کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: بھلائی کے امور کا بیان
حدیث نمبر: 14525
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ قَالَ : لَقَدِ اخْتَبَأْتُ عِنْدَ رَبِّي عَشْرًا : إِنِّي لَرَابِعُ أَرْبَعَةٍ فِي الْإِسْلَامِ ، وَمَا تَغَنَّيْتُ ، وَلَا تَمَنَّيْتُ ، وَلَا وَضَعْتُ يَمِينِي عَلَى فَرْجِي مُنْذُ بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَا مَرَّتْ عَلَيَّ جُمْعَةٌ مُنْذُ أَسْلَمْتُ إِلَّا وَأَنَا أَعْتِقُ فِيهَا رَقَبَةً إِلَّا أَلَّا يَكُونَ عِنْدِي فَأَعْتِقَهَا بَعْدَ ذَلِكَ ، وَلَا زَنَيْتُ فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا إِسْلَامٍ . . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ الْمِقْدَامِ بْنِ دَاوُدَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَالَ ابْنُ دَقِيقِ الْعِيدِ فِي الْإِمَامِ : وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے اپنے پروردگار کے پاس دس چیزیں سنبھال کے رکھوائی ہیں ( وہ یہ ہیں : ) میں اسلام قبول کرنے والا چوتھا فرد ہوں ۔ میں نے کبھی گناہ نہیں کیا ، کبھی ( گناہ کی ) آرزو نہیں کی ، میں نے جب سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی ہے کبھی اپنا دایاں ہاتھ اپنی شرمگاہ پر نہیں رکھا ، جب سے میں نے اسلام قبول کیا ہے ، ہر ہفتے میں ایک مرتبہ کوئی غلام ضرور آزاد کیا ہے ، اگر کبھی ایسا ہوا کہ میرے پاس غلام موجود نہیں ہوتا تو میں بعد میں اسے آزاد کر دیتا تھا اور میں نے زمانہ جاہلیت میں یا زمانہ اسلام میں کبھی زنا نہیں کیا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، ابن دقیق العید نے امام میں یہ بات کہی ہے کہ اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14525
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (124)»