کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے اخلاق کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ الْقُرَشِيِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ عَلَى ابْنَتِهِ وَهِيَ تَغْسِلُ رَأْسَ عُثْمَانَ ، فَقَالَ : " يَا بُنَيَّةُ ، أَحْسِنِي إِلَى أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ; فَإِنَّهُ أَشْبَهُ أَصْحَابِي بِي خُلُقًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن عثمان قرشی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی صاحبزادی کے پاس تشریف لائے جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے سر کو دھو رہی تھیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے میری بیٹی ! ابوعبداللہ کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ، کیونکہ یہ میرے اصحاب میں اخلاق کے اعتبار سے مجھ سے سب سے زیادہ مشابہت رکھتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14500
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (98)»
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى رُقَيَّةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - امْرَأَةِ عُثْمَانَ - وَفِي يَدِهَا مُشْطٌ ، فَقَالَتْ : خَرَجَ مِنْ عِنْدِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - آنِفًا رَجَلْتُ رَأْسَهُ ، فَقَالَ : " كَيْفَ تَجِدِينَ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ؟ " . قُلْتُ : بِخَيْرٍ . قَالَ : " فَأَكْرِمِيهِ ; فَإِنَّهُ مِنْ أَشْبَهِ أَصْحَابِي بِي خُلُقًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يَرْوِي عَنِ الْمُطَّلِبِ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی صاحبزادی سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے گئے جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں ، انہوں نے عرض کی : ابھی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ میرے پاس سے گئے ہیں ، میں نے ان کے سر میں کنگھی کی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم نے ابوعبداللہ کو کیسا پایا ہے ، اس خاتون نے جواب دیا : وہ بہت اچھے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس کا احترام کرنا کیونکہ وہ اخلاق کے اعتبار سے میرے اصحاب میں سے مجھ سے سب سے زیادہ مشابہت رکھتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبداللہ ہے ، جس نے مطلب سے روایت نقل کی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14501
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (99)»