حدیث نمبر: 14528
عَنْ جَابِرٍ قَالَ : بَيْنَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَيْتٍ فِي نَفَرٍ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ فِيهِمْ : أَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ ، وَعُثْمَانُ ، وَعَلِيٌّ ، وَطَلْحَةُ ، وَالزُّبَيْرُ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لِيَنْهَضْ كُلُّ رَجُلٍ إِلَى كُفْئِهِ " . وَنَهَضَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى عُثْمَانَ فَاعْتَنَقَهُ ، وَقَالَ : " أَنْتَ وَلِيِّي فِي الدُّنْيَا وَوَلِيِّي فِي الْآخِرَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ طَلْحَةُ بْنُ زَيْدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک گھر میں موجود تھے ، مہاجرین سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد تھے ، جن میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تھے ۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ تھے ۔ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ تھے ۔ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ تھے ۔ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ تھے اور سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہر فرد اپنے پائے کے فرد کے ساتھ اٹھ جائے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف گئے ، آپ نے انہیں گلے لگایا اور ارشاد فرمایا : ” تم دنیا میں میرے ساتھی اور آخرت میں میرے ساتھی ہو ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی طلحہ بن زید ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی طلحہ بن زید ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 14529
وَعَنْ عُبَيْدٍ الْحِمْيَرِيِّ قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ عُثْمَانَ حِينَ حُوصِرَ ، فَقَالَ : هَاهُنَا طَلْحَةُ ؟ فَقَالَ طَلْحَةُ - رَحِمَهُ اللَّهُ - : نَعَمْ قَالَ اسْتَقِمْ . فَقَالَ : نَشَدْتُكَ اللَّهَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّا كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " لِيَأْخُذْ كُلُّ رَجُلٍ مِنْكُمْ بِيَدِ جَلِيسِهِ " . فَأَخَذْتَ بِيَدِ فُلَانٍ ، وَأَخَذَ فُلَانٌ بِيَدِ فُلَانٍ ، حَتَّى أَخَذَ كُلُّ رَجُلٍ بِيَدِ صَاحِبِهِ ، وَأَخَذَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِيَدِي وَقَالَ : " هَذَا جَلِيسِي فِي الدُّنْيَا وَوَلِيِّي فِي الْآخِرَةِ " . فَقَالَ : اللَّهُمَّ نَعَمْ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، قِيلَ فِيهِ : كَذَّابٌ ، وَقِيلَ فِيهِ : مُسْتَقِيمُ الْحَدِيثِ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْأَئِمَّةُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
عبید حمیری بیان کرتے ہیں : میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا ، یہ اس وقت کی بات ہے جب ان کا محاصرہ کیا جا چکا تھا ۔ انہوں نے دریافت کیا : کیا یہاں طلحہ موجود ہیں ؟ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ بولے : جی ہاں ! سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ اٹھ جائیں ، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر یہ بات دریافت کرتا ہوں کہ کیا آپ لوگ یہ بات نہیں جانتے کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم میں سے ہر ایک شخص اپنے ساتھ والے کا ہاتھ پکڑ لے ، تو تم نے فلاں شخص کا ہاتھ پکڑا تھا ، فلاں نے فلاں کا ہاتھ پکڑا تھا ، یہاں تک کہ ہر فرد نے اپنے ساتھ والے کا ہاتھ پکڑ لیا تھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر ارشاد فرمایا تھا : یہ دنیا میں میرا ہمنشین ہے ، اور آخرت میں میرا ساتھی ہو گا ، تو سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : اللہ جانتا ہے ، جی ہاں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خارجہ بن مصعب ہے ، اور وہ متروک ہے ، اس کے بارے میں یہ کہا: گیا ہے کہ وہ کذاب ہے ، اور ایک قول اس کے بارے میں یہ ہے کہ وہ مستقیم الحدیث ہے ، ائمہ جیسے امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خارجہ بن مصعب ہے ، اور وہ متروک ہے ، اس کے بارے میں یہ کہا: گیا ہے کہ وہ کذاب ہے ، اور ایک قول اس کے بارے میں یہ ہے کہ وہ مستقیم الحدیث ہے ، ائمہ جیسے امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