کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے معاملے کا بیان اور ان کی وفات کا بیان

مجمع الزوائد ومنبع الفوائد

بَابٌ فِيمَا كَانَ مِنْ أَمْرِهِ ، وَوَفَاتِهِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ . 14536 عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوَالَةَ قَالَ : أَتَيْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ دَوْمَةٍ وَعِنْدَهُ كَاتِبٌ يُمْلِي عَلَيْهِ ، فَقَالَ : " أَلَا أَكْتُبُكَ يَا ابْنَ حَوَالَةَ ؟ " . قُلْتُ : لَا أَدْرِي ، مَا خَارَ اللَّهُ لِي وَرَسُولُهُ فَأَعْرَضَ عَنِّي ، وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ مَرَّةً : فَأَكَبَّ يُمْلِي عَلَيْهِ - ثُمَّ قَالَ : " أَنَكْتُبُكَ يَا ابْنَ حَوَالَةَ ؟ " . قُلْتُ : لَا أَدْرِي ، مَا خَارَ اللَّهُ لِي وَرَسُولُهُ ، فَأَعْرَضَ عَنِّي ، وَأَكَبَّ عَلَى كَاتِبِهِ يُمْلِي عَلَيْهِ . قَالَ : فَنَظَرْتُ فَإِذَا فِي الْكِتَابِ عُمَرُ ، فَعَرَفْتُ أَنَّ عُمَرَ لَا يُكْتَبُ إِلَّا فِي خَيْرٍ . ثُمَّ قَالَ : " أَنَكْتُبُكَ يَا ابْنَ حَوَالَةَ ؟ " . قُلْتُ : نَعَمْ قَالَ : " يَا ابْنَ حَوَالَةَ ، كَيْفَ نَفْعَلُ فِي فِتَنٍ تَخْرُجُ مِنْ أَطْرَافِ الْأَرْضِ كَأَنَّهَا صَيَاصِيِّ بَقَرٍ ؟ " . قُلْتُ : لَا أَدْرِي ، مَا خَارَ اللَّهُ لِي وَرَسُولُهُ ، [ قَالَ : وَكَيْفَ تَفْعَلُ فِي أُخْرَى تَخْرُجُ بَعْدَهَا كَأَنَّ الْأُولَى فِيهَا انْتِفَاخَةُ أَرْنَبٍ ؟ قُلْتُ : لَا أَدْرِي ، مَا خَارَ اللُّهُ لِي وَرَسُولُهُ ] . قَالَ : " اتَّبِعُوا هَذَا " . وَرَجُلٌ مُقَفٍّ حِينَئِذٍ ، فَانْطَلَقْتُ فَسَعَيْتُ فَأَخَذْتُ بِمَنْكِبِهِ ، فَأَقْبَلْتُ بِوَجْهِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قُلْتُ : هَذَا ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ . باب: حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے معاملے کا بیان اور ان کی وفات کا بیان
حدیث نمبر: 14536
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوَالَةَ قَالَ : أَتَيْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ دَوْمَةٍ وَعِنْدَهُ كَاتِبٌ يُمْلِي عَلَيْهِ ، فَقَالَ : " أَلَا أَكْتُبُكَ يَا ابْنَ حَوَالَةَ ؟ " . قُلْتُ : لَا أَدْرِي ، مَا خَارَ اللَّهُ لِي وَرَسُولُهُ فَأَعْرَضَ عَنِّي ، وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ مَرَّةً : فَأَكَبَّ يُمْلِي عَلَيْهِ - ثُمَّ قَالَ : " أَنَكْتُبُكَ يَا ابْنَ حَوَالَةَ ؟ " . قُلْتُ : لَا أَدْرِي ، مَا خَارَ اللَّهُ لِي وَرَسُولُهُ ، فَأَعْرَضَ عَنِّي ، وَأَكَبَّ عَلَى كَاتِبِهِ يُمْلِي عَلَيْهِ . قَالَ : فَنَظَرْتُ فَإِذَا فِي الْكِتَابِ عُمَرُ ، فَعَرَفْتُ أَنَّ عُمَرَ لَا يُكْتَبُ إِلَّا فِي خَيْرٍ . ثُمَّ قَالَ : " أَنَكْتُبُكَ يَا ابْنَ حَوَالَةَ ؟ " . قُلْتُ : نَعَمْ قَالَ : " يَا ابْنَ حَوَالَةَ ، كَيْفَ نَفْعَلُ فِي فِتَنٍ تَخْرُجُ مِنْ أَطْرَافِ الْأَرْضِ كَأَنَّهَا صَيَاصِيِّ بَقَرٍ ؟ " . قُلْتُ : لَا أَدْرِي ، مَا خَارَ اللَّهُ لِي وَرَسُولُهُ ، [ قَالَ : وَكَيْفَ تَفْعَلُ فِي أُخْرَى تَخْرُجُ بَعْدَهَا كَأَنَّ الْأُولَى فِيهَا انْتِفَاخَةُ أَرْنَبٍ ؟ قُلْتُ : لَا أَدْرِي ، مَا خَارَ اللُّهُ لِي وَرَسُولُهُ ] . قَالَ : " اتَّبِعُوا هَذَا " . وَرَجُلٌ مُقَفٍّ حِينَئِذٍ ، فَانْطَلَقْتُ فَسَعَيْتُ فَأَخَذْتُ بِمَنْكِبِهِ ، فَأَقْبَلْتُ بِوَجْهِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قُلْتُ : هَذَا ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن حوالہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ اس وقت ایک درخت کے سائے میں موجود تھے ، آپ کے پاس ایک کاتب موجود تھا ، جس کو آپ املاء کروا رہے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ابن حوالہ ! کیا میں تمہارے لئے کوئی چیز نہ لکھواؤں ؟ میں نے عرض کی : مجھے نہیں پتہ ، اللہ اور اس کا رسول میرے لئے جو اختیار کریں گے ، وہی میرے لئے بہتر ہو گا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منہ پھیر لیا ، اسماعیل نامی راوی نے ایک مرتبہ یہ الفاظ نقل کیے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص کو املاء کروانے لگے ، پھر آپ نے دریافت کیا : اے ابن حوالہ ! کیا میں تمہارے لئے کوئی چیز تحریر نہ کرواؤں ؟ میں نے عرض کی : مجھے نہیں معلوم ، اللہ اور اس کا رسول میرے لئے جو اختیار کریں گے ، وہی ٹھیک ہو گا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے منہ پھیر لیا اور آپ اپنے پاس لکھنے والے فرد کو املاء کرواتے رہے ، راوی کہتے ہیں : میں نے جائزہ لیا تو اس تحریر میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ذکر بھی تھا ، مجھے اندازہ ہو گیا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ذکر صرف بھلائی کے حوالے سے ہی ہو گا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے ابن حوالہ ! کیا میں تمہارے لئے کوئی چیز نہ لکھواؤں ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ابن حوالہ ! تم فتنوں کے زمانے میں کیا کرو گے کہ جب وہ زمین کے اطراف سے یوں نکلیں گے ، جس طرح گائے کے سینگ ہوتے ہیں ، میں نے عرض کی : مجھے نہیں معلوم ! اللہ اور اس کا رسول میرے لئے جو اختیار کریں گے ( وہی ٹھیک ہو گا ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس وقت تم کیا کرو گے کہ جب پہلے والے کے بعد ایک اور فتنہ آئے گا ، اور وہ دوسرا فتنہ جو ہو گا ، اس کے مقابلے میں پہلا فتنہ یوں ہو گا جیسے کسی خرگوش نے چھلانگ لگائی ہو ، میں نے عرض کی : مجھے نہیں معلوم ، اللہ اور اس کا رسول میرے لئے جو اختیار کریں گے ( وہی ٹھیک ہو گا ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس شخص کی پیروی کرنا ، اس وقت وہاں سے ایک صاحب گزرے جنہوں نے چہرہ ڈھانپا ہوا تھا ، میں دوڑتا ہوا گیا ۔ میں نے ان صاحب کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور ان کا چہرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرواتے ہوئے دریافت کیا : ان کے ساتھ ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : جی ہاں ! تو وہ فرد سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ تھے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14536
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 14537
وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ قَالَ : بَيْنَا نَحْنُ مُعَسْكِرِينَ مَعَ مُعَاوِيَةَ بَعْدَ قَتْلِ عُثْمَانَ ، فَقَامَ مُرَّةُ بْنُ كَعْبٍ الْبَهْزِيُّ فَقَالَ : أَنَا وَاللَّهِ لَوْلَا شَيْءٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا قُمْتُ هَذَا الْمَقَامَ . فَلَمَّا سَمِعَ مُعَاوِيَةُ ذِكْرَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَجْلَسَ النَّاسَ قَالَ : بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جُلُوسٌ إِذْ مَرَّ بِنَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ مُتَرَجِّلًا مُعْدِقًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَتَخْرُجَنَّ فِتْنَةٌ مِنْ تَحْتِ رِجْلَيْ - أَوْ مِنْ تَحْتِ قَدَمَيْ - هَذَا ، وَمَنِ اتَّبَعَهُ يَوْمَئِذٍ عَلَى الْهُدَى " . فَقُمْتُ حَتَّى أَخَذْتُ بِمَنْكِبَيْ عُثْمَانَ حَتَّى بَيَّنْتُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : هَذَا ؟ قَالَ : " نَعَمْ هَذَا ، وَمَنِ اتَّبَعَهُ يَوْمَئِذٍ عَلَى الْهُدَى " . ¤ فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَوَالَةَ الْأَزْدِيُّ مِنْ عِنْدِ الْمِنْبَرِ ، فَقَالَ : إِنَّكَ لَصَاحِبُ هَذَا ؟ قَالَ : نَعَمْ قَالَ : أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي حَاضِرٌ ذَلِكَ الْمَجْلِسَ ، وَلَوْ كُنْتُ أَعْلَمُ أَنَّ لِي فِي الْجَيْشِ مُصَدِّقًا لَكُنْتُ أَوَّلَ مَنْ تَكَلَّمَ بِهِ . ¤ قُلْتُ : حَدِيثُ مُرَّةَ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
جبیر بن نفیر بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ معسکرین میں موجود تھے ، یہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد کی بات ہے ، تو سیدنا مرہ بن کعب بہزی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور بولے : اللہ کی قسم ! اگر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی ایک بات نہ سنی ہوئی ہوتی تو میں نے اس جگہ پر کھڑے نہیں ہونا تھا ، جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات سنی کہ وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کر رہے ہیں ، تو انہوں نے لوگوں کو بٹھایا ، پھر سیدنا مرہ بن کعب رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، اسی دوران سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ہمارے پاس سے گزرے ، انہوں نے کنگھی کی ہوئی تھی اور بالوں کو جمع کیا ہوا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عنقریب میرے دونوں پاؤں کے نیچے سے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) میرے دونوں قدموں کے نیچے سے ( یعنی اس سرزمین پہ ) ایک فتنہ نکلے گا ، اس وقت یہ شخص اور اس کی پیروی کرنے والے لوگ ہدایت پر ہوں گے ، راوی کہتے ہیں : میں اٹھا ، میں نے اٹھ کر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دونوں کندھے پکڑے اور انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پھیر کر میں نے دریافت کیا : یہ صاحب ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! یہ اور جو اس کی پیروی کرے گا ، وہ اس وقت ہدایت پر ہوں گے ۔ “ تو سیدنا عبدالله بن حوالہ ازدی رضی اللہ عنہ منبر کے قریب تھے ، وہ کھڑے ہوئے ، انہوں نے کہا: آپ ان کے ساتھی ہیں ، انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ، تو سیدنا عبداللہ بن حوالہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم ! میں بھی اس محفل میں موجود تھا ، اگر مجھے اس بات کا علم ہوتا کہ اس لشکر میں کوئی میری بات کی تصدیق کرنے والا ہو گا ، تو میں اس بارے میں سب سے پہلے کلام کرتا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں سیدنا مرہ بن کعب رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث کو امام ترمذی نے بھی روایت کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14537
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (316/20)»
حدیث نمبر: 14538
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ أَصَبْتُمُ اسْمَهُ . عُمَرُ قَرْنٌ مِنْ حَدِيدٍ . عُثْمَانُ ذُو النُّورَيْنِ أَصَبْتُمُ اسْمَهُ ، قُتِلَ مَظْلُومًا ، أُوتِيَ كِفْلَيْنِ مِنَ الْأَجْرِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرُ عُقْبَةَ بْنِ أَوْسٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ” صدیق “ تھے ، تم نے ان کا ٹھیک نام رکھا ہے ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ لوہے کا بنا ہوا سینگ تھے ۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ” دو نوروں والے “ تھے ، تم نے ان کا ٹھیک نام رکھا ہے ۔ وہ مظلوم ہونے کے طور پر قتل ہوئے اور انہیں اجر کے دو قفل دیے جائیں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ، صرف عقبہ بن اوس کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14538
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (139)»
حدیث نمبر: 14539
وَعَنْ حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَنَّهَا كَانَتْ قَاعِدَةً وَعَائِشَةُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَدِدْتُ أَنَّ مَعِي بَعْضَ أَصْحَابِي نَتَحَدَّثُ " . فَقَالَتْ عَائِشَةُ : أُرْسِلُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ يَتَحَدَّثُ مَعَكَ ؟ قَالَ : " لَا " . قَالَتْ حَفْصَةُ : أُرْسِلُ إِلَى عُمَرَ يَتَحَدَّثُ مَعَكَ ؟ قَالَ : " لَا ، وَلَكِنْ أُرْسِلُ إِلَى عُثْمَانَ " . ¤ فَجَاءَ عُثْمَانُ فَدَخَلَ ، فَقَامَتَا فَأَرْخَتَا السِّتْرَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِعُثْمَانَ : " إِنَّكَ مَقْتُولٌ مُسْتَشْهَدٌ ، فَاصْبِرْ صَبَّرَكَ اللَّهُ ، وَلَا تَخْلَعَنَّ قَمِيصًا قَمَّصَكَهُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - ثِنْتَيْ عَشْرَةَ سَنَةً وَسِتَّةَ أَشْهُرٍ حَتَّى تَلْقَى اللَّهَ ، وَهُوَ عَنْكَ رَاضٍ " . قَالَ عُثْمَانُ : إِنْ دَعَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِي بِالصَّبْرِ ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ صَبِّرْهُ " . فَخَرَجَ عُثْمَانُ ، فَلَمَّا أَدْبَرَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " صَبَّرَكَ اللَّهُ ; فَإِنَّكَ سَوْفَ تُسْتَشْهَدُ وَتَمُوتُ وَأَنْتَ صَائِمٌ ، وَتُفْطِرُ مَعِي " . ¤
محمد محی الدین
سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ہیں ، ان کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ایک مرتبہ وہ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میری یہ خواہش ہے کہ میرے ساتھ میرا کوئی صحابی ہوتا ، جس کے ساتھ ہم بات چیت کرتے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیج کر بلواتی ہوں ، وہ آپ کے ساتھ بات کر لیں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ۔ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیج دیتی ہوں ، وہ آپ کے ساتھ بات چیت کر لیں گے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ، میں عثمان کو پیغام بھیجتا ہوں ، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ آئے وہ اندر آنے لگے ، تو یہ دونوں خواتین اٹھیں اور انہوں نے پردہ گرا دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے فرمایا : تم قتل کیے جاؤ گے ، اور شہید کیے جاؤ گے ، تم صبر سے کام لینا ، اللہ تعالیٰ تمہیں صبر عطا کرے اور تم اس قمیص کو نہ اتارنا جو قمیص اللہ تعالیٰ نے تمہیں پہنائی ہے ، وہ قمیص تمہیں بارہ سال چھ ماہ تک پہنائی رکھی جائے گی ، یہاں تک کہ تم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو جاؤ گے ، تو اللہ تعالیٰ تم سے راضی ہو گا ۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اگر اللہ کے نبی میرے لئے صبر کی دعا کریں تو مناسب ہو گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ ! تو اسے صبر عطا فرمانا ، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ وہاں سے نکلے اور چلے گئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہی کہتے رہے ، اللہ تعالیٰ تمہیں صبر عطا کرے اور تم جام شہادت نوش کر لو گے ، اور تم ایسی حالت میں مرو گے کہ تم نے روزہ رکھا ہوا ہو گا ، اور تم افطار میرے ساتھ کرو گے ۔ “
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14539
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (7045)»
حدیث نمبر: 14540
قَالَ إِبْرَاهِيمُ : وَحَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، حَدَّثَتْهُ مِثْلَ ذَلِكَ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَاللَّفْظُ لَهُ ، وَفِي إِسْنَادِ أَبِي يَعْلَى إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
ابراہیم بیان کرتے ہیں : میرے والد نے مجھے عبدالرحمن بن ابوبکر کے حوالے سے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت بیان کی ہے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی اس کی مانند حدیث نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں ، امام ابویعلیٰ کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن عمر بن عثمان عثمانی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14540
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (7046)»
حدیث نمبر: 14541
وَعَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجِسْرِيِّ قَالَ : دَخَلَتْ عَلَى عَائِشَةَ وَعِنْدَهَا حَفْصَةُ بِنْتُ عُمَرَ ، فَقَالَتْ لِي : هَذِهِ حَفْصَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ أَقْبَلَتْ عَلَيْهَا ، فَقَالَتْ : أَنْشُدُكِ اللَّهَ أَنْ تُصَدِّقِينِي بِكَذِبٍ ، أَوْ تُكَذِّبِينِي بِصِدْقٍ [ قُلْتِهِ ] : تَعْلَمِينَ أَنِّي كُنْتُ أَنَا وَأَنْتِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ ، فَقُلْتُ لَكِ : أَتَرَيْنَهُ قَدْ قُبِضَ ؟ قُلْتِ : لَا أَدْرِي ، ثُمَّ أَفَاقَ قَالَ : " افْتَحُوا لَهُ الْبَابَ " . ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ ، فَقُلْتُ لَكِ : أَتَرَيْنَهُ قَدْ قُبِضَ ؟ قُلْتِ : لَا أَدْرِي ، ثُمَّ أَفَاقَ قَالَ : " افْتَحُوا لَهُ الْبَابَ " فَقُلْتُ لَكِ : أَبِي أَوْ أَبُوكِ ؟ قُلْتِ : لَا أَدْرِي ، فَفَتَحْنَا لَهُ الْبَابَ فَإِذَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ ، فَلَمَّا رَآهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " ادْنُهْ " . فَأَكَبَّ عَلَيْهِ فَسَارَّهُ بِشَيْءٍ لَا أَدْرِي أَنَا وَأَنْتِ مَا هُوَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ، فَقَالَ : " أَفَهِمْتَ مَا قُلْتُ لَكَ ؟ " . قَالَ : نَعَمْ . ¤ قَالَ : " ادْنُهْ " . فَأَكَبَّ عَلَيْهِ أُخْرَى مِثْلَهَا ، فَسَارَّهُ بِشَيْءٍ لَا نَدْرِي مَا هُوَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ، فَقَالَ : " أَفَهِمَتْ مَا قُلْتُ لَكَ ؟ " . قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : " ادْنُهْ " . فَأَكَبَّ عَلَيْهِ إِكْبَابًا شَدِيدًا فَسَارَّهُ بِشَيْءٍ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ، فَقَالَ : " أَفَهِمْتَ مَا قُلْتُ لَكَ ؟ " . قَالَ : [ نَعَمْ ] سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ ، وَوَعَاهُ قَلْبِي . فَقَالَ لَهُ : " اخْرُجْ " . قَالَ : فَقَالَتْ حَفْصَةُ : اللَّهُمَّ نَعَمْ - أَوْ قَالَتْ : اللَّهُمَّ صِدْقٌ - . ¤ قُلْتُ : لِعَائِشَةَ وَحْدَهَا حَدِيثٌ عِنْدَ ابْنِ مَاجَهْ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ . ¤ رَوَاهُ كُلُّهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ ، وَزَادَ : فَقَالَ : " يَا عُثْمَانُ ، عَسَى أَنْ يُقَمِّصَكَ اللَّهُ قَمِيصًا ، فَانْ أَرَادَكَ الْمُنَافِقُونَ عَلَى خَلْعِهِ فَلَا تَخْلَعْهُ " . ثَلَاثَ مَرَّاتٍ . فَقَالَ لَهَا النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، أَيْنَ كُنْتِ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ ؟ فَقَالَتْ : نَسِيتُهُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ حَتَّى قُتِلَ الرَّجُلُ . ¤
محمد محی الدین
ابوعبداللہ جسری بیان کرتے ہیں : میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا ان کے پاس سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما بھی موجود تھیں ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے فرمایا : یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا ہیں ، پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کی طرف متوجہ ہوئیں اور بولیں : میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر یہ کہتی ہوں کہ اگر میں غلط بیان کروں ، تو آپ یہ بھی بتا دیں اور اگر میں سچ بولوں تو آپ یہ بھی بتا دیں ، پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: کیا آپ یہ بات جانتی ہیں کہ میں اور آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر بے ہوشی طاری ہوئی ، میں نے آپ سے دریافت کیا : کیا آپ کے خیال میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا ہے ، تو آپ نے کہا: مجھے نہیں معلوم ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوش آ گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ اس کے لئے دروازہ کھول دو ، پھر آپ پر بے ہوشی طاری ہوئی ، پھر میں نے تم سے یہ دریافت کیا کہ تم یہ سمجھتی ہو کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا ہے ، تو تم نے کہا: مجھے نہیں معلوم ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوش آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کے لئے دروازہ کھول دو ، تو میں نے تم سے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد میرے والد ہیں یا تمہارے والد ہیں ؟ تو تم نے کہا: مجھے نہیں معلوم ، ہم نے دروازہ کھول دیا ، تو سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ موجود تھے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ملاحظہ فرمایا تو آپ نے فرمایا : قریب آ جاؤ ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جھک گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سرگوشی میں کوئی بات چیت کی ، مجھے نہیں معلوم اور تمہیں بھی نہیں معلوم کہ وہ بات کیا تھی ؟ پھر انہوں نے سر اٹھایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : میں نے جو تمہیں کہا: ہے کیا تمہیں سمجھ آ گئی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قریب ہو جاؤ ، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ دوسری مرتبہ اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جھک گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر سرگوشی میں کوئی بات چیت کی ، جس کا ہمیں پتہ نہیں چل سکا کہ وہ کیا ہے ؟ پھر انہوں نے سر اٹھایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے جو تمہیں کہا: ہے ، کیا وہ تم سمجھ گے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم قریب ہو جاؤ ، تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر زیادہ جھک گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر سرگوشی میں کوئی بات چیت کی ، پھر انہوں نے سر اٹھایا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے جو تم سے کہا: ہے ، کیا تم سمجھ گے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ، میں نے اپنے کانوں سے اسے سن لیا ہے ، اور میرے دل نے اسے محفوظ کر لیا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : تم چلے جاؤ ! سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا : اللہ جانتا ہے ، ایسا ہی ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) انہوں نے فرمایا : اے اللہ ! اس نے سچ کہا: ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول حدیث امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے ، جو اس سیاق کے بغیر ہے ۔ یہ تمام روایات امام أحمد نے نقل کی ہیں ۔ امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ، اور یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے عثمان اللہ تعالیٰ تمہیں عنقریب ایک قمیص پہنائے گا ، جب منافقین اسے اتروانے کا ارادہ کریں ، تو تم اسے نہ اتارنا ۔ “ یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: اے ام المؤمنین ! تو آپ اس حدیث سے کہاں غافل رہیں ؟ تو انہوں نے فرمایا : رب کعبہ کی قسم ! میں اسے بھول گئی تھی ، یہاں تک کہ وہ صاحب قتل ہو گئے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14541
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (263/6)»
حدیث نمبر: 14542
وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَ الطَّبَرَانِيِّ أَيْضًا : فَمَا فَجَأَنِي إِلَّا وَعُثْمَانُ جَاثٍ عَلَى رُكْبَتَيْهِ قَائِلًا : أَظُلْمًا وَعُدْوَانًا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَحَسِبْتُ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ بِقَتْلِهِ . وَأَحَدُ إِسْنَادَيِ الطَّبَرَانِيِّ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی کی نقل کردہ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : تو اسی وقت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ گھٹنوں کے بل کھڑے ہو گئے اور وہ یہ کہہ رہے تھے : یا رسول اللہ ! کیا وہ ظلم کے طور پر اور سرکشی کے طور پر ہو گا ؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میرا یہ اندازہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ بات بتائی تھی کہ وہ قتل کر دیے جائیں گے ۔ امام طبرانی کی اسناد میں سے ایک سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14542
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 14543
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ : أَنَّ رَجُلًا بِالْكُوفَةِ شَهِدَ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ قُتِلَ شَهِيدًا ، فَأَخَذَتْهُ الزَّبَانِيَةُ ، فَرَفَعُوهُ إِلَى أَعْلَى ، وَقَالُوا : لَوْلَا أَنْ تَنْهَانَا أَوْ نُهِينَا أَلَّا نَقْتُلَ أَحَدًا لَقَتَلْنَاهُ ، زَعَمَ إِنَّهُ يَشْهَدُ أَنَّ عُثْمَانَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قُتِلَ شَهِيدًا . فَقَالَ الرَّجُلُ لِعَلِيٍّ : وَأَنْتَ تَشْهَدُ أَنَّهُ شَهِيدٌ ! ! أَتَذْكُرُ أَنِّي أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَأَلْتُهُ ، فَأَعْطَانِي ، وَأَتَيْتُ أَبَا بَكْرٍ فَسَأَلْتُهُ ، فَأَعْطَانِي ، وَأَتَيْتُ عُمَرَ فَسَأَلْتُهُ ، فَأَعْطَانِي ، وَأَتَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ فَسَأَلْتُهُ ، فَأَعْطَانِي ؟ قَالَ : فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهُ أَنْ يُبَارِكَ لِي ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كَيْفَ لَا يُبَارِكُ لَكَ وَأَعْطَاكَ نَبِيٌّ وَصِدِّيقٌ وَشَهِيدَانِ ، وَأَعْطَاكَ نَبِيٌّ وَصِدِّيقٌ وَشَهِيدَانِ ، وَأَعْطَاكَ نَبِيٌّ وَصِدِّيقٌ وَشَهِيدَانِ ؟ ! " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں : کوفہ میں ایک شخص اس بات کی گواہی دیتا تھا کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو شہید ہونے کے طور پر قتل کیا گیا ہے ، سپاہیوں نے اسے پکڑ لیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس لے آئے ، لوگوں نے کہا: اگر آپ نے ہمیں منع نہ کیا ہوتا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) ہمیں اس بات سے منع نہ کیا گیا ہوتا کہ ہم نے کسی کو قتل نہیں کرنا ، تو ہم نے اس شخص کو قتل کر دینا تھا ، اس کا یہ کہنا ہے کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ شہید ہونے کے طور پر قتل ہوئے تھے ، تو ایک شخص نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ بھی اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ وہ شہید تھے ، کیا آپ کو یہ بات یاد ہے کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مانگا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دے دیا ، پھر میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، میں نے ان سے مانگا ، تو انہوں نے بھی مجھے دے دیا ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، ان سے مانگا ، تو انہوں نے بھی مجھے دے دیا ، پھر میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، ان سے مانگا ، انہوں نے بھی مجھے دے دیا ، پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ میرے لئے برکت نصیب کرے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تمہیں برکت کیسے نصیب نہیں ہو گی جبکہ تمہیں ایک نبی نے ایک صدیق نے اور دو شہیدوں نے دیا ہے ۔ تمہیں ایک نبی ایک صدیق اور دو شہیدوں نے دیا ہے ، تمہیں ایک نبی ایک صدیق اور دو شہیدوں نے دیا ہے ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14543
