کتب حدیث › مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب › باب: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے علم کا بیان
❮
❯
عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : لَوْ أَنَّ عِلْمَ عُمَرَ وُضِعَ فِي كِفَّةِ الْمِيزَانِ ، وَوُضِعَ عِلْمُ أَهْلِ الْأَرْضِ فِي كِفَّةٍ ; لَرَجَحَ عِلْمُهُ بِعِلْمِهِمْ . .
قَالَ وَكِيعٌ : قَالَ الْأَعْمَشُ : فَأَنْكَرْتُ ذَلِكَ ، فَأَتَيْتُ إِبْرَاهِيمَ فَذَكَرْتُهُ لَهُ ، فَقَالَ : وَمَا أَنْكَرْتَ مِنْ ذَلِكَ ؟ ! ! فَوَاللَّهِ لَقَدْ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ قَالَ : إِنِّي لَأَحْسَبُ تِسْعَةَ أَعْشَارِ الْعِلْمِ ذَهَبَ يَوْمَ ذَهَبَ عُمَرُ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ هَذَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرُ أَسَدِ بْنِ مُوسَى ، وَهُوَ ثِقَةٌ .
محمد محی الدین
ابووائل بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے علم کو میزان کے ایک پلڑے میں رکھا جائے اور تمام اہل زمین کے علم کو دوسرے پلڑے میں رکھا جائے ، تو ان لوگوں کے علم کے مقابلے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے علم کا پلڑا بھاری ہو گا ۔ وکیع بیان کرتے ہیں : اعمش نے یہ بات بیان کی ہے کہ میں نے اس روایت کا انکار کیا ، میں ابراہیم نخعی کے پاس آیا اور میں نے ان کے سامنے یہ بات ذکر کی ، تو انہوں نے فرمایا : تم اس بات کا کیوں انکار کر رہے ہو ؟ اللہ کی قسم ! سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے تو اس سے بھی زیادہ فضیلت والی بات کی ہے ۔ انہوں نے یہ فرمایا ہے : میں یہ سمجھتا ہوں کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ دنیا سے رخصت ہوئے تھے ، اس وقت علم کے دس حصوں میں سے نو حصے رخصت ہو گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، اور اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف اسد بن موسیٰ کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14436
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8809)»
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " رَأَيْتُ فِي النَّوْمِ أَنِّي أُعْطِيتُ عُسًّا مَمْلُوءًا لَبَنًا ، فَشَرِبْتُ حَتَّى تَمَلَّأْتُ ، حَتَّى رَأَيْتُهُ يَجْرِي فِي عُرُوقِي بَيْنَ الْجِلْدِ وَاللَّحْمِ ، فَفَضَلَتْ فَضْلَةٌ فَأَعْطَيْتُهَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ " . فَأَوَّلُوهَا قَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، هَذَا عِلْمٌ أَعْطَاكَهُ اللَّهُ فَمَلَأَكَ مِنْهُ ، فَفَضَلَتْ فَضْلَةٌ فَأَعْطَيْتَهَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ . فَقَالَ : " أَصَبْتُمْ " .
قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ سِيَاقِهِ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میں نے خواب میں دیکھا کہ مجھے ایک بڑا پیالہ دیا گیا جو دودھ سے بھرا ہوا تھا ، میں نے اسے پیا ، یہاں تک کہ میں سیر ہو گیا ، یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ اس کے اثرات مجھے اپنی جلد اور گوشت کے درمیان رگوں کے اندر چلتے ہوئے محسوس ہو رہے ہیں ، جو دودھ بچا تھا ، وہ میں نے عمر بن خطاب کو دے دیا ۔ “ لوگوں نے اس کی تعبیر بیان کی اور عرض کی : اے اللہ کے نبی ! اس سے مراد وہ علم ہو گا جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کیا تھا اور آپ اس سے سیر ہو گئے اور اس میں سے کچھ بچ گیا ، تو آپ نے وہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دے دیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگوں نے ٹھیک بیان کیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں یہ روایت اس سیاق کے بغیر منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14437
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13155) ، أخرجه المستدرك على الصحيحين برقم: 4552، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 13155، وأخرجه صحيح ابن حبان برقم: 6854»
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : إِنَّ عُمَرَ كَانَ أَعْلَمَنَا بِاللَّهِ ، وَأَقْرَأَنَا لِكِتَابِ اللَّهِ ، وَأَفْقَهَنَا فِي دِينِ اللَّهِ .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ فِي وَفَاةِ عُمَرَ .
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں ہم میں سے سب سے زیادہ علم رکھنے والے تھے ، اللہ تعالیٰ کی کتاب کی سب سے زیادہ تلاوت کرنے والے تھے اور اللہ کے دین کی سب سے زیادہ سمجھ بوجھ رکھنے والے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے ، جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی وفات کے بارے میں ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14438
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8803)»