کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: اللہ اور اس کے رسول کی بارگاہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی قدر و منزلت کا بیان
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ أَبْغَضَ عُمَرَ فَقَدْ أَبْغَضَنِي ، وَمَنْ أَحَبَّ عُمَرَ فَقَدْ أَحَبَّنِي ، وَإِنَّ اللَّهَ بَاهَى بِالنَّاسِ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ عَامَّةً ، وَبَاهَى بِعُمَرَ خَاصَّةً . وَإِنَّهُ لَمْ يَبْعَثِ اللَّهُ نَبِيًّا إِلَّا كَانَ فِي أُمَّتِهِ مُحَدَّثٌ ، وَإِنْ يَكُنْ فِي أُمَّتِي مِنْهُمْ أَحَدٌ فَهُوَ عُمَرُ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ مُحَدَّثٌ ؟ قَالَ : " تَتَكَلَّمُ الْمَلَائِكَةُ عَلَى لِسَانِهِ " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو سَعْدٍ خَادِمُ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو سَعْدٍ خَادِمُ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ .
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص عمر سے بغض رکھے گا ، وہ مجھ سے بغض رکھے گا ، جو شخص عمر سے محبت کرے گا ، وہ مجھ سے محبت کرے گا ، بے شک اللہ تعالیٰ نے عرفہ کی شام سب لوگوں پر عمومی طور پر فخر کا اظہار کیا ہے ، اور عمر پر بطور خاص فخر کا اظہار کیا ہے ، اللہ تعالیٰ نے جس بھی نبی کو مبعوث کیا ، اس نبی کی امت میں کوئی محدث ہوتا ہے ، اگر ایسا کوئی فرد میری امت میں ہوتا تو وہ عمر ہوتا ۔ “ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! محدث کیسا ہوتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : فرشتے اس کی زبان پر کلام کرتے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوسعد ہے ، جو حسن بصری کا خادم تھا ، میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوسعد ہے ، جو حسن بصری کا خادم تھا ، میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - بَاهَى مَلَائِكَتَهُ بِعَبِيدِهِ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ عَامَّةً ، وَبَاهَى بِعُمَرَ خَاصَّةً " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقَاصُّ ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقَاصُّ ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ .
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” عرفہ کی شام اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے سامنے عمومی طور پر اپنے بندوں پر فخر کا اظہار کیا اور خاص طور پر عمر کے حوالے سے فخر کا اظہار کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابراہیم القاص ہے ، جسے امام أحمد نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابراہیم القاص ہے ، جسے امام أحمد نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : نَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمٍ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَتَبَسَّمَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : " يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ، مِمَّا تَبَسَّمْتُ إِلَيْكَ ؟ " . قَالَ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - بَاهَى بِأَهْلِ عَرَفَةَ عَامَّةً ، وَبَاهَى بِكَ خَاصَّةً " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، وَهُوَ مُخْتَلَفٌ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، وَهُوَ مُخْتَلَفٌ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا ، آپ نے انہیں مسکرا کے دیکھا اور ارشاد فرمایا : ” اے ابن خطاب ! میں نے تمہاری طرف مسکرا کے کیوں دیکھا ہے ؟ “ انہوں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے اہل عرفہ کے حوالے سے عمومی طور پر فخر کا اظہار کیا اور تمہارے حوالے سے بطور خاص فخر کا اظہار کیا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے ، اور اس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے ، اور اس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