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (1601)»
حدیث نمبر: 14544
وَعَنْ أَسْلَمَ - مَوْلَى عُمَرَ - قَالَ : شَهِدْتُ عُثْمَانَ يَوْمَ حُوصِرَ فِي مَوْضِعِ الْجَنَائِزِ ، وَلَوْ أُلْقِيَ حَجَرٌ لَمْ يَقَعْ إِلَّا عَلَى رَأْسِ رَجُلٍ ، فَرَأَيْتُ عُثْمَانَ أَشْرَفَ مِنَ الْخَوْخَةِ الَّتِي [ تَلِي ] مَقَامَ جِبْرِيلَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَقَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، أَنَبِيُّكُمْ طَلْحَةُ ؟ فَسَكَتُوا ، ثُمَّ قَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، أَفِيكُمْ طَلْحَةُ ؟ فَسَكَتُوا ، ثُمَّ قَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، أَفِيكُمْ طَلْحَةُ ؟ فَقَامَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ : أَلَا أَرَاكَ هَاهُنَا ، مَا كُنْتُ أَرَى أَنَّكَ [ تَكُونُ ] فِي جَمَاعَةِ قَوْمٍ يَسْمَعُونَ نِدَائِي آخِرَ ثَلَاثِ مَرَّاتٍ ثُمَّ لَا تُجِيبُنِي ! ! أَنْشُدُكَ اللَّهَ يَا طَلْحَةُ ، أَتَذْكُرُ يَوْمَ كُنْتُ أَنَا وَأَنْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَوْضِعِ كَذَا وَكَذَا ، لَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِهِ غَيْرِي وَغَيْرَكَ قَالَ [ : نَعَمْ ، فَقَالَ ] لَكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا طَلْحَةُ ، إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا مَعَهُ مِنْ أَصْحَابِهِ رَفِيقٌ مِنْ أُمَّتِهِ [ مَعَهُ ] فِي الْجَنَّةِ ، وَإِنَّ عُثْمَانَ هَذَا " - يَعْنِينِي - " رَفِيقِي فِي الْجَنَّةِ " . قَالَ طَلْحَةُ : اللَّهُمَّ نَعَمْ ، ثُمَّ انْصَرَفَ . ¤ قُلْتُ : رَوَى النَّسَائِيُّ بَعْضَهُ بِإِسْنَادٍ مُنْقَطِعٍ . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ ، وَأَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ ، وَالْبَزَّارُ ، وَفِي إِسْنَادِ عَبْدِ اللَّهِ وَالْبَزَّارِ : أَبُو عُبَادَةَ الزُّرَقِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَأَسْقَطَهُ أَبُو يَعْلَى مِنَ السَّنَدِ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے غلام اسلم بیان کرتے ہیں : میں اس وقت موجود تھا جب جنائز کے مقام پر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا محاصرہ کیا گیا تھا ( اور وہاں اتنے لوگ تھے کہ ) اگر کوئی پتھر پھینکا جاتا تو کسی نہ کسی شخص کے سر پر لگتا ، میں نے دیکھا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کھڑکی میں سے جھانک کر دیکھا ، یہ وہ کھڑکی ہے جو سیدنا جبرائیل کے کھڑے ہونے کی جگہ کے ساتھ والی طرف ہے ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے لوگو ! کیا تمہارے درمیان طلحہ موجود ہے ، لوگ خاموش رہے ، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے لوگو ! کیا تمہارے درمیان طلحہ موجود ہے ، تو لوگ خاموش رہے ، پھر انہوں نے فرمایا : اے لوگو ! کیا تمہارے درمیان طلحہ موجود ہے ، تو سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے ، تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا میں تمہیں یہاں نہیں دیکھ رہا ہوں ؟ میرا یہ اندازہ نہیں تھا کہ تم اس جماعت میں ہو گے جو میری بات سن رہے ہو گے ، اور تین مرتبہ کہنے کے باوجود تم نے مجھے جواب نہیں دیا ، اے طلحہ میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں کہ کیا تمہیں یہ بات یاد ہے کہ جب میں اور تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فلاں فلاں جگہ پر موجود تھے ، میرے اور تمہارے علاوہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کوئی اور آپ کے ساتھ نہیں تھا ، سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں ( سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: ) اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے یہ کہا: تھا کہ اے طلحہ ! ہر نبی کے ساتھ اس کے اصحاب میں سے اس کی امت سے تعلق رکھنے والا ایک رفیق ہوتا ہے ، جو جنت میں اس کے ساتھ ہو گا ، اور یہ عثمان جنت میں میرا رفیق ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مراد لیا تھا ، تو سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ جانتا ہے ۔ ایسا ہی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام نسائی رحمہ اللہ نے اس روایت کا کچھ حصہ منقطع سند کے ساتھ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت عبداللہ نے ، ابویعلیٰ نے کبیر میں اور امام بزار نے نقل کی ہے ، عبداللہ اور بزار کی سند میں ایک راوی ابوعبادہ زرقی ہے ، اور وہ متروک ہے ، ابویعلیٰ نے اسے سند سے ساقط کیا ہے ۔ باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14544
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2513)»
حدیث نمبر: 14545
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أُمِّهِ قَالَ : خَرَجَتِ الصَّعْبَةُ بِنْتُ الْحَضْرَمِيِّ ، فَسَمِعْنَاهَا تَقُولُ لِابْنِهَا طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ : إِنَّ عُثْمَانَ قَدِ اشْتَدَّ حَصْرُهُ فَلَوْ كَلَّمْتَ فِيهِ حَتَّى يُرَفَّهَ عَنْهُ . قَالَ : وَطَلْحَةُ يَغْسِلُ أَحَدَ شِقَّيْ رَأْسِهِ فَلَمْ يُجِبْهَا ، فَأَدْخَلَتْ يَدَيْهَا فِي كُمِّ دِرْعِهَا ، فَأَخْرَجَتْ ثَدْيَيْهَا فَقَالَتْ : أَسْأَلُكَ بِمَا حَمَلْتُكَ وَأَرْضَعْتُكَ إِلَّا فَعَلْتَ ، فَقَامَ وَلَوَى شِقَّيَ شَعْرِ رَأْسِهِ حَتَّى عَقَدَهُ وَهُوَ مَغْسُولٌ ، ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى أَتَى عَلِيًّا وَهُوَ جَالِسٌ فِي جَنْبِ دَارِهِ ، فَقَالَ طَلْحَةُ وَمَعَهُ أُمُّهُ وَأُمُّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ : لَوْ رَفَّهْتَ النَّاسَ عَنْ هَذَا فَقَدِ اشْتَدَّ حَصْرُهُ ، فَقَالَ : وَاللَّهِ مَا أُحِبُّ مِنْ هَذَا شَيْئًا يَكْرَهُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن ابورافع اپنی والدہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ایک مرتبہ صعبہ بنت حضرمی نکلیں تو ہم نے اس خاتون کو اپنے بیٹے طلحہ بن عبیداللہ سے یہ کہتے ہوئے سنا : سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا محاصرہ شدید ہو چکا ہے ، تم اس بارے میں بات چیت کرو تاکہ انہیں سہولت مل جائے ، سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ اس وقت اپنے سر کا ایک حصہ دھو چکے تھے ۔ انہوں نے اس خاتون کو کوئی جواب نہیں دیا ، تو اس خاتون نے اپنا ہاتھ اپنی آستین میں داخل کیا اور اپنی چھاتی نکال کر یہ کہا: میں نے تمہارے حمل اور تمہیں دودھ پلانے کا جو کام کیا ہے اس کے حوالے سے میں واسطہ دے کر تمہیں یہ کہتی ہوں کہ تم ایسا ضرور کرو ، تو سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ اسی وقت کھڑے ہوئے ، انہوں نے اپنے سر کے اس طرف والے بالوں کو موڑا اور انہیں گرہ لگا دی ، جو دھلے ہوئے تھے ، پھر وہ وہاں سے نکلے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، جو اپنے گھر کے باہر بیٹھے ہوئے تھے ۔ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ تھے ۔ ان کے ساتھ ان کی والدہ تھیں اور ساتھ عبداللہ بن رافع کی والدہ تھیں ، سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر آپ ان صاحب سے لوگوں کو پرے کرنے کی کوشش کریں تو یہ مناسب ہو گا ، کیونکہ ان کا محاصرہ شدید ہو چکا ہے ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم ! میں اس حوالے سے کسی ایسی چیز کو پسند نہیں کرتا ہے تم ناپسند کرتے ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14545
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (127)»
حدیث نمبر: 14546
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ : أَنَّهُ قَالَ حِينَ هَاجَ النَّاسُ فِي أَمْرِ عُثْمَانَ : أَيُّهَا النَّاسُ ، لَا تَقْتُلُوا هَذَا الشَّيْخَ وَاسْتَعْتِبُوهُ ; فَإِنَّهُ لَنْ تَقْتُلَ أُمَّةٌ نَبِيَّهَا فَيَصْلُحَ أَمْرُهُمْ حَتَّى يُهْرَاقَ دِمَاءُ سَبْعِينَ أَلْفًا مِنْهُمْ ، وَلَنْ تَقْتُلَ أُمَّةٌ خَلِيفَتَهَا فَيَصْلُحَ أَمْرُهُمْ حَتَّى يُهْرَاقَ دِمَاءُ أَرْبَعِينَ أَلْفًا مِنْهُمْ . فَلَمْ يَنْظُرُوا فِيمَا قَالَ وَقَتَلُوهُ ، فَجَلَسَ لِعَلِيٍّ فِي الطَّرِيقِ فَقَالَ : أَيْنَ تُرِيدُ ؟ فَقَالَ : أُرِيدُ أَرْضَ الْعِرَاقِ قَالَ : لَا تَأْتِ الْعِرَاقَ وَعَلَيْكَ بِمِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . فَوَثَبَ بِهِ أُنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ عَلِيٍّ وَهَمُّوا بِهِ ، فَقَالَ عَلِيٌّ : دَعُوهُ فَإِنَّهُ مِنَّا أَهْلَ الْبَيْتِ . فَلَمَّا قُتِلَ عَلِيٌّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ لِابْنِ مَعْقِلٍ : هَذِهِ رَأَسُ الْأَرْبَعِينَ ، وَسَيَكُونُ عَلَى رَأْسِهَا صُلْحٌ ، وَلَنْ تَقْتُلَ أُمَّةٌ نَبِيَّهَا إِلَّا قُتِلَ بِهِ سَبْعُونَ أَلْفًا ، وَلَنْ تَقْتُلَ أُمَّةٌ خَلِيفَتَهَا إِلَّا قُتِلَ بِهِ أَرْبَعُونَ أَلْفًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ جب لوگوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے معاملے میں شدت کا مظاہرہ کیا ، تو انہوں نے فرمایا : ” اے لوگو ! تم اس بزرگ کو قتل نہ کرنا کیونکہ جس بھی امت نے اپنے نبی کو شہید کیا ، تو ان کا معاملہ اس وقت تک درست نہیں ہوا ، جب تک ان میں سے ستر ہزار افراد کا خون نہیں بہا دیا گیا ، اور جس بھی امت نے اپنے خلیفہ کو شہید کیا ، تو ان کا معاملہ اس وقت تک ٹھیک نہیں ہوا ، جب تک ان میں سے چالیس ہزار لوگوں کا خون نہیں بہا دیا گیا “ لیکن ان لوگوں نے سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کی بات پر توجہ نہیں کی اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا ، ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے راستے میں ملے ، انہوں نے دریافت کیا : آپ کہاں جانا چاہتے ہیں ؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : میں عراق کی سرزمین کی طرف جانا چاہتا ہوں ، سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ وہاں نہ جائیں بلکہ آپ اللہ کے رسول کے منبر کے پاس رہیں ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں میں سے کچھ افراد نے ان پر حملہ کرنا چاہا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اسے چھوڑ دو کیونکہ یہ اہل بیت میں سے ایک ہے ۔ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے ، تو سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے ابن معقل سے کہا: یہ چالیس ہجری ہو گئی ہے ، اس کے سرے پر صلح ہو گی ، جو بھی امت اپنے نبی کو شہید کرتی ہے ، تو اس کے بدلے میں ستر ہزار افراد مارے جاتے ہیں ، اور جو بھی امت اپنے خلیفہ کو شہید کرتی ہے ، تو اس کے بدلے میں چالیس ہزار افراد مارے جاتے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14546
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 14547
وَعَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ : أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ اسْتَأْذَنَ عَلَى الْحَجَّاجِ بْنِ يُوسُفَ فَأَذِنَ لَهُ ، فَدَخَلَ وَسَلَّمَ ، وَأَمَرَ بِرَجُلَيْنِ مِمَّا يَلِي السَّرِيرَ أَنْ يُوَسِّعَا لَهُ ، فَأَوْسَعَا لَهُ فَجَلَسَ ، فَقَالَ لَهُ الْحَجَّاجُ : لِلَّهِ أَبُوكَ ! أَتَعْلَمُ حَدِيثًا حَدَّثَهُ أَبُوكَ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ مَرْوَانَ عَنْ جَدِّكَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ ؟ قَالَ : فَأَيُّ حَدِيثٍ - رَحِمَكَ اللَّهُ - قُرْبَ حَدِيثٍ قَالَ : حَدِيثُ الْمِصْرِيِّينَ حِينَ حَصَرُوا عُثْمَانَ . قَالَ : قَدْ عَلِمْتُ ذَلِكَ الْحَدِيثَ . ¤ أَقْبَلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ وَعُثْمَانُ مَحْصُورٌ ، فَانْطَلَقَ فَدَخَلَ عَلَيْهِ ، فَوَسَّعُوا لَهُ حَتَّى دَخَلَ ، فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، فَقَالَ : وَعَلَيْكَ السَّلَامُ ، مَا جَاءَ بِكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ ؟ قَالَ : قَدْ جِئْتُ لِأَثْبُتَ حَتَّى أَسْتَشْهِدَ أَوْ يَفْتَحَ اللَّهُ لَكَ ، وَلَا أَرَى هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ إِلَّا قَاتِلُوكَ ; فَإِنْ يَقْتُلُوكَ فَذَاكَ خَيْرٌ لَكَ وَشَرٌّ لَهُمْ . فَقَالَ عُثْمَانُ : أَسْأَلُكَ بِالَّذِي لِي عَلَيْكَ مِنَ الْحَقِّ لَمَا خَرَجْتَ إِلَيْهِمْ ، خَيْرٌ يَسُوقُهُ اللَّهُ بِكَ ، وَشَرٌّ يَدْفَعُهُ بِكَ اللَّهُ . فَسَمِعَ وَأَطَاعَ ، فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ فَلَمَّا رَأَوْهُ اجْتَمَعُوا ، وَظَنُّوا أَنَّهُ قَدْ جَاءَهُمْ بِبَعْضِ مَا يُسَرُّونَ بِهِ ، فَقَامَ خَطِيبًا فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : أَمَّا بَعْدُ ، فَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - بَعَثَ مُحَمَّدًا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَشِيرًا وَنَذِيرًا ; يُبَشِّرُ بِالْجَنَّةِ مَنْ أَطَاعَهُ وَيُنْذِرُ بِالنَّارِ مَنْ عَصَاهُ ، وَأَظْهَرَ مَنِ اتَّبَعَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ ، ثُمَّ اخْتَارَ لَهُ الْمُشْرِكُونَ . ثُمَّ اخْتَارَ لَهُ الْمَسَاكِنَ ; فَاخْتَارَ لَهُ الْمَدِينَةَ فَجَعَلَهَا دَارَ الْهِجْرَةِ وَجَعَلَهَا دَارَ الْإِيمَانِ ، فَوَاللَّهِ مَا زَالَتِ الْمَلَائِكَةُ حَافِّينَ بِالْمَدِينَةِ مُذْ قَدِمَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْيَوْمِ ، وَمَا زَالَ سَيْفُ اللَّهِ مَغْمُودًا عَنْكُمْ مُذْ قَدِمَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْيَوْمِ . ¤ ثُمَّ قَالَ : إِنَّ اللَّهَ بَعَثَ مُحَمَّدًا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْحَقِّ ; فَمَنِ اهْتَدَى فَإِنَّمَا يَهْتَدِي بِهُدَى اللَّهِ ، وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ بَعْدَ الْبَيَانِ وَالْحُجَّةِ ، وَإِنَّهُ لَمْ يُقْتَلْ نَبِيٌّ فِيمَا مَضَى إِلَّا قُتِلَ بِهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مُقَاتِلٍ كُلُّهُمْ يُقْتَلُ بِهِ ، وَلَا قُتِلَ خَلِيفَةٌ قَطُّ إِلَّا قُتِلَ بِهِ خَمْسَةٌ وَثَلَاثُونَ أَلْفَ مُقَاتِلٍ كُلُّهُمْ يُقْتَلُ بِهِ ، فَلَا تَعْجَلُوا عَلَى هَذَا الشَّيْخِ بِقَتْلٍ ; فَوَاللَّهِ لَا يَقْتُلُهُ رَجُلٌ مِنْكُمْ إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيَدُهُ مَقْطُوعَةٌ مَشْلُولَةٌ ، وَاعْلَمُوا أَنَّهُ لَيْسَ لِوَلَدٍ عَلَى وَالِدٍ حَقٌّ إِلَّا وَلِهَذَا الشَّيْخِ عَلَيْكُمْ مِثْلُهُ . ¤ قَالَ : فَقَالُوا : كَذَبَتِ الْيَهُودُ ، كَذَبَتِ الْيَهُودُ . فَقَالَ : كَذَبْتُمْ وَاللَّهِ وَأَنْتُمْ آثِمُونَ مَا أَنَا بِيَهُودِيٍّ ، وَإِنِّي لَأَحَدُ الْمُسْلِمِينَ يَعْلَمُ اللَّهُ بِذَلِكَ وَرَسُولُهُ وَالْمُؤْمِنُونَ ، وَقَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ فِي الْقُرْآنِ : ( قُلْ كَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَمَنْ عِنْدَهُ عِلْمُ الْكِتَابِ ) ، وَقَدْ أَنْزَلَ الْآيَةَ الْأُخْرَى : ( قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ وَكَفَرْتُمْ بِهِ وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى مِثْلِهِ فَآمَنَ وَاسْتَكْبَرْتُمْ ) . قَالَ : فَقَامُوا ، فَدَخَلُوا عَلَى عُثْمَانَ فَذَبَحُوهُ كَمَا يُذْبَحُ الْحِلَّانُ . ¤ قَالَ شُعَيْبٌ : فَقُلْتُ لِعَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ : مَا الْحِلَّانُ ؟ قَالَ : الْحَمَلُ . ¤ قَالَ : وَقَدْ قَالَ عُثْمَانُ لِكَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ : يَا كَثِيرُ ، أَنَا وَاللَّهِ مَقْتُولٌ غَدًا قَالَ : بَلْ يُعْلِي اللَّهُ كَعْبَكَ ، وَيَكْبِتُ عَدُوَّكَ . قَالَ : ثُمَّ أَعَادَهَا الثَّالِثَةَ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ قَالَ : ثُمَّ يَقُولُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ ، فَقَالَ لِي : " يَا عُثْمَانُ ، أَنْتَ عِنْدَنَا غَدًا ، وَأَنْتَ مَقْتُولٌ غَدًا " . فَأَنَا وَاللَّهُ مَقْتُولٌ قَالَ : فَقُتِلَ ، فَخَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ إِلَى الْقَوْمِ قَبْلَ أَنْ يَتَفَرَّقُوا ، فَقَالَ : يَا أَهْلَ مِصْرَ ، يَا قَتَلَةَ عُثْمَانَ ، قَتَلْتُمْ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ; أَمَا وَاللَّهِ لَا يَزَالُ عَهْدٌ مَنْكُوثٌ ، وَدَمٌ مَسْفُوحٌ ، وَمَالٌ مَقْسُومٌ لَا سُقِيتُمْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عبدالملک بن عمیر بیان کرتے ہیں : محمد بن یوسف بن عبداللہ بن سلام نے حجاج بن یوسف کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی ، انہیں اجازت دے دی گئی ، وہ اندر آئے ، انہوں نے سلام کیا ، حجاج نے پلنگ کے پاس موجود دو افراد کو یہ حکم دیا کہ وہ ان صاحب کے لئے گنجائش پیدا کریں ، ان دونوں نے اُن صاحب کے لئے گنجائش پیدا کی ، تو وہ صاحب تشریف فرما ہوئے ، حجاج نے ان سے کہا: اللہ تمہارے والد کا بھلا کرے ، کیا تم یہ بات جانتے ہو کہ تمہارے والد نے عبدالملک بن مروان کو تمہارے دادا سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک حدیث بیان کی تھی ، ان صاحب نے دریافت کیا : اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے ، وہ کون سی حدیث تھی ؟ آپ وہ حدیث پیش کیجئے ، تو حجاج نے کہا: وہ اہل مصر کی حدیث تھی کہ جب لوگوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا محاصرہ کیا ہوا تھا ، ان صاحب نے کہا: میں وہ حدیث جانتا ہوں ۔ ” سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ تشریف لائے ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو اس وقت محصور کیا جا چکا تھا ، وہ چلتے ہوئے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، لوگوں نے ان کے لئے گنجائش پیدا کی وہ اندر گئے ۔ انہوں نے کہا: اے امیر المؤمنین ! آپ پر سلام ہو ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: تم پر بھی سلام ہو ، اے عبداللہ بن سلام ! تم کس وجہ سے آئے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا : میں اس لئے آیا ہوں تاکہ میں آپ کا ساتھ دوں ، یہاں تک کہ میں جام شہادت نوش کر لوں یا اللہ تعالیٰ آپ کو فتح نصیب کر دے ، ان لوگوں کے بارے میں میرا یہ خیال ہے کہ یہ آپ کو شہید کر دیں گے ، اگر یہ آپ کو شہید کر دیتے ہیں تو یہ چیز آپ کے حق میں بہتر ہو گی اور ان کے حق میں بری ہو گی ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم پر میرا جو حق ہے ، میں اس کا واسطہ دے کر تم سے یہ کہتا ہوں کہ تم نکل کر ان کی طرف نہ جاؤ ، وہ بھلائی جو اللہ تعالیٰ تمہاری وجہ سے لے کے آئے گا یا کوئی شر ہو گا ، جو اللہ تعالیٰ تمہاری وجہ سے دور کر دے گا ، تو تم اطاعت و فرمانبرداری سے کام لو ۔ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نکل کر ان کے پاس گئے ، جب ان لوگوں نے سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو وہ لوگ اکٹھے ہو گئے اور انہوں نے یہ گمان کیا کہ شاید وہ کوئی ایسی اطلاع لے کے آئیں ہیں ، جو انہیں خوش کر دے گی ، تو سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے ، انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرنے بعد ارشاد فرمایا : ” امابعد ! بے شک اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر مبعوث کیا ، وہ اس شخص کو جنت کی خوشخبری دیتے تھے جو ان کی پیروی کرتا تھا اور اس شخص کو عذاب سے ڈراتے تھے ، جو ان کی نافرمانی کرتا تھا ، اور اللہ تعالیٰ نے ان کی پیروی کرنے والوں کو تمام ادیان پر غالب کر دیا ، خواہ یہ بات مشرکین کو بری لگے ، پھر اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے رہائشی جگہ کا انتخاب کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مدینہ منورہ کو منتخب کیا اور اسے ہجرت کا مقام بنایا ، اسے ایمان کا مقام بنایا ، اللہ کی قسم ! فرشتے مسلسل مدینہ منورہ کی حفاظت کرتے رہتے ہیں ، جب سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہاں تشریف لائے ہیں ، اور جب سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہاں تشریف لائے ہیں اس وقت سے لے کر اب تک اللہ کی تلوار تم لوگوں کے حوالے سے میان میں رہی ہے ، پھر اس کے بعد سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : بے شک اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ، تو جو شخص ہدایت حاصل کرنا چاہتا ہو وہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ہدایت کو حاصل کرے اور جو شخص گمراہ ہوا تو وہ بیان اور حج کے بعد گمراہ رہ گیا ، پہلے زمانے میں جس بھی نبی کو شہید کیا گیا ، تو اس کے بدلے میں ستر ہزار افراد کو قتل کیا گیا ، ان سب کو اس نبی کے بدلے میں قتل کیا گیا ، اور جس بھی خلیفہ کو شہید کیا گیا ، تو اس کے بدلے میں پینتیس ہزار لوگوں کو قتل کیا گیا ، ان سب کو اس کے بدلے میں قتل کیا گیا ، تو تم اس بزرگ کو قتل کرنے میں جلدی نہ کرو ، اللہ کی قسم ! تم میں سے جو شخص انہیں شہید کرے گا ، قیامت کے دن جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا ، تو اس کا ہاتھ کٹا ہوا ہو گا ، اور شل ہو گا ، اور تم یہ بات جان لو کہ اولاد کا والد پر جو حق ہوتا ہے اسی طرح کا حق اس بزرگ کا تم پر ہے ، راوی کہتے ہیں : تو لوگوں نے یہ کہنا شروع کیا ، اس یہودی نے جھوٹ بولا: ہے ، اس یہودی نے جھوٹ بولا: ہے ، تو سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: تم لوگ جھوٹ بول رہے ہو ، اللہ کی قسم ! تم لوگ یہودی ہو ، میں یہودی نہیں ہوں ، میں مسلمانوں میں سے ایک ہوں ، اللہ تعالیٰ ، اس کا رسول اور اہل ایمان یہ بات جانتے ہیں ، اور میرے بارے میں قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی ہے : ” تم یہ فرما دو کہ میرے اور تم لوگوں کے درمیان گواہ ہونے کے لئے اللہ تعالیٰ کافی ہے ، اور وہ شخص کافی ہے ، جس کے پاس کتاب کا علم ہے ۔ “ اور اللہ تعالیٰ نے ایک دوسری آیت بھی ( میرے بارے میں ) نازل کی تھی : ” تم یہ فرما دو اس بارے میں تم لوگوں کی کیا رائے ہے کہ اگر یہ چیز اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو اور تم نے اس کا انکار کیا ہو اور بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے اس بارے میں گواہی دے دی ہو ، وہ ایمان لے آیا اور تم نے تکبر کیا ۔ “ راوی کہتے ہیں : تو وہ لوگ اٹھ گئے اور اٹھ کر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور انہیں یوں ذبح کر دیا جس طرح حلان کو ذبح کیا جاتا ہے ۔ شعیب نامی راوی کہتے ہیں : میں نے عبدالملک بن عمیر سے دریافت کیا : حلان کیا ہوتا ہے ۔ انہوں نے جواب دیا جمل ( ایک مخصوص قسم کا جانور ) ۔ راوی کہتے ہیں : سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے کثیر بن صلت سے یہ فرمایا تھا ، اسے کثیر ! اللہ کی قسم ! کل مجھے قتل کر دیا جائے گا ، تو کثیر نے جواب دیا : جی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ آپ کو سربلندی عطا کرے گا اور آپ کے دشمن کو رسوا کرے گا ، تین مرتبہ یہ مکالمہ ہوا اور ہر مرتبہ کثیر یہی کہتے رہے ، پھر انہوں نے کہا: اے امیر المؤمنین ، تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے اللہ کے رسول کو خواب میں دیکھا ہے ، آپ کے ساتھ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : اے عثمان ! کل تم ہمارے ساتھ ہو گے ، اور کل تم شہید ہو جاؤ گے ، تو اللہ کی قسم ! میں شہید ہو جاؤں گا ، راوی کہتے ہیں : تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا ، سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نکل کر لوگوں کے پاس آئے ، ان کے منتشر ہونے سے پہلے وہ آئے اور بولے : : اے اہل مصر ! اے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلو ! تم نے امیر المؤمنین کو قتل کر دیا ہے ، اللہ کی قسم ! عہد شکنی کر دی گئی ، خون بہا دیا گیا ، مال تقسیم کر دیا گیا ، تم لوگ سیراب نہیں ہو گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14547
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 14548
وَعَنْ كُلْثُومٍ الْخُزَاعِيِّ قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - : مَا يَسُرُّنِي أَنِّي رَمَيْتُ عُثْمَانَ بِسَهْمٍ أَخْطَأَهُ ، أَحْسَبُهُ قَالَ : - أُرِيدُ قَتْلَهُ وَأَنَّ لِي مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عِمْرَانُ بْنُ عُمَيْرٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
کلثوم خزاعی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف کوئی تیر پھینکا ہو ، راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا: تھا ، میرا مقصد انہیں شہید کرنا ہو ( اور اس تیر پھینکنے کے عوض میں ) مجھے احد پہاڑ جتنا سونا مل جائے ، اگرچہ وہ تیر اپنے نشانے پر نہ لگا ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمران بن عمیر ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14548
