کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اس شخص کا بیان ، جس نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کیا
حدیث نمبر: 14581
عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ قَالَ : قَتَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الْفَتْحِ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ صَبْرًا ، ثُمَّ قَالَ : " لَا يُقْتَلُ قُرَشِيٌّ بَعْدَ هَذَا الْيَوْمِ صَبْرًا إِلَّا رَجُلًا قَتَلَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ، فَاقْتُلُوهُ فَإِنْ لَا تَفْعَلُوا تُقْتَلُوا قَتْلَ الشَّاةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ ، وَقَالَا : لَا يُرْوَى عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ أَبُو خَيْثَمَةَ مُصْعَبُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَفِي إِسْنَادِ الْبَزَّارِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَبِيبٍ ، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : فتح مکہ کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو باندھ کر قتل کر دیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” آج کے دن کے بعد کسی قریشی کو باندھ کر قتل نہیں کیا جائے گا البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے جو عثمان کو قتل کرے گا ، تم لوگ اس کو قتل کر دینا ، اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو تمہیں بھیڑ بکریوں کی طرح قتل کر دیا جائے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں نے یہ بات بیان کی ہے ،
یہ روایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے ، امام طبرانی کی سند میں ایک راوی ابوخیثمہ مصعب بن سعید ہے ، اور امام بزار کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن شبیب ہے ، اور یہ دونوں ضعیف ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14581
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2518) أخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1674)»