کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا جیش عسرت ، وغیرہ کی مدد کرنا
حدیث نمبر: 14520
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَأَى لَحْمًا فَقَالَ : " مَنْ بَعَثَ بِهَذَا ؟ " . قُلْتُ : عُثْمَانُ . قَالَتْ : فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَافِعًا يَدَيْهِ يَدْعُو لِعُثْمَانَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گوشت ملاحظہ فرمایا ، تو دریافت کیا : یہ کس نے بھیجا ہے ؟ میں نے عرض کی : سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ بلند کر کے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے لئے دعا کی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 14521
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ : أَنَّهُ شَهِدَ ذَلِكَ حِينَ أَعْطَى عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا جَهَّزَ بِهِ جَيْشَ الْعُسْرَةِ ، وَجَاءَ بِسَبْعِمِائَةِ أُوقِيَّةٍ ذَهَبٍ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ وہ اس موقع پر موجود تھے جب سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے جیش عسرت کے لئے ساز و سامان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا تھا ، وہ سات سو اوقیہ سونا لے کر آئے تھے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے ، امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن عمر بن ابان ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے ، امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن عمر بن ابان ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 14522
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : جَاءَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ بِدَنَانِيرَ ، فَأَلْقَاهَا فِي حِجْرِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُقَلِّبُهَا وَيَقُولُ : " مَا عَلَى عُثْمَانَ مَا فَعَلَ بَعْدَ هَذَا الْيَوْمِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ صَالِحٍ الرَّامَهُرْمُزِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ دینار لے کے آئے اور وہ دینار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں ڈال دیے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں الٹنے پلٹنے لگے ، اور یہ ارشاد فرمانے لگے : ” عثمان پر کوئی حرج نہیں ہو گا اگر وہ آج کے دن کے بعد کوئی کام نہ کرے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن صالح رامہز مزی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن صالح رامہز مزی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 14523
وَعَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزَاةٍ ، فَأَصَابَ النَّاسَ جَهْدٌ حَتَّى رَأَيْتُ الْكَآبَةَ فِي وُجُوهِ الْمُسْلِمِينَ ، وَالْفَرَحَ فِي وُجُوهِ الْمُنَافِقِينَ ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " وَاللَّهِ لَا تَغِيبُ الشَّمْسُ حَتَّى يَأْتِيَكُمُ اللَّهُ بِرِزْقٍ " . فَعَلِمَ عُثْمَانُ أَنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ سَيَصْدُقَانِ ، فَاشْتَرَى عُثْمَانُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ رَاحِلَةً بِمَا عَلَيْهَا مِنَ الطَّعَامِ ، فَوَجَّهَ إِلَى النَّبِيِّ مِنْهَا بِتِسْعَةٍ ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا هَذَا ؟ " . قَالَ : أَهْدَى إِلَيْكَ عُثْمَانُ ، فَعُرِفَ الْفَرَحُ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالْكَآبَةُ فِي وُجُوهِ الْمُنَافِقِينَ ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رُئِيَ بَيَاضُ إِبْطَيْهِ يَدْعُو لِعُثْمَانَ دُعَاءً مَا سَمِعْتُهُ دَعَا لِأَحَدٍ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ : اللَّهُمَّ أَعْطِ عُثْمَانَ اللَّهُمَّ افْعَلْ بِعُثْمَانَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَرَّاقُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ وَرَوَاهُ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ رُؤْيَا رَآهَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - وَتَأْتِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں شریک ہوئے ، لوگوں کو بھوک لاحق ہوئی ، یہاں تک کہ میں نے مسلمانوں کے چہروں پر پریشانی کے آثار دیکھے اور منافقین کے چہروں پر خوشی کے آثار دیکھے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ صورت حال ملاحظہ کی ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم ! سورج غروب ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ تمہارے پاس رزق بھیج دے گا ۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ یہ بات جانتے تھے کہ اللہ اور اس کا رسول سچ فرماتے ہیں ، تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے چودہ اونٹنیاں خریدیں اور وہ ان پر موجود اناج سمیت خریدیں ، پھر ان میں سے نو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھجوا دیں ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ملاحظہ کیا ، تو دریافت کیا : یہ کہاں سے آئی ہیں ؟ تو اس شخص نے بتایا : سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے آپ کو تحفہ بھیجا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر خوشی کے آثار نمایاں ہوئے اور منافقین کے چہروں پر پریشانی ظاہر ہوئی ، تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے ، یہاں تک کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی ، آپ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے لئے دعا کر رہے تھے ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے پہلے اور اس کے بعد یہ دعا کرتے ہوئے نہیں دیکھا ، آپ یہ کہہ رہے تھے : ” اے اللہ ! تو عثمان کو عطا فرما ۔ اے اللہ ! تو عثمان کے ساتھ یہ کر دے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سعید بن محمد وراق ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔ یہ انہوں نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس میں ایک خواب ہے ، جو امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے دیکھا تھا ، اس کا ذکر آگے چل کے آئے گا ، اگر اللہ نے چاہا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سعید بن محمد وراق ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔ یہ انہوں نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس میں ایک خواب ہے ، جو امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے دیکھا تھا ، اس کا ذکر آگے چل کے آئے گا ، اگر اللہ نے چاہا ۔