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8839 و 8838)»
حدیث نمبر: 14549
وَعَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا بَكْرَةَ يَقُولُ : لَأَنْ أَخِرَّ مِنَ السَّمَاءِ فَأَنْقَطِعَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَكُونَ شَرَكْتُ فِي دَمِ عُثْمَانَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابواسود دیلی بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ” میں آسمان سے گر کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جاؤں ، یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہو گا کہ میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل میں شرکت کی ہو ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14549
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (132)»
حدیث نمبر: 14550
وَعَنِ الْحَسَنِ قَالَ : أَدْرَكْتُ عُثْمَانَ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ قَدْ أَرْهَقْتُ الْحُلُمَ ، فَسَمِعْتُهُ وَهُوَ يَخْطُبُ وَشَهِدَتْهُ ، وَهُوَ يَقُولُ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، مَا تَنْقِمُونَ عَلَيَّ ؟ قَالَ : وَمَا مِنْ يَوْمٍ إِلَّا وَهُمْ يُقَسِّمُونَ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا ، يَقُولُ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، اغْدُوا عَلَى أَعْطِيَاتِكُمْ ، فَيَغْدُونَ فَيَأْخُذُونَهَا وَافِرَةً ، ثُمَّ يُقَالُ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، اغْدُوا عَلَى كِسْوَتِكُمْ ، فَيُجَاءُ بِالْحُلَلِ ، فَتُقَسَّمُ بَيْنَهُمْ . ¤ قَالَ الْحَسَنُ : وَالْعَدُوُّ مَنْفِيٌّ ، وَالْعَطِيَّاتُ دَارَّةٌ ، وَذَاتُ الْبَيْنِ حَسَنٌ ، وَالْخَيْرُ كَثِيرٌ ، مَا عَلَى الْأَرْضِ مُؤْمِنٌ يَخَافُ مُؤْمِنًا ، مَنْ لَقِيَ مِنَ [ أَيِّ ] الْأَحْيَاءِ فَهُوَ أَخُوهُ وَمَوَدَّتُهُ وَنُصْرَتُهُ ، وَالْفِتْنَةُ إِنْ سَلَّ عَلَيْهِ سَيْفًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
حسن بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا زمانہ پایا ہے ، میں ان دنوں قریب البلوغ تھا ، میں نے انہیں خطبہ دیتے ہوئے یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : میں وہاں موجود تھا ، وہ یہ فرما رہے تھے : اے لوگو ! تمہیں مجھ پر کیا اعتراض ہے ؟ انہوں نے فرمایا : وہ لوگ روزانہ بہت سی بھلائی تقسیم کرتے تھے ( یعنی مال و دولت تقسیم کرتے تھے ) سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے لوگو تم میرے پاس آنا ، میں تمہیں عطیات دوں گا ، وہ لوگ آئے ، انہوں نے ان عطیات کو وصول کیا جو بہت زیادہ تھے ، پھر یہ کہا: گیا : اے لوگو تم لوگ میرے پاس آنا ، میں تمہیں لباس فراہم کروں گا ، پھر حلے لائے گئے ، وہ ان کے درمیان تقسیم کیے گئے ۔ حسن کہتے ہیں : دشمنی ختم ہو گئی ، عطیات گھومنے لگے ، آپس میں تعلقات بہتر ہو گئے ، بھلائی زیادہ ہو گئی ، روئے زمین پر کوئی مومن کسی مومن سے خوف زدہ نہیں تھا ، جو شخص بھی زندوں میں سے جس سے بھی ملتا تھا ، تو وہ اس کا بھائی ہوتا تھا ، اس سے محبت رکھتا تھا ، اس کی مدد کرتا تھا اور فتنہ ایسا تھا کہ اگر اس پر تلوار سونت لی جاتی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14550
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (131)»
حدیث نمبر: 14551
وَعَنِ الْحَسَنِ قَالَ : حَدَّثَنِي سَيَّافُ عُثْمَانَ : أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ دَخَلَ عَلَى عُثْمَانَ ، فَقَالَ : ارْجِعِ ابْنَ أَخِي فَلَسْتَ بِقَاتِلِي قَالَ : كَيْفَ عَلِمْتَ ذَلِكَ ؟ قَالَ : لِأَنَّهُ أُتِيَ بِكَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ سَابِعَكَ فَحَنَّكَكَ وَدَعَا لَكَ بِالْبَرَكَةِ . قَالَ : ثُمَّ دَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ آخَرُ مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَقَالَ : ارْجِعِ ابْنَ أَخِي فَلَسْتَ بِقَاتِلِي . قَالَ : وَمِمَّا تَدْرِي ذَلِكَ ؟ قَالَ : لِأَنَّهُ أُتِيَ بِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ سَابِعِكَ فَحَنَّكَكَ وَدَعَا لَكَ بِالْبَرَكَةِ . قَالَ : ثُمَّ دَخَلَ عَلَيْهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، فَقَالَ : أَنْتَ قَاتِلِي ، فَقَالَ : وَمَا يُدْرِيكَ يَا نَعْثَلُ ؟ قَالَ : لِأَنَّهُ أُتِيَ بِكَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ سَابِعِكَ لِيُحَنِّكَكَ وَيَدْعُوَ لَكَ بِالْبَرَكَةِ فَخَرِيتَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . قَالَ : فَوَثَبَ عَلَى صَدْرِهِ ، وَقَبَضَ عَلَى لِحْيَتِهِ ، فَقَالَ : إِنْ تَفْعَلْ كَانَ يَعِزُّ عَلَى أَبِيكَ قَالَ أَنْ تَسُوءَهُ ، فَوَجَأَهُ فِي نَحْرِهِ بِمَشَاقِصَ كَانَتْ فِي يَدِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ سَيَّافُ عُثْمَانَ وَلَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
حسن بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ایک محافظ نے مجھے یہ بات بتائی کہ انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے کہا: اے میرے بھتیجے ! تم واپس چلے جاؤ ، تم میرے قاتل نہیں ہو ، اس شخص نے کہا: آپ کو اس بات کا کیسے پتہ چلا ؟ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تمہاری پیدائش کے ساتویں دن تمہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تھا ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں گھٹی دی تھی اور تمہارے لئے برکت کی دعا کی تھی ، راوی کہتے ہیں : پھر انصار سے تعلق رکھنے والا ایک اور شخص سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، تو انہوں نے فرمایا : اے میرے بھتیجے ! تم واپس چلے جاؤ ، تم مجھے قتل نہیں کرو گے ، اس نے دریافت کیا : آپ کو اس بات کا کیسے پتہ چلا ؟ تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیونکہ تمہیں پیدائش کے ساتویں دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں گھٹی دی تھی اور تمہارے لئے برکت کی دعا کی تھی ، پھر محمد بن ابوبکر اندر آئے ، تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: تم مجھے قتل کر دو گے ، انہوں نے کہا: آپ کو کیسے پتہ چلا اے نالائق ؟ تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیونکہ تمہاری پیدائش کے ساتویں دن تمہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا ، تاکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں گھٹی دیں اور تمہارے لئے برکت کی دعا کر دیں ، تو تم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر پاخانہ کر دیا تھا ۔ راوی کہتے ہیں : تو وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے سینے پر چڑھ گئے ، انہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی داڑھی مٹھی میں لے لی ، تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم ایسا کرنے تو لگے ہو ، لیکن تم یہ یاد رکھنا کہ تمہارے والد کو یہ بات بری لگنی تھی ، تو اس نے اپنے ہاتھ میں موجود چھوٹا تیر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے گلے میں گھونپ دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ایک محافظ کا ذکر ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14551
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (118)»
حدیث نمبر: 14552
وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ : لَمَّا ضَرَبَ الرَّجُلُ يَدَ عُثْمَانَ قَالَ : إِنَّهَا لَأَوَّلُ يَدٍ خَطَّتِ الْمُفَصَّلَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوسلمہ بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں : جب ایک شخص نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر وار کیا ، تو انہوں نے فرمایا : یہ وہ پہلا ہاتھ ہے ، جس نے مفصل سورتیں لکھی تھیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14552
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (119)»
حدیث نمبر: 14553
وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ : أَنَّ عَامَّةَ الرَّكْبِ الَّذِينَ سَارُوا إِلَى عُثْمَانَ جُنُّوا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
یزید بن ابوحبیب بیان کرتے ہیں : جو لوگ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف ( انہیں شہید کرنے کے لئے گئے تھے ) ان میں سے زیادہ تر لوگ بعد میں پاگل پن کا شکار ہو گئے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14553
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (134)»
حدیث نمبر: 14554
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ : قَالَتِ امْرَأَةُ عُثْمَانَ حِينَ أَطَافُوا بِهِ : تُرِيدُونَ قَتْلَهُ ؟ إِنْ تَقْتُلُوهُ أَوْ تَتْرُكُوهُ فَإِنَّهُ كَانَ يُحْيِي اللَّيْلَ كُلَّهُ فِي رَكْعَةٍ يَجْمَعُ فِيهَا الْقُرْآنَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں : جب لوگوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر کے گرد چکر لگانے شروع کیے تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی اہلیہ نے کہا: کیا تم لوگ انہیں شہید کرنا چاہتے ہو ؟ تم لوگ انہیں شہید کر دو یا انہیں چھوڑ دو ، بہرحال وہ ساری رات عبادت کرتے ہیں اور ایک رکعت میں پورا قرآن پڑھ لیتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14554
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (130)»
حدیث نمبر: 14555
وَعَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ : لَقِيَ مَسْرُوقٌ الْأَشْتَرَ ، فَقَالَ مَسْرُوقٌ لِلْأَشْتَرِ : قَتَلْتُمْ عُثْمَانَ ؟ قَالَ : نَعَمْ قَالَ : أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ قَتَلْتُمُوهُ صَوَّامًا قَوَّامًا قَالَ : فَانْطَلَقَ الْأَشْتَرُ فَأَخْبَرَ عَمَّارًا ، فَأَتَى عَمَّارٌ مَسْرُوقًا فَقَالَ : وَاللَّهِ لَيَجْلِدَنَّ عَمَّارًا ، وَلَيُسَيِّرَنَّ أَبَا ذَرٍّ ، وَلَيَحْمِيَنَّ الْحِمَى ، وَتَقُولَ : قَتَلْتُمُوهُ صَوَّامًا قَوَّامًا ؟ فَقَالَ لَهُ مَسْرُوقٌ : فَوَاللَّهِ مَا فَعَلْتُمْ وَاحِدَةً مِنْ شَيْئَيْنِ : مَا عَاقَبْتُمْ بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِهِ ، وَمَا صَبَرْتُمْ فَهُوَ خَيْرٌ لِلصَّابِرِينَ . قَالَ : فَلَكَأَنَّمَا أَلْقَمَهُ حَجَرًا . ¤ قَالَ : وَقَالَ الشَّعْبِيُّ : مَا وَلَدَتْ هَمْدَانِيَّةٌ مِثْلَ مَسْرُوقٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ الْجَفْرِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ لِنَفْلَتِهِ . ¤
محمد محی الدین
امام شعبی بیان کرتے ہیں : مسروق کی ملاقات اشتر سے ہوئی ، تو مسروق نے اشتر سے کہا: تم لوگوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کیا تھا ، انہوں نے کہا: جی ہاں ، تو مسروق نے کہا: اللہ کی قسم ! تم نے انہیں ایسی حالت میں شہید کیا کہ وہ روزہ رکھنے والے تھے ، نماز پڑھنے والے تھے ۔ راوی کہتے ہیں : تو اشتر چلے گئے اور سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو اس بارے میں بتایا تو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ مسروق کے پاس آئے ، تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم ! انہوں نے عمار کو کوڑے لگوائے ، انہوں نے ابوذر کو باہر نکلوا دیا ، انہوں نے چراگاہ کو اپنے لئے مخصوص کیا اور تم یہ کہتے ہو کہ آپ لوگوں نے انہیں ایسی حالت میں شہید کیا ہے کہ وہ روزہ دار تھے ، اور نفل پڑھنے والے تھے ، تو مسروق نے ان سے کہا: اللہ کی قسم ! آپ نے دو صورتوں میں سے کوئی بھی کام نہیں کیا ، یا تو یہ تھا کہ آپ انہیں اسی طرح سزا دیتے ، جس طرح آپ کو ان کی طرف سے سزا ملی تھی ، یا یہ ہے کہ آپ صبر سے کام لیتے اور صبر کرنا ، صبر کرنے والوں کے لئے زیادہ بہتر ہے ، راوی کہتے ہیں : تو گویا انہوں نے انہیں لاجواب کر دیا ۔ راوی کہتے ہیں : امام شعبی یہ فرماتے تھے : کسی ہمدانی عورت نے مسروق جیسے بچے کو جنم نہیں دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسن بن ابوجعفر جفری ہے ، اور وہ اپنی غفلت کے حوالے سے ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14555
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (114)»
حدیث نمبر: 14556
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : لَا مَدِينَةَ بَعْدَ عُثْمَانَ ، وَلَا رَخَاءَ بَعْدَ مُعَاوِيَةَ . ¤ وَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ وَعَدَنِي بِإِسْلَامِ أَبِي الدَّرْدَاءِ فَأَسْلَمَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے بعد مدینہ نہیں رہا اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے بعد خوشحالی نہیں رہی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اللہ تعالیٰ نے میرے ساتھ وعدہ کیا ہے کہ ابودرداء اسلام قبول کر لے گا ۔ “ ( راوی کہتے ہیں : ) تو انہوں نے اسلام قبول کر لیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14556
