہارون علیہ السلام کی سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے تھی البتہ یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی حسن بن حسین عرنی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی حسن بن حسین عرنی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