حدیث نمبر: 14514
عَنْ شَقِيقٍ قَالَ : لَقِيَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ ، فَقَالَ لَهُ الْوَلِيدُ : مَا لِي أَرَاكَ قَدْ جَفَوْتَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانَ ؟ قَالَ [ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ ]: أَبْلِغْهُ عَنِّي أَنِّي لَمْ أَفِرَّ يَوْمَ عَيْنَيْنِ - قَالَ عَاصِمٌ : يَوْمَ أُحُدٍ - وَلَمْ أَتَخَلَّفْ عَنْ بَدْرٍ ، وَلَمْ أَتْرُكْ سُنَّةَ عُمَرَ . قَالَ : فَانْطَلَقَ ، فَخَبَّرَ ذَلِكَ عُثْمَانَ . قَالَ : فَقَالَ : أَمَّا قَوْلُهُ : إِنِّي لَمْ أَفِرَّ يَوْمَ عَيْنَيْنِ فَكَيْفَ يُعَيِّرُنِي بِذَنْبٍ قَدْ عَفَا اللَّهُ عَنْهُ . قَالَ اللَّهُ تَعَالَى : ( إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوا وَلَقَدْ عَفَا اللَّهُ عَنْهُمْ ) . وَأَمَّا قَوْلُهُ : إِنِّي لَمْ أَتَخَلَّفْ عَنْ بَدْرٍ ; فَإِنِّي كُنْتُ أُمَرِّضُ رُقَيَّةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى مَاتَتْ ، وَقَدْ ضَرَبَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِسَهْمٍ ، وَمَنْ ضَرَبَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِسَهْمٍ فَقَدْ شَهِدَ . وَأَمَّا قَوْلُهُ : إِنِّي لَمْ أَتْرُكْ سُنَّةَ عُمَرَ ; فَإِنِّي لَا أُطِيقُهَا أَنَا وَلَا هُوَ فَائْتِهِ فَحَدِّثْهُ بِذَلِكَ . . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ ، وَالْبَزَّارُ بِطُولِهِ بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
شقیق بیان کرتے ہیں : سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی ملاقات ولید بن عقبہ سے ہوئی ، تو ولید نے ان سے کہا: کیا وجہ ہے کہ میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے امیر المؤمنین سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے بے رخی اختیار کی ، تو سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: انہیں میری طرف سے یہ پیغام بھیج دو کہ میں یوم عینین ۔ عاصم راوی کہتے ہیں : اس سے مراد یوم احد ہے ۔ کے دن فرار نہیں ہوا تھا اور میں غزوہ بدر سے پیچھے نہیں رہا تھا اور میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے طریقے کو ترک نہیں کیا ۔ راوی کہتے ہیں : ولید گیا ، اور اس نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو اس بارے میں بتایا تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جہاں تک ان کی اس بات کا تعلق ہے کہ میں یوم عینین میں فرار نہیں ہوا تھا ، تو وہ کسی ایسے گناہ کے حوالے سے مجھے کیسے عار دلا سکتے ہیں ؟ جس سے اللہ تعالیٰ درگزر کیا ہے ، اور اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ” بیشک تم میں سے جو لوگ اس دن پیٹھ پھیر گئے تھے جب دو گروہ ایک دوسرے کے مدمقابل آئے تھے ، تو ان کے کیے ہوئے کسی عمل کی وجہ سے ، شیطان نے انہیں پھسلا دیا تھا ، تحقیق اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف کر دیا ۔ “ جہاں تک ان کی اس بات کا تعلق ہے کہ میں غزوہ بدر سے پیچھے نہیں رہا تھا ، تو ( میرے معاملے کی وجہ یہ ہے ) کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کی تیمار داری کرتا رہا ، یہاں تک کہ ان کا انتقال ہو گیا ، اسی لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لئے حصہ مقرر کیا تھا اور جس شخص کے لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حصہ مقرر کیا ہو وہ گویا جنگ میں شریک ہوا تھا ، جہاں تک ان ( یعنی سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ) کی اس بات کا تعلق ہے ، میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے طریقے کو ترک نہیں کیا ، تو نہ تو میں اس بات کی طاقت رکھتا ہوں اور نہ وہ اس بات کی طاقت رکھتے ہیں ( کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے طریقے پر مکمل طور پر عمل پیرا ہوں ) تو ان کے پاس جاؤ اور انہیں یہ بات بتا دو ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اسے اختیار کیا ہے امام طبرانی نے اسے طویل روایت کے طور پر نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن بہدلہ ہے ، اور وہ حسن الحدیث ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اسے اختیار کیا ہے امام طبرانی نے اسے طویل روایت کے طور پر نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن بہدلہ ہے ، اور وہ حسن الحدیث ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 14515