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 14557
وَعَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ : قَالَ رَجُلٌ لَمَّا قُتِلَ عُثْمَانُ : لَا يَنْتَطِحُ فِيهَا عَنْزَانِ ، قُلْتُ : بَلَى وَتُفْقَأُ فِيهَا عُيُونٌ كَثِيرَةٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا ، تو ایک شخص نے کہا: ان کے بارے میں دو مینڈھے سینگ نہیں لڑائیں گے ، میں نے کہا: جی ہاں ، اس بارے میں بہت سی آنکھیں پھوڑ دی جائیں گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14557
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (69/17)»
حدیث نمبر: 14558
وَعَنْ مَالِكٍ - يَعْنِي ابْنَ أَنَسٍ - قَالَ : قُتِلَ عُثْمَانُ ، فَأَقَامَ مَطْرُوحًا عَلَى كُنَاسَةِ بَنِي فُلَانٍ ثَلَاثًا ، وَأَتَاهُ اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا مِنْهُمْ : جَدِّي مَالِكُ بْنُ أَبِي عَامِرٍ ، وَحُوَيْطِبُ بْنُ عَبْدِ الْعُزَّى ، وَحَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ ، وَعَائِشَةُ بِنْتُ عُثْمَانَ ، مَعَهُمْ مِصْبَاحٌ فِي حِقٍّ فَحَمَلُوهُ عَلَى بَابٍ ، وَإِنَّ رَأْسَهُ تَقُولُ عَلَى الْبَابِ : طَقْ طَقْ ، حَتَّى أَتَوْا بِهِ الْبَقِيعَ فَاخْتَلَفُوا فِي الصَّلَاةِ عَلَيْهِ ، فَصَلَّى عَلَيْهِ حَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ أَوْ حُوَيْطِبُ بْنُ عَبْدِ الْعُزَّى - شَكَّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ - ثُمَّ أَرَادُوا دَفْنَهُ ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي مَازِنٍ فَقَالَ : لَئِنْ دَفَنْتُمُوهُ مَعَ الْمُسْلِمِينَ لَأُخْبِرَنَّ النَّاسَ غَدًا ، فَحَمَلُوهُ حَتَّى أَتَوْا بِهِ حُشَّ كَوْكَبٍ ، فَلَمَّا دَلَّوْهُ فِي قَبْرِهِ صَاحَتْ عَائِشَةُ بِنْتُ عُثْمَانَ ، فَقَالَ لَهَا ابْنُ الزُّبَيْرِ : اسْكُتِي ، فَوَاللَّهِ لَئِنْ عُدْتِ لَأَضْرِبَنَّ الَّذِي فِيهِ عَيْنُكِ ، فَلَمَّا دَفَنُوهُ وَسَوَّوْا عَلَيْهِ التُّرَابَ قَالَ لَهَا ابْنُ الزُّبَيْرِ : صِيحِي مَا بَدَا لَكِ أَنْ تَصِيحِي . ¤ قَالَ مَالِكٌ : وَكَانَ عُثْمَانُ قَبْلَ ذَلِكَ يَمُرُّ بِحُشِّ كَوْكَبٍ ، فَيَقُولُ : لَيُدْفَنَنَّ هَاهُنَا رَجُلٌ صَالِحٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَقَالَ : الْحُشُّ : الْبُسْتَانُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
امام مالک بن انس بیان کرتے ہیں : جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا ، تو بنو فلاں کے گھر میں تین دن تک ان کی لاش پڑی رہی ، پھر بارہ افراد وہاں آئے ، جن میں میرے دادا مالک بن ابوعامر بھی تھے ۔ ان کے علاوہ حویطب بن عبدالعزیٰ تھے ، حکیم بن حزام تھے ، عبداللہ بن زبیر تھے ، عائشہ بنت عثمان تھیں ، ان کے ساتھ ایک چراغ تھا ، ان لوگوں نے ان کی میت کو اٹھایا اور دروازے پر لائے ۔ وہ لوگ انہیں بقیع میں لے کے آئے ، ان لوگوں کے درمیان ان کی نماز جنازہ کے بارے میں اختلاف ہوا تو حکیم بن حزام یا شاید حويطب بن عبدالعزیٰ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی ، یہ شک عبدالرحمن نامی راوی کو ہے ، پھر ان لوگوں نے انہیں دفن کرنے کا ارادہ کیا ، تو بنو مازن سے تعلق رکھنے والا ایک شخص کھڑا ہوا اور بولا: اگر تم لوگوں نے انہیں مسلمانوں کے ساتھ دفن کیا ، تو میں کل لوگوں کو اس بارے میں بتا دوں گا ، وہ لوگ اس کی میت اٹھا کر اسے حش کوکب کے مقام پر لے کے آئے ، جب وہ انہیں قبر میں اتارنے لگے ، تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی عائشہ چیخنے لگیں ، تو سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے اس خاتون سے کہا: تم خاموش رہو ، اللہ کی قسم ! اب اگر تم نے دوبارہ کوشش کی تو میں تمہاری آنکھوں کے درمیان ضرب لگاؤں گا ، جب ان لوگوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو دفن کر دیا اور ان پر مٹی ڈال دی تو سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے اس خاتون سے کہا: اب تمہیں جتنا مناسب لگتا ہے اتنا چیخو ۔ امام مالک بیان کرتے ہیں : اس سے پہلے ایک مرتبہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ حش کوکب کے مقام سے گزرے تھے ، تو انہوں نے فرمایا تھا : یہاں ایک نیک شخص دفن ہو گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے وہ کہتے ہیں : حش سے مراد بستان ( یعنی باغ ) ہے ۔ اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14558
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (109)»
حدیث نمبر: 14559
وَعَنْ سَهْمِ بْنِ حُبَيْشٍ - وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ قَتْلَ عُثْمَانَ - قَالَ : فَلَمَّا أَمْسَيْنَا قُلْتُ : لَئِنْ تَرَكْتُمْ صَاحِبَكُمْ حَتَّى يُصْبِحَ مَثَّلُوا بِهِ ، فَانْطَلَقُوا بِهِ إِلَى بَقِيعِ الْغَرْقَدِ فَأَمْكَنَّا لَهُ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ ، ثُمَّ حَمَلْنَاهُ ، وَغَشِيَنَا سَوَادٌ مِنْ خَلْفِنَا فَهِبْنَاهُمْ حَتَّى كِدْنَا أَنْ نَتَفَرَّقَ عَنْهُ ، فَنَادَى مُنَادٍ : لَا رَوْعَ عَلَيْكُمْ ، اثْبُتُوا فَإِنَّا جِئْنَا نَشْهَدُهُ مَعَكُمْ . ¤ وَكَانَ ابْنُ حُبَيْشٍ يَقُولُ : هُمْ وَاللَّهِ الْمَلَائِكَةُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سہم بن حبیش ، جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے والوں میں شامل تھے وہ بیان کرتے ہیں : جب شام ہوئی ، تو میں نے کہا: اگر تم نے اپنے متعلقہ فرد کو صبح تک چھوڑ دیا تو ان لوگوں نے صبح ان کا مثلہ کر دینا ہے ، پھر وہ لوگ انہیں لے کے بقیع غرقد کی طرف گئے ، ہم نصف رات کے وقت انہیں لے کے جا سکے تھے ، ہم نے انہیں اٹھایا ، ہمارے پیچھے بہت سے لوگ تھے ، ہم ان سے ڈر گئے ، یہاں تک کہ ہم سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو چھوڑ کر ادھر ادھر ہو گئے ، تو ایک منادی نے پکار کر کہا: تم لوگ پریشان نہ ہو اور ثابت قدم رہو ، ہم اس لئے آئے ہیں تاکہ تمہارے ساتھ اس میں شریک ہوں ۔ ابن حبیش کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! وہ فرشتے ہی تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالوہاب بن ضحاک ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14559
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (110)»
حدیث نمبر: 14560
وَعَنْ فُلْفُلَةَ الْجُعْفِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ يَقُولُ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْمَنَامِ مُتَعَلِّقًا بِالْعَرْشِ ، وَرَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ آخِذًا بِحَقْوَيِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَرَأَيْتُ عُمَرَ آخِذًا بِحَقْوَيْ أَبِي بَكْرٍ ، وَرَأَيْتُ عُثْمَانَ آخِذًا بِحَقْوَيْ عُمَرَ ، وَرَأَيْتُ الدَّمَ يَنْصَبُّ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ . فَحَدَّثَ الْحَسَنَ بِهَذَا [ الْحَدِيثِ ] وَعِنْدَهُ قَوْمٌ مِنَ الشِّيعَةِ ، فَقَالُوا : وَمَا رَأَيْتَ عَلِيًّا ؟ فَقَالَ الْحَسَنُ : مَا كَانَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أَرَاهُ آخِذًا بِحَقْوَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ عَلِيٍّ ، وَلَكِنَّهَا رُؤْيَا رَأَيْتُهَا ، فَقَالَ أَبُو مَسْعُودٍ : إِنَّكُمْ لَتُحَدِّثُونَ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ فِي رُؤْيَا رَآهَا ، وَقَدْ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزَاةٍ ، فَأَصَابَ النَّاسَ جَهْدٌ حَتَّى رَأَيْتُ الْكَآبَةَ فِي وُجُوهِ الْمُسْلِمِينَ وَالْفَرَحَ فِي وُجُوهِ الْمُنَافِقِينَ ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " وَاللَّهِ لَا تَغِيبُ الشَّمْسُ حَتَّى يَأْتِيَكُمُ اللَّهُ بِرِزْقٍ " . فَعَلِمَ عُثْمَانُ أَنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ سَيَصْدُقَانِ ، فَاشْتَرَى عُثْمَانُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ رَاحِلَةً بِمَا عَلَيْهَا مِنَ الطَّعَامِ ، فَوَجَّهَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْهَا بِتِسْعَةٍ ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا هَذَا ؟ " . قَالُوا : أَهْدَى إِلَيْكَ عُثْمَانُ قَالَ : فَعُرِفَ الْفَرَحُ فِي وُجُوهِ الْمُسْلِمِينَ وَالْكَآبَةُ فِي وُجُوهِ الْمُنَافِقِينَ ، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رُئِيَ بَيَاضُ إِبِطَيْهِ ، يَدْعُو لِعُثْمَانَ دُعَاءً مَا سَمِعْتُهُ دَعَا لِأَحَدٍ قَبْلَهُ : " اللَّهُمَّ أَعْطِ عُثْمَانَ اللَّهُمَّ افْعَلْ لِعُثْمَانَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِاخْتِصَارِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
فلفلہ جعفی بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ” میں نے خواب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ عرش سے لپٹے ہوئے تھے اور میں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلو سے پکڑا ہوا تھا ، میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پہلو سے پکڑا ہوا تھا ، میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو پہلو سے پکڑا ہوا تھا اور پھر میں نے دیکھا کہ آسمان سے زمین کی طرف خون آ رہا ہے ۔ جب امام حسن رضی اللہ عنہ نے
یہ روایت بیان کی ، تو اس وقت ان کے پاس کچھ شیعہ لوگ موجود تھے ۔ انہوں نے کہا: آپ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو نہیں دیکھا ، تو سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا : مجھے سب سے زیادہ یہ بات پسند ہے کہ میں یہ دیکھتا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلو سے پکڑا ہوا ہے ، لیکن خواب وہی ہے جو میں نے بیان کیا ہے ، تو سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم لوگ سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کے حوالے سے خواب بیان کرتے ہو ، جو انہوں نے دیکھا تھا ، ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ میں حصہ لے رہے تھے ، لوگوں کو شدید بھوک لاحق ہو گئی ، یہاں تک کہ میں نے مسلمانوں کے چہروں پر پریشانی دیکھی اور منافقین کے چہروں پر خوشی دیکھی ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ صورت حال ملاحظہ کی ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم ! سورج غروب ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ تم لوگوں کو رزق عطا کر دے گا ۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو اس بات کا پتہ تھا کہ اللہ کے رسول سچ فرماتے ہیں ، تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے چودہ سو اونٹنیاں ، ان پر موجود اناج سمیت خرید لیں اور پھر ان میں سے نو کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھیجوایا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ملاحظہ کیا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : یہ کہاں سے آیا ہے ، تو لوگوں نے بتایا یہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے آپ کی طرف تحفے کے طور پر بھیجی ہیں ۔ راوی کہتے ہیں : تو مسلمانوں کے چہروں پر خوشی کے آثار نمایاں ہوئے اور منافقین کے چہروں پر پریشانی کے آثار نمایاں ہوئے ، تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا کہ آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اتنے بلند کیے کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آ رہی تھی ، آپ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے لئے دعا کر رہے تھے ، میں نے آپ کو اس سے پہلے کسی کے لئے اس طرح کی دعا کرتے ہوئے نہیں سنا : ” اے اللہ ! تو عثمان کو عطا کر ، اے اللہ ! تو عثمان کے لئے یہ کر دے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14560
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2759)»
حدیث نمبر: 14561
وَعَنِ الْحَسَنِ أَيْضًا قَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، رَأَيْتُ الْبَارِحَةَ عَجَبًا فِي مَنَامِي ، رَأَيْتُ الرَّبَّ تَعَالَى فَوْقَ عَرْشِهِ ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى قَامَ عِنْدَ قَائِمَةٍ مِنْ قَوَائِمِ الْعَرْشِ ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى مَنْكِبِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى مَنْكِبِ أَبِي بَكْرٍ ، ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ فَكَانَ نُبْذَةً ، فَقَالَ : رَبِّ سَلْ عِبَادَكَ فِيمَا قَتَلُونِي ؟ قَالَ : فَانْثَقَبَ مِنَ السَّمَاءِ مِيزَابَانِ مِنْ دَمٍ فِي الْأَرْضِ . قَالَ : فَقِيلَ لِعَلِيٍّ : أَلَا تَرَى مَا يُحَدِّثُ بِهِ الْحَسَنُ ؟ قَالَ : يُحَدِّثُ بِمَا رَأَى . ¤
محمد محی الدین
سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ، وہ فرماتے ہیں : لوگو میں نے گزشتہ رات خواب میں حیران کن چیز دیکھی ، میں نے دیکھا کہ میرا پروردگار اپنے عرش پر ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور عرش کے ایک پائے کے پاس کھڑے ہوئے ، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے اپنا ہاتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے پر رکھ لیا ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے ، انہوں نے اپنا ہاتھ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے کندھے پر رکھ لیا ، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ آئے تو وہ ذرا ایک طرف تھے ۔ انہوں نے کہا: اے میرے پروردگار ! تو اپنے بندوں سے یہ پوچھ کہ انہوں نے مجھے کیوں قتل کیا ؟ سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : پھر آسمان سے زمین کی طرف خون کے دو پرنالے بہنے لگے ۔ راوی کہتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے یہ کہا: گیا کہ آپ نے یہ چیز ملاحظہ نہیں کی کہ جو سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس نے وہی چیز بیان کی ہے ، جو اس نے دیکھی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14561
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (6767)»
حدیث نمبر: 14562
وَفِي رِوَايَةٍ : أَنَّ الْحَسَنَ قَالَ : لَا أُقَاتِلُ بَعْدَ رُؤْيَا رَأَيْتُهَا - فَذَكَرَ نَحْوَهُ - إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : وَرَأَيْتُ عُثْمَانَ وَاضِعًا يَدَهُ عَلَى عُمَرَ ، وَرَأَيْتُ دِمَاءً دُونَهُمْ ، فَقُلْتُ : مَا هَذَا ؟ قِيلَ : دِمَاءُ عُثْمَانَ يَطْلُبُ اللَّهَ بِهِ . ¤ رَوَاهُ كُلَّهُ أَبُو يَعْلَى بِإِسْنَادَيْنِ ، وَفِي أَحَدِهِمَا مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَفِي الْآخَرِ سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے جو خواب دیکھا ہے اس کے بعد میں جنگ نہیں کروں گا ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت ذکر کی ہے ، جس میں آگے چل کے یہ الفاظ ہیں : میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے اپنا ہاتھ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر رکھا ہوا تھا اور ان لوگوں کے بعد میں نے خون دیکھا ، میں نے دریافت کیا : یہ کیا ہے ؟ تو بتایا گیا کہ یہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا خون ہے ، جس کے حوالے سے وہ اللہ تعالیٰ سے ( حساب لینے ) کا مطالبہ ( یعنی دعا ) کر رہے ہیں ۔ یہ تمام روایات ابویعلیٰ نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہیں ان دونوں میں سے ایک کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں اور دوسری کی سند میں ایک راوی سفیان بن وکیع ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14562
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (6768)»
حدیث نمبر: 14563
وَعَنْ مُسْلِمٍ أَبِي سَعِيدٍ - مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ - : أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ أَعْتَقَ عِشْرِينَ عَبْدًا مَمْلُوكًا ، وَدَعَا بِسَرَاوِيلَ فَشَدَّهَا عَلَيْهِ وَلَمْ يَلْبَسْهَا فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا إِسْلَامٍ ، وَقَالَ : إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْبَارِحَةَ فِي الْمَنَامِ رَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ [ وَإِنَّهُمْ ]قَالُوا لِيَ : اصْبِرْ ، فَإِنَّكَ تُفْطِرُ عِنْدَنَا الْقَابِلَةَ . ثُمَّ دَعَا بِمُصْحَفٍ فَنَشَرَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقُتِلَ ، وَهُوَ بَيْنُ يَدَيْهِ . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ وَأَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ . وَقَدْ تَقَدَّمَتْ لِهَذَا طُرُقٌ فِي الْفِتَنِ . ¤
محمد محی الدین
مسلم ابوسعید جو سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے بیس غلاموں کو آزاد کر دیا ، پھر انہوں نے شلوار منگوائی اور اسے مضبوطی سے باندھ لیا ، حالانکہ انہوں نے زمانہ جاہلیت میں یا زمانہ اسلام میں کبھی بھی شلوار نہیں پہنی تھی ، پھر انہوں نے بتایا : گزشتہ رات میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا ، میں نے خواب میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا ، ان لوگوں نے مجھ سے یہ کہا: تم صبر سے کام لو ، تم آج افطاری ہمارے ساتھ کرو گے ، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے قرآن مجید منگوایا اور اسے اپنے سامنے منگوا لیا ، جب انہیں شہید کیا گیا ، تو وہ قرآن مجید ان کے سامنے موجود تھا ۔
یہ روایت عبداللہ نے اور امام ابویعلیٰ نے کبیر میں نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔ اس روایت کے مختلف طرق فتنوں سے متعلق کتاب میں گزر چکے ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14563
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 14564
وَعَنْ قَتَادَةَ قَالَ : صَلَّى الزُّبَيْرُ عَلَى عُثْمَانَ وَدَفَنَهُ ، وَكَانَ أَوْصَى إِلَيْهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنْ قَتَادَةَ لَمْ يُدْرِكِ الْقِصَّةَ . ¤
محمد محی الدین
قتادہ بیان کرتے ہیں : سیدنا زبیر نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ پڑھائی تھی اور انہیں دفن کیا تھا ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کے بارے میں وصیت کی تھی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، البتہ قتادہ نامی راوی نے اس واقعہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14564
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (549)»
حدیث نمبر: 14565
وَعَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ قَالَ : خَطَبَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ : لَوْ أَنَّ النَّاسَ لَمْ يَطْلُبُوا بِدَمِ عُثْمَانَ لَرُجِمُوا بِالْحِجَارَةِ مِنَ السَّمَاءِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ الْكَبِيرِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
زہدم جرمی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : ” اگر لوگوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قصاص کا مطالبہ نہ کیا ہوتا تو آسمان سے ان پر پتھر برسائے جاتے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، معجم کبیر کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14565
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (122)»
حدیث نمبر: 14566
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، وَعَنْ يَمِينِهِ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ ، وَعَنْ يَسَارِهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، إِذْ جَاءَ غُرَابُ بْنُ فُلَانٍ الصُّدَائِيُّ ، فَقَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، مَا تَقُولُ فِي عُثْمَانَ ؟ فَبَدَرُهُ الرَّجُلَانِ ، فَقَالَا : تَسْأَلُ عَنْ رَجُلٍ كَفَرَ بِاللَّهِ مِنْ بَعْدِ إِيمَانِهِ وَنَافَقَ ؟ ! فَقَالَ الرَّجُلُ لَهُمَا : لَسْتُ لَكُمَا أَسْأَلُ ، وَلَا إِلَيْكُمَا جِئْتُ . فَقَالَ لَهُ : لَسْتُ أَقُولُ مَا قَالَا . فَقَالَا لَهُ جَمِيعًا : فَلِمَ قَتَلْنَاهُ إِذًا ؟ قَالَ : وَلِيَ عَلَيْكُمْ فَأَسَأَءَ الْوِلَايَةَ فِي آخِرِ أَيَّامِهِ ، وَجَزِعْتُمْ فَأَسَأْتُمُ الْجَزَعَ ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا وَعُثْمَانُ كَمَا قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ إِخْوَانًا عَلَى سُرُرٍ مُتَقَابِلِينَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمُنْعِمِ بْنُ بَشِيرٍ ، وَلَا يَحِلُّ الِاحْتِجَاجُ بِهِ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن سعید اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ہم لوگ سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ۔ ان کے دائیں طرف سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ موجود تھے اور بائیں طرف محمد بن ابوبکر موجود تھے ، اسی دوران غراب بن فلاں صدائی نامی شخص آیا اور بولا: اے امیر المؤمنین ! آپ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ تو دونوں صاحبان نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر سبقت کرتے ہوئے یہ کہا: تم ایک ایسے شخص کے بارے میں نہ پوچھو کہ جس نے ایمان لانے کے بعد اللہ کا کفر کیا اور منافقت اختیار کی ، اس شخص نے ان دونوں صاحبان سے کہا: میں نے آپ دونوں سے سوال نہیں کیا اور نہ ہی میں آپ دونوں کے پاس آیا ہوں ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس شخص سے کہا: یہ دونوں جو کہہ رہے ہیں ، میں وہ نہیں کہتا ، ان دونوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا: تو پھر ہم نے انہیں قتل کیوں ہونے دیا ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : وہ تمہارے امیر بنے تھے ، اور انہوں نے اپنی حکومت کے آخری دنوں میں کچھ کام ٹھیک نہیں کیے ، تم نے اس کے خلاف احتجاج کیا اور غلط طریقے سے کیا ، اللہ کی قسم ! مجھے یہ توقع ہے کہ میں اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اس طرح ہوں گے ، جس طرح اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ” اور ہم نے ان کے سینوں میں سے کھوٹ الگ کر دیا ، وہ بھائی بھائی بن کر پلنگوں پر ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالمنعم بن بشیر ہے ، جس سے استدلال کرنا درست نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14566
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (111)»
حدیث نمبر: 14567
وَعَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ قَالَ : سَمِعْتُ طَلْقَ بْنَ خُشَافٍ يَقُولُ : وَفَدْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لِنَنْظُرَ فِيمَا قُتِلَ عُثْمَانُ ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَرَرْنَا بِبَعْضِ آلِ عَلِيٍّ ، وَبَعْضِ آلِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ، وَبَعْضِ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ ، فَانْطَلَقْتُ حَتَّى أَتَيْتُ عَائِشَةَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهَا ، فَرَدَّتِ السَّلَامَ وَقَالَتْ : مَنِ الرَّجُلُ ؟ قُلْتُ : مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ قَالَتْ : وَمِنْ أَيِّ أَهْلِ الْبَصْرَةِ ؟ قُلْتُ : مِنْ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ ، فَقَالَتْ : وَمِنْ أَيِّ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ ؟ فَقُلْتُ : مِنْ بَنِي قَيْسِ بْنِ ثَعْلَبَةَ ، فَقَالَتْ : مِنْ آلِ فُلَانٍ ؟ فَقُلْتُ لَهَا : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، فِيمَا قُتِلَ عُثْمَانُ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ ؟ قَالَتْ : قُتِلَ وَاللَّهِ مَظْلُومًا ، لَعَنَ اللَّهُ مَنْ قَتَلَهُ ، أَقَادَ اللَّهُ مِنِ ابْنِ أَبِي بَكْرٍ بِهِ ، وَسَاقَ اللَّهُ إِلَى أَعْيَنَ بْنِ تَيْمٍ هَوَانًا فِي بَيْتِهِ ، وَأَرَاقَ اللَّهُ دِمَاءَ بَنِي بُدَيْلٍ عَلَى ضَلَالِهِ ، وَسَاقَ اللَّهُ إِلَى الْأَشْتَرِ سَهْمًا مِنْ سِهَامِهِ . ¤ فَوَاللَّهِ مَا مِنَ الْقَوْمِ رَجُلٌ إِلَّا أَصَابَتْهُ دَعْوَتُهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ طَلْقٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
ابواسود بیان کرتے ہیں : میں نے طلیق بن خشاف کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا : ” ہم لوگ وفد کی شکل میں مدینہ منورہ گئے تاکہ اس بات کا جائزہ لیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو کیوں شہید کیا گیا ، جب ہم وہاں آئے ، تو وہاں ہمارا گزر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خاندان سے تعلق رکھنے والے ایک فرد کے پاس سے ہوا ، سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے خاندان سے تعلق رکھنے والے ایک فرد کے پاس سے ہوا ، ایک اُم المؤمنین کے پاس سے ہوا ، لیکن میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے انہیں سلام کیا ، انہوں نے سلام کا جواب دیا ، انہوں نے دریافت کیا : تم کون ہو ؟ میں نے بتایا : اہل بصرہ سے تعلق رکھنے والا ایک فرد ہوں ، انہوں نے دریافت کیا : اہل بصرہ میں سے کس سے تعلق رکھتے ہو ؟ میں نے جواب دیا : بکر بن وائل کے خاندان سے ، انہوں نے دریافت کیا : بکر بن وائل کے خاندان میں سے کس سے تعلق رکھتے ہو ؟ میں نے بتایا بنو قیس بن ثعلبہ سے ، انہوں نے فرمایا : آل فلاں سے ، میں نے ان سے کہا: اے ام المؤمنین ! سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ جو امیر المؤمنین ہیں ، انہیں کیوں شہید کیا گیا ، تو انہوں نے فرمایا : اللہ کی قسم ! انہیں مظلوم ہونے کے طور پر قتل کیا گیا ، اور جس شخص نے انہیں قتل کیا ہے ، اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرے ۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بیٹے سے اللہ تعالیٰ ان کا قصاص لے اور بنو تیم کے بڑوں کو ان کے گھر میں اللہ تعالیٰ بے حیثیت کر دے ، اور بنو بدیل کی گمراہی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کے خون بہائے اور اشتر کی طرف اللہ تعالیٰ اپنے تیروں میں سے کوئی تیر بھیجے ( راوی کہتے ہیں : ) اللہ کی قسم ! ان سب لوگوں میں سے ہر ایک کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی دعائے ضرر کا نتیجہ لاحق ہوا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف طلق کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14567
