حدیث نمبر: 14442
عَنْ سُدَيْسَةَ مَوْلَاةِ حَفْصَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ الشَّيْطَانَ لَمْ يَلْقَ عُمَرَ مُنْذُ أَسْلَمَ إِلَّا خَرَّ لِوَجْهِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ فِي تَرْجَمَةِ سُدَيْسَةَ ، مِنْ طَرِيقِ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْهَا ، وَلَا نَعْلَمُ الْأَوْزَاعِيَّ سَمِعَ أَحَدًا مِنَ الصَّحَابَةِ . ¤ وَرَوَاهُ فِي الْأَوْسَطِ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ سُدَيْسَةَ ، وَهُوَ الصَّوَابُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ إِلَّا أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْفَضْلِ بْنِ مُوَفَّقٍ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کی کنیز سدیسہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب سے عمر نے اسلام قبول کیا ہے اس کے بعد شیطان جب بھی عمر کے سامنے آیا تو وہ ( یعنی شیطان ) چہرے کے بل گر گیا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں سیدہ سدیسہ رضی اللہ عنہا کے حالات میں امام اوزاعی کے حوالے سے اس خاتون سے نقل کی ہے ، ہمارے علم کے مطابق امام اوزاعی نے صحابہ میں سے کسی سے سماع نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت انہوں نے معجم اوسط میں امام اوزاعی کے حوالے سے سالم کے حوالے سے سیدہ سدیسہ رضی اللہ عنہا سے نقل کی ہے ، اور یہی روایت درست ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ، البتہ عبدالرحمن بن فضل بن موفق نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں سیدہ سدیسہ رضی اللہ عنہا کے حالات میں امام اوزاعی کے حوالے سے اس خاتون سے نقل کی ہے ، ہمارے علم کے مطابق امام اوزاعی نے صحابہ میں سے کسی سے سماع نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت انہوں نے معجم اوسط میں امام اوزاعی کے حوالے سے سالم کے حوالے سے سیدہ سدیسہ رضی اللہ عنہا سے نقل کی ہے ، اور یہی روایت درست ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ، البتہ عبدالرحمن بن فضل بن موفق نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 14443
وَعَنْ سُدَيْسَةَ - مَوْلَاةِ حَفْصَةَ - عَنْ حَفْصَةَ قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ وَقَدْ نَذَرْتُ أَنْ أَزْفِنَ بِالدُّفِّ إِنْ قَدِمَ مِنْ مَكَّةَ : فَبَيْنَا أَنَا كَذَلِكَ ، إِذِ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ ، فَانْطَلَقْتُ بِالدُّفِّ إِلَى جَانِبِ الْبَيْتِ فَغَطَّيْتُهُ بِكِسَاءٍ ، فَقُلْتُ : أَيْ نَبِيَّ اللَّهِ ، أَنْتَ أَحَقُّ أَنْ تُهَابَ قَالَ : " إِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَلْقَى عُمَرَ مُنْذُ أَسْلَمَ إِلَّا خَرَّ لِوَجْهِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ . ¤
محمد محی الدین
سیده سدیسہ رضی اللہ عنہا جو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کی کنیز ہیں ، انہوں نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے روایت نقل کی ہے ، وہ خاتون بیان کرتی ہیں : میں نے یہ نذر مانی کہ اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے تشریف لے آئے ، تو میں دف بجا کر رقص کروں گی ، ابھی میں وف بجا رہی تھی کہ اسی دوران سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت مانگی ، میں نے دف لی اور اسے گھر کے ایک کونے میں جا کے چادر کے ذریعے ڈھانپ کے رکھ دیا ۔ میں نے ( سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے یا شاید سیدہ سدیسہ رضی اللہ عنہا ) نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! آپ اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ آپ سے ڈرا جائے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب سے عمر نے اسلام قبول کیا ہے ، شیطان جب بھی اس کے سامنے آتا ہے وہ ( یعنی شیطان ) چہرے کے بل گر جاتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