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ ابْنَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اشْتَكَتْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَقِمْ عَلَيْهَا فَإِنَّهُ لَا بُدَّ لَهَا مِنِّي أَوْ مِنْكَ ، وَأَنْتَ أَحَقُّ " . فَخَلَفَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَيْهَا ، فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُبَشِّرُهُ أَنَّ اللَّهَ قَدْ أَتَمَّ عِدَّتَهُمْ بِكَ " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفِهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی بیمار ہو گئیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے ) ارشاد فرمایا : تم اس کی دیکھ بھال کرو کیونکہ اس کے لئے میرے یا تمہارے میں سے کسی ایک کا ہونا ضروری ہے ، اور تم اس بات کے زیادہ حق دار ہو ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو اس خاتون کے لئے پیچھے چھوڑ دیا تھا ، جب اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح نصیب کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا اور انہیں یہ خوشخبری دی کہ اللہ تعالیٰ نے تم سمیت ان کی تعداد کو مکمل کیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں اس کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے ، جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے ، جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 14516
وَعَنْ عُرْوَةَ قَالَ : عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ تَخَلَّفَ بِالْمَدِينَةِ عَلَى امْرَأَتِهِ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَتْ مِعَزَّةً وَجِعَةً ، فَضَرَبَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِسَهْمِهِ قَالَ : وَأَجْرِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ؟ قَالَ : " وَأَجْرُكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَهُوَ مُرْسَلٌ حَسَنُ الْإِسْنَادِ . ¤
محمد محی الدین
عروہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ ( غزوہ بدر کے موقع پر ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی ، جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں ، ان کی خاطر مدینہ منورہ میں رہ گئے تھے ، وہ خاتون شدید بیمار تھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے لئے ( غزوہ بدر کے مال غنیمت میں سے ) حصہ مقرر کیا تھا ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے اجر کا کیا ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہیں اجر بھی ملے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ،
یہ روایت مرسل ہے ، اور سند کے اعتبار سے حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ،
یہ روایت مرسل ہے ، اور سند کے اعتبار سے حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 14517
وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا بَعَثَ عُثْمَانَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ فَبَايَعَ أَصْحَابَهُ بَيْعَةَ الرِّضْوَانِ ، بَايَعَ لِعُثْمَانَ بِإِحْدَى يَدَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى ، فَقَالَ النَّاسُ : هَنِيئًا لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ آمِنًا ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ مَكَثَ كَذَا وَكَذَا مَا طَافَ بِالْبَيْتِ حَتَّى أَطُوفَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( صلح حدیبیہ کے موقع پر ) سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو اہل مکہ کی طرف بھیج دیا ، پھر آپ نے اپنے اصحاب سے بیعت رضوان لی ، تو آپ نے دو ہاتھوں میں سے ایک کو دوسرے پر رکھ کر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف سے بیعت لی ، لوگوں نے کہا: ابوعبداللہ کو مبارک باد ہو کہ وہ امن کی حالت میں بیت اللہ کا طواف کر رہے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر وہ اتنے اتنے عرصے تک بھی ( مکہ میں ) ٹھہرا رہے ، تو بھی وہ اس وقت تک بیت اللہ کا طواف نہیں کرے گا جب تک میں طواف نہیں کر لیتا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 14518
