حدیث نمبر: 14526
عَنْ عُمَرَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْيَشْكُرِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ أُمِّي تُحَدِّثُ أَنَّ أُمَّهَا انْطَلَقَتْ إِلَى الْبَيْتِ حَاجَّةً ، وَالْبَيْتُ يَوْمَئِذٍ لَهُ بَابَانِ قَالَتْ : فَلَمَّا قَضَيْتُ طَوَافِي دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ . قَالَتْ : فَقُلْتُ لَهَا : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، إِنَّ بَعْضَ بَنِيكِ بَعَثَ يُقْرِئُكِ السَّلَامَ ، وَإِنَّ النَّاسَ قَدْ أَكْثَرُوا فِي عُثْمَانَ فَمَا تَقُولِينَ فِيهِ ؟ فَقَالَتْ : لَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَهُ ، لَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَهُ - لَا أَحْسَبُهَا إِلَّا قَالَتْ : ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ مُسْنِدٌ فَخِذَهُ إِلَى عُثْمَانَ ، وَإِنِّي لَأَمْسَحُ الْعَرَقَ عَنْ جَبِينِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَإِنَّ الْوَحْيَ يَنْزِلُ عَلَيْهِ ، وَلَقَدْ زَوَّجَهُ ابْنَتَيْهِ إِحْدَاهُمَا بَعْدَ الْأُخْرَى ، وَإِنَّهُ لَيَقُولُ : " اكْتُبْ عُثَيْمُ " . قَالَتْ : مَا كَانَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - لِيُنْزِلَ عَبْدًا مِنْ نَبِيِّهِ بِتِلْكَ الْمَنْزِلَةِ إِلَّا عَبْدًا كَرِيمًا عَلَيْهِ . ¤
محمد محی الدین
عمر بن ابراهیم یشکری بیان کرتے ہیں : میں نے اپنی والدہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ، ان کی والدہ کسی کام کے سلسلے میں بیت اللہ کے اندر گئیں ، بیت اللہ کے ان دنوں دو دروازے ہوتے تھے ، وہ خاتون بیان کرتی ہیں : جب میں نے اپنا طواف مکمل کیا ، تو میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی ، وہ خاتون کہتی ہیں : میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا : اے ام المومنین ! آپ کے ایک بیٹے نے آپ کو سلام بھیجا ہے ، لوگ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بہت خلاف ہو چکے ہیں ، تو آپ ان کے بارے میں کیا کہتی ہیں ؟ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : جو شخص ان پر لعنت کرتا ہے اس پر اللہ تعالیٰ لعنت کرے ، جو ان پر لعنت کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرے ، میرا خیال ہے تین مرتبہ انہوں نے یہ کلمات کہے ، اور پھر یہ بات بیان کی کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ زانوں لگا کر ٹیک لگائی ہوئی تھی اور میں نبی اکرم ﷺ کی پیشانی سے پسینہ پونچھ رہی تھی اور نبی اکرم ﷺ پر وحی نازل ہو رہی تھی ، نبی اکرم ﷺ نے اپنی دو صاحبزادیوں کی شادیاں یکے بعد دیگرے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیں ، نبی اکرم ﷺ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے فرمایا : اے عثیم تم لکھو ! سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : اللہ تعالیٰ کسی بندے کو اپنے نبی کے اتنا قریب اسی وقت کر سکتا ہے جب وہ بندہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک معزز ہو ۔
حدیث نمبر: 14527
وَفِي رِوَايَةٍ : وَهُوَ مَسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَيَّ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ ثُمَامَةَ الْحِنْطِيِّ إِنَّ أَخَاهَا الْمُخَارِقَ بْنَ ثُمَامَةَ الْحِنْطِيَّ قَالَ لَهَا : ادْخُلِي عَلَى عَائِشَةَ فَأَقْرِئِيهَا مِنِّي السَّلَامَ ، فَدَخَلَتْ عَلَيْهَا فَقَالَتْ : إِنَّ بَعْضَ بَنِيكِ يُقْرِئُكِ السَّلَامَ قَالَتْ عَائِشَةُ : وَعَلَيْهِ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ ، قَلَّتْ : وَيَسْأَلُكِ أَنْ تُحَدِّثِيهِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، فَإِنَّ النَّاسَ قَدْ أَكْثَرُوا فِيهِ عِنْدَنَا حِينَ قُتِلَ . قَالَتْ : أَمَّا أَنَا فَأَشْهَدُ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ فِي هَذَا الْبَيْتِ ، وَنَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَجِبْرِيلُ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي لَيْلَةٍ قَائِظَةٍ ، وَكَانَ إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ يَنْزِلُ عَلَيْهِ ثَقْلَةٌ ، يَقُولُ اللَّهُ - جَلَّ ذِكْرُهُ - : ( إِنَّا سَنُلْقِي عَلَيْكَ قَوْلًا ثَقِيلًا ) فَذَكَرَ نَحْوَهُ . وَأُمُّ كُلْثُومٍ لَمْ أَعْرِفْهَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ ٹیک لگائی ہوئی تھی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ام کلثوم بنت ثمامہ حنطی بیان کرتی ہیں : ان کے بھائی مخارق بن ثمامہ حنفی نے ان سے کہا: تم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جاؤ ، انہیں میری طرف سے سلام کہنا ، میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی اور یہ کہا: آپ کے ایک بیٹے نے آپ کو سلام بھیجا ہے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اس پر بھی سلام ہو ، اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں ۔ میں نے کہا: وہ آپ سے یہ پوچھنا چاہ رہا تھا کہ آپ اس کو سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے بارے میں بتائیں کیونکہ لوگ ان کے خلاف بہت باتیں کر رہے ہیں ، جب انہیں شہید کر دیا گیا ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : جہاں تک میری بات ہے ، تو میں اس بات کی گواہی دیتی ہوں کہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ اسی گھر میں موجود تھے اللہ کے نبی موجود تھے ۔ سیدنا جبرائیل موجود تھے ، وہ ایک سرد رات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تھی ، تو وہ آپ کے لئے شدت کا باعث ہوتی تھی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ” ہم ایک بھاری قول تمہاری طرف القاء کریں گے ۔ “ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ، اُم کلثوم نامی خاتون راوی سے میں واقف نہیں ہوں ، طبرانی کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ام کلثوم بنت ثمامہ حنطی بیان کرتی ہیں : ان کے بھائی مخارق بن ثمامہ حنفی نے ان سے کہا: تم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جاؤ ، انہیں میری طرف سے سلام کہنا ، میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی اور یہ کہا: آپ کے ایک بیٹے نے آپ کو سلام بھیجا ہے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اس پر بھی سلام ہو ، اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں ۔ میں نے کہا: وہ آپ سے یہ پوچھنا چاہ رہا تھا کہ آپ اس کو سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے بارے میں بتائیں کیونکہ لوگ ان کے خلاف بہت باتیں کر رہے ہیں ، جب انہیں شہید کر دیا گیا ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : جہاں تک میری بات ہے ، تو میں اس بات کی گواہی دیتی ہوں کہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ اسی گھر میں موجود تھے اللہ کے نبی موجود تھے ۔ سیدنا جبرائیل موجود تھے ، وہ ایک سرد رات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تھی ، تو وہ آپ کے لئے شدت کا باعث ہوتی تھی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ” ہم ایک بھاری قول تمہاری طرف القاء کریں گے ۔ “ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ، اُم کلثوم نامی خاتون راوی سے میں واقف نہیں ہوں ، طبرانی کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