کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے غضب اور ان کی رضامندی کا بیان
حدیث نمبر: 14435
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَتَانِي جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَقَالَ : أَقْرِئْ عُمَرَ السَّلَامَ ، وَقُلْ لَهُ : إِنَّ رِضَاهُ حُكْمٌ ، وَإِنَّ غَضَبَهُ عِزٌّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ زَيْدٍ الْعُمَرِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جبرائیل میرے پاس آئے اور بولے : عمر کو سلام کہیں ، اور ان سے یہ کہیں کہ ان کی رضامندی حکم ( یعنی انصاف ) ہے ، اور ان کا غصہ غلبے کا باعث ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خالد بن یزید عمری ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 14435
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (152472)»