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (133)»
حدیث نمبر: 14568
وَعَنِ الْحَسَنِ قَالَ : أُخِذَ الْفَاسِقُ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ فِي شِعْبٍ مِنْ شِعَابِ مِصْرَ ، فَأُدْخِلَ فِي جَوْفِ حِمَارٍ فَأُحْرِقَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
حسن فرماتے ہیں : فاسق محمد بن ابوبکر کو مصر کی ایک گھاٹی میں پکڑ لیا گیا ، اسے گدھے کی کھال میں ڈال کر جلا دیا گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14568
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (123)»
حدیث نمبر: 14569
وَعَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ قَالَ : اجْتَمَعْنَا فِي دَارِ مَخْرَمَةَ - بَعْدَمَا قُتِلَ عُثْمَانُ - نُرِيدُ الْبَيْعَةَ ، فَقَالَ أَبُو جَهْمِ بْنُ حُذَيْفَةَ : إِنَّا مَنْ بَايَعْنَا مِنْكُمْ فَإِنَّا لَا نَحُولُ دُونَ قَصَاصٍ ، فَقَالَ عَمَّارٌ : أَمَّا مِنْ دَمِ عُثْمَانَ فَلَا ، فَقَالَ أَبُو جَهْمٍ : اللَّهَ يَا ابْنَ سُمَيَّةَ ! ! اللَّهَ لَتُقَادَنَّ مِنْ جَلَدَاتٍ جُلِدْتَهَا وَلَا يُقَادُ مِنْ دَمِ عُثْمَانَ ؟ قَالَ : فَانْصَرَفْنَا يَوْمَئِذٍ عَلَى غَيْرِ بَيْعَةٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
علقمہ بن وقاص بیان کرتے ہیں : ہم لوگ دار مخرمہ میں اکٹھے ہوئے ، یہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد کی بات ہے ، ہمارا ارادہ بیعت کرنے کا تھا ، تو سیدنا ابوجہم بن حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم لوگ بیعت اس صورت میں کریں گے کہ جب قصاص کے لئے کوئی رکاوٹ نہ بنے ، سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: جہاں تک سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خون کا تعلق ہے ، تو پھر یہ نہیں ہو گا ، تو سیدنا ابوجہم رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کا واسطہ ہے ، اے ابن سمیہ ! اللہ کا واسطہ ہے ، تمہیں چند کوڑے لگائے گئے تو تمہیں ان کا بدلہ دیدیا جائے ، اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خون کا قصاص نہیں لیا جائے گا ۔ راوی کہتے ہیں : تو اس دن ہم بیعت کیے بغیر واپس چلے گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14569
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (115)»
حدیث نمبر: 14570
وَعَنْ عُمَيْرِ بْنِ رُودِيٍّ قَالَ : خَطَبَ عَلِيٌّ النَّاسَ فَقَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّهُ وَاللَّهُ لَئِنْ لَمْ يَدْخُلِ النَّارَ إِلَّا مَنْ قَتَلَ عُثْمَانَ لَا أَدْخُلُهَا ، وَلَئِنْ لَمْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ قَتَلَ عُثْمَانَ لَا أَدْخُلُهَا . قَالَ : فَلَمَّا نَزَلَ قِيلَ لَهُ : تَكَلَّمْتَ بِكَلِمَةٍ فَرَّقْتَ بِهَا عَنْكَ أَصْحَابَكَ ، فَخَطَبَهُمْ فَقَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، أَلَا إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - قَتَلَ عُثْمَانَ وَأَنَا مَعَهُ . . ¤ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ : كَلِمَةٌ قُرَشِيَّةٌ لَهَا وَجْهَانِ . ¤ قَالَ الطَّبَرَانِيُّ : كَأَنَّهُ يَعْنِي أَنَّ اللَّهَ قَتَلَهُ وَأَنَا مَعَهُ مَقْتُولٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُجَالِدٌ ، وَالْأَكْثَرُونَ عَلَى تَضْعِيفِهِ ، وَعُمَيْرٌ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عمیر رودی بیان کرتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : اے لوگو اگر جہنم میں صرف وہ شخص داخل ہو جس نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کیا ہو ، تو میں جہنم میں داخل نہیں ہوں گا ( یعنی میں انہیں شہید کرنے والوں میں شامل نہیں ہوں ) اور اگر جنت میں صرف وہ شخص داخل ہو جس نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کیا تھا ، تو میں اس میں داخل نہیں ہوؤں گا ( یعنی میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلین میں شامل نہیں ہوں ) ۔ راوی بیان کرتے ہیں : جب وہ منبر سے نیچے اترے تو ان سے کہا: گیا آپ نے ایک ایسی بات کہہ دی ہے ، جس کی وجہ سے آپ کے ساتھی آپ کو چھوڑ کے جا سکتے ہیں ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے انہیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : اے لوگو ! خبردار ! اللہ تعالیٰ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کروایا ہے ، اور میں ان کے ساتھ ہوں ۔ محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں : یہ قریشیوں کا مخصوص انداز خطاب ہے ، جس میں دو پہلو پائے جاتے ہیں ۔ امام طبرانی کہتے ہیں : گویا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی مراد یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کروایا ہے ، میں بھی ان کے ساتھ مارا گیا ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مجالد ہے ، زیادہ تر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، ایک راوی عمیر ہے ۔ میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14570
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (112)»
حدیث نمبر: 14571
وَبِسَنَدِهِ قَالَ : خَطَبَهُمْ عَلِيٌّ فَقَطَعُوا عَلَيْهِ خُطْبَتَهُ ، فَقَالَ : إِنَّمَا وَهَنْتُ يَوْمَ قَتْلِ عُثْمَانَ ، وَضَرَبَ لَهُمْ مَثَلًا ; مَثَلَ ثَلَاثَةِ أَثْوَارٍ وَأَسَدًا اجْتَمَعُوا فِي أَجَمَةٍ : أَسْوَدُ وَأَحْمَرُ وَأَبْيَضُ ، وَكَانَ الْأَسَدُ إِذَا أَرَادَ وَاحِدًا مِنْهُمُ اجْتَمَعْنَ عَلَيْهِ ، فَامْتَنَعْنَ مِنْهُ ، فَقَالَ الْأَسَدُ لِلْأَسْوَدِ وَالْأَحْمَرِ : إِنَّمَا يَفْضَحُنَا فِي أَجَمَتِنَا هَذِهِ وَيَشْهَرُنَا هَذَا الْأَبْيَضُ ، فَدَعَانِي حَتَّى آكُلَهُ ، فَلَوْنِي عَلَى لَوْنِكُمَا وَلَوْنُكُمَا عَلَى لَوْنِي ، فَحَمَلَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ قَتَلَهُ ، ثُمَّ قَالَ لِلْأَسْوَدِ : إِنَّمَا يَفْضَحُنَا وَيَشْهَرُنَا فِي أَجَمَتِنَا هَذَا الْأَحْمَرُ ، فَدَعْنِي حَتَّى آكُلَهُ فَلَوْنِي عَلَى لَوْنِكَ وَلَوْنُكَ عَلَى لَوْنِي ، فَحَمَلَ عَلَيْهِ فَقَتَلَهُ ، فَقَالَ لِلْأَسْوَدِ : إِنِّي آكُلُكَ قَالَ : دَعْنِي أُصَوِّتْ ثَلَاثَةَ أَصْوَاتٍ ، فَقَالَ : أَلَا إِنَّمَا أُكِلْتُ يَوْمَ أُكِلَ الْأَبْيَضُ ، أَلَا إِنَّمَا أُكِلْتُ يَوْمَ أُكِلَ الْأَبْيَضُ ، أَلَا إِنَّمَا أُكِلْتُ يَوْمَ أُكِلَ الْأَبْيَضُ . أَلَا إِنَّمَا وَهَنْتُ يَوْمَ قُتِلَ عُثْمَانُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادِ الَّذِي قَبْلَهُ . ¤
محمد محی الدین
اسی سند کے ساتھ یہ بات منقول ہے : سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو خطبہ دیا ، تو لوگوں نے ان کا خطبہ درمیان میں رکوا دیا ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے دن میں کمزور ہو گیا تھا ، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کے سامنے مثال بیان کی کہ تین بیل ہوتے ہیں ، اور ایک شیر ہوتا ہے وہ ایک جگہ پر اکٹھے ہو جاتے ہیں ، ایک بیل کا رنگ سیاہ ہے ، ایک سرخ ہے اور ایک کا سفید ہے ، شیر جب بھی ان میں سے کسی ایک پر حملہ کرنے کا ارادہ کرتا ہے ، تو وہ تینوں شیر کے خلاف اکٹھے ہو جاتے ہیں ، اور اسے اپنے پاس آنے سے روک دیتے ہیں ، پھر شیر سیاہ اور سرخ بیل سے یہ کہتا ہے کہ ہمارے اس علاقے میں یہ والا سفید بیل ہمیں رسوائی کا شکار کر رہا ہے ، تم مجھے موقع دو میں اسے کھا لیتا ہوں ، کیونکہ میری اور تمہاری رنگت ایک جیسی ہے ، اور تم دونوں کی رنگت میری طرح کی ہے ، پھر وہ شیر اس پر حملہ کر کے اسے مار دیتا ہے اس کو مار دینے کے کچھ عرصہ بعد وہ سیاہ بیل سے کہتا ہے ، یہ سرخ بیل ہمارے اس علاقے میں ہمیں رسوائی اور شرمندگی کا شکار کر رہا ہے ، تم مجھے موقع دو کہ میں اسے کھا لوں کیونکہ میرا رنگ تمہارے رنگ کی مانند ہے ، تمہارا رنگ میرے رنگ کی مانند ہے ، پھر وہ دوسرے بیل پر حملہ کر کے اسے بھی مار دیتا ہے ، پھر وہ سیاہ بیل سے یہ کہتا ہے کہ اب میں تمہیں کھاؤں گا ، تو وہ سیاہ بیل کہتا ہے : تم مجھے موقع دو کہ میں تین مرتبہ بلند آواز میں پکار کر کچھ کہوں ، پھر وہ بیل کہتا ہے : خبردار ! میں اسی دن کھا لیا گیا تھا جس دن سفید بیل کو کھا لیا گیا تھا ، خبردار ! میں اسی دن کھا لیا گیا تھا ، جس دن سفید بیل کو کھا لیا گیا تھا ، خبردار ! میں اسی دن کھا لیا گیا تھا ، جس دن سفید بیل کو کھا لیا گیا تھا ، ( پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) خبردار ! میں اس دن کمزور ہو گیا تھا جس دن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اس سند کے ساتھ نقل کی ہے ، جو اس سے پہلے والی روایت کی سند ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14571
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (113)»
حدیث نمبر: 14572
وَعَنْ مُغِيرَةَ قَالَ : خَرَجَ مِنَ الْكُوفَةِ جَرِيرٌ ، وَعَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ ، وَحَنْظَلَةُ الْكَاتِبُ ، إِلَى قَرْقِيسْيَا ، وَقَالُوا : لَا نُقِيمُ فِي بَلْدَةٍ يُشْتَمُ فِيهَا عُثْمَانُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ مُغِيَرَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ الصَّحَابَةِ . ¤
محمد محی الدین
مغیرہ بیان کرتے ہیں : سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ اور سیدنا حنظلہ کاتب رضی اللہ عنہ کوفہ سے نکل کر قرقیسیا کی طرف چلے گئے ۔ انہوں نے کہا: ہم ایسے شہر میں مقیم نہیں رہیں گے جہاں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو برا کہا: جاتا ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، البتہ مغیرہ نامی راوی نے صحابہ کرام سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14572
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2217)»
حدیث نمبر: 14573
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ قَالَ : كَانَتِ الشُّورَى ، فَاجْتَمَعَ النَّاسُ عَلَى عُثْمَانَ لِثَلَاثٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ سَنَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ ، وَقُتِلَ عُثْمَانُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ لِثَمَانِ عَشْرَةَ خَلَتْ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ [ تَمَامَ ] سَنَةَ خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ وَسِنُّهُ ثَمَانٍ وَثَمَانُونَ سَنَةً . وَكَانَ يُصَفِّرُ لِحْيَتَهُ ، وَكَانَتْ وِلَايَةُ عُثْمَانَ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ سَنَةً . . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
یحیی بن بکیر بیان کرتے ہیں : ( سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد ) شوریٰ کے لوگ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے انتخاب پر متفق ہوئے تھے ، یہ اس وقت کی بات ہے جب ذوالحج کے تین دن باقی رہ گئے تھے اور یہ سن 23 ہجری کی بات ہے جبکہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو جمعہ کے دن 18 ذوالحج سن 35 ہجری میں 88 برس کی عمر میں شہید کیا گیا ، وہ اپنی داڑھی پر زرد خضاب لگاتے تھے ۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت بارہ سال رہی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14573
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (107)»
حدیث نمبر: 14574
وَعَنْ قَتَادَةَ : أَنَّ عُثْمَانَ قُتِلَ وَهُوَ ابْنُ تِسْعِينَ أَوْ ثَمَانٍ وَثَمَانِينَ سَنَةً . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ إِلَى قَتَادَةَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
قتادہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا ، اس وقت ان کی عمر نوے سال یا شاید اٹھاسی سال تھی ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور قتادہ تک اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14574
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (108 و 104) اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (547)»
حدیث نمبر: 14575
وَعَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَ : كَانَتْ خِلَافَةُ عُثْمَانَ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ سَنَةً . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت بارہ سال تک رہی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14575
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (106)»