وَعَنْ عُثْمَانَ قَالَ : خَلَّفَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ بَدْرٍ ، وَضَرَبَ لِي بِسَهْمٍ . ¤ وَقَالَ عُثْمَانُ فِي بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ : فَضَرَبَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِيَمِينِهِ عَلَى شِمَالِهِ ، وَشِمَالُ رَسُولِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ يَمِينِي . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَبِيبٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے غزوہ بدر میں شرکت سے روک دیا تھا اور میرے لئے حصہ مقرر کیا تھا ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے بیعت رضوان کے بارے میں یہ فرمایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ اپنے بائیں ہاتھ پر میرے لئے رکھا تھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا بایاں ہاتھ میرے دائیں ہاتھ سے بہتر ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد عبداللہ بن شبیب کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد عبداللہ بن شبیب کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 14519
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ : رَفَعَ عُثْمَانُ صَوْتَهُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فَقَالَ لَهُ : لِأَيِّ شَيْءٍ تَرْفَعُ صَوْتَكَ عَلَيَّ وَقَدْ شَهِدْتُ بَدْرًا وَلَمْ تَشْهَدْ ، وَبَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَمْ تُبَايِعْ ، وَفَرَرْتَ يَوْمَ أُحُدٍ وَلَمْ أَفِرَّ . فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ : أَمَّا قَوْلُكَ : إِنَّكَ شَهِدْتَ بَدْرًا وَلَمْ أَشْهَدْ ; فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَلَّفَنِي عَلَى ابْنَتِهِ ، وَضَرَبَ لِي بِسَهْمٍ ، وَأَعْطَانِي أَجْرِي . وَأَمَّا قَوْلُكَ : بَايَعْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَمْ أُبَايِعْ ; فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَنِي إِلَى أُنَاسٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَقَدْ عَلِمْتَ ذَلِكَ ، فَلَمَّا احْتَبَسْتُ ضَرَبَ بِيَمِينِهِ عَلَى شِمَالِهِ ، فَقَالَ : " هَذِهِ لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ " . فَشِمَالُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَيْرٌ مِنْ يَمِينِي . وَأَمَّا قَوْلُكَ : فَرَرْتَ يَوْمَ أُحُدٍ وَلَمْ أَفِرَّ ، فَإِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - قَالَ : ( إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوا وَلَقَدْ عَفَا اللَّهُ عَنْهُمْ ) فَلِمَ تُعَيِّرُنِي بِذَنْبٍ قَدْ عَفَا اللَّهُ عَنْهُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ ، وَقَدْ تَقَدَّمَتْ لَهُ طَرِيقٌ فِي هَذَا الْبَابِ وَغَيْرِهِ . ¤
محمد محی الدین
سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے سامنے اپنی آواز بلند کی ، تو سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ کس وجہ سے اپنی آواز میرے سامنے بلند کر رہے ہیں ، جبکہ میں غزوہ بدر میں شریک ہوا ہوں اور آپ شریک نہیں ہوئے ہیں ، میں نے ( بیعت رضوان کے موقع پر ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی تھی اور آپ نے بیعت نہیں کی اور آپ غزوہ احد کے دن فرار ہو گئے تھے اور میں فرار نہیں ہوا ۔ تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: جہاں تک آپ کی اس بات کا تعلق ہے کہ آپ غزوہ بدر میں شریک ہوئے ہیں ، اور میں شریک نہیں ہوا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنی صاحبزادی کی خاطر رکھنے کا حکم دیا تھا ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حصہ بھی دیا تھا اور مجھے میرا اجر بھی عطا کیا تھا ، جہاں تک آپ کی اس بات کا تعلق ہے کہ آپ نے بیعت کی ہے ، اور میں نے بیعت نہیں کی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مشرکین کی طرف بھیجا تھا اور آپ یہ بات جانتے ہیں ، جب مجھے آنے میں تاخیر ہو گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ اپنے بائیں ہاتھ پر رکھ کر ارشاد فرمایا : یہ عثمان بن عفان کے لئے ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا بایاں ہاتھ میرے دائیں سے بہتر ہے ، جہاں تک آپ کی اس بات کا تعلق ہے کہ میں غزوہ احد کے دن فرار ہو گیا تھا ، تو میں فرار نہیں ہوا تھا ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ” بیشک تم میں سے جو لوگ اس دن پیٹھ پھیر گئے تھے جب دو گروہ ایک دوسرے کے مدمقابل آئے تھے ، تو ان کے کیے ہوئے کسی عمل کی وجہ سے شیطان نے انہیں پھسلا دیا تھا ، تحقیق اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف کر دیا ۔ “ ( سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) تو آپ کسی ایسے گناہ کے حوالے سے مجھے عار نہیں دلا سکتے جس سے اللہ تعالیٰ نے درگزر کر لیا ہو ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ، اس کا ایک طریق اس باب میں اور اس کے علاوہ باب میں گزر چکا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ، اس کا ایک طریق اس باب میں اور اس کے علاوہ باب میں گزر چکا ہے ۔