کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی حیاء کا بیان
حدیث نمبر: 14502
عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ : اسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَجَارَتُهُ تَضْرِبُ بِالدُّفِّ ، فَدَخَلَ ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ وَدَخَلَ ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُثْمَانُ فَأَمْسَكَتْ . قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ عُثْمَانَ رَجُلٌ حَيِيٌّ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَجِيلَةَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى ، وَلَمْ يُسَمِّ الرَّجُلَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابن ابواوفیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی ، اس وقت ایک کنیز دف بجا رہی تھی ۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اندر آ گئے ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت مانگی وہ اندر آ گئے ، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت مانگی ، تو وہ کنیز رک گئی ، راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عثمان ایک شرمیلا شخص ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے بجیلہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے حوالے سے سیدنا ابن ابووفیٰ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے ۔ انہوں نے اس شخص کا نام بیان نہیں کیا اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14502
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (353/4)»
حدیث نمبر: 14503
عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمٍ ، فَوَضَعَ ثَوْبَهُ بَيْنَ فَخِذَيْهِ ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَاسْتَأْذَنَ ، فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى هَيْئَتِهِ ، ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ يَسْتَأْذِنُ ، فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى هَيْئَتِهِ ، وَجَاءَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَأَذِنَ لَهُمْ ، وَجَاءَ عَلِيٌّ ، فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى هَيْئَتِهِ ، ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فَاسْتَأْذَنَ ، فَتَجَلَّلَ ثَوْبَهُ فَأَذِنَ لَهُ ، فَتَحَدَّثُوا سَاعَةً ، ثُمَّ خَرَجُوا فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ وَعَلِيٌّ ، وَنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِكَ ، وَأَنْتَ عَلَى هَيْئَتِكَ لَمْ تُحَرِّكْ ، فَلَمَّا دَخَلَ عُثْمَانُ تَجَلَّلْتَ ثَوْبَكَ ؟ قَالَ : " أَلَا أَسْتَحْيِي مِمَّنْ تَسْتَحْيِي مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ ! " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَأَبُو يَعْلَى بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے ، آپ نے زانوں سے کپڑا ہٹا دیا ۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے انہوں نے اندر آنے کی اجازت مانگی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت عطا کی اور اسی حالت میں رہے ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے ، انہوں نے اجازت مانگی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دی اور اسی حالت میں رہے ، پھر آپ کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے کچھ اور افراد بھی آئے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دی ، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں انہیں اجازت دی اور آپ اسی حالت میں رہے ، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ آئے ، انہوں نے اجازت مانگی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کپڑے کو زانوں پر ڈال کر پھر انہیں اجازت دی ، یہ لوگ کچھ دیر بات چیت کرتے رہے ، پھر تشریف لے گئے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! سیدنا ابوبکر ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہما اور آپ کے کچھ اور اصحاب آئے ، لیکن آپ اسی ہیئت میں رہے ، آپ نے کوئی حرکت نہیں کی ، لیکن جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اندر آنے لگے ، تو آپ نے اپنے کپڑے کے ذریعے زانوں کو ڈھانپ لیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا میں اس شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ نے اسے بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14503
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 14504
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسٌ وَعَائِشَةُ جَالِسَةٌ وَرَاءَهُ إِذِ اسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ فَدَخَلَ ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ فَدَخَلَ ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عَلِيٌّ فَدَخَلَ ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ سَعْدُ بْنُ مَالِكٍ فَدَخَلَ ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فَدَخَلَ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَحَدَّثُ كَاشِفًا عَنْ رُكْبَتَيْهِ ، فَمَدَّ ثَوْبَهُ عَلَى رُكْبَتَيْهِ ، وَقَالَ لِامْرَأَتِهِ : " اسْتَأْخِرِي عَنِّي " . فَتَحَدَّثُوا سَاعَةً ثُمَّ خَرَجُوا . فَقَالَتْ عَائِشَةُ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، دَخَلَ عَلَيْكَ أَصْحَابُكَ فَلَمْ تُصْلِحْ ثَوْبَكَ ، وَلَمْ تُؤَخِّرْنِي عَنْكَ ، حَتَّى دَخَلَ عُثْمَانُ ؟ قَالَ : " أَلَا أَسْتَحْيِي مِمَّنْ تَسْتَحْيِي مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ ! وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَتَسْتَحْيِي مِنْ عُثْمَانَ كَمَا تَسْتَحْيِي مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ، وَلَوْ دَخَلَ وَأَنْتِ قَرِيبَةٌ مِنِّي لَمْ يَرْفَعْ رَأْسَهُ وَلَمْ يَتَحَدَّثْ حَتَّى يَخْرُجَ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا آپ کے پیچھے بیٹھی ہوئی تھیں اسی دوران سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت مانگی ، وہ اندر آ گئے ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت مانگی ، وہ اندر آ گئے ، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اجازت مانگی ، وہ اندر آ گئے ، پھر سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ نے اجازت مانگی ۔ وہ اندر آ گئے ، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اجازت مانگی ، وہ اندر آئے ، اس سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھٹنوں سے کپڑا ہٹا کر بات چیت کر رہے تھے ، لیکن جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھٹنوں پر کپڑا ڈال دیا ، آپ نے اپنی اہلیہ سے فرمایا : تم میرے پاس سے اٹھ کے چلی جاؤ ! وہ لوگ کچھ دیر بات چیت کرتے رہے پھر چلے گئے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کے اصحاب آپ کے پاس آئے ، لیکن آپ نے اپنے کپڑے کو ٹھیک نہیں کیا اور مجھے اپنے پاس سے نہیں ہٹایا ، یہاں تک کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ آئے تو آپ نے ایسا کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا میں اس سے حیاء نہ کروں جس سے فرشتے حیاء کرتے ہیں ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں محمد کی جان ہے ، فرشتے عثمان سے یوں حیاء کرتے ہیں جس طرح وہ اللہ اور اس کے رسول سے حیاء کرتے ہیں ، اگر وہ اندر آ جاتا اور تم اس وقت میرے قریب موجود ہوتیں تو اس نے واپس جانے تک سر نہیں اٹھانا تھا اور کوئی بات نہیں کرنی تھی ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن عمر بن ابان ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14504
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (6947)»
حدیث نمبر: 14505
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَيْتٍ وَعَلَيْهِ إِزَارٌ فَطَرَحَهُ بَيْنَ رِجْلَيْهِ ، وَفَخِذَاهُ خَارِجَتَانِ ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ يَسْتَأْذِنُ عَلَيْهِ ، فَأَذِنَ لَهُ فَدَخَلَ ، ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ ، فَأَذِنَ لَهُ فَدَخَلَ ، ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ ، فَأَذِنَ لَهُ . فَلَمَّا رَآهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَامَ مُسْرِعًا حَتَّى دَخَلَ الْبَيْتَ ، فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى عَائِشَةَ ، فَلَمَّا خَرَجَ الْقَوْمُ قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَلَمْ تُغَيَّرْ عَنْ حَالِكَ ، فَلَمَّا دَخَلَ عُثْمَانُ قُمْتَ ؟ ! فَقَالَ : " يَا عَائِشَةُ ، أَلَا أَسْتَحْيِي مِمَّنْ تَسْتَحْيِي مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ ; إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَتَسْتَحْيِي مِنْ عُثْمَانَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ ، بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ ، وَفِيهِ النَّضْرُ أَبُو عُمَرَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف فرما تھے آپ کے جسم پر تہبند موجود تھا جسے آپ نے ٹانگوں سے ہٹایا ہوا تھا اور آپ کے زانوں اس سے نکلے ہوئے تھے ، اسی دوران سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے ، انہوں نے اندر آنے کی اجازت مانگی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دی ، وہ اندر آ گئے ، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دی ، وہ اندر آ گئے ، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ آئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دی ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ملاحظہ فرمایا تو آپ تیزی سے اٹھے اور گھر کے اندر تشریف لے گئے ، یہ بات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو گراں گزری ، جب وہ لوگ چلے گئے تو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما آئے تو آپ نے اپنی حالت کو تبدیل نہیں کیا ، لیکن جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اندر آئے تو آپ اٹھ گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے عائشہ ! کیا میں ایسے فرد سے حیاء نہ کروں ؟ جس سے فرشتے بھی حیاء کرتے ہیں ، بے شک فرشتے عثمان سے حیاء کرتے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور امام بزار نے بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نضر ابوعمر ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14505
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2507) أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11656)»
حدیث نمبر: 14506
وَعَنْ بَدْرِ بْنِ خَالِدٍ قَالَ : وَقَفَ عَلَيْنَا زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ يَوْمَ الدَّارِ ، فَقَالَ : أَلَا تَسْتَحْيُونَ مِمَّنْ تَسْتَحْيِي مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ ؟ قُلْتُ : وَمَا ذَاكَ ؟ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَرَّ بِي عُثْمَانُ وَعِنْدِي مَلَكٌ مِنَ الْمَلَائِكَةِ ، فَقَالَ : شَهِيدٌ يَقْتُلُهُ قَوْمُهُ ، إِنَّا لَنَسْتَحْيِي مِنْهُ " . ¤ قَالَ بَدْرٌ : فَانْصَرَفْنَا عَنْهُ عِصَابَةً مِنَ النَّاسِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْوَسَاوِسِيُّ ، وَكَانَ يَضَعُ الْحَدِيثَ . ¤
محمد محی الدین
بدر بن خالد بیان کرتے ہیں سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے محاصرے کے موقع پر ایک دن ہمارے پاس آ کر ٹھہرے اور بولے : کیا تم لوگ اس شخص سے حیاء نہیں کرتے ہو جس سے فرشتے حیاء کرتے ہیں ، میں نے عرض کی : اس کا کیا مفہوم ہے ؟ انہوں نے بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ایک مرتبہ عثمان میرے پاس سے گزرا اس وقت میرے پاس ایک فرشتہ موجود تھا ، اس نے کہا: یہ شہید ہو گا ، اس کی قوم اسے قتل کر دے گی اور ہم ( فرشتے ) ان سے حیاء کرتے ہیں ۔ “ بدر نامی راوی کہتے ہیں : تو ہم کچھ لوگ انہیں چھوڑ کر واپس چلے گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسماعیل وساوسی ہے ، جو حدیث ایجاد کرتا تھا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14506
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4939)»